29/04/2026
ہومیوپیتھک دوا عام طور پر گلوبلیوز یا پانی میں ملا کر دی جاتی ہے۔ جب آپ گلوبیلوز یا پانی میں دوائی تیار کرتے ہیں تو عام طور پر گلوبلیوز اور پانی کے ذائقے میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ گلوبلیوز میٹھی ہی رہتی ہیں اور پانی وہی بے ذائقہ۔ چند گھنٹوں کے بعد جب دوائی مکمل اڑ جاتی ہے تو گلوبلیوز مزید اپنے اصلی ذائقے میں واپیس آ جاتی ہیں۔
جب ہومیوپیتھک دوا گلوبیولز یا پانی کی شکل میں دی جاتی ہے تو اس کی ایک بنیادی بات سمجھنا ضروری ہے۔ گلوبیولز کا اپنا اصل ذائقہ ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے کیونکہ یہ شوگر سے بنی ہوتی ہیں، اور پانی کا ذائقہ ویسے ہی بے ذائقہ رہتا ہے۔
اب سادہ بات یہ ہے کہ سٹیرائیڈز کا اپنا ایک واضح ذائقہ ہوتا ہے جو عام طور پر کڑوا یا دوائی جیسا ہوتا ہے۔ اگر واقعی کوئی سٹیرائیڈ گلوبیولز پر ڈالا جائے تو وہ صرف “پوشیدہ” نہیں رہ سکتا، بلکہ گلوبیولز کا میٹھا ذائقہ فوراً خراب ہو کر کڑوا یا غیر معمولی ہو جائے گا۔ لیکن عملی طور پر مریض جب ہومیوپیتھک گلوبیولز لیتا ہے تو وہ ہمیشہ میٹھی کی میٹھی ہی ہوتی ہیں، اس میں کوئی کڑواہٹ یا تبدیلی محسوس نہیں ہوتی۔
اسی طرح اگر سٹیرائیڈ پانی میں ملایا جائے تو بھی اس کا ذائقہ تبدیل ہونا لازمی ہے، کیونکہ سٹیرائیڈز پانی کو بے ذائقہ نہیں رہنے دیتے۔ اس لیے یہ تصور کہ سٹیرائیڈ ڈال کر بھی ذائقہ بالکل نہ بدلے، سائنسی طور پر بہت کمزور بات ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ سٹیرائیڈز عام طور پر جسم پر اثر ڈالنے کے لیے مخصوص مقدار اور مسلسل استعمال (روزانہ یا باقاعدہ خوراک) میں دیے جاتے ہیں۔ جبکہ ہومیوپیتھک کلاسیکل علاج میں گلوبیولز اکثر دن میں ایک دو بار، یا بعض اوقات ہفتے میں ایک بار، اور بعض کیسز میں مہینے میں ایک بار بھی دیے جاتے ہیں۔ یہ دونوں نظام اپنی بنیاد اور طریقہ استعمال میں مکمل طور پر مختلف ہیں۔
اسی لیے کلاسیکل ہومیوپیتھی میں سٹیرائیڈز شامل کرنے کا نہ کوئی عملی نظام ہے اور نہ ہی کوئی سائنسی منطق۔ 1796 سے لے کر آج 2026 تک، دنیا بھر میں کلاسیکل ہومیوپیتھی کے کسی مستند کیس میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ کسی گلوبیولز یا ہومیوپیتھک دوا میں سٹیرائیڈ شامل کیا گیا ہو۔
البتہ یہ بات عام ہے کہ سٹیرائیڈز اور دیگر طاقتور ادویات ایلوپیتھک (انگریزی) میڈیسن میں استعمال ہوتی ہیں، اور ان کا استعمال پوری دنیا میں معروف اور ریکارڈڈ ہے۔
ضروری نوٹ: یہ آرٹیکل صرف کلاسیکل ہومیوپیتھی کے حوالے سے لکھا گیا ہے۔ چونکہ ہمارے نزدیک تمام قسم کے ہومیوپیتھک کمبینیشنز، کمپاؤنڈز یا پیٹنٹ ادویات کلاسیکل ہومیوپیتھی کے اصولوں کے مطابق نہیں سمجھی جاتیں، اس لیے اس آرٹیکل میں صرف سنگل ریمیڈی (Single Remedy) اور کلاسیکل ہومیوپیتھی کے حوالے سے بات کی گئی .