Shabbir Grafix

Shabbir Grafix Hi i'm Graphics Visualizer with I.T Services Specialist, i have international design industry experi

10/07/2024

With Irshad Bhatti Journalist – I just got recognized as one of their rising fans! 🎉

06/07/2024
24/06/2024

درخواست

بخدمت جناب چیف جسٹس صاحب،
سپریم کورٹ آف پاکستان، اسلام آباد۔

عنوان : جب مرجائےگی مخلوق توکیا انصاف کروگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جناب عالی،

گذارش ھے کہ ملک بھر میں تمام الیکٹرک سپلأيز کمپنیز سے درج ذیل 13 نکاتی ٹیکسز کی وضاحت طلب کی جاۓ۔ شکریہ۔

(1). بجلی کی قیمت ادا کر دی، تو اس پر کون سا ٹیکس؟

(2). کون سے فیول پر کونسی ایڈجسٹمنٹ کا ٹیکس؟
(3). کس پرائس پہ الیکٹریسٹی پہ کون سی ڈیوٹی؟

(4) . کون سیے فیوئل کی کس پرائس پر ایڈجسٹمنٹ؟

(5). بجلی کے یونٹس کی قیمت "جو ھم ادا کر چکے" پر کونسی ڈیوٹی اور کیوں؟

(6). ٹی وی کی کونسی فیس، جبکہ ھم الگ سے پیسے دے کر کیبل استعمال کرتے ہیں؟

(7). جب بل ماہانہ ادا کیا جاتا ھے، تو یہ بل کی کواٹرلی ایڈجسٹمنٹ کیا ھے؟

(8). کون سی فنانس کی کاسٹ چارجنگ؟

(9). جب استعمال شدہ یونٹس کا بل ادا کر رھے ہیں، تو کس چیز کے ایکسٹرا چارجز؟

(10). کس چیز کے اور کون سے further "اگلے" چارجز؟

(11). ود ھولڈنگ چارجز کس شے کی؟

(12). میٹر تو ہم نے خود خریدا تھا، اسکا کرایہ کیوں؟

(13). بجلی کا کون سا انکم ٹیکس؟
(14) اگر گزشتہ چھ ماہ میں ایک دفعہ بھی آپ کی یونٹ 200 کو ٹچ کر جاۓ تو اگلے چھ ماہ آپ کے یونٹ کا ریٹ پہلے 200 یونٹ والا ہی ھو گا جبکہ ہر مہینے ادائیگی کرنے پر بار بار ادائیگیاں!
یہ کون سا ظلم کا فارمولا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

منجانب؛
*عام شہری*

صارفینِ بجلی، آل پاکستان۔

I have reached 600 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉
21/06/2024

I have reached 600 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉

16/04/2024

Your personal data will be used to support your experience throughout this website, to manage access to your account, and for other purposes described in our privacy policy

15/04/2024

پولیس والے جب مسجد نبویؐ میں ایک البانوی عاشق رسولؐ کو گرفتار کرنے لگے تو اس نے روتے ہوئے عرض کی یارسول للّٰہؐ آپؐ مداخلت کیوں نہیں فرماتے پھر کیا ہوا دیکھئے اس ویڈیو میں

