Mulana Muhammad Awais

Mulana Muhammad Awais محمدی ہوں۔🥰 الحمدللہ this channel is just for entertainment

28/06/2026
21/06/2026

میں نے حسین عورتوں کو عام طور پر بے ضمیر اور لالچی پایا ہے۔ کم سے کم مجھے تو آج تک کسی با ضمیر اور بے غرض حسینہ سے ملنے کا موقع نہیں ملا۔

میں نے کوئی اور کارنامہ انجام دیا ہو یا نہ دیا ہو، مگر ایک کارنامہ ضرور انجام دیا ہے اور وہ یہ کہ میں نے حسین لڑکیوں کو بری طرح ذلیل کیا ہے۔ اس لیے کہ مجھے ان سے "میر تقی میر" اور اپنے معصوم ترین بھائی "حضرت عبد العزیز خالد" کا انتقام لینا تھا۔

مجھے امید ہے کہ میرا "خدائے غیور" مجھے اس کا اجر دے گا۔

جون ایلیاء
کتاب: مضمون رائگاں، فرنود

17/06/2026

Beau place

14/06/2026

"32 سال تک ایک ماں اپنے جس بیٹے کو مردہ سمجھ کر اس کے پرانے کپڑوں کو سینے سے لگا کر روتی رہی... ایک دن اسی 'مردہ' بیٹے ن...
14/06/2026

"32 سال تک ایک ماں اپنے جس بیٹے کو مردہ سمجھ کر اس کے پرانے کپڑوں کو سینے سے لگا کر روتی رہی... ایک دن اسی 'مردہ' بیٹے نے اچانک اس کے دروازے پر دستک دے دی!"

یہ کوئی فلمی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسی لرزہ خیز حقیقت ہے جس نے پوری دنیا کو رلا کر رکھ دیا۔

کہانی شروع ہوتی ہے مصر کی ایک حبس زدہ رات سے، جب میاں بیوی کے ایک معمولی جھگڑے نے ہنستے کھیلتے گھرانے کو راکھ کر دیا۔ سعودی شوہر نے غصے اور انا میں آ کر اپنی مصری بیوی کو چھوڑا، اور روتی بلکتی ماں کی گود سے 4 سالہ ننھے 'ترکی' کو چھین کر ہمیشہ کے لیے سعودی عرب آ گیا۔

ماں پاگلوں کی طرح تڑپتی رہی، سفارت خانوں کے چکر کاٹتی رہی، لیکن پھر ایک دن ظالم باپ نے وہ لرزہ خیز جھوٹ بولا جس نے اس عورت کی دنیا ہی ختم کر دی: "تمہارا بیٹا مر چکا ہے، اب اسے کبھی مت ڈھونڈنا!"

ذرا تصور کریں اس ماں کے درد کا! جس نے دل میں اپنے زندہ بچے کی فرضی قبر بنا لی۔ وہ 32 سال تک اس کی ننھی سی قمیض اور ایک پرانا کھلونا چوم کر اس کے لیے مغفرت کی دعائیں مانگتی رہی۔ اسے لگتا تھا کہ اس کا جگر کا ٹکڑا مٹی کے نیچے سو رہا ہے۔

دوسری طرف سعودی عرب میں ترکی بڑا ہو رہا تھا۔ اسے کبھی ماں کا پیار نہ ملا۔ جب بھی وہ ماں کا پوچھتا، اسے جھوٹی کہانیاں سنا کر چپ کروا دیا جاتا۔ لیکن خون آخر کب تک خاموش رہتا؟ جوان ہونے اور اپنی شادیاں کرنے کے بعد بھی ترکی کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ اسے محسوس ہوتا تھا کہ اس کی زندگی کا ایک حصہ غائب ہے۔ آخر کار اس نے سچ کی تلاش شروع کی۔

وہ ریاض میں سفارت خانے گیا، ناکام ہوا۔ لیکن اس نے ہار نہ مانی۔ وہ مصر پہنچا اور برسوں پرانی گرد آلود فائلوں کو کھنگالنا شروع کیا۔ مہینوں کی خجل خواری کے بعد، ایک پرانے پاسپورٹ کے بوسیدہ کاغذ سے اسے ایک دھندلا سا پتہ مل ہی گیا۔

اور پھر وہ قیامت خیز لمحہ آیا!

