22/08/2026
ہمارا سسٹم!
لائسنس یافتہ پستول پر مقدمہ درج ہوا۔ ایک طرف ڈیجیٹلائزیشن کے دعوے، دوسری طرف موقع پر موجود ڈیجیٹل لائسنس کو نظرانداز کرنے کا سوال۔
متعلقہ پولیس اسٹیشن سے دو اہلکار نوجوان کے ساتھ اس کی گاڑی میں گئے اور اسے عدالت لے جایا گیا۔ لیکن نوجوان کے مطابق عدالت میں وہ جج کے سامنے پیش ہی نہیں ہوا؛ نہ جج نے ملزم کو دیکھا اور نہ ملزم نے جج کو، اور بعد ازاں مقدمہ ڈسچارج ہوگیا۔
نوجوان کے مطابق اس تمام کارروائی میں اس کے 8 سے 10 ہزار روپے خرچ ہوئے۔
اب سوال یہ ہے:
اس پوری پریکٹس سے محکمے کو کیا فائدہ ہوا؟
حکومت کو کیا فائدہ ہوا؟
یا ملک کو کیا فائدہ ہوا؟
اگر ایک قانونی لائسنس کی تصدیق موقع پر ہی ممکن تھی، تو کیا معاملہ اتنا پیچیدہ بنانے کی ضرورت تھی؟
ایسی کارروائیوں کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟
عدالتوں میں غیر ضروری رش،
عوام کے وقت اور پیسے کا ضیاع،
سرکاری اہلکاروں کے وقت کا استعمال،
عدالتی وسائل پر اضافی بوجھ،
اور آخر میں صرف برائے نام قانونی کارروائی۔
قانون کی عملداری ضروری ہے، لیکن قانونی عمل کا مقصد صرف کارروائی مکمل کرنا نہیں، بلکہ انصاف، شفافیت اور عوامی وسائل کا درست استعمال بھی ہے۔
اگر کوئی شہری قانون کے مطابق لائسنس رکھتا ہے، اور پھر بھی ایک ایسی کارروائی سے گزرتا ہے جس کا اختتام مقدمہ ڈسچارج ہونے پر ہو، تو اس طریقۂ کار پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
یہ سوال کسی ایک اہلکار کے خلاف نہیں، بلکہ ہمارے پورے نظام کے لیے ہے:
کیا ہم واقعی ڈیجیٹل نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، یا صرف ڈیجیٹلائزیشن کے دعوے کر رہے ہیں؟
عوام کا وقت، عدالت کا وقت اور سرکاری وسائل، سب قیمتی ہیں۔ انہیں غیر ضروری کارروائیوں میں ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
عزیز خان مہمند