04/12/2023

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھ کر کبھی کبھار دنیاوی باتیں اور مزاح فرمایا کرتے تھے۔ یوں بھی ہوتا کہ وہ مجلس مستقل ایک واقعہ اور قصہ بن جایا کرتی۔
ایک مرتبہ نبی کریمؐ اپنے رفقاء سیدنا ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور عثمانؓ کی معیت میں علیؓ کے گھر تشریف لے گئے۔
سیدنا علیؓ کی اہلیہ سیدہ فاطمہؓ نے شہد کا ایک پیالہ ان حضرات کی مہمان داری کی خاطر پیش کیا۔ شہد اور خوبصورت چمکدار پیالہ۔۔۔ اتفاق سے اس پیالے میں اک بال گرگیا۔
آپؐ نے وہ پیالہ خلفائے راشدین کے سامنے رکھا اور فرمایا: آپ میں سے ہر ایک اس پیالے کے متعلق اپنی رائے پیش کرے۔
ابوبکر صدیقؓ فرمانے لگے کہ میرے نزدیک مومن کا دل اس پیالے کی طرح چمکدار ہے، اور اس کے دل میں ایمان شہد سے زیادہ شیریں ہے، لیکن اس ایمان کو موت تک باحفاظت لے جانا بال سے زیادہ باریک ہے۔
عمرؓ فرمانے لگے کہ حکومت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور حکمرانی شہد سے زیادہ شیریں ہے لیکن حکومت میں عدل وانصاف کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
عثمانؓ فرمانے لگے کہ میرے نزدیک علم دین، اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے، اور علم دین سیکھنا شہد سے زیادہ میٹھا ہے لیکن اس پر عمل کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
علیؓ نے فرمایا: میرے نزدیک مہمان اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور اس کی مہمان نوازی شہد سے زیادہ شیریں ہے اور ان کو خوش کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
سیدہ فاطمہؓ فرمانے لگیں کہ یارسول اللہ، اگر اجازت ہو تو میں بھی کچھ عرض کروں؟ آپؐ کے اجازت دینے پر فرمانے لگیں کہ عورت کے حق میں حیا اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے۔ اور اس کے چہرے پر پردہ شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور غیر مرد کی اس پر نگاہ نہ پڑے یہ بال سے بھی زیادہ باریک ہے ۔
کیا خوب ہی محفل تھی، جب خلفائے راشدین اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو آپؐ کی طرف متوجہ ہوئے۔
ادھر سرکار دو عالمؐ کے لب مبارک ہے تو زبان نبوت سے یہ الفاظ مبارک نکلے کہ معرفت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور معرفت الٰہی کا حاصل ہونا اس شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اور معرفت الٰہی کے بعد اس پر عمل کرنا، بال سے زیادہ باریک ہے۔
ادھر زمین پر یہ مبارک محفل سجی تھی ادھر رب ذوالجلال سے جبریلؑ بھی اجازت لے کر آپہنچے اور فرمانے لگے کہ ’’میرے نزدیک راہ خدا چمکدار سے زیادہ روشن ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور اپنا مال و اپنی جان قربان کرنا شہد سے زیادہ شیریں اور اس پر استقامت بال سے زیادہ باریک ہے۔‘‘
جب زمین پر سجی اس محفل میں سب اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو جبریل امین فرمانے لگے کہ یارسول! اللہ تعالیٰ بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں، فرمایا کہ جنت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور جنت کی نعمتیں اس شہد سے زیادہ شیریں ہیں، لیکن جنت تک پہنچنے کے لیے پل صراط سے گزرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
بلاشبہ یہ مجلس بھی مبارک اور ہر ایک کی گفتگو بھی مبارک، اس مجلس میں جہاں آقا نامدارؐ تھے وہیں صحابہ بھی تھے، آپ کی یہ مجلس اور اس میں ہونے والی گفتگو ہم سب کیلیے مشعل راہ ہے۔
(بکھرے موتی ص 938)

03/12/2023

اسلام علیکم
دوستو

ایک واقعہ پیش خدمت ھے غور سے پڑھیں اور عمل کریں دیگر نیک اعمال کی طرح اور اللّٰہ پاک کے دوستوں میں شامل ہو جائیں ان شاءاللہ۔
۔
۔

ایک عابد نے "خدا کی زیارت" کے لیے 40 دن کا چلہ کھینچا ۔ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا۔ اعتکاف کی وجہ سے خدا کی مخلوق سے یکسر کٹا ہوا تھا اس کا سارا وقت آہ و زاری اور راز و نیاز میں گذرتا تھا
36 ویں رات اس عابد نے ایک آواز سنی : شام 6 بجے، تانبے کے بازار میں فلاں تانبہ ساز کی دکان پر جاؤ اور خدا کی زیارت کرو
عابد وقت مقررہ سے پہلے تانبہ مارکیٹ پہنچ گیا اور مارکیٹ کی گلیوں میں تانبہ ساز کی اس دوکان کو ڈھونڈنے لگا وہ کہتا ہے ۔ "میں نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو تانبے کی دیگچی پکڑے ہوئے تھی اور اسے ہر تانبہ ساز کو دکھا رہی تھی ،"
اسے وہ بیچنا چاہتی تھی. وہ جس تانبہ ساز کو اپنی دیگچی دکھاتی وہ اسے تول کر کہتا: 4 ریال ملیں گے - وہ بڑھیا کہتی: 6 ریال میں بیچوں گی کوئی تانبہ ساز اسے چار ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہ تھا
آخر کار وہ بڑھیا ایک تانبہ ساز کے پاس پہنچی تانبہ ساز اپنے کام میں مصروف تھا بوڑھی عورت نے کہا: میں یہ برتن بیچنے کے لیے لائی ہوں اور میں اسے 6 ریال میں بیچوں گی کیا آپ چھ ریال دیں گے؟
تانبہ ساز نے پوچھا صرف چھ ریال میں کیوں؟
بوڑھی عورت نے دل کی بات بتاتے ہوئے کہا: میرا بیٹا بیمار ہے، ڈاکٹر نے اس کے لیے نسخہ لکھا ہے جس کی قیمت 6 ریال ہے۔
تانبہ ساز نے دیگچی لے کر کہا: ماں یہ دیگچی بہت عمدہ اور نہایت قیمتی ہے۔ اگر آپ بیچنا ہی چاہتی ہیں تو میں اسے 25 ریال میں خریدوں گا!
بوڑھی عورت نے کہا: کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟
"کہا ہرگز نہیں،"میں واقعی پچیس ریال دوں گا یہ کہہ کر اس نے برتن لیا اور بوڑھی عورت کے ہاتھ میں 25 ریال رکھ دیئے !!! بوڑھی عورت، بہت حیران ہوئی دعا دیتی ہوئی جلدی اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
عابد کہتا ہے میں یہ سارا ماجرہ دیکھ رہا تھا جب وہ بوڑھی عورت چلی گئی تو میں نے تانبے کی دوکان والے سے کہا:
چچا، لگتا ہے آپ کو کاروبار نہیں آتا؟
بازار میں کم و بیش سبھی تانبے والے اس دیگچی کو تولتے تھے اور 4 ریال سے زیادہ کسی نے اسکی قیمت نہیں لگائی۔ اور آپ نے 25 ریال میں اسے خریدا
بوڑھے تانبہ ساز نے کہا:
میں نے برتن نہیں خریدا ہے میں نے اس کے بچے کا نسخہ خریدنے کے لیے اسے پیسے دئیے ہیں میں نے ایک ہفتے تک اس کے بچے کی دیکھ بھال کے لئے پیسے دئیے ہیں میں نے اسے اس لئے یہ قیمت دی کہ گھر کا باقی سامان بیچنے کی نوبت نہ آئے -
عابد کہتا ہے میں سوچ میں پڑگیا اتنے میں غیبی آواز آئی،
“چلہ کشی سے کوئی میری زیارت کا شرف حاصل نہیں کرسکتا گرنے والوں کو تھامو اور غریب کا ہاتھ پکڑو ہم خود تمہاری مدد کو آئیں گے”۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