جب ترکی اس پتے پر پہنچا اور دروازہ کھٹکھٹایا... سامنے ایک بوڑھی، کمزور عورت کھڑی تھی جس کی آنکھیں رو رو کر اندر دھنس چکی تھیں۔ جب اسے بتایا گیا کہ "یہ آپ کا ترکی ہے، یہ مرا نہیں، زندہ ہے!" تو وہ عورت جھٹکے سے وہیں زمین پر گر پڑی۔ 36 سال کا جوان بیٹا اپنی بوڑھی ماں کے قدموں میں دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا، اور ماں کانپتے ہاتھوں سے اس کا چہرہ چھو کر یقین کر رہی تھی کہ یہ کوئی خواب تو نہیں!

ایک انا پرست باپ کے ایک جھوٹ نے دو زندگیاں 32 سال تک جہنم بنائے رکھیں، لیکن قدرت نے ثابت کر دیا کہ ماں کی ممتا کو دنیا کا کوئی جھوٹ مات نہیں دے سکتا۔ دیر سے ہی سہی، خون آخر اپنا راستہ ڈھونڈ ہی لیتا ہے!

سال ۱۲۶۰ عیسوی۔ عباسی خلافت کے دارالحکومت بغداد کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کے بعد، ہلاکو خان کی دیوہیکل اور ناقابل ش...
14/06/2026

سال ۱۲۶۰ عیسوی۔ عباسی خلافت کے دارالحکومت بغداد کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کے بعد، ہلاکو خان کی دیوہیکل اور ناقابل شکست منگول جنگی مشینری شام کو روندتی ہوئی مصر کی سرحدوں تک پہنچ چکی تھی۔ قاہرہ کے شاہی محل 'قلعہ الجبل' میں ہلاکو کے چار ایلچی ایک انتہائی سخت گیر اور دھمکی آمیز خط لے کر داخل ہوئے۔ اس مسودے میں واضح طور پر لکھا تھا کہ "ہمارے گھوڑے تیز، تیر تیز اور تلواریں بجلی کی طرح ہیں، ہتھیار ڈال دو ورنہ تمہارے قلعے مسمار اور خاندان صفحہ ہستی سے مٹا دیے جائیں گے"۔ مصری امراء اور بیوروکریسی پر ایک گہرا اور خوفناک جمود طاری تھا۔ اس کٹھن اور نازک ترین تزویراتی لمحے میں، مسندِ اقتدار پر بیٹھے حاکم نے سفارتی مذاکرات یا پسپائی کا راستہ اپنانے کے بجائے ایک خالصتاً حسابی، بے رحم اور قطعی فیصلہ کیا۔ اس نے حکم دیا کہ چاروں منگول ایلچیوں کو اسی وقت گرفتار کر کے ان کے جسم کے دو ٹکڑے کر دیے جائیں اور ان کے سر قاہرہ کے مشہور دروازے 'باب زویلہ' پر لٹکا دیے جائیں۔ اس ایک ٹھوس اور جارحانہ اقدام نے منگولوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے صلح کے امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا اور پوری مملوک فوج کو موت یا فتح کے ایک حتمی اور زمینی محاذ پر لا کھڑا کیا۔ یہ سلطان 'سیف الدین قطز' تھے، جنہوں نے اپنی محض گیارہ ماہ کی مختصر لیکن فیصلہ کن حکمرانی میں عالمی تاریخ کا دھارا مکمل طور پر موڑ دیا۔

خاندانی پس منظر اور جسمانی خدوخال کی تحلیل
'قطز' (جس کا مطلب منگولی زبان میں خونخوار کتا ہے، جو ان کی سخت گیر مزاحمت پر منگولوں نے رکھا تھا) کا اصل نام محمود بن ممدود تھا۔ ان کا خاندانی پس منظر خوارزم شاہی سلطنت کے شاہی خاندان سے جڑا ہوا تھا اور وہ جلال الدین خوارزم شاہ کے قریبی رشتہ دار تھے۔ منگولوں نے خوارزم شاہی سلطنت کے انہدام کے بعد انہیں بچپن میں گرفتار کر کے دمشق کی منڈی میں بطور غلام فروخت کر دیا، جہاں سے وہ مصر کے ایوبی سالار عز الدین ایبک کے ہاتھ آئے۔

مستند تاریخی دستاویزات کے مطابق، قطز کے جسمانی خدوخال خالصتاً وسطی ایشیائی اور خوارزمی جنگجوؤں جیسے تھے۔ ان کا قد درمیانہ لیکن ہڈیاں انتہائی چوڑی اور کندھے وسیع تھے۔ ان کی رنگت سرخ و سفید اور بالوں میں ہلکی زردی تھی۔ بچپن ہی سے کٹھن غلامی اور حربی تربیت نے ان کے پٹھوں کو فولادی بنا دیا تھا۔ ان کے چہرے پر ایک سرد، محاسبه گیر اور سخت گیر دفتری جمود طاری رہتا تھا۔ وہ میدانِ جنگ میں انتہائی بھاری لوہے کا زرہ بکتر اور مخصوص مملوک آہنی خود استعمال کرتے تھے۔

