27/12/2025
چور چوری سے جائے پر ھیرا پیری سے نہ جائے۔۔۔۔۔۔!!!
پہلے بھی کہا تھا اور اب کہتے ہیں کہ جنگل کیمپ زمین کلازئی اور پوپلزئی قبائل کی ہیں یہاں پر ڈی سی صاحب الاٹمنٹ کیلئے 1588 ایکڑ زمین کی قیمت 5861.6700 ملین روپے میں لگا رہا ہے اور ازخود اپنی ڈیمارکیشن چھوڑ کر زمین پر قبضہ کررہا ہیں اور قبضہ مافیا کا سہولت کار بھی بنا ہوا ہے۔
ضلع قلعہ عبداللہ میں وفاقی محکمۂ جنگلات اور عوامی شاملات کی زمین پر قبضہ اب محض الزام نہیں رہا بلکہ تحصیلدار، محکمۂ ریونیو اور خود ڈپٹی کمشنر کے سرکاری مراسلوں سے ثابت شدہ حقیقت بن چکا ہے۔
تحصیلدار قلعہ عبداللہ کی رپورٹ کے مطابق موضع چر/کلازئی میں واقع جنگلاتی زمین وفاقی ریکارڈ میں موجود ہے جو طورخان فارسٹ کے تبادلے پر دیا گیا (لیکن آج تک طور خان فارسٹ مذکورہ قبائل کو نہیں دیا جاسکا ہے،) جس پر مختلف سرکاری محکموں، نجی افراد اور مارکیٹس نے قبضہ کر رکھا ہے،
اس کے باوجود انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ:
• ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ نے خود اس زمین کی قیمت متعین کی
• تقریباً 1588 ایکڑ جنگلاتی زمین کی مالیت 5861.670 ملین روپے ظاہر کی گئی
• اسی قیمت کو بنیاد بنا کر مزید الاٹمنٹ اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے
جو زمین طورخان فارسٹ کے تبادلے میں الاٹ ہوئی، اور طورخان فارسٹ قبائل کو منتقل نہ ہوا ہو، اس کی قیمت کس قانون کے تحت لگائی جا رہی ہے؟
یہ عمل انتظامیہ نہیں بلکہ قبضہ مافیا کی سہولت کاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے اپنے مراسلے کے مطابق:
• بڑی مقدار میں جنگلاتی زمین پہلے ہی سرکاری و نجی قبضے میں ہے، ڈی سی صاحب از خود اپنے الاٹ کردہ زمین سے ہٹ کر سیاسی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے زمین کو سرکاری عمارتوں سے قبضہ کررہا ہے جس کی مثال دیے گئے نقشے سے صاف ظاہر ہے۔
لیکن اس کے باوجود قیمت سازی اور خانہ تبدیلی کی سفارشات کی جا رہی ہیں، یعنی پہلے قبضہ، پھر قیمت، پھر مزید الاٹمنٹ — یہ کھلی سازش نہیں ہے کیا؟؟؟؟
یہ تمام اقدامات آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 23 اور 24، PPC کی دفعات 166، 217، 218، 447، Forest Act 1927 اور نیب قوانین کے تحت قابلِ سزا جرائم ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کو دو ٹوک تنبیہ ہے کہ عوامی و جنگلاتی زمینوں پر قبضہ، قیمت سازی اور مزید الاٹمنٹ کی کوششیں فوری بند کی جائیں۔
بصورتِ دیگر، یہ معاملہ عدالت، نیب، اینٹی کرپشن، میڈیا اور عوامی احتجاج تک لے جایا جائے گا، اور اس کے تمام سیاسی، قانونی اور انتظامی نتائج کی ذمہ داری خود ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
یہ زمین کسی افسر یا سیاسی شخصیت کی جاگیر نہیں —
ریکارڈ بول رہا ہے، اور حساب ہو کر رہے گا۔