Nandara نندارہ

Nandara نندارہ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Nandara نندارہ, Social Media Agency, PESHAWAR, Peshawar.
(2)

تازہ خبریں اور اپ ڈیٹس
آگاہی اور معلوماتی پروگرامز
نمایاں شخصیات کے انٹرویوز
پشتو ڈرامے اور تفریحی مواد

پروفیسر تسبیح اللہ کا خصوصی پروگرام، پشتو کے عظیم شاعر "غنی خان بابا" پر
نندارا کو فالو کریں اور ہر روز نئی معلومات اور دلچسپ پروگرامز سے لطف اٹھائیں۔

ہمارا سسٹم!لائسنس یافتہ پستول پر مقدمہ درج ہوا۔ ایک طرف ڈیجیٹلائزیشن کے دعوے، دوسری طرف موقع پر موجود ڈیجیٹل لائسنس کو ن...
22/08/2026

ہمارا سسٹم!
لائسنس یافتہ پستول پر مقدمہ درج ہوا۔ ایک طرف ڈیجیٹلائزیشن کے دعوے، دوسری طرف موقع پر موجود ڈیجیٹل لائسنس کو نظرانداز کرنے کا سوال۔

متعلقہ پولیس اسٹیشن سے دو اہلکار نوجوان کے ساتھ اس کی گاڑی میں گئے اور اسے عدالت لے جایا گیا۔ لیکن نوجوان کے مطابق عدالت میں وہ جج کے سامنے پیش ہی نہیں ہوا؛ نہ جج نے ملزم کو دیکھا اور نہ ملزم نے جج کو، اور بعد ازاں مقدمہ ڈسچارج ہوگیا۔

نوجوان کے مطابق اس تمام کارروائی میں اس کے 8 سے 10 ہزار روپے خرچ ہوئے۔

اب سوال یہ ہے:

اس پوری پریکٹس سے محکمے کو کیا فائدہ ہوا؟
حکومت کو کیا فائدہ ہوا؟
یا ملک کو کیا فائدہ ہوا؟

اگر ایک قانونی لائسنس کی تصدیق موقع پر ہی ممکن تھی، تو کیا معاملہ اتنا پیچیدہ بنانے کی ضرورت تھی؟

ایسی کارروائیوں کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

عدالتوں میں غیر ضروری رش،
عوام کے وقت اور پیسے کا ضیاع،
سرکاری اہلکاروں کے وقت کا استعمال،
عدالتی وسائل پر اضافی بوجھ،
اور آخر میں صرف برائے نام قانونی کارروائی۔

قانون کی عملداری ضروری ہے، لیکن قانونی عمل کا مقصد صرف کارروائی مکمل کرنا نہیں، بلکہ انصاف، شفافیت اور عوامی وسائل کا درست استعمال بھی ہے۔

اگر کوئی شہری قانون کے مطابق لائسنس رکھتا ہے، اور پھر بھی ایک ایسی کارروائی سے گزرتا ہے جس کا اختتام مقدمہ ڈسچارج ہونے پر ہو، تو اس طریقۂ کار پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

یہ سوال کسی ایک اہلکار کے خلاف نہیں، بلکہ ہمارے پورے نظام کے لیے ہے:

کیا ہم واقعی ڈیجیٹل نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، یا صرف ڈیجیٹلائزیشن کے دعوے کر رہے ہیں؟

عوام کا وقت، عدالت کا وقت اور سرکاری وسائل، سب قیمتی ہیں۔ انہیں غیر ضروری کارروائیوں میں ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

عزیز خان مہمند

22/08/2026

Advertisement
ضلع مہمند، تحصیل یکہ غنڈ کے عوام کے لیے خوشخبری!

