26/08/2025
*🕋 سرکاری حج اسکیم 2026 – سہولت اور سعادت کا امتزاج*
فاریہ عنبرین (راولپنڈی)
یوں تو ہر مسلمان کی زندگی کا سب سے بڑا خواب یہ ہے کہ ایک دن وہ اپنے رب کے در پر حاضر ہو، خانۂ کعبہ کا طواف کرے اور روضۂ رسول ﷺ پر عاجزی و محبت کے ساتھ سلام عرض کرے۔ جب حج کے موسم کی آمد کی خبریں گلی کوچوں میں پھیلتی ہیں تو دلوں میں ایک ہی تمنا جاگ اٹھتی ہے:
“کاش اس سال ہمیں بھی لبیک اللہم لبیک کی پکار کے ساتھ قافلے میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہو۔”
لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ سرکاری اسکیم کے تحت عازمین کو کیا سہولتیں میسر ہوں گی؟ حکومت ہر برس اپنی کوششوں اور استعداد کے مطابق اس سفر کو آسان بنانے کے لئے نئی سہولتیں شامل کرتی ہے۔ 2026ء کی جھلک بھی کچھ ایسی ہی نوید دیتی ہے کہ اس سال کا سفر زیادہ سہولت، زیادہ نظم اور زیادہ قربِ الٰہی کے احساس کے ساتھ طے ہوگا۔
*💰 اخراجات اور پیکجز*
یہ سفر کسی قیمت کا محتاج نہیں، کیونکہ اصل قیمت تو اللہ کے بلاوے کی ہے۔ لیکن دنیاوی اعتبار سے متوقع طور پر سرکاری اسکیم کے لانگ اور شارٹ دونوں پیکجز ہوں گے، جن کی لاگت گیارہ لاکھ پچاس ہزار سے بارہ لاکھ پچاس ہزار روپے کے درمیان رکھی جا رہی ہے۔ خوش آئند پہلو یہ ہے کہ یہ رقم قسطوں میں بھی ادا کی جا سکے گی۔ ڈبل اور ٹرپل بیڈ کی سہولت بھی اضافی رقم کے ساتھ دستیاب ہوگی۔
*✈️ سفر اور ویزہ*
یہ سفر فضاؤں سے شروع ہوگا۔ ہر حاجی کو اکانومی کلاس کے ریٹرن ٹکٹ فراہم کیے جائیں گے۔ ویزہ کا اجرا اب جدید برقی نظام سے منسلک ہے اور بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار دی گئی ہے۔ روانگی سے قبل ویکسین بھی لازمی جزو ہوں گی تاکہ حاجی صحت مند اور محفوظ سفر کر سکے۔ یوں جب طیارہ اڑان بھرے گا تو ہر دل صرف ایک ہی صدا دے گا:
لبیک اللہم لبیک!
