05/05/2026
#ایشیا کے عظیم محدث، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس صاحب ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔
حضرت! آپ کے فراق نے دل توڑ کر رکھ دیا۔
ایک چراغ بجھ گیا جس سے ہزاروں دلوں کو روشنی ملتی تھی۔
ایک سایہ اٹھ گیا جس کے نیچے ہزاروں طالب علم پناہ لیتے تھے۔
افسوس صد افسوس!
پختون وہ بدقسمت قوم ہے جس نے اپنے بزرگوں کو بھی معاف نہیں کیا۔
جس نے اپنے علماء کو بھی معاف نہیں کیا۔
جن کی دعاؤں سے ہماری زمینیں آباد تھیں، جن کے درس سے ہمارے گھر منور تھے — آج ہم نے انہیں بھی نہ بخشا۔
اور سنو!
آج اس گناہ میں وہ لوگ بھی برابر کے شریک ہیں جنہوں نے کچھ دن پہلے شیخ صاحب پر فتوے جاری کیے تھے۔
جنہوں نے زبانوں کے تیروں سے اس باریش بزرگ کا دل چھلنی کیا۔
جنہوں نے سوشل میڈیا پر بیٹھ کر ایک عمر رسیدہ محدث کی کردار کشی کی۔
یاد رکھو:
علماء کا خون رائیگاں نہیں جاتا۔
علماء کی آہ عرش ہلا دیتی ہے۔
آج ایک محدث گیا ہے، کل تمہارا امن جائے گا۔
آج ایک چراغ بجھا ہے، کل تمہارے گھر اندھیر ہو جائیں گے۔
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب!
ہم شرمندہ ہیں۔
ہم آپ کی قدر نہ کر سکے۔
ہم نے آپ کو تحفظ نہ دیا۔
مگر آپ گواہ رہنا، آپ کے لاکھوں شاگرد آپ کے مشن کو زندہ رکھیں گے۔
آپ کا درس جاری رہے گا۔
آپ کی حدیث کی خوشبو قیامت تک پھیلتی رہے گی۔
آپ کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
اور فتویٰ بازو، سن لو:
تم نے ایک شخص پر فتویٰ نہیں لگایا، تم نے پوری امت کو یتیم کر دیا۔
اس خون کا حساب ہوگا۔ اس دنیا میں بھی، اور اس دنیا میں بھی۔
اللہ تعالیٰ حضرت شیخ الحدیث کے درجات بلند فرمائے۔
ان کی قبر کو جنت کا باغ بنائے۔
ان کے لواحقین اور تلامذہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
اور ہمیں علماء کی عزت کرنے کی توفیق دے۔