ریاستی بغاوت اور مرکزیت کا قیام (۱۲۵۹ عیسوی)
قطز نے اپنی حربی صلاحیتوں کی بنیاد پر ایبک کی فوج میں سپریم کمانڈر کا عہدہ حاصل کیا۔ ۱۲۵۷ عیسوی میں ایبک کے قتل کے بعد، اس کا کم سن بیٹا 'المنصور علی' تخت نشین ہوا، جبکہ قطز کو نائب السلطنت مقرر کیا گیا۔
جب ہلاکو خان کی فوج شام میں داخل ہوئی اور حلب پر قبضہ کر لیا، تو قطز نے ایک خالصتاً منطقی اور عملی ریاستی بغاوت کا آغاز کیا۔ نومبر ۱۲۵۹ عیسوی میں، اس نے کم سن سلطان کو تخت سے معزول کر دیا اور امراء کو طلب کر کے ایک حتمی اعلان کیا کہ "اس نازک جغرافیائی اور عسکری بحران میں ریاست کو کھلونوں سے کھیلنے والے بچے کی نہیں، بلکہ ایک بالغ جنگجو سالار کی ضرورت ہے"۔ قطز نے خود مسندِ اقتدار سنبھال لیا اور سلطنت کی مکمل مرکزیت قائم کی۔

مالیاتی نظم و نسق اور عسکری صف بندی
دیوہیکل منگول فوج کا سامنا کرنے کے لیے بھاری رسدی اور مالیاتی وسائل درکار تھے۔ قطز نے ریاست کے خزانے بھرنے کے لیے عوام پر ٹیکس لگانے کا ارادہ کیا، لیکن اس دور کے سب سے بڑے اور سخت گیر عالم 'عز الدین بن عبدالسلام' نے ریاستی فرمان جاری کیا کہ جب تک تمام مملوک امراء اور سالار اپنی ذاتی دولت، سونے اور جواہرات ریاست کے حوالے نہیں کرتے، عوام پر ایک پیسے کا ٹیکس بھی غیر قانونی ہوگا۔ قطز نے اس خالصتاً اصولی اور انتظامی فیصلے کو من و عن تسلیم کیا، تمام سالاروں سے ان کی ذاتی دولت وصول کی اور پھر ایک بھاری اور منظم فوج تیار کی۔ اس نے اندرونی رقابتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے پرانے حریف اور ایک اور مایہ ناز مملوک سالار، 'رکن الدین بیبرس' کو دمشق سے بلا کر اپنی فوج کے ہراول دستے کا کمانڈر مقرر کیا۔

معرکہ عین جالوت: حتمی زمینی ٹکراؤ (ستمبر ۱۲۶۰ عیسوی)
قطز نے مصر کے قلعوں میں محصور ہو کر منگولوں کا انتظار کرنے کے بجائے پیش قدمی کا جارحانہ اور ریاضیاتی فیصلہ کیا۔ ۳ ستمبر ۱۲۶۰ عیسوی کو فلسطین کے خشک اور تنگ گھاٹیوں والے میدان 'عین جالوت' میں قطز کی فوج کا سامنا منگول سالار 'کتبغا' کی تجربہ کار اور بھاری فوج سے ہوا۔

قطز نے بیبرس کے دستے کو آگے بھیج کر پسپائی کا حربی دھوکہ دیا۔ جب منگول فوج پیش قدمی کرتی ہوئی گھاٹی میں داخل ہوئی، تو چاروں اطراف سے مملوک فوج نے ایک ٹھوس اور منظم زمینی حملہ کر دیا۔ تصادم اس قدر شدید تھا کہ ایک موقع پر مملوک فوج کا بایاں بازو منگولوں کے دباؤ سے بکھرنے لگا۔ اس کٹھن ترین لمحے میں، جب ریاست کی بقا کا دارومدار محض چند لمحوں پر تھا، قطز نے ایک غیر معمولی اور خالصتاً عملی اقدام کیا۔ اس نے اپنا آہنی خود سر سے اتار کر زمین پر دے مارا تاکہ اس کے سپاہی اسے پہچان سکیں، اپنی ننگی تلوار نکالی اور 'وا اسلاماہ' (ہائے اسلام) کی بلند آواز کے ساتھ ذاتی طور پر اپنے ایلیٹ دستوں کے ہمراہ منگول فوج کے عین مرکز پر ایک بے رحم اور براہِ راست حملہ کر دیا۔ اس سخت گیر اور فیصلہ کن حملے نے منگولوں کی حربی صفوں کو مکمل طور پر زمین بوس کر دیا۔ منگول سالار کتبغا مارا گیا اور تاریخ میں پہلی بار منگولوں کی پیش قدمی کو ایک حقیقی اور ناقابلِ واپسی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

