04/02/2026
ریاست کے اندر ریاست قائم، بدنامِ زمانہ اسمگلر آغا پٹھان کی کھلی دہشت گردی
ملک میں قانون کی عملداری ایک بار پھر سنگین سوالات کی زد میں آ گئی ہے، جہاں ریاست کے اندر ریاست قائم ہونے کی واضح مثال سامنے آ چکی ہے۔ بدنامِ زمانہ اسمگلر آغا پٹھان نے کھلم کھلا ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی غیر قانونی “ نجی عدالت” قائم کر رکھی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کھلی دھمکیوں کے ذریعے بے بس بنا دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق آغا پٹھان اپنے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ نادرن بائی پاس کے علاقے سے نوجوانوں کو اغواء کرتا ہے، جنہیں بعد ازاں منگھوپیر کے علاقے میں واقع ہمدرد چوکی کے قریب ایک نامعلوم مقام پر قائم مبینہ ٹارچر سیل میں منتقل کر کے بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ متاثرہ نوجوانوں پر بہیمانہ تشدد کر کے انہیں خوف و ہراس میں مبتلا کیا جاتا ہے تاکہ کوئی بھی شخص اس کے غیر قانونی دھندوں کے خلاف آواز بلند نا کر سکے۔
ماضی کا داغدار کردار رکھنے والا آغا پٹھان آج بھی اپنی دولت، اثر و رسوخ اور مبینہ مضبوط تعلقات کے بل بوتے پر کھلے عام دہشت اور فرعونیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور قانون کی رِٹ کو بحال رکھنے کے ذمہ دار محکمے بھی اس کے خلاف کسی مؤثر کارروائی سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ آغا پٹھان کی دولت اور بااثر حلقوں میں رسائی بتائی جا رہی ہے۔
گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو فوٹیج منظرِ عام پر آ چکی ہے، جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اسمگلر آغا پٹھان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اسلحے کے زور پر نوجوانوں کو اغوا کرکے منگھوپیر میں واقع ہمدرد چوکی کے قریب نامعلوم مقام پر لے جا کر تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جو کہ ریاستی اداروں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے اس بدترین واقعے پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایدیشنل آئی جی ڈی جی رینجرز سندھ اور صوبائی وزیر داخلہ فوری طور پر اس واقعے کا سخت نوٹس لیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مثال قائم کرنے والی کارروائی نا کی گئی تو ایسے عناصر مزید مضبوط ہوں گے اور عام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف بلا تفریق سخت سے سخت کارروائی کی جائے، تاکہ ریاست کی رِٹ بحال ہو، عوام کو تحفظ کا احساس ملے اور کوئی بھی شخص خود کو قانون سے بالاتر ناسمجھے۔