05/10/2023

خواتین کے ایک سرکاری کالج میں انگلش کا پیریڈ تھاکہ ایک طالبہ زور زور سے رونے لگی ٹیچر نے پڑھانا چھوڑا، جلدی سے اُس کے پاس جا پہنچی بڑی نرمی سے دریافت کیا،
" کیا بات ہے بیٹی کیوں رورہی ہو؟"
اس نے سسکیاں لے کر جواب دیا،
"میرے فیس کے پیسے چوری ہوگئے ہیں بیگ میں رکھے تھے کسی نے نکال لئے ہیں" ،

ٹیچر نے ایک لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کمرے کے دروازے بند کردو کوئی باہر نہ جائے سب کی تلاشی ہوگی ٹیچر نے سامنے کی تین رو سے طالبات کی خود تلاشی لی اور پھر انہیں پوری کلاس کی طالبات کی جیبیں چیک کرنے اور بستوں کی تلاشی کی ہدایت کردی۔۔
کچھ دیر بعد دو لڑکیوں کی تکرار سے اچانک کلاس ایک بار پھر شور سے گونج اٹھی ٹیچر اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی ۔،
"کیا بات ہے؟ کیوں جھگڑا ہو رہا ہے ؟ "
" مس " تلاشی لینے والی طالبہ بولی ،" کوثر اپنے بیگ کی تلاشی نہیں لینے دے رہی!"
ٹیچر وہیں تڑک سے بولی ، " پیسے پھر اسی نے چرائے ہوں گے!"
کوثر تڑپ کر بولی، " نہیں۔۔ نہیں ۔ ۔ ۔ مس میں چور نہیں ہوں!"
”چور۔۔۔نہیں ہو تو پھربیگ کی تلاشی لینے دو" طالبہ بولی ،
”نہیں" کوثر نے کتابوں کے بیگ کو سختی سے اپنے سینے کے ساتھ لگالیا "نہیں میں تلاشی نہیں دوں گی"
ٹیچر آگے بڑھی اس نے کوثر سے بیگ چھیننے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکی ۔اسے غصہ آگیا ٹیچر نے کوثر کے منہ پر تھپڑ دے مارا وہ زور زور سے رونے لگی ۔
ٹیچر نے دوسرا تھپڑ کوثر کو مارنے کے لئے کےلئے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ ایک بارعب آواز گونجی ، " ٹہرو "
ٹیچر نے پیچھے مڑکر دیکھا تو وہ پرنسپل تھی نہ جانے کب کسی نے انہیں خبرکردی تھی۔۔۔
انہوں نے کوثراورٹیچرکو اپنے دفتر میں آنے کی ہدایت کی اور واپس لوٹ گئیں ۔۔۔
پرنسپل نے پوچھا، "اب بتایئے کیا معاملہ ہے"
ٹیچرنے تمام ماجراکہہ سنایا۔۔۔
پرنسپل نے طالبہ سے بڑی نرمی سے پوچھا ”تم نے پیسے چرائے؟۔"
”نہیں" کوثر نے نفی میں سرہلا دیا۔۔۔
کوثر کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے
”بالفرض مان بھی لیا جائے۔۔۔" پرنسپل متانت سے بولیں "جب تمام طالبات اپنی اپنی تلاشی دے رہی تھیں تم نے انکار کیوں کیا؟"
کوثر خاموشی سے میڈم کو تکنے لگی ۔۔ اس کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکل کر اس کے چہرے پر پھیل گئے۔۔

ٹیچر نے کچھ کہنا چاہا، جہاندیدہ پرنسپل نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا پرنسپل کا دل طالبہ کا چہرہ دیکھ کر اسے چور ماننے پر آمادہ نہ تھا پھر اس نے تلاشی دینے کے بجائے تماشا بننا گوارا کیوں کیا۔۔۔

اس میں کیا راز ہے ؟پرنسپل سوچنے لگی۔۔
اور پھر کچھ سوچ کر پرنسپل نے ٹیچر کو کلاس میں جانے کا کہہ دیا!
پرنسپل نے بڑی محبت سے کوثر کو اپنے سامنے والی نشست پر بٹھا کر پھر بولی ، : اپنا بیگ مجھے دو !"

