EETOZ

EETOZ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from EETOZ, Advertising/Marketing, musa khel, Swabi.

17/11/2025

05/06/2025
25/02/2025

آجکل دوبارہ کچھ دوست الیکٹرک بائیکس کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔
الیکٹرک بائیکس کے بارے میں کلیمز تو بہت ہیں لیکن چند حقیقتیں بیان کرنا چاہوں گا۔
الیکٹرک بائیکس میں اسکوٹر بھی available ہیے اور موٹر سائیکل بھی۔۔۔
لیکن یہاں ہم موٹر سائیکل ڈسکس کر لیتے ہیں۔
الیکٹرک موٹر سائیکل کے مندرجہ ذیل پوائنٹ بہت اہمیت کے حامل ہیں
1) کس قسم کی بیٹری لگی ہے ۔؟؟
2) اگر لیتھیم بیٹری ہیے تو اس کا BMS یعنی بیٹری مینیجمینٹ سسٹم کس قسم کا ہیے ؟؟
3) بیٹری کتنے وولٹ اور کتنے AHr کی ہیے؟؟
4) کس قسم کی موٹر لگی ہیے ؟؟
5)کتنے واٹ کی موٹر ہیے؟؟
6) موٹر سائیکل کی ٹاپ اسپیڈ کتنی ہیے؟؟
7) موٹر سائیکل کی ٹاپ اسپیڈ کے کتنے آپشن ہیں ؟؟
8) موٹر کو چلانے والا کنٹرولر کس قسم کا لگا ھوا ھے۔؟؟
9) کیا پہیے Alloy rims ہیں یا spoke والے پہیے ہیں؟؟

چلیں اب ایک ایک کر کے ہر چیز کو سمجھتے ہیں
1) بیٹری:-
الیکٹرک موٹر سائیکل کی جان اس کی بیٹری ہے۔ اور بیٹری مختلف قسم کی ہو سکتی ہیں۔
سب سے پہلے لیڈ ایسڈ بیٹری ۔۔۔
یہ موٹر سائیکل کے لیے انتہائ گھٹیا بیٹری ہوتی ہیے کیونکہ اس کی زندگی صرف 300 سائیکل چارج ڈسچارج ہیے اور وہ بھی اگر 60 فیصد سے زیادہ ڈسچارج نہ کی جائے تو۔
دوسری بیٹری گرفین بیٹری ہیے۔۔۔ جو لیڈ ایسڈ سے بہتر ہیے لیکن اس کو بھی 80 فیصد سے زیادہ ڈسچارج نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کی زندگی بھی 600 سائیکل تک محدود ہیے اور یہ وزنی بھی ہوتی ھے۔
تیسری قسم اس سے اچھی Lithium batteries ہیں جن میں Lithium iron phosphate (جسے LiPO4 بھی کہتے ہیں) بہت اچھی بیٹری ، کم وزن اور کم جگہ گھیرنے والی ہیے ۔۔۔اسے پورا ڈسچارج کیا جا سکتا ہیے پھر بھی اس کی زندگی 1200 سائیکل سے زیادہ ہیے۔
اس میں بھی دو قسم آتی ہیں ۔۔پہلی Pouch cells پر مشتمل ہیے اور دوسری قسم زیادہ بہتر ہیے جس کی زندگی 1500 سائیکل سے زیادہ ہیے اور یہ Prismatic cells پر مشتمل ہوتی ھے۔

2)دوسری اہم چیز یہ ہیے کہ اگر لیتھیم بیٹری ہیے تو اس میں لگا BMS (بیٹری مینیجمینٹ سسٹم) کس قسم کا ہیے ۔۔۔ چونکہ لیتھیم بیٹری کے سیل تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ڈسچارج ہوتے ہیں اس لیے ان سیلز کے چارج کو برابر رکھنے کے لیے BMS لگاتے ہیں تا کہ کوئ بھی سیل بہت ڈاؤن ہو کر خراب نہ ہو جائے۔۔ یہ تین قسم کے ہوتے ہیں ۔۔سب سے بہتر Active BMS ہوتا ہیے۔ یہ BMS جو بھی سیل زیادہ ڈسچارج ہو اس کو اسے بیٹری کے چارجڈ سیل سے چارج کر کے سب سیلوں کی وولٹیج برابر رکھتا ہیے ۔۔۔
دوسری قسم Passive BMS ہیے۔۔۔ جب بھی کسی سیل کی وولٹیج کم ہو جائے تو یہ ان تمام سیلوں کو جن کی وولٹیج زیادہ ہوتی ہیے انہیں ایک رزسٹر سے ڈسچارج کروا کر اسی وولٹیج پر لے آتا ہیے جو سب سے زیادہ ڈسچارج سیل کی ہوتی ہیے۔۔
تیسری قسم اصل میں ایسا BMS جو اگر کوئ سیل 2.4 وولٹ پر آ جائے تو پوری بیٹری کو ہی بند کروا دیتا ہیے۔
اچھی بیٹری میں ہمیشہ active BMS ہوتا ہیے کیونکہ یہ پاور ضائع نہیں کرتا اور زیادہ mileage دیتا ہیے جسے عرف عام میں اچھی رینج کہتے ہیں اور اسی وجہ سے بیٹری کی زندگی بھی زیادہ ہوتی ہیے۔