تحصیل یکہ غنڈ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر محکمہ جنگلات کی چیک پوسٹ کے قریب ملک LPG کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔

اب علاقے کے عوام کو LPG گیس کی سہولت کے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
معیاری سروس، آسان رسائی اور بروقت فراہمی کے لیے ملک LPG سے رابطہ کریں۔

📞 رابطہ نمبر:
وقار: 03132929701
صفدر: 03369193899
زیر نگرانی ملک سرفراز

📍 مقام: یکہ غنڈ ٹو غلنئی روڈ محکمہ جنگلات چیک پوسٹ کے قریب، تحصیل یکہ غنڈ، ضلع مہمند

ملک LPG , آپ کے قریب، آپ کی سہولت کے لیے۔

ورسک روڈ پرائم ہسپتال کے قریب ڈمپر کا جیک ٹوٹنے کے باعث ڈمپر ڈاٹسن پر گر گیا۔ حادثے میں ڈاٹسن ڈرائیور علیمان شاہ آف ملاگ...
22/08/2026

ورسک روڈ پرائم ہسپتال کے قریب ڈمپر کا جیک ٹوٹنے کے باعث ڈمپر ڈاٹسن پر گر گیا۔ حادثے میں ڈاٹسن ڈرائیور علیمان شاہ آف ملاگوری شدید زخمی ہوگئے، جنہیں تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ذرائع

ایک مریضہ کی علاج کیلئے مریضہ کے لواحقین کی طرف سے وزیر اعلی خیبرپختونخوا اور صحت کے اعلی حکام سے نوٹس لینے کی اپیل KTH ...
22/08/2026

ایک مریضہ کی علاج کیلئے مریضہ کے لواحقین کی طرف سے وزیر اعلی خیبرپختونخوا اور صحت کے اعلی حکام سے نوٹس لینے کی اپیل
KTH
ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت اور علاج میں غیر معمولی تاخیر کے خلاف تحقیقات و انصاف کی اپیل
خیبر ٹیچنگ ہسپتال (KTH) پشاور میں مریض کے علاج میں مبینہ غفلت، غیر معمولی تاخیر اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف فوری تحقیقات اور انصاف کی اپیل

محترم جناب!
نہایت دکھ اور تشویش کے ساتھ گزارش ہے کہ تقریباً ایک ماہ قبل ہمارے مریض کو ہڈیوں میں شدید درد کی شکایت کے باعث خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں داخل کروایا گیا۔ داخلے کے وقت مریض اپنی مدد آپ کے تحت چل پھر رہا تھا، خود بیٹھتا، کھاتا پیتا اور عمومی طور پر کافی بہتر حالت میں تھا۔

مریض کو میڈیکل اے وارڈ میں داخل ہوئے تقریباً ایک ماہ گزر چکا ہے، لیکن ہماری تشویش یہ ہے کہ اس دوران ابھی تک اس کی بیماری کی حتمی تشخیص اور مؤثر علاج شروع نہیں کیا جا سکا۔

تقریباً تین ہفتے قبل میڈیکل وارڈ کی جانب سے آنکولوجی ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ مریض میں کینسر کا شبہ ہے۔ ہم نے ڈاکٹر اشفاق صاحب سے مریض کا پرائیویٹ طور پر معائنہ بھی کروایا۔ انہوں نے چند ٹیسٹ تجویز کیے۔ رپورٹس آنے کے بعد مزید ٹیسٹ کروائے گئے اور ہمیں بتایا گیا کہ مریض کو Multiple Myeloma ہونے کا امکان ہے اور پیر سے علاج شروع کیا جائے گا۔

لیکن پیر کے روز جب ہم نے ڈاکٹر اشفاق صاحب سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ چھٹی پر ہیں۔ اس دوران ہماری شدید پریشانی میں مزید اضافہ ہوا، کیونکہ مریض ہسپتال میں داخل تھا اور اس کی حالت مسلسل خراب ہو رہی تھی۔

بعد ازاں ہم نے ڈاکٹر طارق صاحب سے رابطہ کیا۔ ان کے مطابق ابھی یہ حتمی طور پر واضح نہیں تھا کہ مریض کو Multiple Myeloma ہے یا جسم کے کسی دوسرے حصے کا کینسر ہڈیوں تک پھیل چکا ہے۔ مزید یہ کہ مریض کو وارڈ میں یرقان بھی لاحق ہو چکا تھا، اس لیے ہمیں کہا گیا کہ پہلے میڈیکل اے وارڈ میں یرقان کو کنٹرول کیا جائے، اس کے بعد آنکولوجی کے حوالے سے مزید فیصلہ کیا جائے۔

