Karwan e Kaba

Karwan e Kaba اللہ کے گھر حرمین شریفین کے زیارت کرنے والوں کی خدمات
ع

02/01/2026
قدرت کا شہکار
02/01/2026

قدرت کا شہکار

02/01/2026

کبھی کبھی مسکرا بھی لینا چاہیے
ایک بزرگ خاتون ایک بینک میں داخل ہوئیں اور نہایت ادب سے کہا کہ وہ دس ڈالر نکالنا چاہتی ہیں۔
ٹیلر نے شیشے کے پیچھے سے اُنہیں سرسری نظر ڈالتے ہوئے رُکھے لہجے میں کہا:
"سو ڈالر سے کم رقم نکالنے کے لیے اے ٹی ایم استعمال کریں۔ اگر آپ کا کوئی اور سوال نہیں تو مہربانی کرکے ایک طرف ہو جائیں—لوگ انتظار کر رہے ہیں۔"
خاتون چند لمحے خاموش رہیں، پھر پرسکون انداز میں اپنا کارڈ دوبارہ کاؤنٹر پر سرکاتے ہوئے بولیں:
"اچھا، تو پھر میں اپنے اکاؤنٹ کی ساری رقم نکلوانا چاہوں گی۔"
ٹیلر گھبرا گئی۔ اُس نے بیلنس چیک کیا تو اُس کے ہاتھ سے کارڈ گرنے ہی والا تھا۔
"میڈم، آپ کے اکاؤنٹ میں آدھے ملین ڈالر سے زیادہ ہیں! معذرت، لیکن ہم اتنی بڑی رقم آج کیش میں نہیں دے سکتے۔ اس کے لیے درخواست دینا پڑے گی اور آپ کو کل آنا ہوگا۔"
خاتون نے پوچھا:" تو ابھی میں کتنی رقم نکال سکتی ہوں؟"
ٹیلر نے فوراً نرم لہجے میں جواب دیا:
"آپ تین ہزار ڈالر تک نکال سکتی ہیں۔"
"بہت خوب۔ تو پھر مجھے 2,915 ڈالر نکالنے ہیں۔"
ٹیلر والٹ تک گئی، نوٹوں کی گڈی لائی، اور بیس، دس اور پانچ کے نوٹوں کو گنتے ہوئے اچھا خاصا وقت لگایا۔ آخر میں زبردستی مسکراتے ہوئے بولی:
"کیا آج آپ کو مزید کسی چیز کی ضرورت ہے؟"
خاتون نے پرسکون انداز میں اس رقم میں سے دس ڈالر نکالے، پرس میں رکھے، اور کہا:
"جی ہاں۔ میں 2,905 ڈالر واپس اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروانا چاہتی ہوں۔
بلا وجہ کسی کی زندگی مشکل مت بنائیں۔ کیونکہ سامنے والا بھی اتنی ہی آسانی سے آپ کی زندگی مشکل بنا سکتا ہے۔
پوسٹ پسند آئے تو رئیکٹ کرلیں۔