3) تیسری ضروری چیز بیٹری کی وولٹیج اور AHr ہیے ۔۔ آجکل الیکٹرک bikes میں 48 وولٹ ، 60 وولٹ اور 72 وولٹ کی بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں ۔۔۔
چونکہ کل پاور وولٹیج اور کرنٹ کا حاصل ضرب ہوتی ہیے اس لیے 48 وولٹ پر بائیک کو چلانے کے لیے زیادہ کرنٹ چاہیے جس کی وجہ سے پاور کیبل موٹی ہوں گی۔۔ اس لیے سب سے اچھا 72 وولٹ سسٹم ہیے ۔۔دوسرے نمبر پر 60 وولٹ سسٹم ۔۔۔
دوسری طرف اگر 72 وولٹ سسٹم ہیے تو بیٹری 25 AHr کی ہونی چاہیے تا کہ کل پاور 1800 واٹ ہو۔۔۔ اسی طرح اگر 60 وولٹ سسٹم ہیے تو 30 AHr کی بیٹری ہونی چاہیے، یہ بھی 1800 واٹ ہوئے۔

4) موٹر Brushless DC موٹر ہونی چاہیے جسے عرف عام میں BLDC موٹر کہا جاتا ہیے۔

5) اگر acceleration ایسی ہی چاہیے جیسی کہ 70 CC پٹرول کی موٹر سائیکل کی ہیے تو کم از کم 1500 واٹ کی موٹر ہونی چاہیے۔

6) ٹاپ اسپیڈ بہت اہمیت کی حامل ہیے ۔۔1200 واٹ کی موٹر زیادہ سے زیادہ 50 کلومیٹر کی ٹاپ اسپیڈ دیتی ہیے اور 1500 واٹ کی موٹر 65 کلو میٹر کی اسپیڈ دے گی۔

اس سے زیادہ اسپیڈ کے لیے اور بڑی موٹر چاہیے ۔۔یہاں یہ عرض کر دوں کہ بد قسمتی سے کمپنیاں اور ڈیلر اپنے اسپیڈومیٹر میں گڑبڑ کر کے دس کلو میٹر تک extra speed show کر دیتے ہیں ۔۔اس کا بہتر طریقہ یہ ہیے کہ ایک reliable پٹرول بائیک اور الیکٹرک بائیک کو ساتھ ساتھ دوڑا کر چیک کر لیں کہ اصل ٹاپ اسپیڈ کتنی ہیے ۔

7) اچھی موٹر سائیکل میں ٹاپ اسپیڈ کے سلیکٹ کرنے کے 3 آپشن ہونے چاہیں ۔۔
جیسے۔۔۔1 نمبر پر وہ 35 کلو میٹر کی ٹاپ اسپیڈ ہو۔
2 نمبر پر 45 کلو میٹر ہو ۔۔۔
اور 3 نمبر پر 65 کلو میٹر کی ٹاپ اسپیڈ ہو۔
یہ اس لیے ضروری ہیے کہ جتنی زیادہ ٹاپ اسپیڈ ہوتی ہیے بیٹری اتنی ہی کم mileage دیتی ہیے۔

چنانچہ اگر صارف ایک چارج میں زیادہ دور جانا چاہتا ہیے تو وہ نمبر ایک پر رکھ کر 35 کلو میٹر کی اسپیڈ پر ایک بیٹری چارج میں زیادہ دور تک جا سکتا ہیے۔

8) کنٹرولر وہ پارٹ ہیے جو بیٹری سے کرنٹ لے کر موٹر کو چلاتا ہیے۔سب سے اچھا کنٹرولر sinusoidal output دینے والا کنٹرولر ہیے کیونکہ اس میں پاور کا ضیائع بہت کم ہیے ، یہ آسانی سے خراب نہیں ہوتا اور ساتھ ہی اس سے بائیک بہت smooth چلتی ہیے اور موٹر کی زندگی بڑھتی ہیے۔

9) آخری چیز کہ پہیے کون سے ہوں۔۔ کسی صورت میں spoke والے پہیے نہیں ہونے چاہیں بلکہ alloy rim ہوں اور ٹیوب لیس ٹائیر ہوں۔
کیونکہ ابھی تک ہمارے ملک میں الیکٹرک بائیک کے ٹائیر کو پنکچر لگانے والے اچھے trained کاریگر نہیں ہیں ۔
چونکہ موٹر پچھلے پہیے کے ساتھ لگی ہوتی ہیے اس لیے بہت کم ٹائیر پنکچر والے الیکٹرک بائیک کا پنکچر لگا سکتے ہیں۔۔۔ ٹیوب لیس ٹائیر کا فائیدہ یہ ہوتا ہیے کہ اس کو پنکچر حالت میں بھی چلا کر لے جایا جا سکتا ہیے اور پنکچر لگانے کے لیے اسے کھولنے کی ضرورت نہیں اسلیے ہر ٹائیر والا اس کو آسانی سے پنکچر لگا سکے گا۔

ایک بہت ضروری چیز کہ ایک دفعہ چارج میں بائیک کتنے کلومیٹر کرتی ہیے۔۔۔
یاد رکھیں گھٹیا کنٹرولر اور گھٹیا موٹر اور 1800 واٹ کی بیٹری کےساتھ ایک 60 کلو میٹر ٹاپ اسپیڈ کی بائیک صرف 50 کلو میٹر دے گی جو کہ ایک چارج کے لیے دو یونٹ کھائے گی ۔۔
یعنی اگر 60 روپے یونٹ بجلی ہیے تو 120 روپے کی بجلی اور اگر گھٹیا بیٹری ہیے تو ایک سال میں بیٹری بھی ختم ہو جائے گی جس کی قیمت 70000 روپے کے قریب ہیے ۔۔اگر پورے سال میں دس ہزار کلو میٹر چلائ تو بجلی و بیٹری کا خرچ 9 روپے 40 پیسے فی کلومیٹر ہوا۔
دوسری طرف اچھی بیٹری، اچھا کنٹرولر و موٹر لگی ہیے تو یہ بائیک 80 کلو میٹر فی چارج کرے گی 60 کی اسپیڈ پر ۔۔ اور بیٹری بھی کم از کم چار سال چلے گی ۔۔۔ اس طرح ایوریج 2 روپے 75 پیسے فی کلومیٹر خرچ ہو گا ۔۔۔جو کہ پٹرول کی بائیک سے بہت سستا ہیے ۔۔