*📖 تربیت اور رہنمائی*
یہ سفر صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی تربیت کا بھی متقاضی ہے۔ وزارتِ مذہبی امور نے ضلع اور تحصیل کی سطح پر تربیتی کلاسوں کا انتظام کیا ہے۔ حاجی کیمپوں میں اجتماعات ہوں گے اور Pak Hajj App ہمہ وقت رہنمائی کرے گی۔ عازمین کو کتب، ویڈیوز اور لیکچرز کے ذریعے یہ شعور دیا جائے گا کہ لبیک کی وادی میں کیسے قدم رکھنا ہے، کس یقین اور کس خشوع کے ساتھ مناسکِ حج ادا کرنے ہیں۔
*“لبیک کے یہ سفر صرف کعبہ کی دیواروں تک نہیں، بلکہ دل کے ہر کونے کو اللہ کی یاد سے روشن کرنے کا نام ہے۔”*
*🏨 رہائش کا انتظام*
مکہ مکرمہ میں عزیزیہ اور بطحہ قریش اور النسیم کے علاقے منتخب کیے جاتے ہیں۔ کمرے اٹیچ باتھ، اے سی، وائی فائی اور دیگر سہولتوں سے آراستہ ہوں گے۔ اگرچہ حرم شریف سے فاصلہ 7 تا 9 کلومیٹر ہوگا مگر 24 گھنٹے بسیں حاجیوں کو حرم تک لے جائیں گی۔
مدینہ منورہ میں رہائش کا شرف اور بھی بڑھ جائے گا کیونکہ ہوٹل حرمِ نبوی ﷺ سے چند قدموں کے فاصلے پر واقع ہوں گے۔ وہاں کے قیام کا ہر لمحہ درود و سلام کی خوشبو میں ڈوبا ہوگا۔
*🏕️ مشاعرِ مقدسہ*
منیٰ میں ڈی کیٹیگری کے خیمے، عرفات میں اے سی خیمے اور مزدلفہ کی رات کھلے آسمان تلے بسر ہوگی۔ یہ سب کچھ حاجی کے صبر اور قربانی کی یاد دلاتا ہے۔ اس بار مکتبِ معلم کی جانب سے کھانے پینے کی بنیادی اشیاء فراہم کرنے کی نوید بھی ہے تاکہ حاجی مزدلفہ کی سخت رات میں آسانی محسوس کریں۔
لیکن اصل راحت تو اس وقت ہوگی جب لاکھوں زبانیں ایک ساتھ پکاریں گی:
ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآخرۃ حسنۃ و قنا عذاب النار۔
*“حج کی اصل سہولت نہ خیمے ہیں نہ ہوٹل، اصل سہولت وہ سکون ہے جو لبیک کی صدا کے ساتھ دل کو ملتا ہے۔”*
*🍲 کھانے کا نظام*
مکہ و مدینہ میں تین وقت کا کھانا، منیٰ میں پیکڈ کھانے اور عرفات میں ایک وقت کا کھانا دیا جائے گا۔ مگر اصل ضیافت وہ ہوگی جو ذکر و دعا کے ذائقے سے دل کو ملے گی۔
*🏥 طبی سہولتیں*
ہر سیکٹر میں ڈسپنسریاں، بڑے ہسپتال، ڈاکٹرز اور مفت ادویات دستیاب ہوں گی۔ موبائل ایپ، ہیلپ لائن اور معاونین ہمہ وقت خدمت میں موجود ہوں گے۔ قربانی کا انتظام بھی سرکاری طور پر کیا جائے گا اور حاجیوں کو ٹریکنگ نمبر فراہم کیا جائے گا۔
*🚫 زیارات کا معاملہ*
یہ بات ذہن میں رہے کہ زیارات اس پیکیج کا حصہ نہیں ہوں گی۔ مگر عشق و محبت رکھنے والا حاجی جب مدینہ پہنچتا ہے تو اس کا دل خود ہی اُحد، بدر اور جنت البقیع کی طرف کھنچ جاتا ہے۔ زیارت کا شوق اور محبت کا جذبہ اپنی راہیں خود بنا لیتا ہے۔
*“مدینہ کی گلیوں میں چلنے والا حاجی صرف راہگیر نہیں رہتا، وہ عاشق بن جاتا ہے، اور ہر قدم درود و سلام کی خوشبو میں ڈھل جاتا ہے۔”*
*دعا کے چند بول*
یہ سب منظرنامہ ابھی ایک تجزیہ ہے، حتمی اعلان حکومت کرے گی۔ مگر یہ امید قائم ہے کہ انتظامیہ ہر سال کی طرح اس بار بھی سہولت اور خدمت کا تسلسل برقرار رکھے گی۔
اور آخر میں ہر حاجی کی زبان پر یہی دعا ہوگی:
> اے اللہ! اپنے گھر کے ہر متلاشی کو بلا لے،
ان کے راستے آسان فرما دے،
ان کے دلوں کو تیری یاد سے روشن کر دے،
اور انہیں حجِ مبرور کی سعادت سے نواز دے۔
منقول