شام کی تسخیر اور اندرونی کشمکش
عین جالوت کی فتح کے فوراً بعد، قطز نے شام کے شہروں کی جانب پیش قدمی کی اور محض چند ہفتوں میں دمشق اور حلب کو منگولوں سے آزاد کروا کر مملوک سلطنت کی سرحدوں کو مستحکم کر دیا۔ اس نے مقامی امراء کو نئے انتظامی عہدے تفویض کیے، لیکن رکن الدین بیبرس کو حلب کی حاکمیت دینے کا پرانا وعدہ کسی رسدی یا انتظامی مصلحت کے تحت پورا نہیں کیا۔ اس ایک انتظامی فیصلے نے مملوکوں کے خونی اور بے رحم روایتی سیاسی کھیل کو دوبارہ زندہ کر دیا۔

حتمی انجام اور منظم ریاستی قتل (اکتوبر ۱۲۶۰ عیسوی)
اکتوبر ۱۲۶۰ عیسوی۔ قاہرہ واپسی کے سفر کے دوران، 'صالحیہ' کے مقام پر قطز نے چند سالاروں کے ہمراہ خیمہ گاہ سے باہر خرگوش کے شکار کا قصد کیا۔ یہ کوئی عام شکاری مہم نہیں تھی، بلکہ رکن الدین بیبرس اور دیگر ناراض امراء کی طرف سے ترتیب دیا گیا ایک انتہائی منظم، حسابی اور خونی ریاستی منصوبہ تھا۔

شکار کے دوران، ایک سازشی سالار نے قطز کا دھیان بٹانے کے لیے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ چوما، اور عین اسی لمحے بیبرس اور اس کے ساتھیوں نے پیچھے سے ایک ٹھوس اور فیصلہ کن خنجر کا وار قطز کی پشت پر کیا۔ چند ہی سیکنڈز میں سلطنت کے محافظ اور منگولوں کو شکست دینے والے سپریم سالار کی حقیقی موت واقع ہو گئی۔ قطز کی حکمرانی کا دورانیہ محض گیارہ ماہ رہا، لیکن اس کے اٹھائے گئے مشینی اور بے رحم عسکری اقدامات نے مملوک سلطنت کو ایک ایسی مطلق العنان قوت میں تبدیل کر دیا جس نے اگلے اڑھائی سو سال تک مشرقِ وسطیٰ کے وسیع جغرافیے پر ایک ٹھوس اور منظم حکمرانی قائم رکھی۔

تاریخی حوالہ جات:
السلوک لمعرفۃ دول الملوک (تقی الدین المقریزی),
النجوم الزاھرۃ فی ملوک مصر والقاہرۃ (ابن تغری بردی),
جامع التواریخ (رشید الدین ہمدانی),
تاریخِ ابن خلدون (ابن خلدون),
دی ارلی مملوک سلطنت (The Early Mamluk Sultanate).

سندھ کے ایک 40 سالہ ہندو نوجوان کے لیے وہ دن کسی قیامت سے کم نہ تھا جب کینسر سپیشلسٹ نے اسے بتایا کہ اس کے خون میں آخری ...
11/06/2026

سندھ کے ایک 40 سالہ ہندو نوجوان کے لیے وہ دن کسی قیامت سے کم نہ تھا جب کینسر سپیشلسٹ نے اسے بتایا کہ اس کے خون میں آخری سٹیج کا کینسر پھیل چکا ہے اور اس کے پاس جینے کے لیے زیادہ سے زیادہ صرف ایک مہینہ ہے۔

وہ ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح گھر پہنچا۔ موت کا خوف اس کے چہرے پر جم چکا تھا۔ اس نے بستر پر گر کر کانپتے ہونٹوں سے اپنی بیوی کو یہ خوفناک خبر سنائی، تو وہاں ایک ایسا حیران کن واقعہ ہوا جس نے اس کے ہوش اڑا دیے۔

