02/10/2024
یہ نمونے کیا جانیں کہ ایک ریاست کا کسی دوسری ریاست پر حملہ، چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو، کس قدر اہمیت رکھتا ہے اور اس کے کیا نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔ بھارت کا ایک مے زائیل غلطی سے پاکستان میں غیر آباد جگہ پر آ گرا تھا اور پاکستان نے کتنا ہنگامہ برپا کیا تھا۔ معافی طلب کرنے کے بعد بھارت کی گلو خلاصی ہوئی تھی۔
ایرانی حملے میں درج ذیل باتیں پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے زیادہ نقصانات کی تفصیلات نہیں آتی ہیں؛
ا) ایران شہری آبادیوں کو ہدف نہیں بناتا۔
ب) یہ حملے اپنی توانائی کے اظہار کے لئے ہوتے ہیں کہ ہم تم تک بآسانی پہنچ سکتے ہیں۔
ج) اگر کوئی نقصان ہو گا تو صےہونی حکومت کبھی اس کا اعتراف نہیں کرے گی کیونکہ یہ بھی ایک حکمت عملی ہے۔
بالفرض یہ حملے علامتی بھی ہوں تو سوال اٹھتا ہے کہ دوسرے سنّی ممالک یہ علامتی حملے بھی کیوں نہیں کرتے؟ اگر ترکی نے اس طرح حملہ کیا ہوتا تو آپ کا کیا ردّعمل ہوتا؟ یقیناً آپ خلیفہ اردگان کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فرقہ وارانہ اختلافات بھلا کر ایک ہو جائیں۔ جنگ ہوتے دیر نہیں لگتی، کب اس طرح کی جھڑپیں جنگوں کا روپ دھار لے پتہ نہیں چلتا۔ اِس زمانے میں جنگیں آسان بھی نہیں ہوتی ہیں، طرفین ایک دوسرے کی نفسیات کا امتحان لے رہے ہوتے ہیں تاکہ دوسرا غلطی کرے تو اس کو موقع مل جائے۔ اسی لئے بہت سنبھل کر عمل کرنا پڑتا ہے۔ عصرائیل کے لئے لبنان میں گھس کر غیر ریاستی عناصر کے خلاف حملہ کرنا آسان ہے، یہ کام ایران نے عراق میں آمریکی و عصرائیلی اہداف پر حملہ کر کے بھی کیا ہے۔ لیکن ایک ریاست کا دوسری ریاست پر باضابطہ حملہ بہت بڑی بات ہوتی ہے۔ دنیا میں اس کی اپنی اہمیت ہے، بس یہ بات میاں چنوں میں بیٹھے عبدالقدّوس اور لاڑکانہ کے عبدالغفور کو سمجھ نہیں آتی۔
یہی ایران ہے جو لبنان و فلسطین میں ان تنظیموں کی سرپرستی کرتی آئی ہے جو براہ راست صےہونیت کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں۔ یہی اس بات کے لئے کافی ہے کہ عملی طور پر اس وقت ایران ہی ہے۔ باقی مصر اور اُردن جیسے سنّی ممالک تو بے غیرتی کی معراج پر کھڑے ہیں جو خود تو کچھ نہیں کرتے لیکن جو مے زائیل ان کی فضائی حدود سے گزریں ان کو تباہ کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف شریعت کا ٹھیکیدار افغانستان ہے جس کو اس شرط پر افغان حکومت ملی ہے کہ اس کی سرزمین کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی تو لامحالہ وہ کچھ نہیں کرے گی۔
ایران کا قُصور صرف یہ ہے کہ وہ شیعہ اکثریتی ملک ہے، اِس لئے اُس کا ہر عمل فرقہ واریت کی نذر ہو جاتا ہے۔