15/07/2025
آج کا دن تکلیف دہ تھا… مگر سچ بتانا بھی ضروری ہے۔
میں نے صوفے آرڈر کیے تھے، کہ ہمارے آفس کے لیے تیار ہو جائیں۔ صوفے والے کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ کوئی بندہ بھیج دینا، جو ڈرائیور کی مدد کرے اور سامان اوپر لے آئے۔ اس نے ہامی بھری، لیکن جب گاڑی پہنچی، ڈرائیور اکیلا تھا — اور وہ بھی خود عمر رسیدہ اور کمزور۔
ہمارا آفس دوسری منزل پر ہے۔ ایک ٹرپل سیٹر صوفہ اور تین سنگل سیٹر تھے۔ میں نے ایک آدمی کی مدد سے ٹرپل سیٹر اوپر لے گیا، باقی سارا سامان میں نے خود اپنے کندھوں پر اٹھا کر اوپر پہنچایا۔
دو گھنٹے کے اندر میری کمر میں شدید درد شروع ہو گیا۔ جب بار بار اُس بندے کو کال کی، جس نے کہا تھا کہ بندہ ساتھ آئے گا — اس کا موبائل بند تھا۔ یہ آج کل کے لوگ ہیں۔ پیسے لینے تک سب وعدے، پھر نظر انداز۔
یہ وہی بندہ تھا جس سے میں نے مزید کرسیاں اور سامان بھی خریدنا تھا۔ لیکن اُس نے اپنی حرکتوں سے اپنا کاروبار خود ختم کر دیا۔ میں نے تو اسے کہا تھا کہ میں بندے کا کرایہ بھی دینے کو تیار ہوں، بس تھوڑی مدد چاہیے۔ مگر افسوس…!
روڈ پر کئی نوجوان بیٹھے تھے، کسی نے نہیں سوچا کہ چلو اِس تھکے ہارے بندے کی مدد ہی کر دیں۔ میرے ساتھ میرے دو بندے ہوتے ہیں، لیکن ایک آیا ہی نہیں، اور دوسرا شدید بیمار ہے۔
میری اس سچّی کہانی کا مقصد صرف اتنا ہے: دنیا میں جو بھی کام کرو گے، محنت خود کرنی پڑے گی۔ کوئی دوسرا تمہارے خوابوں کو کندھوں پر نہیں اٹھائے گا۔
جب تک خود نہ ہٹو گے، خود نہ پسینہ بہاؤ گے، منزل کبھی قریب نہیں آئے گی۔
"میں آپ لوگوں کو جتنا بھی پڑھا لوں، سکھا لوں، محنت کر لوں…
لیکن یاد رکھیں: آخر میں اپنی زندگی کو بدلنے کی محنت آپ کو خود ہی کرنی ہوگی۔"
جس طرح آج اگر میں خود صوفے نہ اٹھاتا تو وہ 24 گھنٹے روڈ پر ہی پڑے رہتے۔
میں نے کسی کا انتظار نہیں کیا۔ خود اپنے کندھوں پر صوفے اٹھائے اور دوسری منزل پر آفس تک لے گیا۔
زندگی بھی بالکل اسی طرح ہے۔
جب تک آپ خود اپنے بوجھ نہیں اٹھائیں گے،
کوئی دوسرا آکر آپ کو کامیاب نہیں کرے گا۔
راستے مشکل ہوں گے، لیکن جب ارادے مضبوط ہوں تو منزل خود راستہ دے دیتی ہے۔
یونیورسٹی کا بانی، نواز آفریدی