18/08/2026
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دالوڑی گدون، صوابی کے دل خراش کلاؤڈ برسٹ سانحے کو ایک سال مکمل ہونے پر اہلِ علاقہ، شہداء کے لواحقین اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
اسد قیصر نے کہا کہ دالوڑی گدون کا سانحہ صوابی کی تاریخ کا ایک انتہائی المناک سانحہ ہے، جس میں 37 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس سانحے کا دکھ آج بھی اہلِ علاقہ کے دلوں میں تازہ ہے۔ میں شہداء کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کا شریک ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور سوگوار خاندانوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں خیبرپختونخوا حکومت، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، پاک فوج، سول ڈیفنس، الخدمت فاؤنڈیشن، دیگر فلاحی تنظیموں اور مقامی رضاکاروں نے جس جذبے، ہمت اور انسان دوستی کے ساتھ امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ بالخصوص ریسکیو 1122 کے 150 اہلکاروں نے تقریباً 60 گھنٹے مسلسل سرچ آپریشن کرتے ہوئے ملبے تلے دبے تمام 37 افراد کے جسدِ خاکی نکالے، جو ایک انتہائی مشکل اور جانفشاں آپریشن تھا۔
اسد قیصر نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے فوری طور پر امدادی سرگرمیوں کے لیے خطیر فنڈز جاری کرنا، متاثرین کے لیے معاوضوں میں اضافہ اور مکمل و جزوی طور پر تباہ ہونے والے گھروں کے لیے مالی امداد کا اعلان متاثرین کی مشکلات کم کرنے کی جانب اہم اقدامات تھے۔ قدرتی آفت میں انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں، تاہم حکومت، ریسکیو اداروں اور فلاحی تنظیموں کی بروقت امدادی کارروائیوں نے متاثرہ خاندانوں کو مشکل ترین وقت میں سہارا دیا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دالوڑی گدون سمیت قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں عوام کے جان و مال کے تحفظ، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے المناک سانحات سے قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