آخری بات۔۔ کسی بھی چھوٹے سے امپورٹر یا مارکیٹنگ والے سے بائیک نہ لیں بلکہ اچھی بڑی پاکستانی کمپنیاں جو بائیک بنا رہی ہیں ان سے خریدیں تا کہ آپ کو گارنٹی کے ساتھ اچھی چیز اور آفٹر سیلز سروس کی سہولت بھی ملے۔

ترتیب و ترمیم

آئینی ترمیم کی تنور میں مدارس بارے مولانا فضل الرحمن کی روٹیچھبیس ویں آئینی ترمیم وہ تنور ہے، جس میں پی ٹی آئی کے سوا سب...
22/10/2024

آئینی ترمیم کی تنور میں مدارس بارے مولانا فضل الرحمن کی روٹی

چھبیس ویں آئینی ترمیم وہ تنور ہے، جس میں پی ٹی آئی کے سوا سبھی نے اپنی اپنی روٹیاں پکانے کےلیے لگائیں، کسی پر عمران خان کا خوف سوار تھا تو کسی پر جسٹس منصور علی شاہ کا تو کسی کو کوئی اور خوف، ایک ایک کرکے سب کی روٹیاں پک گئی ہیں۔ آج دن بھر مفتی تقی عثمانی کی ٹویٹ کا یہ سکرین شارٹ سوشل میڈیا پر گردش کرتے ہوئے نظر آرہی ہے، پتہ ہے اس میں کیا ہے؟ مولانا فضل الرحمن نے وہ کون سی روٹی اس تنور میں لگائی ہے جس کے پکنے پر وفاق المدارس کا سربراہ اتنا خوش ہے؟ آئیے آج آپ کو یہ نکتہ ذرا تفصیل سے بتاتے ہیں۔

عمران خان نے اپریل 2019ء میں ایک قانون پاس کرایا تھا کہ دینی مدارس بھی تعلیمی ادارے ہیں، اُن میں پڑھنے والے بچے بھی ہمارے بچے ہیں اور تعلیم ہی حاصل کررہے ہیں، ان اداروں کو بھی تعلیمی ادارہ اور فاضلین کو تعلیم یافتہ گِنا جائے۔ اس کےلیے لازم ہے کہ انہیں قومی دھارے میں لایا جائے اور انہیں محکمہ تعلیم کے انڈر کیا جائے اور ان کی نگرانی ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کرے جیسے کہ کالجز اور یونیورسٹیز اسی کے انڈر ہیں۔ کیوں کہ قبل ازیں مدارس کو محکمہ داخلہ مانیٹر کرتا تھا تو رجسٹریشن سوشل ویلفیئر اور محکمہ انڈسٹریز (یعنی فیکٹری کھاتے) میں کرائے جاتے تھے۔

(عام مولوی سرکاری محکموں کو اتنی گہرائی سے نہیں جانتا۔ اس لیے وہ مدرسہ کو بھی تعلیمی ادارہ سمجھتا ہے جب کہ وفاق المدارس کی ترجیحات کے مطابق مدرسہ تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ فیکٹری ہے۔)

عمران خان کے دور میں تمام فرقوں کے وفاق المدارس نے اتفاق کیا۔ دیوبندیوں کی طرف سے خود مفتی محمد تقی عثمانی اور قاری محمد حنیف جالندھری اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ معاہدہ میں نظامِ تعلیم میں اصلاحات کے ساتھ نصابِ تعلیم میں جدید کتابیں بھی شامل کرنے پر اتفاق ہوا۔ معاملہ یہاں جاکر پھنس گیا کہ وہ کتابیں پڑھائے گا کون؟ کیوں کہ عصری سبجیکٹ کےلیے عصری تعلیم یافتہ اساتذہ درکار ہیں۔ اس کا حل یہ نکالا گیا اساتذہ کا تقرر اگر حکومت کرلے تو وفاقہائے مدارس کی نظر میں یہ مدرسہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، سو بنیادی عصری کلاسز کےلیے دو دو اساتذہ کا تقرر اہل مدرسہ ان کا خود کرکے ریکارڈ HEC کو بھیجیں۔ تنخواہیں یکمشت وہاں سے ملے گی، یہ نکتہ بھی ایگری ہوگیا۔

طے پایا کہ ملک بھر میں 12 مانیٹرنگ ڈیسک بنیں گے جو مدارس کے معاملات کی نگرانی کریں گے۔ مدارس کا ایچ ای سی میں رجسٹریشن کے بعد ہی بینک اکاؤنٹس کھلیں گے۔ مدارس کو اپنا سالانہ آڈٹ رپورٹ جمع کرانا ہوگا کہ کتنی آمدن اور کتنا خرچ ہے، جیسے کہ سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی آڈیٹنگ ہوتی ہے۔

ہوا یہ کہ 2021ء میں کچھ نئے بورڈز رجسٹرڈ ہوگئے۔ جن میں بطورِ خاص مجمع العلوم الاسلامیہ ہے، مجمع کی رجسٹریشن سے وفاق کا رُعب ٹوٹ گیا۔ شروع میں اس کے خلاف سازشی تھیوری کے ذریعے پروپیگنڈے کیے گئے۔ جب مجمع نے کہا کہ بھائی ہم نہ آپ کے متبادل ہیں نہ فریق۔ آپ کے ساتھ ہوتے ہوئے جو کام ہمارے لیے مشکل تھے، ہم وہی کام اس پلیٹ فارم سے کریں گے۔ ہم واضح طور پر بتاتے ہیں کہ آپ کے ساتھ ہماری کوئی دشمن نہیں۔ اس کے بعد مجمع کے خلاف کھل کر سازشوں کا دروازہ تو بند ہوگیا لیکن پسِ پردہ اس کو تحلیل کرنے کے تمام حربے بدستور آزمائے جاتے رہے۔

