Hewad News

Hewad News Darkness cannot drive out darkness; only light can do that. Hate cannot drive out hate, only love can

20/03/2026

عجیبه خبره دا ده چې دوربين، ټیلیفون، برېښنا، او حتی هغه ودانۍ چې کمېټه پکې ناسته کوي، دا ټول د ساینس ایجادات دي، خو د اختر د میاشتې اعلان بیا هغه څوک کوي چې له ساینس سره هيڅ بلد نه دي۔

20/03/2026

پشین: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا جلسہ عام عیدالفطر کے تیسرے دن منعقد ہوگا۔

AKAB Digital
PKMAP Official Southern Pashtunkhwa

15/03/2026

عوامی نیشنل پارٹی کے ایم پی اے ملک نعیم بازئی کے والد اور تحریک انصاف کے ایم این اے عادل بازئی کے دادا حاجی سیف اللہ خان بازئی انتقال کرگئے۔

اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی سیشن میں پہنچ گئےنو منتخب ممبر اسمبلی خوشحال کاکڑ کی اپوزیشن لیڈر محمود خان اچ...
05/03/2026

اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی سیشن میں پہنچ گئے
نو منتخب ممبر اسمبلی خوشحال کاکڑ کی اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی سیٹ پر آمد
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے خوشحال خان کاکڑ کو گلے لگایا۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا خوشحال خان کاکڑ کو ممبر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔
نو منتخب رکن اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے محمود خان اچکزئی کے ساتھ تصویر بھی کھنچوائی ۔

د اختر په څلورمه ورځ د پښين لويه جلسه عام
27/02/2026

د اختر په څلورمه ورځ د پښين لويه جلسه عام

21/02/2026

۲۱ فروري
نن د نړیوالو ژبو ورځ ده ، خپله مورنۍ ژبه پښتو ته وده ورکړي

شیر شاہ سوری بمقابلہ سارنگ خان گکھڑ :                                                                         شیر شاہ سو...
18/02/2026

