26/04/2026
موساد ٹرمپ پر حملہ کروا کر اس حملے کو ایران سے جوڑے گئ اور پھر ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے پر مجبور کرے گئ ۔
اس حملے کے پچھے نیتن یاہو ہے یقینأ۔
سی أئ اے اگر عقلمندی سے تفتیش کرے تو موساد کی چال ناکام ہو سکتی ہے ۔
کیونکہ ٹرمپ ایران سے جنگ کے بدلے مذاکرات چاہتا ہے اور مذاکرات نیتن یاہو کے مفاد میں نہیں ہیں ۔
آج ہونے والے اس حملے میں ڈونلڈ ٹرمپ سمیت تمام مہمان محفوظ رہے پر حیرت کی بات ہے کہ اتنی ہائی سیکورٹی زون میں کوئی شخص آتشی اسلحہ لیکر داخل کیسے ہوا اور لابی تک پہنچا کیسے ؟
تازہ رپورٹ کے مطابق حملہ آور گرفتار کرلیا گیا ہے پر سوال پھر وہی ہے کہ حملہ آور کی یہاں تک رسائی کیسے ممکن ہوئی ؟
پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجے سے اس ایونٹ اور اسکے بعد والی صورتحال مختکف چینلز / فورمز پر چل رہے تھے اور سب سے حیرت والی بات یہاں یہ سامنے آئی کہ حملہ ہوتے ہی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے موساد کے قریبی اکاؤنٹ ایک بات تواتر سے کہنے لگے کہ
“ اگر اس حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہوا تو سمجھو ایران کی خیر نہیں ہے “