اپریل 2022ء میں عمران خان کی حکومت ختم ہوتے ہی پی ڈی ایم نے نئے قانون سازی کےلیے واردات ڈالنے لگی، جس میں بدنامہ زمانہ نیب ترمیمی قوانین سب کو یاد ہوگا۔ اس تنور میں بھی سب اپنی اپنی روٹیاں لگائیں۔ مولانا صاحب نے مدارس اصلاحات کے عنوان سے ایک مسودہ تیار کرکے اپنے اتحادیوں کے پاس بھیج دیا۔ چونکہ تمام حتمی قوانین اسمبلی سے منظور ہونے سے پہلے بالکل لاسٹ ڈرافٹ کی شکل میں ایک کرنل کو حوالہ کردیا جاتا ہے۔ مجمع اور خصوصاََ جامعۃ الرشید کا اداروں کے ساتھ تعلق کسی سے مخفی نہیں، باقی مدارس اور بورڈز کے مولوی رات کی تاریکی جو کرتے ہیں، یہ دن کی روشنی میں بھی پوشیدہ رکھنا معیوب سمجھتے ہیں۔

اصول یہ ہے کہ جو قانون یا آئینی ترمیم کسی شرعی یا مذہبی معاملہ سے متعلق ہے، اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔ مولانا صاحب کے دو ٹارگٹس تھے۔ ایک نئے بورڈز کی تحلیل اور دوسرا رحمۃ اللعالمین (صلی اللہ علیہ وسلم) اتھارٹی کا خاتمہ۔ متعلق کرنل نے دونوں پر آبجیکشن لگاکر واپس کردیا۔ مولانا نے کہا کہ حکومت مدارس کے ساتھ مخلص نہیں۔ وہ اپنی حکومت پر زور دیتی رہی مگر ہوا کچھ بھی نہیں، سب کی روٹیاں پک گئیں، مولانا کی روٹی جل گئی۔

2023ء میں (مہینہ یاد نہیں) مولانا فضل الرحمن آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم سے ملے، ان کے سامنے مجمع کی تحلیل کے بہانے نئے بورڈز کے خاتمے کی درخواست رکھی، وجہ پوچھا گیا تو بتایا کہ وفاق المدارس کو اعتراض ہے کہ مدارس کی وحدت متاثر ہوگی فلاں اور فلاں۔۔۔ یعنی غیر معقول قسم کے اعتراضات۔۔۔ جواب ملا کہ وفاق المدارس والے خود تو ہم سے ملتے رہتے ہیں، کبھی کچھ بھی نہیں کہا کسی نے۔ مولانا نے کہا کہ چلیں میں خود ان کو بھیج دیتا ہوں۔

کچھ ہی دنوں بعد مولانا صاحب نے مفتی تقی عثمانی کو ڈرا کر مدارس کو مفروضہ دشمن سے لاحق خطرات سے آگاہ کیا اور حنیف جالندھری تو پہلے سے تیار بیٹھے تھے۔ کو جنرل باجوہ سے ملنے پر آمادہ کیا اور کچھ نئے اعتراضات اور تازہ نکات حوالہ کرکے بھیج دیا۔ یہ حضرات جب باجوہ سے ملے تو لمبی چوڑی داستانیں سنانے کے بعد باوجوہ کی طرف سے جواب ملا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔

اس وقت 17 ہزار کے قریب مدارس 2019ء قانون کے مطابق رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، چونکہ وفاق المدارس اپنے ماتحت مدارس کی محکمہ تعلیم میں رجسٹریشن کے حق میں نہیں، اس لیے کہ آڈیٹنگ کرتے ہی نہیں، اکثر مدارس کی آمدن تو ویسے ہی مشکوک ہے، اخراجات کا نظام بھی قانونی اور شرعی نہیں۔ مثلا 30 برس پڑھانے والے شیخ الحدیث کو وہی مراعات میسر نہیں جو مراعات مہتمم کے بیٹے کو نئی تقرری کے ساتھ ہی میسر ہوجاتے ہیں۔ اساتذہ حدیث سالانہ چھٹی میں ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ نہیں جاسکتے لیکن مہتمم بمع اہلیہ اور بچے سال میں دو تین عمرے اور حج کی سعادت ضرور حاصل کرتا ہے۔ جن کی آمدن بلیک منی سے ہے وہ تو آڈٹ دیں گی ہی نہیں، جن کو چندے ملتے ہیں، میں ان کی آدٹ رپورٹ سے فرار ہونے کی بات کررہا ہوں۔

بہرحال کرپٹ سسٹم کے ذریعے بدنام زمانہ ترمیم میں کرپٹ مہتممین کےلیے یہ گولڈن چانس ہے کہ سورس آف انکم بتائے بغیر خوب بنگلے کوٹھیاں بنائیں۔ جیسے نیب سیاستدانوں سے نہیں پوچھے گا، آپ سے بھی کوئی نہیں پوچھ سکتا۔ آخرت کا معاملہ آخرت میں دیکھا جائے گا۔ عیش و عشرت کریں، مولانا صاحب کو دعائیں دیں۔ یہ روٹی انہوں نے ہی سسٹم کی تنور میں آپ کےلیے پکائی ہے۔

