10/09/2026
غیر منتخب شخص کی طرف سے ملک کو تقسیم کرنے کی باتیں آئین کے ساتھ جگ ہنسائی کے مترادف، تقسیم کی باتیں کرنے والے سزا کے مستحق ہیں، جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت نے مرکزی صدر سے دھرنے کے حوالے سے رابطہ کیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی دھرنے اور لانگ مارچ کی بھرپور حمایت کریگی، پختون قوم کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے باچا خان کی خدمات تاریخ کا حصہ ہیں، تعلیم انکا نظریہ تھا اور اس مقصد کیلئے انہوں نے قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں.
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ باچا خان بابا نے پختون قوم کو تعلیم و ہنر کی زیور سے آراستہ کرنے کے لیے قید و بند کی صوبتیں برداشت کی لیکن پختون قوم کو تعلیم کی زیور سے آراستہ کرتے ہوئے اس وقت پورے پختونخوا میں 130آزاد اسلامی سکولوں کا قیام عمل میں لاکر ان سکولوں میں پہلے اپنے بچوں خان عبدالولی خان،خان عبدالغنی خان اور خان عبدالعلی خان سمیت بیٹی کو داخل کرواکر ان کو بھی آزاد اسلامی سکول سے ہی ابتدائی تعلیم دلوائی باچا خان پختون قوم کو تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتے تھے عوامی نیشنل پارٹی اور باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا مقصد پختون طلباء وطالبات کو اعلیٰ تعلیم سے روشناس کرانا ہے جو شخص ویلج کونسل کا الیکشن نہیں لڑسکتا ان کے خام خیالی پر ملک میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جو ملک کو تقسیم کرنے اور آئین پاکستان کو نہ ماننے کے برابر ہے اور آئین میں آئین کو نہ ماننے والوں کے لیے سزا تجویز کردی گئی ہے ملک کو تقسیم کرنے والے عناصر سزا کی مستحق ہیں افرین صد آفریں سندھی بھائیوں پر کہ انہوں نے سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش ناکام بنا کر نئے صوبوں کے قیام کے فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا ہے ،عوامی نیشنل پارٹی نے جماعت اسلامی کے دھرنوں اور لانگ مارچ کی مکمل اور بھرپور حمایت کردی ہے چاہے وہ صوبائی سطح پر ہو یا مرکزی سطح پر ان خیالات کا اظہار انہوں نے پوسٹ گریجویٹ کالج نوشہرہ میں باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب میں حالیہ میٹرک نتائج میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والے طلباء وطالبات کو باچا خان ایوارڈز دیئے گئے تقریب سے عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر زاہد خان،ممتاز سکالر ڈاکٹر سہیل ،حامد نادر اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا تقریب سے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کی باتیں کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں کیونکہ پارلیمنٹ موجود ہے اور اسی پارلیمنٹ میں عوامی نمائندے موجود ہیں لیکن پارلیمان کو بائی پاس کرکے کسی کی خام خیالی پر فیصلے ہورہےہیں جو جمہوریت،پارلیمان اور آئین سے انحراف اور ان تینوں کے ساتھ کھلا مذاق ہے،انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بنانے کے دعویداروں کے ہاتھوں ملک دو لخت ہوچکا ہے کیونکہ پختون اور بنگالی حقیقی معنوں میں پاکستان بنانے والی قومیں تھیں بنگالیوں کو کئی سال قبل الگ کردیا گیا ہے اب پختونوں کو بھی الگ کرنے کی سازشیں ہورہی ہے 18ویں ترمیم میں صوبوں کے حقوق سمیت تمام مسائل کا حل موجود ہے اگر پاکستان کے اہل اقتدار اور مقتدر قوتیں پاکستان کے مسائل کے حل میں سنجیدہ ہیں تو وہ من و عن 18ویں ترمیم پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی تقسیم کے سازشیوں کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ وہ خیبرپختونخوا اور پختونوں کی تقسیم کی سازشوں سے باز آجائیں ورنہ ان کا انجام بھی اورنگ اور فیرنگ جیسا ہوگا،میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا راگ الاپنے والے پہلے پاکستان بھر میں بلدیاتی انتخابات کرواکر ان منتخب بلدیاتی نمائندوں کو بااختیار تو کرادئیں وسائل کی کمی کے باعث بلدیاتی نمائندوں کو انتظامی اور مالی اختیارات دے نہیں سکتے اور چلے ہیں ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی سفر پر انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام پختون قوم اور 18ویں ترمیم کے خلاف سازش ہے جو کسی صورت تسلیم نہیں
#