کوثر نے خاموشی سے اپنا بیگ ان کے حوالے کر دیا ، یہ ہاتھ سے بنا ہوا سادہ سا بیگ تھا ، جس پر کچھ سٹکر بھی لگے ہوئے تھے ، پرنسپل نے کوثر کی طرف ایک نظر دیکھا اور بیگ کھول کر ، بیگ کی چیزیں میز پر نکال کر رکھنا شروع کیں ، کتابوں اور کاپیوں کے ساتھ ، ایک کالے رنگ کا شاپر بیگ بھی باہر نکل آیا۔ باقی بیگ میں کچھ نہیں تھا ۔

پرنسپل نے سوالیہ نظروں سے کوثر کی طرف دیکھا ،
کوثر کو یوں لگا جیسے اس کا دل سینے سے باہر نکل آیا ہو۔ اُس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ پرنسپل نے شاپر کھولا اس میں آدھےکھائے ہوئے برگر کے ٹکڑے ، آدھے سموسے، چوتھائی نان اور دہی کی چٹنی میں ڈوبی چکن کی بوٹیاں۔۔۔

سارا معاملہ پرنسپل کی سمجھ میں آ گیا ، اُس کی آنکھیں دھندھلا گئیں وہ کانپتے وجود کے ساتھ اٹھی روتی ہوئی کوثر کو گلے لگا کر خود بھی رونے لگ گئی۔

کوثر نے پرنسپل کو بتایا ، " میں گھر میں سب سے بڑی ہوں ، 3 بہن بھائی مجھ سے چھوٹے ہیں ،والد صاحب نائب قاصد ریٹائر ہوئے ہیں ، لیکن ریٹائرڈمنٹ سے پہلے ہی بیمار رہنے لگے تھے ، اب تو بستر پر لگ گئے ہیں ۔گھر میں کوئی اور کفیل نہیں ہے پنشن سے گذارا نہیں ہوتا ، امی پاس کے دو گھروں میں کام کرتی ہیں ، کھانا اتنا نہیں ہوتا کہ روزانہ پیٹ بھر کر کھایا جائے ، ہم اکثر بھوکے سوتے تھے
۔ ایک شام میں نے اور امی نے کچھ نہیں کھا یا ، میں صبح کھائے بغیر کالج آرہی تھی بھوک اور نقاہت سے چلنا مشکل ہوگیا۔ ایک تکہ کباب کی د کان کے آگے سے گذری تو کچرے میں کچھ نان کے ٹکڑے اور ادھ کھایا ایک چکن پیس پڑا دیکھا بے اختیار اٹھاکرکھا لیا قریبی نل سے پانی پی کر خداکر شکر ادا کیا۔۔۔

پھر ایسا کئی مرتبہ ہوا ایک دن میں اُسی دکان کے تھڑے پر بیٹھی پیٹ کا دوزخ بھررہی تھی کہ دکان کا مالک آگیا اس نے مجھے دیکھا تو ندیدوں کی طرح نان اور کباب کے ٹکڑے کھاتا دیکھ کر حیران ہو گیا ، پھر ساری بات اس کی سمجھ میں آگئی ،واپس گیا اور رات کا بچا ہوا کھانا پیک کر کے لا کردیا ، وہ میں بیگ میں ڈال کر سکول لے آئی ، وہ ایک نیک اور ہمدرد انسان ثابت ہوا میں نے اسے اپنے حالات سچ سچ بتا دئیے اسے بہت ترس آیا، اب وہ اکثر ہمارے گھر کھانا بھی بھیج دیتا ہے اور گاہکوں کا بچا ہوا کھانا ،برگر وغیرہ روزانہ شاپر میں ڈال میرے لئے ، اپنی دکان کے باہر ایک مخصوص جگہ پررکھ دیتا ہے۔

جو میں کالج آتے ہوئے اٹھا کر کتابوں کے بیگ میں رکھ لیتی ہوں ، کچھ کھاتی ہوں اور باقی جاتے ہوئے گھر لے جاتی ہوں میرے امی ابو کو علم ہے میں نے کئی مرتبہ دیکھا ہے لوگوں کا بچا کھچا کھانا کھاتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں بہن بھائی چھوٹے ہیں انہیں کچھ علم نہیں وہ تو ایک دوسرے سے چھین کر بھی کھا جاتے ہیں"