18/10/2024

گھر میں والد کا خوشگوار انداز میں داخل ہونا بچوں کے دلوں پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔

داخل ہو کر کھیلنا

داخل ہو کر مسکرانا

کوئی خوشگوار سرپرائز لانا

بچوں کو گلے لگانا اور پیار کرنا

کسی خوشی کے موقعے کی تیاری کرنا

اور گھر کے کاموں میں خوش دلی سے مدد کرنا

یہ سب چیزیں نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔ اپنے مسائل کو گھر کے دروازے کے باہر چھوڑ دو، کیونکہ آپ ایک والد ہو، اور گھر میں آپ کے آنے کا انتظار کرنے والے وہ لوگ ہیں جو آپ کے ساتھ خوشی محسوس کرتے ہیں۔

📌 جب والد گھر میں داخل ہو، تو پہلے آدھے گھنٹے کو اپنے اہلِ خانہ کے لیے وقف کر دے۔ ان کی باتیں سنیں، ان سے بات کریں، ہنسیں اور وقت گزاریں۔ اس دوران موبائل یا کسی دوسری چیز میں مصروف نہ ہوں۔

18/05/2024

میرے دل کے بہت قریب ایک نیو بیاہتا جوڑا آج بہت پریشان ہے۔ تین سال کی ان تھک محنت کوشش اور قربانیوں کے بعد دونوں خاندانوں کو منا کر دسمبر میں اللہ اللہ کرکے شادی ہوئی۔ دو ماہ بعد حمل کی خبر آئی اور پیاری دلہن رانی کو ایک گائنی کلینک لے جایا گیا۔ الٹرا ساؤنڈ میں بھی حمل کنفرم ہوا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے حاملہ شہزادی کی بیس لائن ٹیسٹنگ کا کہا جس میں یورین کمپلیٹ ، ہیپا ٹائٹس،شوگر، اور CBC شامل تھے۔ جب ٹیسٹ کی رپورٹ آئی تو بلڈ رپورٹ میں RDw، Hcv, MCh لیولز کی مقدار گڑ بڑ تھی۔ hb یعنی ہیمو گلوبن کا لیول 7.3 تھا۔ ڈاکٹر نے جب رپورٹ دیکھی تو دلہن سے کہا کہ اپنے خاوند کا بھی CBc ٹیسٹ کرائیں۔ وہ کیونکہ ساتھ ہی تھے تو ٹیسٹ وہیں کروا لیا گیا۔ انکی رپورٹ میں بھی وہ تمام لیول ڈسٹرب تھے جو تھیلیسیمیا کے کیرئیر ہونے کا امکان ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی آپ کو تھیلیسیمیا ہے تو نہیں مگر آپ اسے اپنے اندر کیری کیے ہوئے ہیں۔ جب ایسے دو لوگوں کی شادی ہوتی ہے تو ان کے بچوں میں ہر زچگی کے دوران 25% امکان ہوتا ہے کہ بچہ تھیلیسیمیا میجر کے ساتھ پیدا ہوگا۔ پچیس فیصد ہی چانس ہوتا ہے کہ بچہ بلکل ٹھیک ہوگا اور پچاس فیصد رسک ہوتا ہے بچہ والدین کی طرح تھیلیسیمیا کیرئیر ہوگا۔ میجر کیس میں مہینے میں دو تین بار خون لگے گا، اسکی گروتھ کم ہوگی، ہڈیاں کمزور ہونگی۔ اور وہ بچپن میں ہی نو سے دس سال تک کی عمر میں وفات پا جائے گا۔

یاد رہے کہ تھیلیسیمیا خون کی خرابی کا ایک موروثی مرض ہے، جس میں انسانی جسم خون کے سرخ خلیوں کے لیے ناکافی ہیموگلوبن بنانے لگتا ہے۔ اس طرح جسم میں سرخ خلیوں کی تعداد کم ہونے لگتی ہے اور مریض کو ہر ماہ ایک یا دو مرتبہ خون چڑھانا ضروری ہوتا ہے۔

اس جوڑے کو شوکت خانم لیب سے ایک ٹیسٹ HB Electrophoresis کرانے کا کہا گیا۔ جس سے کنفرم ہوگا کہ آپ دونوں اس مرض کے کیرئیر ہیں یا نہیں۔ اس ٹیسٹ کی قیمت لگ بھگ آٹھ ہزار روپے ہے۔ دونوں وہاں سے شوکت خانم لیب لیبارٹری گئے اور بلڈ سامپل دے دیا۔ جب رزلٹ آیا تو نتیجہ وہی نکلا جس کا ڈر تھا۔ دونوں کیرئیر تھے۔ اور ماں کی کوکھ میں موجود نیا مہمان مشکوک ہوچکا تھا کہ بھی کیرئیر ہے یا میجر ہے۔ یعنی بیماری اسکے خون میں آچکی تھی۔ اب اگلا مرحلہ CVS کا تھا۔ Chronic villus sampling

اس ٹیسٹ میں حمل کے تیسرے ماہ ماں کے پیٹ میں ایک ایک لمبی سوئی بھیج کر ساتھ ساتھ الٹرا ساؤنڈ کی مدد سے پلاسنٹا سے بلڈ سامپل لیا جاتا ہے۔ اور ااسکے ٹیسٹ سے معلوم کیا جاتا ہے کہ بچہ تھیلیسیمیا میجر اور ایلفا بیٹا اقسام میں کس قسم کے ساتھ ہے۔ یا وہ کیرئیر ہے یا بلکل ٹھیک ہے۔