ہماری اصل شکایت یہ ہے کہ اس تمام عرصے کے دوران مریض کو بنیادی طور پر شدید ہڈیوں کے درد کے لیے درد کش ادویات دی جاتی رہیں، لیکن ہمیں بیماری کی حتمی تشخیص، مکمل علاج کے منصوبے اور بروقت ماہرین کی مشترکہ طبی نگرانی کے حوالے سے واضح پیش رفت نظر نہیں آئی۔

افسوسناک طور پر اس دوران مریض کی حالت انتہائی تشویشناک حد تک خراب ہو گئی۔ جو مریض ہسپتال میں داخل ہوتے وقت اپنے پاؤں پر چل رہا تھا، خود بیٹھتا، کھاتا پیتا اور بات چیت کرتا تھا، آج تقریباً ایک ماہ بعد اس قدر کمزور اور نازک حالت میں پہنچ چکا ہے کہ نہ مناسب طور پر آنکھیں کھول پا رہا ہے، نہ کھانا پینا ممکن ہے اور صرف تکلیف کی آوازیں نکال پا رہا ہے۔

ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایک ایسے مریض، جس میں Multiple Myeloma یا کسی سنگین بیماری کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا، کی تشخیص اور علاج میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی۔

مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ ہمارے علم کے مطابق ڈاکٹر اشفاق صاحب سرکاری ڈیوٹی سے چھٹی پر ہونے کے باوجود ہسپتال سے باہر پرائیویٹ کلینک میں مریضوں کا معائنہ کر رہے تھے، جبکہ ہمارا مریض ہسپتال میں داخل انتہائی تشویشناک حالت میں علاج اور ماہر ڈاکٹر کی فوری توجہ کا منتظر رہا۔ اس معاملے کی بھی باقاعدہ تحقیقات ضروری ہیں۔

ہم کسی ڈاکٹر یا ادارے کو بغیر تحقیقات قصوروار قرار نہیں دینا چاہتے، لیکن مریض کی حالت میں ہونے والی اس شدید تبدیلی، تشخیص اور علاج میں ہونے والی تاخیر اور متعلقہ طبی عملے کے کردار کے حوالے سے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ ضرور کرتے ہیں۔

ہماری اپیل

ہم محترم وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا، وزیرِ صحت اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے درج ذیل مطالبات کرتے ہیں:

1. مریض کے گزشتہ ایک ماہ کے مکمل میڈیکل ریکارڈ، ٹیسٹ رپورٹس، ادویات اور ڈاکٹرز کے نوٹس کا فوری جائزہ لیا جائے۔
2. ڈاکٹر اشفاق، ڈاکٹر طارق اور میڈیکل اے وارڈ کے متعلقہ طبی عملے کے کردار کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔
3. یہ معلوم کیا جائے کہ مریض کی بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج میں تاخیر کیوں ہوئی۔
4. یہ بھی تحقیقات کی جائیں کہ آیا مریض کو بروقت آنکولوجی یا کسی متعلقہ اسپیشلسٹ کے حوالے کیا گیا یا نہیں۔
5. ڈاکٹر کے سرکاری ڈیوٹی سے چھٹی پر ہونے کے باوجود پرائیویٹ کلینک میں مریضوں کے معائنے کے معاملے کی بھی انکوائری کی جائے۔
6. اگر کسی ڈاکٹر یا متعلقہ اہلکار کی غفلت، کوتاہی یا پیشہ ورانہ ذمہ داری میں خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون اور قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے۔
7. مریض کو فوری طور پر مناسب ماہرین کی نگرانی میں علاج فراہم کیا جائے اور اس کی جان بچانے کے لیے تمام ضروری طبی اقدامات کیے جائیں۔
8. مریض کے اہل خانہ کو علاج اور تشخیص کے بارے میں واضح اور مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔