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ چھوٹی سی کہانی ، جسے پہلے میں نے کسی قلم کار کا ہنر سمجھا تھا ، لیکن چند دن پہلے میں نے وزارت داخلہ کے چپڑاسی کے بارے میں ٹی وی نیوز میں سنا ، جس نے اپنے گھر والوں کو فاقے سے بچانے کے لئے ، چھت سے کود کر اِس امید پر خود کشی کرلی کہ شائد سروس کے دوران مرنے والے ملازم کی اولاد کو وہی نوکری مل جاتی ہے ، اُس خبر نے بھی مجھے غمزدہ کیا لیکن اِس کہانی نے تو رُلا دیا ، مجھے نہیں معلوم کہ آپ کے دل پر اِس کہانی نے کیا اثر کیا ؟لیکن ایک درخواست ہے ، کہ
خدا کے واسطے رحم کرو۔۔۔
غریبوں سے ہمدردی کرو ۔۔۔
جو اُس دانے کے محتاج ہیں جو ہم ، ڈسٹ بِن میں ڈال دیتے ہیں ۔

ہم کتنے افراد کا رزق جو اللہ نے اُن کے لئے پیدا کیا ، پیسے کے بل پر ذخیرہ کرکے اور کھانے کی صورت میں ضائع کر دیتے ہیں،
پھر سوچتے ہیں کہ اگر اللہ نے ہر جاندار کے رزق کی ذمہ داری اپنے اوپر فرض کی ہے تو لوگ بھوکے کیوں مرتے ہیں ؟
اٗن لوگوں کی بھوک کا ذمہ دار میں ہوں ، آپ ہیں اور ہم سب ہیں ۔
یقینا ہم میں سے کسی نے کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ ہم روزانہ کتنا کھانا ضائع کرتے ہیں !

26/09/2023

★★ جھوٹ اور لالچ کا انجام ★★

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ایک شاگرد کو ساتھ لے کر کسی سفر پر نکلے، راستے میں ایک جگہ رکے اور شاگرد سے پوچھا کہ :
تمہاری جیب میں کچھ ہے؟

شاگرد نے کہا :
میرے پاس دو درہم ہیں.

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی جیب سے ایک درہم نکال کر اسے دیا اور فرمایا :
یہ تین درہم ہوجائیں گے، قریب ہی آبادی ہے، تم وہاں سے تین درہم کی روٹیاں لے آؤ۔

وہ گیا اور تین روٹیاں لے لئے، راستے میں آتے ہوئے سوچنے لگا کہ :
حضرت عیسیٰؑ نے تو ایک درہم دیا تھا اور دو درہم میرے تھے جبکہ روٹیاں تین ہیں، ان میں سے آدھی روٹیاں حضرت عیسیٰؑ کھائیں گے اور آدھی روٹیاں مجھے ملیں گی، لہٰذا بہتر ہے کہ میں ایک روٹی پہلے ہی کھا لوں،

چنانچہ اس نے راستے میں ایک روٹی کھالی اور دو روٹیاں لے کر حضرت عیسیٰؑ کے پاس پہنچا۔

آپ نے ایک روٹی کھالی اور اس سے پوچھا :
تین درہم کی کتنی روٹیاں ملی تھی؟

اس نے کہا :
دو روٹیاں ملی تھی، ایک آپ نے کھائی اور ایک میں نے کھائی۔

حضرت عیسیٰؑ وہاں سے روانہ ہوئے، راستے میں ایک دریا آیا، شاگرد نے حیران ہو کر پوچھا :
ائے اللہ کے نبی، ہم دریا عبور کیسے کریں گے؟ جبکہ یہاں تو کوئی کشتی نظر نہیں آتی؟

حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا :
گھبراؤ مت، میں آگے چلوں گا تم میری عبا کا دامن پکڑ کر میرے پیچھے چلتے آؤ، خدا نے چاہا تو ہم دریا پار کرلیں گے۔

چنانچہ حضرت عیسیٰؑ نے دریا میں قدم رکھا اور شاگرد نے بھی ان کا دامن تھام لیا، خدا کے اذن سے آپ نے دریا کو اس طرح پار کر لیا کہ آپ کے پاؤں بھی گیلے نہ ہوئے۔

شاگرد نے یہ دیکھ کر کہا :
میری ہزاروں جانیں آپ پر قربان۔
آپ جیسا صاحب اعجاز نبی تو پہلے مبعوث ہی نہیں ہوا۔

عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا :
یہ معجزہ دیکھ کر تمہارے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا؟

اس نے کہا :
جی ہاں، میرا دل نور سے بھر گیا۔

پھر آپ نے فرمایا :
اگر تمہارا دل نورانی ہوچکا ہے تو بتاؤ روٹیاں کتنی تھی؟

اس نے کہا :
حضرت روٹیاں بس دو ہی تھی۔

پھر آپ وہاں سے چلے، راستے میں ہرنوں کا ایک غول گزر رہا تھا، آپ نے ایک ہرن کو اشارہ کیا، وہ آپ کے پاس چلا آیا، آپ نے ذبح کر کے اس کا گوشت کھایا اور شاگرد کو بھی کھلایا۔
جب دونوں گوشت کھا چکے تو حضرت عیسیٰؑ نے اس کی کھال پر ٹھوکر مار کر کہا :
اللہ کے حکم سے زندہ ہو جا۔