پاکستان میں میجر کے ذیادہ تر کیسز beta کے ہی ہوتے ہیں۔ پاکستان بھر میں ہر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شادی سے پہلےتھیلیسمیا کی مکمل تشخیص اور کیرئیر ظاہر ہونے کی صورت میں سارے خاندان کی سکریننگ مکمل فری فراہم کر رہا ہے۔ یہ ایسی ٹیسٹنگ ہے جسے سو فیصد لازمی قرار دیا جانا چاہئیے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد 2022ء میں اپنی حکومت کے خاتمے تک تھیلیسیمیا ٹیسٹ کا قانون منظور کروانے کے لئے مسلسل متحرک رہیں تھیں۔ 2016ء میں پاکستان سینیٹ میں خاندانی قوانین میں ترامیم کا ایک بل پیش کیا گیا تھا، جس کا مطابق ایڈز، تھیلیسیمیا، ہیپاٹائٹس اور خون سے متعلقہ دیگر موروثی/ جینیاتی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے شادی سے قبل خون کی سکریننگ لازمی قرار دینا تھا۔ آٹھ برس سے یہ بل متعقلہ کمیٹی کے پاس پڑا ہے مگر اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہ تو حال ہے ہماری حکومتوں اور سینٹرز کے شعور کا۔

ہمارے سامنے سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات کی مثالیں موجود ہیں، جہاں شادی سے پہلے تھیلیسیمیا ٹیسٹ کو قانون میں لازمی قرار دے کر اس پر عملدرآمد کروا کر اس مرض کو قابو کر لیا گیا ہے۔ اور ہمارا حال یہ ہے کہ پاکستان میں تقریبا 98 لاکھ افراد تھیلیسمیا کا شکار ہیں جبکہ ہر برس نو ہزار بچے اس بیماری کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال بلوچ اور پختون اکثریتی علاقوں میں زیادہ سنگین ہے، یا پنجاب و سندھ کے ان خاندانوں میں جہاں خاندان سے باہر شادیاں نہیں کی جاتیں۔ یہ ایک کروڑ لوگ کل آبادی کا 11 فیصد بنتے ہیں۔ جو تھیلیسیمیا کے کیرئیر یا میجر مریض ہیں۔ مگر معلوم ان کو تب ہی ہوتا ہے جب اس موروثی مرض سے متاثرہ بچہ اس دنیا میں آجاتا ہے۔ بلکہ ایک ہی گھر میں دو تین چار بہن بھائی ہوتے ہیں۔ وجوہات میں نہ تو شادی سے پہلے سکریننگ کرانا اور نہ ہی دوران حمل ٹیسٹ کروانا۔

ایک تحقیق کے مصنف ڈاکٹر عنایت الرحمان کے مطابق پاکستان میں ہر برس نو ہزار بچے بیٹا تھیلیسیمیا کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں، جس کی بڑی وجہ خاندان میں شادیاں ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ بچوں میں تھیلیسیمیا کی جین منتقلی کے لیے ضروری ہے کہ ماں اور باپ دونوں یا دونوں میں سے کوئی ایک تھیلیسیمیا کیریئر ہو۔

پہلے پیرے میں ذکر کیا گیا جوڑا کل CVs کروائے گا۔ پریکٹیکل ہو کر سوچیں تو ہماری دعائیں اس بچے کی جینیاتی انفارمیشن کو نہیں بدل سکتیں۔ پھر بھی دعا ضرور کریں گے کہ اس جوڑے کے لیے اللہ رب العزت رحمت اور آسانی والا معاملہ فرمائے۔ آپ بھی دعا کیجئے گا۔

اول تو دو کیرئیر شادی کا فیصلہ نہ کریں۔ اس موضوع پر کھل کر بات کریں۔ اگر ایک فریق کو معلوم ہے کہ وہ کیرئیر نہیں ہے تو دوسرے فریق کے ٹیسٹ کے بغیر بھی شادی ممکن ہے۔ ہاں اگر لڑکا یا لڑکی خود کیرئیر ہیں تو دوسری پارٹی کا ٹیسٹ کرا کر ضرور جان لیں۔ کم پڑھے لکھے اور سادہ لوح لوگوں میں اس بات کو تصور بھی محال ہے کہ شادی سے پہلے ایسا کوئی ٹیسٹ کرانے کا دوسرے فریق سے کہا جائے۔ وہ رشتہ دیکھنا ہی گوارہ نہیں کریں گے۔ اس ایشو کو امام مسجد اساتذہ اور میڈیا پر ذیادہ سے ذیادہ ڈسکس کریں۔ اس پوسٹ کو سب گروپس میں شئیر کریں۔ اپنی وال پر کاپی پیسٹ یا شئیر کریں۔ بات کرکے آگہی پھیلائیں۔ اگر دو کیرئیر شادی کرنا بھی چاہیں تو Cvs کے ذریعے معلوم کرکے بچہ میجر ہو تو فوراًحمل ختم کروا سکتے ہیں۔

اور کمنٹس میں بتائیے گا کہ آپ کو اس مرض کی ایسی تفصیل پہلے معلوم تھی؟ اگر اب معلوم ہوگئی ہے تو اپنا سکریننگ ٹیسٹ کروائیں گے ناں؟ سو فیصد لوگ اس ٹیسٹ کو کرائیں۔ اگر آپ کے ایک دو بچے ہیں اور وہ بلکل ٹھیک ہیں تو بھی امکان ہے آپ دونوں یا ایک کیرئیر ہو سکتا ہے۔ بچے بھی کیرئیر ہو سکتے ہیں۔ انکے مستقبل کا فیصلہ ہم اپنی طرح اسباب سے منہ موڑ کر اللہ کے سپرد کرکے تو نہ کریں۔ جن گھروں میں تھیلیسیمیا کے مریض موجود ہیں ایک بار ان والدین سے مل کر دیکھیں۔ پھر شاید آپ کو میری بات اچھی طرح سمجھ آجائے۔ اور بلڈ ڈونیٹ بھی ضرور کیا کریں۔ آپ کا خون کسی بچے کو چند دن زندگی دے سکتا ہے۔
خطیب احمد