02/01/2026

ہماری نوجوان نسل
ہمارے بچے اب بچے نہیں رہے کل جب لاہور مینار پاکستان گیا تو ہزاروں کی تعداد میں سکول کے ٹرپس میں بچیاں اور بچے آئے ہوئے تھے ۔ میں بس ادھر اُدھر ویڈیو بنانے لگ گیا ۔
کثیر تعداد ہیر رانجھوں کی تھی جو سکول اور کالجز سے بھاگ کر آئے ہوئے تھے ۔۔ اچانک میرے سامنے سے ایک سکول کی 6 بچیاں گزریں ۔۔ ایک لڑکی موبائل پہ مصروف تھی کہ دوسری لڑکیاں کہنے لگی ۔ چھوڑ دو جانو کا پیچھا ہم یہاں گھومنے آئے ہیں ! تو بولی جانو آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں۔۔۔۔ یہ جو بول رہی ہے ناں پیچھے جلد ہی اس کو آپ کے پاس لے کر آؤں گی بس آپ غصہ نہ ہوں ۔
کال کاٹ کر لڑکیوں کو کہتی کی ڈاکٹر ناراض ہوجاتے ہیں ۔
یہ ایک چھوٹی سی بات نہیں ہے اب آتے ہیں اصل معاملہ کی جانب بادشاہی مسجد میں کھڑے ہوکر کپلز چاہےوہ شادی شدہ تھے یا ڈیٹ پہ آئے ہوئے تھے ایک دوسرے کو ہگ کیئے کھڑے تھے ۔۔ کسی کو کسی سے لینا دینا نہیں تھا ۔ کہنے کو ہم اسلامی معاشرہ ۔۔۔۔۔ لیکن معاملات بڑے خراب ۔
لاہور کے پارک آباد ہیں۔۔۔ جو دوسرے شہروں سے پڑھنے بچے بچیاں جاتیں ہیں وہ آباد کر رہے ہیں اور ہمیں روزانہ کی تعداد میں نیٹ پہ نئے نئے چہروں کی محبت کی ویڈیوز مل جاتی ہیں ۔
یقین مانیں اگر آپ اپنی بچیوں کو نہیں بچائیں گے تو کون بچائے گا ؟؟؟؟ افسوس بحیثیت والدین ہم صفر ہوچکے ہیں مجال ہے کہ ہم اپنے بچوں پہ نظر رکھ لیں ۔
ارے بھئی نئے نئے جذبات میں ہر بچہ بچی بہک جاتی ہے اگر آپ ہی ان کو نہیں سنبھالیں گے تو کون سنبھالے گا ؟
سب سے زیادہ بچیوں کی حفاظت کرنا ہے ۔۔۔۔۔ ان کو غلط صحیح بتانا ہے ورنہ یقین مانیں ہاتھ تو آپ کے بھی کالے ہونگے ۔
نہ میں اس کو اس وقت سمجھا سکتا تھا نہ کہہ سکتا تھا اس تحریر کا مقصد والدین کو آگاہ کرنا ہے کہ وہ بچوں کے معاملے میں احتیاط کیجئے ورنہ اُن کی زندگی تباہ ہو جائے گی۔

02/01/2026

پرانے زمانے کی بات ہے، ایک عالمِ دین بغاوت کے الزام میں جیل چلے گئے۔ جب جمعے کا دن آتا تو وہ نہا دھو کر، تیل کنگھی کر کے تیار ہو جاتے اور بےچینی سے انتظار کرتے۔ جونہی جمعے کی اذان ہوتی، وہ تیز قدموں سے جیل کے مین گیٹ کی طرف بڑھتے۔ پوری اذان جیل کے گیٹ کی سلاخیں تھام کر سنتے، پھر بوجھل قدموں اور افسردہ چہرے کے ساتھ، آنسو پونچھتے ہوئے واپس اپنی بیرک میں آ جاتے۔
گیٹ پر مامور جیلر، جو غیر مسلم تھا، کافی عرصے سے اس عالمِ دین کا یہ معمول دیکھ رہا تھا۔ آخر ایک دن وہ ضبط نہ کر سکا۔ اس نے عالمِ دین کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا:
"تم ہر جمعے یہ کیا کرتے ہو؟ تیار ہو کر گیٹ تک آتے ہو، جبکہ تمہیں معلوم ہے کہ جیل کا دروازہ تمہارے لیے بند ہے اور تم باہر نہیں جا سکتے۔ پھر بھی اتنی دور چل کر کیوں آتے ہو؟"
عالمِ دین نے جواب دیا:
"جیلر صاحب! میرے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جب جمعے کی اذان سنو تو سارے کام چھوڑ کر جلد از جلد مسجد کی طرف بڑھو۔ اسی لیے میں اپنے رب کا حکم بجا لاتا ہوں اور جہاں تک میرے لیے ممکن ہوتا ہے، وہاں تک پہنچتا ہوں۔"
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا:
"پھر میں جیل کے گیٹ کی سلاخیں پکڑ کر اپنے رب سے مخاطب ہوتا ہوں اور عرض کرتا ہوں:
یا اللہ! تو میری مجبوری دیکھ رہا ہے۔ تیرے حکم کی خاطر میں یہاں تک تو آ گیا ہوں، لیکن اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اب تو میری نیت کو دیکھتے ہوئے خود ہی میری حاضری لگا دینا۔
کیونکہ میرا اللہ کسی جان پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، اس لیے مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے جمعے کا اجر ضرور عطا فرمائے گا، اگرچہ میں نمازِ ظہر جیل ہی میں ادا کرتا ہوں۔"
آخر میں عالمِ دین نے کہا:
"جو چیز آپ کو تماشا لگتی ہے، وہ میرے لیے میرا دین اور میرا ایمان ہے۔

