15/12/2025
آج بگن میں ایک ایسے شخص نور اللہ مرقدہ کا جنازہ ادا کیا گیا جس کی مبینہ طور پر ٹی ٹی پی سے وابستگی تھی۔ اس جنازے میں کھلے عام ٹی ۔ٹی پی اور غیر ملکی، پاکستان مخالف جھنڈے لہرائے گئے، الجہاد الجہاد کے نعرے لگائے گئے، اور متعدد ٹی ٹی پی عناصر نے شرکت کی۔ یہ تمام حقائق اس بات کی کھلی شہادت ہیں کہ بگن اور وتزئی قوم محض مظلوم بننے کی اداکاری کر رہے ہیں ، جبکہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بگن اور وتیزئی قوم ٹی ٹی پی کا گڑھ رہا ہے۔ درجنوں خطرناک ٹی ٹی پی سرغنوں نے یہیں جنم لیا، یہیں پلے بڑھے، اور یہیں سے دہشت گردی کی کارروائیاں منظم کیں ٹٹپ کمانڈر کاظم اور سابقہ کمانڈر فضل سعید کو اسی وتی زئی نے جنم دیا۔ اج اس قبیلے کے درجنوں افراد براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ٹی۔ ٹی۔ پی سے وابستہ، سہولت کار یا معاون رہے ہیں۔
یہ بھی یاد رکھا جائے کہ 22 نومبر کو بگن میں اپر کرم کے بےگناہ مردوں، عورتوں اور بچوں سمیت 55 افراد کو بے دردی سے شہید کیا گیا اور 103 افراد کو زخمی کیا گیا۔ ایک ہی دن میں تین مختلف مقامات پر ایک گھنٹے تک مسلسل حملے کیے گئے۔ اس کے بعد قافلوں پر حملوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا، جن میں تین بڑے قافلوں کو نشانہ بنایا گیا، اربوں روپے کا مال لوٹا گیا، بےگناہ مسافروں کے سر قلم کیے گئے۔ ان تمام وارداتوں کے واضح ویڈیو شواہد موجود ہیں۔
اسی بگن میں ڈپٹی کمشنر اور ایف سی کرنل پر حملے کیے گئے۔ اس سے پہلے بھی بے شمار واقعات پیش آ چکے ہیں، مگر فہرست بہت طویل ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ایک طرف پاکستان، افغانستان سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائیوں کا مطالبہ کر رہا ہے اور عالمی فورمز پر سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ دوسری طرف بگن جیسے ٹی ۔ٹی ۔پی کے گڑھ کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ بگن میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے ذریعے ٹی ۔ٹی ۔پی کے سہولت کاروں، معاونین اور مسلح عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے، تاکہ ٹی۔ ٹی۔ پی کی کمر توڑی جا سکے اور اس علاقے کو دہشت گردی کے گڑھ سے پاک کیا جا سکے۔ مظلوم بننے کے بیانیے کے پیچھے چھپے ظالموں کو بے نقاب کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