19/03/2024

ایک پاکستانی لڑکی کی کارگزاری اپنی عرب سہیلی کے بارے میں

۔
*اسکا دو ماہ کا بچہ تھا وہ پیمپر تبدیل کروانے واش روم گئیں ۔ مدد کے لئے میں بھی ساتھ ہو لی ۔*

*بچے کو دھلانے کے بعد انھوں نے اسے مکمل وضو کروایا ۔ میرے لئے یہ ایک نیا عمل تھا ۔ وضو عموماً بڑے ہی کرتے ہیں اتنے چھوٹے بچوں کو وضو کروانے کا تصور نہیں ۔اس کے بہت سے کام الگ سے تھے ۔*

*دو سالہ بیٹی کو کھانا کھلانے لگیں ہر نوالہ منہ میں ڈال کر کہتی الحمدللہ ، بچی بھی توتلی زبان میں دہراتی تب دوسرا نوالہ کھلاتیں ۔۔*

*وہ مکمل یکسوئی سے بچوں میں مگن تھیں ۔ اسی یکسوئی سے میں ان ماں بچوں کا مشاہدہ کیے جا رہی تھی ۔۔*

*وہ یمن کی رہنے والی تھیں کالج میں ساتھ ہی عربی پڑھاتی تھیں یہیں دوستی ہو گئی ۔*

*خلوص اور محبت کے ساتھ اس دوستی کی وجہ عربی زبان تھی ۔۔ انھیں ٹوٹی پھوٹی اردو اور انگریزی آتی تھی ۔ دیار غیر میں ہم زبان کا مل جانا ایک نعمت ہوتی ہے ۔ وہ جیسے ہم زبان کی ترسی ہوئی تھیں ۔ کچھ ہی دنوں بعد میری دعوت پر گھر چلی آئیں ان کا ہر ہر انداز الگ سا تھا اور میں سیکھنے کی شائق ۔۔*

*بچوں پر خاص توجہ سے عرب ماؤں کی فضیلت سمجھ آئی کہ وہ بچوں کا بہت خیال رکھنے والی ہوتی ہیں ۔*

*بچوں سے فارغ ہو کر عفوا (معذرت) کہتے ہوئے میری طرف متوجہ ہوئیں ۔۔*

*مشکل سے روکے ہوئے سوالات میں سے پہلا سوال پوچھا آپ اتنے چھوٹے بچے کو وضو کیوں کرواتی ہیں؟*

*ان کا جواب سوچ کی نئی جہت دینے والا تھا کہنے لگیں بچہ سب کچھ اسی عمر میں سیکھتا ہے اپنی شخصیت کی بنیادیں رکھتا ہے ۔ اس عمر میں دیا جانے والا ہر تصور پختگی کے ساتھ بچے کی شخصیت میں پیوست ہو جاتا ہے ۔۔*

*پہلی وجہ یہ ہے کہ پاکیزگی اسکی بنیادوں میں ڈالنا چاہتی ہوں اس لئے اسے پہلے دن سے وضو کی عادت ڈالی ہے ۔۔*

*امید ہے آخری دم تک پاکی کے ساتھ رہے گا اور اس کے اعضاء وضو روز قیامت روشن ہونگے ۔۔*

*دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ معصوم ہے شیاطین کے حملے بھی ہوتے ہیں ان سے تحفظ ہو گا ۔۔*

*جھٹ دوسرا سوال کیا ۔۔ کھانے کے دوران ایک مرتبہ تو اللہ کا شکر ادا کرنا سمجھ آتا ہے یہ ہر ہر نوالے پر بات سمجھ نہیں آئی؟*

*وہ مسکرائیں اور سمجھاتے ہوئے کہا ۔۔ میری پیاری سہیلی وہ رب جس نے ہمیں خاص طور پر بنایا تمام مخلوقات کو ہماری خدمت میں لگایا ۔ ہم تو شکر ادا کر ہی نہیں سکتے ۔ یہ نوالہ جو ہم منہ میں ڈالتے ہیں ۔ کتنے مراحل سے گزار کر ہمارے ہاتھوں میں دیا جاتا ہے ۔ اس کا شکر تو ہر سانس کے ساتھ واجب ہے ۔ شکر کا احساس بچوں کی گھٹی میں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہوں ۔*

*اس نے اللہ کی دی نعمتوں کا ایسا تذکرہ کیا کہ سر شرم سے جھک گیا ۔۔*

*ہم ایک شکائتی ماحول میں پلنے والے لوگ ہیں ۔۔ آپس میں ایک دوسرے سے تو نالاں رہتے ہی ہیں رب سے بھی شکوے شکائتوں ہی کا تعلق ہے ۔۔ اولین تعلق شکر گزاری کا ہو یہ ان سے سیکھا ۔۔*

*ان کے سامنے بیٹھی زندگی کے کئی سبق لیتے وقت کا پتہ ہی نہ چلا ۔۔*

*جو سبق سیکھا ہے وہ آپ بھی سیکھئے ۔۔۔
*نیکی کی رہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کی طرح ہے،*

منقول

03/03/2024

خیبر پختون خواہ اور میرے سمیت خاص کر پشاور کے لوگوں کو دل سے مبارک دینا چاہتا ہوں،

