30/05/2021
اے میری خوابیدگی اب تو ! آ جا
بے چین دل کو توگھڑی بھر سہلا جا
میری آنکھیں ہیں لال شبِ بیداری سے
آ اور آ کر تو اسے قید سے نجات دلا
اے میری خوابیدگی! اے میری محّبیِ
آ اور آ کہ اس جاں لیوا خاموشی کے تسلسل کو توڑ
رات کی اس کالی اور گہری خاموشی میں
میرا دل اب سینے کی دیواروں پر بوجھ ہے
آ اور آ کہ اس کے تسلسل میں خلل ڈال
میرے کانوں کو اس کی دھڑکن سے تو ہی راحت دلا
اے میری خوابیدگی! اے میری جانِ من
اے میری عزیزہ! اے میری ہم نشیں
اے میری روح کے سکوں! اے میری دل کے قرار
اے میری ہمدم! اے میری یارِ دیرینہ
آ اور آ کے مجھے اپنی آغوش میں لے لے
اے میری یارِ دیرینہ آ اور آ کر مجھ سے مل
خاموشی سے مجھ سے باہم کلام ہو
آ اور آ کر ان پلکوں پر سایہ فگن ہو جا
میری آنکھیں کب سے واہ ہیں
آ اور آ کر انھیں اپنے بوسے سے نواز
اے میری محبی میں کب سے نیم دراز ہوں
آ اور آ کر میرے حواس پر چھا جا
مجھے دین و دنیا سے بیگانہ کر دے
آ اور آ کر مجھے رات کی سفاکی سے نجات دلا
اے میری خوابیدگی اب تو ! آ جا
بے چین دل کو توگھڑی بھر سہلا جا
ماہ رخ