شیر شاہ سوری بمقابلہ سارنگ خان گکھڑ : شیر شاہ سوری (1540ء تا 1545ء) کا دورِ حکومت اگرچہ صرف پانچ سال پر محیط تھا، لیکن ان کی انتظامی اصلاحات اتنی جامع اور پائیدار تھیں کہ مغل شہنشاہ اکبر نے بھی انہی کو بنیاد بنا کر اپنا نظامِ حکومت استوار کیا۔ انہیں برصغیر کی تاریخ کا ایک عظیم مصلح اور منتظم مانا جاتا ہے۔
شیر شاہ سوری کی اہم انتظامی کامیابیاں درج ذیل ہیں:
1. مرکزی اور صوبائی نظم و نسق
شیر شاہ نے اپنی سلطنت کو 47 اضلاع (جنہیں سرکار کہا جاتا تھا) میں تقسیم کیا۔ ہر سرکار کو مزید چھوٹی اکائیوں یعنی پرگنوں میں بانٹا گیا تھا۔
* سرکار کے افسران: ہر سرکار میں ایک "شقداری شقداران" (انتظام اور امن و امان کے لیے) اور ایک "منصفِ منصفان" (انصاف اور مالی امور کے لیے) مقرر تھا۔
* مرکزی محکمے: اس نے چار اہم وزارتیں قائم کیں:
- دیوانِ وزارت: مالیاتی امور۔
- دیوانِ عرض: فوجی معاملات۔
- دیوانِ رسالت: خارجہ امور۔
- دیوانِ انشا: شاہی مراسلات۔
2. زمینی اصلاحات اور مالیاتی نظام (Land Revenue)
شیر شاہ خود حساب کتاب کا ماہر تھا۔ اس نے کسانوں کی فلاح کے لیے انقلابی اقدامات کیے:
* زمین کی پیمائش: پہلی بار زمین کی باقاعدہ پیمائش کرائی گئی اور اسے زرخیزی کے لحاظ سے تین اقسام (اعلیٰ، اوسط، ادنیٰ) میں تقسیم کیا گیا۔
* پٹہ اور قبولیت: کسانوں کو "پٹہ" (ملکیتی دستاویز) دیا گیا اور ان سے "قبولیت" (معاہدہ) لی گئی تاکہ کوئی افسر ان سے زائد ٹیکس نہ وصول کر سکے۔
* ٹیکس کی شرح: پیداوار کا ایک تہائی (1/3) حصہ بطور سرکاری لگان مقرر کیا گیا۔
3. مواصلات اور تعمیرات (سڑکِ اعظم)
شیر شاہ کا سب سے بڑا کارنامہ شاہراہوں کا جال بچھانا ہے تاکہ تجارت اور نقل و حمل آسان ہو سکے:
1- جی ٹی روڈ: اس نے سنار گاؤں (بنگال) سے پشاور تک 1500 کوس لمبی سڑک تعمیر کروائی، جسے سڑکِ اعظم (Grand Trunk Road) کہا جاتا ہے۔
2- سرائیں: سڑکوں کے کنارے ہر دو کوس (تقریباً 4 میل) پر 1700 سرائیں تعمیر کیں، جہاں مسافروں کے لیے قیام و طعام اور گھوڑوں کی تبدیلی کا انتظام تھا۔
3- ڈاک کا نظام: ان سراؤں کو ڈاک کی چوکیوں کے طور پر بھی استعمال کیا گیا، جس سے پیغام رسانی کا تیز ترین نظام وجود میں آیا۔
4. فوجی اصلاحات
شیر شاہ نے علاؤ الدین خلجی کے فوجی نظام کو جدید بنایا:
4- داغ اور چہرہ: گھوڑوں کو داغنے (Branding) اور سپاہیوں کا حلیہ (Descriptive Roll) رکھنے کا نظام رائج کیا تاکہ بدعنوانی اور جعلی بھرتیوں کا خاتمہ ہو سکے۔
4-نقد تنخواہ: فوجیوں کو جاگیروں کے بجائے نقد تنخواہیں دی جانے لگیں۔
5. عدل و انصاف اور کرنسی
- انصاف: شیر شاہ کا قول تھا کہ "انصاف تمام مذہبی فرائض میں سب سے افضل ہے"۔ اس نے جج (قاضی) مقرر کیے اور مقامی حکام کو اپنے علاقے میں ہونے والے جرائم کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
- روپیہ: اس نے چاندی کا سکہ جاری کیا جس کا وزن 178 گرین تھا اور اسے "روپیہ" کا نام دیا گیا۔ یہ سکہ آج بھی کئی ممالک کی کرنسی کی بنیاد ہے۔
شیر شاہ سوری کی ان اصلاحات نے برصغیر میں ایک ایسی مضبوط ریاست کی بنیاد رکھی جس نے نہ صرف عوام کو خوشحالی دی بلکہ آنے والے حکمرانوں کے لیے ایک مکمل انتظامی نصاب بھی فراہم کیا۔

سارنگ خان گکھڑ، پوٹھوہار کے علاقے کا ایک سردار تھا، جس کا تعلق گکھڑ قبیلے سے تھا۔ وہ اپنی شجاعت اور مغل شہنشاہ ہمایوں کے ساتھ وفاداری کی وجہ سے تاریخ میں مشہور ہے۔
سارنگ خان گکھڑ کی زندگی اور شیر شاہ سوری کے ساتھ ان کے ٹکراؤ کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے:
1. مغلوں سے وفاداری
سارنگ خان گکھڑ، ظہیر الدین بابر کے دور سے ہی مغلوں کا حلیف رہا۔ جب شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو شکست دے کر جلاوطن کیا، تو سارنگ خان نے شیر شاہ کی اطاعت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے ہمایوں کو مشکل وقت میں مدد کی پیشکش کی اور سوری سلطنت کے خلاف مزاحمت جاری رکھی۔
2. شیر شاہ سوری کے ساتھ دشمنی
شیر شاہ سوری کو معلوم تھا کہ جب تک پوٹھوہار کے گکھڑ اس کے مخالف ہیں، اس کی سلطنت کا شمال مغربی حصہ (پنجاب) محفوظ نہیں رہے گا۔ شیر شاہ نے سارنگ خان کو پیغام بھیجا کہ وہ مغلوں کا ساتھ چھوڑ دے، جس پر سارنگ خان نے جواب میں تیر اور چوڑیاں بھیجیں، جو اس دور میں جنگ کی دعوت اور مردانگی کے چیلنج کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔
3. قلعہ روہتاس کی تعمیر
سارنگ خان کی گوریلا کارروائیوں اور گکھڑوں کی طاقت کو کچلنے کے لیے شیر شاہ سوری نے جہلم کے قریب عظیم الشان قلعہ روہتاس تعمیر کروایا۔ اس قلعے کا بنیادی مقصد ہی گکھڑوں پر نظر رکھنا اور کابل سے دہلی کے راستے کو محفوظ بنانا تھا۔
4. جنگ اور شہادت
سارنگ خان نے ہیبت خان نیازی (شیر شاہ کے جرنیل) کے خلاف کئی معرکے لڑے۔ 1546ء کے قریب ایک شدید لڑائی کے بعد سارنگ خان کو گرفتار کر لیا گیا۔ تاریخ دانوں کے مطابق، اسے اور اس کے بیٹوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کا مزار آج بھی راولپنڈی کے قریب قلعہ پھروالہ میں موجود ہے، جو گکھڑوں کا قدیم مرکز تھا