ہم امید کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مریض کی موجودہ تشویشناک حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طبی اقدامات اور شفاف تحقیقات یقینی بنائیں گے۔

ہم کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اپنے مریض کے بروقت علاج، زندگی کے تحفظ اور انصاف کے لیے یہ اپیل کر رہے ہیں۔

درخواست گزار:
مریض کے اہلِ خانہ
مقام: خیبر ٹیچنگ ہسپتال (KTH)، پشاور
رابطہ نمبر: 03339480672

چارسدہ ۔ شبقدر سروکلے پولیس اسٹیشن کی لائسنس یافتہ پستول پر FIR , ایک سوالیہ نشان؟کل سروکلے تھانے کی حدود میں قلعہ شاہ ب...
22/08/2026

چارسدہ ۔ شبقدر سروکلے پولیس اسٹیشن کی لائسنس یافتہ پستول پر FIR , ایک سوالیہ نشان؟

کل سروکلے تھانے کی حدود میں قلعہ شاہ بیگ تخی کور میں ایک نوجوان جمشید ولد خورشید کے خلاف اسلحہ رکھنے کے الزام میں پرچہ کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دستیاب اسلحہ لائسنس کے مطابق مذکورہ نوجوان کے نام پر پستول کا باقاعدہ لائسنس موجود ہے، جو 9 جولائی 2026 کو جاری ہوا اور 9 جولائی 2031 تک مؤثر ہے اور نوجوان کے مطابق پولیس اہلکاروں کو موبائل میں دستک ایپ سے ڈیجیٹل لائسنس دیکھایا بھی۔

متعلقہ پولیس اسٹیشن کا مؤقف ہے کہ کارروائی کے وقت نوجوان کے پاس موقع پر لائسنس موجود نہیں تھا، جبکہ مقدمہ درج ہونے کے بعد اس کا بھائی لائسنس لے کر تھانے پہنچا۔

یہاں اصل سوال یہ ہے کہ اگر متعلقہ شخص کے نام پر باقاعدہ اور مؤثر لائسنس موجود تھا تو اس معاملے کی قانونی حیثیت کیا بنتی ہے؟ کیا صرف موقع پر لائسنس موجود نہ ہونے کی وجہ سے مقدمہ درج کرنا ضروری تھا؟ حالانکہ موبائل میں ڈیجیٹل لائسنس دیکھایا گیا ۔

ایک معمولی نوعیت کے معاملے میں سرکاری وقت، پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی، کاغذات اور عدالتی وقت بھی صرف ہوتا ہے۔ اگر بعد میں یہی ثابت ہو کہ اسلحہ واقعی قانونی لائسنس کے تحت تھا تو پھر سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا اس کارروائی کو کسی بہتر اور کم پیچیدہ طریقے سے نمٹایا جا سکتا تھا؟

عوام قانون کی پابندی چاہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ قانون کا نفاذ درست، شفاف اور میرٹ کے مطابق ہو۔

عزیز خان مہمند

وفات کی اطلاع سردریاب آگرہ گلشن آباد میں عزت اللہ مرحوم کی اہلیہ انتقال کر گئی ہیں۔ مرحومہ مجاہد، فیاض، جان واحد اور عرف...
21/08/2026

وفات کی اطلاع
سردریاب آگرہ گلشن آباد میں عزت اللہ مرحوم کی اہلیہ انتقال کر گئی ہیں۔ مرحومہ مجاہد، فیاض، جان واحد اور عرفان کی والدہ تھیں۔ نمازِ جنازہ کل بروز ہفتہ صبح 10 بجے سردریاب آگرہ گلشن آباد میں ادا کی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

21/08/2026

سعودی عرب کے شہر ریاض میں باجوڑ کے تین شہریوں کے قتل میں ملوث پانچ ملزمان گرفتار

پشاور ۔ ورسک روڈ پر BRT شروع ہونا تھا، اُس وقت بہت سے لوگوں نے اس کا کریڈٹ بھی لیا۔ کوئی کہتا تھا کہ یہ منصوبہ میں نے شر...
21/08/2026