ہرن زندہ ہو گیا اور چوکڑیاں بھرتا ہوا دوسرے ہرنوں سے جا ملا۔

شاگرد یہ معجزہ دیکھ کر حیران ہو گیا اور کہنے لگا :
اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے آپ جیسا نبی اور معلم عنایت فرمایا ہے۔

حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا :
یہ معجزہ دیکھ کر تمہارے ایمان میں کچھ اضافہ ہوا۔

شاگرد نے کہا :
ائے اللہ کے نبی، میرا ایمان پہلے سے دوگنا ہو چکا ہے۔

آپ نے فرمایا :
پھر بتاؤ کہ روٹیاں کتنی تھی؟

شاگرد نے کہا :
حضرت روٹیاں دو ہی تھی۔

دونوں راستہ چلتے گئے کہ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک پہاڑی کے دامن میں سونے کی تین اینٹیں پڑی ہیں،

آپ نے فرمایا :
ایک اینٹ میری ہے اور ایک اینٹ تمہاری ہے اور تیسری اینٹ اس شخص کی ہے جس نے تیسری روٹی کھائی۔

یہ سن کر شاگرد شرمندگی سے بولا :
حضرت تیسری روٹی میں نے ہی کھائی تھی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس لالچی شاگرد کو چھوڑ دیا اور فرمایا :
تینوں اینٹیں تم لے جاؤ۔

یہ کہہ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہاں سے روانہ ہوگئے اور لالچی شاگرد اینٹوں کے قریب بیٹھ کر سوچنے لگا کہ انہیں کیسے گھر لے جائے۔

اسی دوران تین ڈاکو وہاں سے گزرے انہوں نے دیکھا، ایک شخص کے پاس سونے کی تین اینٹیں ہیں، انہوں نے اسے قتل کر دیا اور آپس میں کہنے لگے کہ اینٹیں تین ہیں اور ہم بھی تین ہیں، لہٰذا ہر شخص کے حصے میں ایک ایک اینٹ آتی ہے۔
اتفاق سے وہ بھوکے تھے، انہوں نے ایک ساتھی کو پیسے دیئے اور کہا کہ :
شہر قریب ہے تم وہاں سے روٹیاں لے آؤ، اس کے بعد ہم اپنا اپنا حصہ اٹھالیں گے، وہ شخص روٹیاں لینے گیا اور دل میں سوچنے لگا اگر میں روٹیوں میں زہر ملا دوں تو دونوں ساتھ مر جائیں گے اور تینوں اینٹیں میری ہو جائیں گی، ادھر اس کے دونوں ساتھیوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اگر ہم اپنے اس ساتھی کو قتل کر دیں تو ہمارے میں حصہ میں سونے کی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ آئے گی۔

جب ان کا تیسرا ساتھ زہر آلود روٹیاں لے کر آیا تو ان دونوں نے منصوبہ کے مطابق اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا، پھر جب انہوں نے روٹی کھائی تو وہ دونوں بھی زہر کی وجہ سے مر گئے، واپسی پر حضرت عیسیٰؑ وہاں سے گزرے تو دیکھا کہ اینٹیں ویسی کی ویسی رکھی ہیں جبکہ ان کے پاس چار لاشیں بھی پڑی ہیں، آپ نے یہ دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھری اور فرمایا :
دنیا اپنی چاہنے والوں کے ساتھ یہی سلوک کرتی ہے۔۔۔

*📕 انوار نعمانیہ صفحہ 353*

21/09/2023

سچی کہانی

ماں بضد تھی کے گھر کو گروی رکھ کے اس کے شوہر کا علاج کروا لے مگر خود غرض بیٹا کہتا تھا کہ ابے کی عمر گزر چکی ہے اس نے اب بچنا نہیں ہے اس کی خاطر گھر کو گروی رکھ کے میں اپنی آنے والی نسل کا نقصان نہیں کر سکتا ماں آنسو بہاتے ہوئے کہتی تھی اگر میرے سر کا تاج سلامت رہ جائے تو گھر اللہ تعالی اور دے دے گا بیٹا اپنی ماں کے بہتے آنسو دیکھ کر بجائے ماں پر ترس کھانے کے الٹا ماں کے بہتے آنسو دیکھ کر کہتا تھا کے اگر رونے سے ابے کی زندگی بچ سکتی ہے تو ساتھ اپنی بیٹی کو بھی بٹھا لو میرے پاس اس نیم مردہ وجود پر بہانے کے لئے آنسو نہیں ہیں نہ جانے مجھے اور زندگی کتنا رلائے گی بیٹے کے لہجے کی سرد مہری اور اس کی خود غرضی کی انتہا دیکھ کر ماں چپ چاپ اٹھ کر اندر چلی جاتی تھی جب شوہر کے دن رات مسلسل تکلیف میں گزرنے لگے ایک پل کا بھی چین نہ رہا اور وہ ہر وقت تکلیف سے کراہتا رہتا تو مجبوراً ماں نے اپنی بیٹی کی قربانی دینے کا فیصلہ کر لیا اور اپنی بیٹی سے اپنے فیصلے پر عمل کرنے کے متعلق مشورہ کیا تو بیٹی نے سر جھکاتے ہوئے کہا کہ ماں اگر میری قربانی سے میرا باپ بچ جائے تو مجھے اور کیا چاہیے ماں نے بیٹی کو اپنے سینے سے لگا لیا اور رونے لگی ۔۔۔۔۔۔