09/02/2026

سردار فقیر شمکزئی قلعہ سیف اللہ سے پولیس نے گرفتار کرلیا

جب قلات کے براہیوں کے جد امجد نصیر خان نوری اپنے بھائی کے خلاف احمد شاہ ابدالی کے پاس پناہ لے گئے تھے اس وقت ان کے جد ام...
07/02/2026

جب قلات کے براہیوں کے جد امجد نصیر خان نوری اپنے بھائی کے خلاف احمد شاہ ابدالی کے پاس پناہ لے گئے تھے اس وقت ان کے جد امجد قلات کے حکمران تھے نہ کہ کوئیٹہ کے
احمد شاہ ابدالی نے نصیر خان نوری کو چھ ماہ اس پاداش میں قید میں رکھا کہ قلات پر جو حکمران ہے وہ احمد شاہ ابدالی کے باج گزار تھے اور نصیر خان نوری نے اس کی عدولی کیوں کی
چھ ماہ قید میں رہنے کے بعد احمد شاہ ابدالی نے نصیر خان نوری کے ساتھ اپنا ایک لشکر قلات بھیج کر نصیر خان نوری کو قلات کا حکمران اس شرط پر بنایا کہ وہ احمد شاہ ابدالی کے ساتھ اس بات کا پابند رہے گا کہ وہ جہاں بھی لڑے گا نصیر خان نوری تین ہزار سپاہی گھوڑے ہاتھی اور رقم فراہم کریگا اس معاہدے کے بعد افغان فوج افغانستان چلا گیا کچھ عرصہ بعد احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں کے خلاف پانی پت کی لڑائ کرنے کی تیاری تو نصیر خان نوری کو حکم دیا کہ جنگ کے لیے معاہدے کے مطابق فوجی گھوڑے ہاتھی اور رقم تیار کریں لیکن نصیر خان نوری نے مدد کرنے سے انکار کر دیا جب احمد شاہ ابدالی کو یہ اطلاع پہنچ گیا کہ نصیر خان نوری نے جنگ میں مدد کرنے سے انکار کر دیا تو احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں کے خلاف جنگ کو ملتوی کرکے پہلے نصیر خان نوری سے لڑنے کا فیصلہ کیا احمد شاہ ابدالی نے فوج کو قلات پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کر دیا احمد شاہ ابدالی کی فوج قلات پہنچ کر خان آف قلات نصیر خان نوری کو قلات قلعہ میں چالیس دن تک معاصرہ کرکے قلعہ بند رکھا چالیس دن گزرنے کے بعد قلعہ میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت پیدا ہوئی تو نصیر خان نوری نے تیمور شاہ جوکہ احمد شاہ ابدالی کے بیٹے تھے اور قلات پر حملہ اور افغان فوج کے کمانڈر تھے کو اطلاع دی کہ وہ آپ سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں تب احمد شاہ ابدالی کے بیٹے تیمور شاہ اور نصیر خان نوری کے درمیان مذاکرات ہوئے مذاکرات میں ان تمام شرائط جو احمد شاہ ابدالی نے نصیر خان نوری کو قلات کی حکمرانی دیتے ہوئے طے کیے تھے کی تجدید ہوئی اور ساتھ ہی نصیر خان نوری کو حکم عدولی پر ان کی ایک بیٹی جرمانے میں تیمور شاہ کی نکاح میں دے دی گئ اس کے بعد جب احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں کے خلاف پانی پت کی جنگ لڑی تو طے شدہ معاہدے کے مطابق نصیر خان نوری اپنے فوجی سپاہیوں گھوڑوں اور ہاتھیوں کے ساتھ احمد شاہ ابدالی کے شانہ بشانہ شریک ہوئے
جہاں تک جلوگیر کی بات ہے، جلوگیر پر احمد شاہ ابدالی نے قلات کے جد امجد کو ٹیکس جمع کرنے کے لیے بحیثیت منشی رکھا تھا اور یہ ٹیکس قلات کو نہیں احمد شاہ ابدالی کو کندہار میں جمع ہوتاتھا اور بعد میں احمد شاہ ابدالی نے اس باج گزار کو فارغ بھی کیا تھا