جنہیں علم ہے کہ یہ مبارک باد کس لئے ہے اُن کی خوشی کا آج کوئی حساب نہیں لگا سکتا، یہ کوئی سیاسی پوسٹ نہیں ہے بس آپ سب کو اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ ایک سربراہ کا ہونا کتنا زیادہ ضروری ہوتا ہے،

کے پی کے اور خاص کر میرے پشاور میں ہم نے اپنے اداروں کا بہت ہی غیر ذمہ دارانہ رویہ دیکھا ہے جب سے نگران حکومت آئی، اگر آپ پشاور سے ہیں تو میری اِس بات کی گواہی ضرور دیں گے کہ پہلے جب کوئی پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں قدم رکھتا تو اُسے یہ سمجھ ہی نہیں پڑتی کہ یہ ایک سرکاری ہسپتال ہے یا پھر کوئی مہنگا پرائیویٹ ہسپتال۔

میرا شہر ہیلتھ سسٹم میں سب کے لئے مثال تھا، میرا شہر تعلیمی نظام میں سب کے لئے مثال تھا، میرے شہر کی پولیس تمام صوبوں کی پولیس کے لئے مثال تھی، میرے شہر کا قانون کمزور شخص کی طاقت، اور طاقتور شخص کے گلے کا کانٹا تھا۔

لیکن وہی بات ہے کہ جب کوئی پوچھنے والا نہ ہو تو ہر کوئی اپنی مرضی کرنے لگتا ہے، ایسا ہی ہوا یہاں بھی، صرف یہاں نہیں بلکہ پورے ملک میں، لیکن میں اپنے شہر کی بات اِس لئے کر رہا ہوں کیونکہ میں یہاں خود اپنے سامنے سب دیکھ چکا ہوں کہ ہسپتالوں کا نظام بگڑ گیا، تعلیمی نظام بگڑ گیا، پولیس سے جڑے ہر ادارے نے اپنی بدمعاشی شروع کردی جیسے کہ رشوت مانگنا، کمزور پر سختی کرنا اور طاقتور کو سلام کرنا، فضول کے پرچے اور گرفتاریاں کرنا اپنے ہی لوگوں پر پولیس کو سیدھی سیدھی گولیاں بھی چلاتے دیکھا۔

یہ سب کچھ میں نے دیکھا پچھلے ڈیڑھ دو سالوں میں،
لیکن آج الحمداللہ میرے شہر میں اِس سیاہ دور کا خاتمہ ہوا ہے، آج میرے کے پی کے میں آزادی اور خوشحالی کا سورج طلوع ہوا ہے،
انشاءلله وہ دن جلد واپس آنے والے ہیں جنہیں ہم نے یاد کیا ہے ان ڈیڑھ دو سالوں میں۔

اے رب میرے وطن کا سر کبھی جھکنے مت دینا
اے رب میرے وطن پر کبھی خوف کے بادل نہ آنے دینا
اے رب میرے وطن کے دشمنوں کو کبھی سکون کی نیند نہ سونے دینا
اے رب میرے وطن پر کبھی غلامی کے کالے بادل نہ آنے دینا

اے رب تو میرے پاکستان کی ہمیشہ حفاظت فرمانا (آمین)

پاکستان زندہ باد

شکریہ
مُحسِن عَلی اَرشَد
28-02-2024

25/02/2024

عمران ریاض خان بھائی کا جج سے رونگٹے کھڑے کر دینے والا مکالمہ
جج صاحب میں نے ان سے پہلے بھی کہا تھا مجھے مار دو پر میں چپ نہیں رہ سکتا، میرا خمیر ہی ایسا ہے میری قربانی ہی دے دو، مگر میں مافیا کے سامنے سرنڈر نہیں کر سکتا، اب الزام لگایا ہے کہ میں نے کوئی اراضی ہتھیا لی ہے کوئی ایک ثبوت کوئی ایک دیوار بتا دے جو کسی کے پیسے کی ہو خود جا کر ہتھوڑے سے گرا دوں گا، مگر یہ ان کا مسلہ ہی نہیں ہے مسلہ وہی ہے کہ چپ ہو جاؤ بولو مت یہ نہیں کر سکتا میں حضور، آج آپ مجھے تھوڑا پریشان دیکھ رہے ہیں کیونکہ میرے والد کو تکلیف دینا چاہتے ہیں یہ ان پر چوری کا مقدمہ بنانا چاہتے ہیں جن کی تعریف میرے شہر کے لوگ کرتے ہیں ایسا مت ہونے دیں اس سے میں مار جاؤں گا، مجھے جو مرضی سزا دو مار ڈالو اف نہیں کروں گا مگر میرے والد کو بیچ میں مت لاؤ میرے دوست صحافی کہتے ہیں تم ہم سے کہیں زیادہ کماتے ہو کہیں باہر کے ممالک میں جائدادیں بناؤ، میرا قصور یہ ہے جج صاحب میں یہیں کماتا ہوں یہیں لگاتا ہوں کیونکہ یہی میرا ملک ہے اور مجھے یقین ہے کہ میرا ملک ایک دن بدلے گا اور اسکی جستجو میں اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا یہ مجھے قید کریں گے باہر آؤں گا پھر بولوں گا....

18/02/2024

‏‎‎خاور مانیکا کی غیرت 5 سال بعد جا گی تو سب نے کہا ٹھیک کہہ رہا ہے، غیرت مند ہے۔۔

اوراب جب ایک بندہ 10 دن بعد سچ بول رہا ہے
تو اسکا دماغ خراب ہے۔۔۔

پٹواری لاجک

17/02/2024

ایک ہفتہ ہو گیا ہے ایک قیدی نے کسی کو وزیر اعظم نہیں بننے دیا !!!

Address

Musa Khel
Swabi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when EETOZ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to EETOZ:

Share