ساری رات باب درد سے کراہتا رہا اور بیٹی اپنی سابقہ روٹین کی طرح باپ کے قدموں میں بیٹھی باپ کے پیروں کی تلیاں مل کر سہلاتی رہی مگر باپ کے دونوں گردے ختم تھے پاؤں کی تلیاں مل کر سہلانے سے کہاں آرام آنا تھا جب کہ باپ جانتا تھا اس کو تکلیف میں دیکھ کر اس کی بیٹی سے برداشت نہیں ہو پاتا جہاں تک ممکن ہوتا وہ اپنے درد پر قابو پائے رکھتا مگر جب درد کی انتہا ہو جاتی تو اس کے منہ سے کراہ نکل ہی جاتی تھی باپ کے منہ سے نکلنے والی ہر کراہ کے بدلے بیٹی کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو کی تعداد میں تیزی آجاتی تھی ماں کے کہنے پر اپنی زندگی کی قربانی دینے کے لیے بیٹی تیار ہو چکی تھی اس لیے باپ کی ہر آہ کے بدلے وہ باپ کے پاؤں کی تلیاں چوم کر تسلی دیتی تھی کہ بس بابا آج کی رات ہے انشاء اللہ صبح آپ کو ہسپتال داخل کروا دیں گے باپ اپنی آنکھوں میں ڈھیروں محبت بھر کر اپنی بیٹی کو دیکھتا تھا مگر شدید ترین تکلیف کی وجہ سے منہ سے نہیں بول پاتا تھا شاید باپ یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ میرے گھر میں تو میرے کفن کے پیسے بھی نہیں ہے میری بیٹی مجھے علاج کے لئے ہسپتال کہاں سے داخل کروائے گی.......

ماں نے ایک شخص کے ساتھ پہلے سے سود پر پیسے لینے کے لیے بات کر رکھی تھی اس شخص کے دو مطالبے تھے جن میں سے ایک کا پورا کرنا ضروری تھا یا تو وہ گھر گروی رکھنے کا کہتا تھا بصورت دیگر وہ کہتا تھا کہ اپنی جواں سالہ بیٹی مجھے نکاح میں دے دو اور ساتھ حلف دو کہ پھر کبھی تم لوگ طلاق کا مطالبہ نہیں کروگے اور یہحلف مجھے کچھ معزز لوگوں کے سامنے چاہیے جب ماں باپ کا لاڈلا بیٹا گھر گروی رکھنے کے لیے راضی نہ ہوا وہ اپنے شوہر کو اپنے سامنے یوں تڑپتا دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتی تھی اس نے اپنی بیٹی کے سامنے سود پر قرض لینے کی شرط رکھی بیٹی نے اپنے باپ کی خاطر قربانی دینے کا فیصلہ کر لیا اور سود کا کاروبار کرنے والے اس شخص کے نکاح میں جانے کے لیے راضی ہوگئی یوں اس کے باپ کو سود پر رقم لے کر اسپتال داخل کروا دیا گیا ہسپتال میں گردوں کے ٹرانسپلانٹ کا فیصلہ ہوا اب گرد خریدنے کی سکت کوئی نہیں رکھتے تھے لہذااسپتال میں باپ چند ہفتے سکون آور ادویات کے زیر اثر زندہ رہا اور پھر اس دار فانی سے کوچ کر گیا
بیٹی کی قربانی اپنے باپ کی زندگی تو نہ بچا سکی مگر اس کی قربانی نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ابراہیم علیہ السلام کا بیٹا تھا جو باپ کے حکم پر قربانی کے لئے تیار ہو گیا ورنہ آج کے دور میں جتنی قربانی بیٹی والدین کے لیے دیتی ہے اتنی کبھی بھی بیٹا نہیں دے سکتا