یہ بزرگ اس وقت اپنے ہی باپ کی شہادت سے بیزار رہا، اور مشرف کے بدترین مظالم پر بھی خاموشی اختیار کیے رکھی۔ جو شخص اُس وقت...
06/02/2026

یہ بزرگ اس وقت اپنے ہی باپ کی شہادت سے بیزار رہا، اور مشرف کے بدترین مظالم پر بھی خاموشی اختیار کیے رکھی۔ جو شخص اُس وقت سچ بولنے کی جرأت نہ کر سکا، وہ آج بھی سچ کہنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔
محترم مشر محمود خان اچکزئی نے اُس دورِ آمریت میں بھی قومی اسمبلی کے فلور پر ڈکٹیٹر مشرف کو للکارا شہید نواب اکبر خان بگٹی کے لیے آواز بلند کی اور ظالم کو کھلے لفظوں میں ظالم کہا اور شہید بگٹی کے لیۓ انصاف مانگنے کا مطالبہ ریکارڈ کروایا.

بلوچ بھائیوں تمہیں یاد ہیں کہ نہیں ؟ یہ بزرگ اس وقت اپنے ہی باپ کی شہادت سے بیزار رہا، اور مشرف کے بدترین مظالم پر بھی خاموشی اختیار کی. جب نواب اکبر خان بگٹی کو شهید کیا جارہا تها اور بعد میں جنرل پرویز مشرف نے شہید بهی کیا تو اس وقت، اور بلوچ سیاستدانوں کو تو چهوڑ، یہاں تک کہ نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت سے ان کا یہ بزرگ بیٹا جمیل اکبر بیٹا بگٹی بیزار ہوکر چهپتا رہا ، اور مشرف کے مظلوم اور بےقصور بگٹی قوم اور بگٹیوں کے خلاف انسانیت سوز اور بدترین مظالم پر بھی خاموشی اختیار کیے رکھی اور ان کی ضمیر اتنی مرده ہوچکی تهی کہ وه ان انسانیت سوز مظالم پر چهپ کا روزه رکها تها. جو شخص اپنے بهائ اور اپنے قوم کے نوجوانوں، بچوں، عورتوں کے اوبر ظلم ہوتے دیکھ کر سچ بولنے کی جرأت نہ کر سکا اور الله تعالی نے اس میں یہ صلاحیت ناپید کردی ہو وہ کبهی بھی سچ کہنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔
لیکن دوسری یہی واحد بزرگ اور پشتونخوا ملی عوامی پارټی کے قهرمان چئیرمین ملی مشر محترم محمود خان اچکزئی تهے.جنہوں نے اُس دورِ آمریت میں بھی قومی اسمبلی کے فلور پر ڈکٹیٹر مشرف کو للکارا شہید نواب اکبر بگٹی کے لیے ہمیشہ کی طرح ببانگ دہل اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور ظالم کو واشگاف لفظوں میں علی الاعلان ظالم کو ظالم کہا اور شہید نواب معمد اکبر خان بگٹی کے لیۓ اواز اٹهائ اور اس وقت کے ڈکٹیٹر کو براه راست مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا تها کہ شہید نواب معمد اکبر خان بگٹی کو ناحق شهید کرکے ان کیلئے انصاف مانگ کر کا اپنے بیان کو قومی اسمبلی کا ریکارڈ کا ایک اہم حصہ بنایا.

30/01/2026
بلوچستان کا بجٹ ایک ہزار ارب روپے، 800 ارب ڈھائی لاکھ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں چلا جاتا ہے، 1.3 کروڑ عوام کے حصے...
22/01/2026

بلوچستان کا بجٹ ایک ہزار ارب روپے، 800 ارب ڈھائی لاکھ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں چلا جاتا ہے، 1.3 کروڑ عوام کے حصے 200 ارب آتا ہے، سرفراز بگٹی

Address

Quetta

Telephone

+923369386208

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hewad News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share