02/01/2026

یاجوج ماجوج کا فتنہ
ایک دن نبی کریم ﷺ نیند سے گھبرا کر اٹھے اور اپنی زوجہ حضرت زینب بنت جحشؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، عربوں کے لیے ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب آ چکا ہے، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو چکا ہے اور آپ ﷺ نے اپنے انگوٹھے اور اس کے برابر والی انگلی کو ملا کر اشارہ کیا، تو حضرت زینبؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، جب بے حیائی اور گناہ عام ہو جائیں گے۔ یاجوج ماجوج حضرت نوحؑ کے بیٹے یافث کی نسل سے ہیں، یہ انسان ہیں مگر نہایت طاقتور اور فساد کرنے والی قوم ہے، جو قتل و غارت، لوٹ مار اور زمین میں تباہی پھیلاتی ہے، اسی وجہ سے جب ذوالقرنین شمال کی طرف پہنچے تو دو پہاڑوں کے درمیان ایک سادہ قوم ملی جو یاجوج ماجوج کے ظلم سے پریشان تھی، انہوں نے درخواست کی کہ ہمارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دیں، چنانچہ ذوالقرنین نے بغیر مزدوری لیے لوہے اور پگھلے تانبے سے ایسی مضبوط دیوار بنائی کہ وہ نہ اس پر چڑھ سکتے تھے اور نہ اسے توڑ سکتے تھے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یاجوج ماجوج روز اس دیوار کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کل توڑیں گے، مگر اللہ کے حکم کے بغیر وہ نکل نہیں سکتے، اور جب اللہ انہیں اجازت دے گا تو وہ زمین میں پھیل جائیں گے، پانی پی جائیں گے حتیٰ کہ جھیلیں خشک کر دیں گے، ہر چیز کھا جائیں گے، پھر غرور میں آ کر آسمان والوں سے لڑنے کی بات کریں گے، یہ سب کچھ حضرت عیسیٰؑ کے نزول اور دجال کے قتل کے بعد ہوگا، اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰؑ کو حکم دیں گے کہ مسلمانوں کو لے کر پہاڑ کی طرف چلے جائیں، پھر اللہ تعالیٰ ایک چھوٹے کیڑے کے ذریعے یاجوج ماجوج کو ہلاک کر دے گا، ان کی لاشوں کی بدبو پھیل جائے گی، پھر پرندے انہیں اٹھا لے جائیں گے اور بارش زمین کو پاک کر دے گی، اس کے بعد زمین پہلے سے بہتر ہو جائے گی، ہر طرف امن ہوگا، نہ دشمنی رہے گی نہ ظلم، دل حسد اور کینے سے پاک ہو جائیں گے، اور ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں فتنوں سے محفوظ رکھے، ایمان پر موت عطا فرمائے.
سورۃ الکہف — آیات 83–98

02/01/2026

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ مسلمان اس گھڑی میں اللہ تعالٰی سے جو بھلائی بھی مانگے گا اللہ تعالٰی اسے عطا فرمائیں گے اور وہ گھڑی بہت تھوڑی دیر رہتی ہے ۔ (صحیح مسلم )

Address

UNIVERSITY TOWN S JAMAL UD DIN AFGHANI Road PESHAWAR
Peshawar
2500

Opening Hours

Monday 12:00 - 16:00
Tuesday 12:00 - 16:00
Wednesday 12:00 - 16:00
Thursday 12:00 - 16:00
Friday 09:00 - 16:00
Saturday 12:00 - 16:00

Telephone

+923317706635

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Karwan e Kaba posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Karwan e Kaba:

Share