باپ کی موت کے بعد جلد ہی وہ لڑکی سودی کاروبار کرنے والے شخص کے نکاح میں آگئی جو تین سال تک کم سن کلی کو نوچتا رہا
اگر لڑکی اس سے رحم کی بھیک مانگتی تھی یا کسی دن حق زوجیت ادا کرنے سے انکار کرتی تھی تو وہ شخص شیطانی روپ دھار کر نہ صرف اس سے زبردستی حق زوجیت ادا کرواتا تھا بلکہ شراب کے نشے میں دھت ہو کر اسے جانوروں کی طرح مارتا بھی تھا کئی بار شوہر کے تشدد کی وجہ سے وہ گھنٹوں بے ہوش رہتی تھی مگر اس کے باوجود اس کی زبان پر کبھی شکایت تک نہیں آتی تھی اپنے باپ کے چند دنوں کے سکون کی خاطر اس نے اپنی زندگی کا سکون بیچ ڈالا تھا اور آج بھی اپنے اس فیصلے پر وہ مطمئن تھی
کچھ عرصہ قبل سودی کاروبار کرنے والے اس کے شوہر نے جوئے میں کثیر رقم ہار دی اور رقم کے بدلے جیتنے والے جواری کو اپنی یہ بیوی پیش کر دی کیونکہ وہ جانتا تھا اگر یہ انکار بھی کرے گی تو وہ زبردستی سے جواری کے حوالے کردے گا لڑکی کے بھائی کو اپنی بہن سے کوئی غرض نہ تھی اور بوڑھی ماں کا اس شخص کو کوئی ڈر نہیں تھا کیونکہ جو شخص سودی کاروبار کر کے خدا سے جنگ مول لے چکا تھا اسے ایک بیوہ عورت یتیم بچی کا کوئی خوف نہیں تھا

اس نے اپنی بیوی کو زبردستی جواری کے حوالے کردیا اور ساتھ ہی کہہ دیا کہ زندہ یا مردہ یہ ہر حال میں اب تمہاری ہے اس کا والی وارث میں ہوں میں اس کو اب تمہارے سپرد کر رہا ہوں تم جیسے چاہو اس کے ساتھ سلوک کر سکتے ہو
سامنے والا جواری بھی درندہ ہی تھا وہ بھی انسانی روپ میں چھپا ہوا شیطان نہیں تھا اس نے پہلی ہی رات لڑکی سے جنسی ہوس مٹانے کی کوشش کی تھی اور لڑکی کے انکار پر اسے چارپائی کے ساتھ باندھ کر بیلٹ اور ڈنڈوں کی مدد سے مار مار کر جان سے ہی مار دیا تھا
مردہ حالت میں تین دن تک لڑکی بندھی رہی تھی تین دن بعد جب اس کی لاشوں سے تعفن اٹھنے لگا تو لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی پولیس نے آکر لڑکی کی لاش کو قانونی کارروائی کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا اور ساتھ ہی اس کے ورثاء کو ڈھونڈا پوسٹ مارٹم کے بعد لڑکی کی لاش جب اس کی ماں کے حوالے کی گئیں تو اپنی بیٹی کا زخمی وجود مردہ حالت میں چارپائی پر پڑا دیکھ کر دماغی توازن کھو بیٹھی
لڑکی کا بھائی جو پیسے کا پجاری تھا زندہ بہن کی تو اس نے کبھی خبر نہ لی تھی مگر جب اس کی بہن مر گئی اور پولیس کیسے بن گیا تو اس کو یقین تھا کہ دونوں جواریوں سے وہ جیب گرم کر لے گا اس لیے وہ بہن کے کیس کا مدعی بن گیا یوں وہ دونوں ظالم ایک بار قانون کے کٹہرے میں آئے مگر لالچی بھائی نے اپنی مردہ بہن کے وجود کا بھی سودا کر دیا پیسے لے کر ان کو معاف کر دیا اور اپنی پاگل ماں کو گھر سے نکال باہر کیا

اس کی ماں آج بھی ننگے پیروں سڑکوں کی خاک چھانتی رہتی ہے ریڑھی بانوں اور ہوٹل والوں سے مانگ کر کھانا کھاتی ہے جب کبھی اس کے اندر کی ممتا جاگ گئی ہوتی ہے تو سامنے سے گزرنے والی ہر لڑکی کو اپنی بیٹی کا نام لے کر پکارتی ہے اور اسے سینے سے لگانے کے لئے اس کی طرف بڑھتی ہے کچھ حساس دل لڑکیاں تو سے ماں کہہ کر اس کی ممتا کو سکون بخش دیتی ہیں مگر زیادہ تر لڑکیاں اس کے حوالے سے ڈر کر بھاگ جاتی ہیں اور وہ عورت وہیں بیٹھ کر رونے لگتی ہے روتے ہوئے کہتی ہے کہ میں نے اپنے شوہر کو بچانے کی خاطر اپنی بیٹی کو قربان کر دیا مگر اب نہ میرے پاس شوہر رہا نہ میری بیٹی کاش خدا نے مجھے بیٹے کی جگہ دوسری بیٹی ہی دی ہوتی تو أج میں گلیوں میں یوں خاک نہ چھان رہی ہوتی

Address

Okara
56300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shabbir Grafix posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share