بیوی رونے یا ماتم کرنے کے بجائے، انتہائی پرسکون انداز میں مسکرائی اور بولی: "آپ ناحق پریشان ہو رہے ہیں... بلڈ کینسر بھی بھلا کوئی بیماری ہوتی ہے؟"

شوہر دنگ رہ گیا کہ موت سر پر کھڑی ہے اور بیوی مذاق کر رہی ہے! بیوی اٹھی، کچن سے ایک پانی کا جگ لائی اور ایک کڑی شرط رکھی:
"میں آپ کو ایک ایسا پانی پلاؤں گی جس سے آپ کا یہ کینسر جڑ سے ختم ہو جائے گا۔ لیکن آپ کو مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہوگا... جس دن آپ مکمل صحت یاب ہو جائیں گے، تو جو میں کہوں گی آپ کو بلا چوں چراں ماننا پڑے گا!"

مرتا کیا نہ کرتا؟ موت کے خوف میں مبتلا شوہر نے فوراً وعدہ کر لیا۔ اس دن کے بعد سے بیوی اس جگ میں پانی بھر کر رکھتی۔ شوہر کو حکم تھا کہ پیاس لگنے پر قطرہ قطرہ صرف یہی پانی پینا ہے۔ دن گزرتے گئے، شوہر موت کا کاؤنٹ ڈاؤن گنتا رہا لیکن موت آنے کے بجائے اس کے جسم میں ایک عجیب سی طاقت لوٹنے لگی۔

اور پھر ٹھیک ایک مہینے بعد وہ معجزہ ہوا جس نے میڈیکل سائنس کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں! وہ لیبارٹری گیا اور جب اس کی رپورٹ آئی تو لیب اسسٹنٹ کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔ اس کے خون سے کینسر کا ایک سیل (Cell) بھی نہیں ملا۔ اسے یقین نہ آیا، اس نے شہر کی 4 الگ الگ ٹاپ لیبارٹریز سے ٹیسٹ کروائے، اور ہر جگہ سے ایک ہی ناممکن نتیجہ آیا: اس کا بلڈ کینسر سو فیصد ختم ہو چکا تھا!

وہ خوشی سے پاگل ہوتا ہوا گھر پہنچا، بیوی کو گلے لگایا اور چیخا: "تمہارے اس پراسرار پانی نے کمال کر دیا! موت ہار گئی، میرا کینسر جڑ سے ختم ہو چکا ہے!"

تب بیوی نے مسکرا کر شوہر کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا: "اب وقت آ گیا ہے کہ تم اپنا وعدہ پورا کرو... مسلمان ہو جاؤ!"

یہ سنتے ہی شوہر کو 440 وولٹ کا جھٹکا لگا۔ وہ پیچھے ہٹا اور چلایا: "مسلمان؟ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟ تمہارا اپنا پورا خاندان ہندو ہے، تم مجھے مسلمان ہونے کا کیسے کہہ سکتی ہو؟"

بیوی نے پرسکون لہجے میں کہا: "پہلے وعدہ پورا کرو، پھر وہ راز بتاؤں گی جو آج تک کسی کو نہیں پتا۔"

شوہر نے اپنی نئی زندگی کی خاطر ہچکچاتے ہوئے غسل کیا، اور اپنی بیوی کے سامنے کلمہ (اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمد رسول اللہ) پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔

اس کے بعد بیوی نے وہ لرزہ خیز راز کھولا جس نے اس نوجوان کی روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا:
"جب میں سکول میں تھی تو میری ایک مسلمان سہیلی تھی۔ وہ روزانہ قرآن پڑھتی اور میں پاس بیٹھی سنتی رہتی۔ وہ قرآن آہستہ آہستہ میرے دل میں ایسا اترا کہ میں نے 15 سال کی عمر میں ہی چھپ کر اسلام قبول کر لیا تھا۔ زندگی کے اتنے سال میں نے اپنا ایمان چھپائے رکھا۔ لیکن جب ڈاکٹروں نے تمہیں لاعلاج کہہ کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا... تو میں نے اللہ کا کلام اٹھایا۔ اس جگ میں کوئی جادوئی پانی نہیں تھا، بلکہ میں روزانہ اس پر قرآن کی آیت (وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ - اور یہ قرآن سینے کی بیماریوں کے لیے شفا ہے) پڑھ کر دم کرتی تھی! اور دیکھ لو... میرے رب کے کلام نے تمہیں موت کے منہ سے کھینچ نکالا!"

ہمارے پیج کا وزٹ کریں شکریہ

Address

Peshawar

Telephone

+923318206584

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mulana Muhammad Awais posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mulana Muhammad Awais:

Shortcuts

Share