پشاور ۔ ورسک روڈ پر BRT شروع ہونا تھا، اُس وقت بہت سے لوگوں نے اس کا کریڈٹ بھی لیا۔ کوئی کہتا تھا کہ یہ منصوبہ میں نے شروع کیا، کوئی کہتا تھا کہ میں نے کیا۔
لیکن آج سوال یہ ہے کہ وہ BRT منصوبہ کدھر گیا؟
عوام کو صرف افتتاح، دعوے اور واہ واہ نہیں چاہیے؛ عوام یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ منصوبہ کہاں تک پہنچا، کب مکمل ہوگا اور اگر رک گیا ہے تو کیوں؟
کریڈٹ لینے والے بہت ہوتے ہیں، لیکن منصوبے کے انجام کا جواب دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔

اپنے علاقے کے ہسپتال کی قدر کریںمیں خود پشاور سے اپنے علاقے شبقدر کے ہسپتال علاج کے لیے آتا ہوں، اور اس کی دو بڑی وجوہات...
21/08/2026

اپنے علاقے کے ہسپتال کی قدر کریں

میں خود پشاور سے اپنے علاقے شبقدر کے ہسپتال علاج کے لیے آتا ہوں، اور اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے شبقدر کے ہسپتال میں ڈاکٹر محمود جان اور ڈاکٹر ناصر شاہ جیسے قابل، تجربہ کار اور انتہائی شفیق ڈاکٹر موجود ہیں، جو مریضوں کو توجہ اور خلوص کے ساتھ دیکھتے ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ ہمارے لوگوں میں یہ شعور پیدا ہو کہ اپنے علاقے کے ہسپتال اور مقامی طبی سہولیات کی قدر کریں، انہیں کامیاب بنائیں اور گھر کے قریب دستیاب سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ عادت بنتی جا رہی ہے کہ جو سہولت ہمیں گھر کے قریب، آسانی سے اور نسبتاً کم خرچ میں مل جائے، ہم اس کی قدر نہیں کرتے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اچھا علاج صرف بڑے شہروں اور بڑے ہسپتالوں میں ہی ممکن ہے۔

دوسری بڑی عادت ہماری یہ ہے کہ جب تک کوئی سہولت یا قابلیت ہمارے ہاتھ سے نکل نہیں جاتی اس وقت تک ہم اس کی قدر نہیں کرتے۔
یاد رکھیں، مقامی ہسپتال تب ہی بہتر ہوں گے جب ہم ان پر اعتماد کریں گے، ان سے فائدہ اٹھائیں گے اور ان کی بہتری کے لیے آواز اٹھائیں گے۔
ہر شعبے میں اچھے اور محنتی لوگ موجود ہیں جو روزانہ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور لوگوں کو ان کے گھر کے قریب علاج کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
ہمیں کسی ایک فرد کو سراہتے ہوئے باقی ٹیم کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ایک اچھا ہسپتال کسی ایک ڈاکٹر سے نہیں بلکہ پوری ٹیم کی محنت سے کامیاب ہوتا ہے۔
شبقدر ہسپتال کے تمام مخلص اور محنتی ملازمین کا شکریہ۔
آپ کی محنت قابلِ قدر ہے، اور ہمیں امید ہے کہ آپ سب مل کر اس ادارے کو مزید بہتر اور کامیاب بنائیں گے

اپنے علاقے کی اچھی سہولت کو نظرانداز نہ کریں۔
اسے استعمال کریں، اس کی قدر کریں اور اسے کامیاب بنائیں, کیونکہ فائدہ آخرکار ہمیں ہی ملنا ہے۔

عزیز خان مہمند

21/08/2026

عمران خان کو ضرورت پڑنے پر علاج کے لیے بیرونِ ملک بھی بھیج سکتے ہیں: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری

Address

PESHAWAR
Peshawar
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nandara نندارہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Nandara نندارہ:

Shortcuts

Share