Al_MADINA Graphic Designing

Al_MADINA Graphic Designing Welcome to Al_MADINA Graphic Designing and editing. I'm a graphic designer

06/03/2025

Contact Us for Buy our services.....
اگر کوئی بھی اپنی کمپنی یا اپنے سوشل میڈیا چینلز کے لیے animation logo بنوانا چاہتا ہے تو رابطہ کریں

By Al-Madina G&E
25/09/2022

By Al-Madina G&E

2 new Logos for Different companiesBy Al-Madina G&E
25/09/2022

2 new Logos for Different companies
By Al-Madina G&E

Logo for Noman MirzaBye Al-Madina G&E
25/09/2022

Logo for Noman Mirza
Bye Al-Madina G&E

Monogram Logo designFor Farhan MirzaBy Al-Madina G&E
25/09/2022

Monogram Logo design
For Farhan Mirza
By Al-Madina G&E

ہمارے پیارے آقا و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند بڑے ثناء خوانوں میں ایک منفرد اور ممتاز نام ج...
30/03/2022

ہمارے پیارے آقا و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند بڑے ثناء خوانوں میں ایک منفرد اور ممتاز نام جناب امام شرف الدین ابو عبداللہ محمد بن سعید بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کا آتا ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ 7 مارچ 1213ء کو مصر میں پیدا ہوئے لیکن ’’بوصیر‘‘ میں سکونت اختیار کرنے کی وجہ سے بوصیری کے لقب سے مشہور ہوئے۔ آپ نے 13 برس کی عمر میں حفظ قرآن کی تکمیل کرلی تھی، بعد ازاں دیگر متداول اسلامی علوم کی تحصیل کرکے تھوڑے ہی عرصہ میں مجالسِ علم و فن میں کافی شہرت پائی تھی۔

آپ کا مجموعہ کلام ’’دیوان بوصیری‘‘ کے نام سے کئی مرتبہ مصر میں زیور طباعت سے آراستہ ہوچکا ہے۔ آپ کے مجموعہ کلام میں جن تلمیحات و اصطلاحات کا ذکر ملتا ہے ان سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ کو علم حدیث، سند، مغازی اور علم کلام جیسے بلند پایاں علوم فنون پر پوری دسترس حاصل تھی جبکہ ان کا علم بیان، بدیع اور نحو کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔ ان کے دیوان کے انگریزی، فرانسیسی، اطالوی، ہسپانوی اور ترکی ترجمے ہوچکے ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے اہل علم آپ کے شاعرانہ کمالات اور ادبی مہارت کے معترف دکھائی دیتے ہیں۔ اس بڑی فہرست میں عالم الدھر امام جلال الدین سیوطی، ابن العمار حنبلی، ابن شاکر کتبی کے علاوہ مستشرقین کے نکلسن اور آربری بھی آپ کے مداح ہیں۔
امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت میں کئی قصائد مرتب کئے ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک شمائل و محامد کو واضح کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کے مشہور مدحیہ قصائد میں ایک ’’قصیدہ بردہ شریف‘‘ ہے جس کی مثال عربی زبان میں لکھے جانے والے قصائد میں ناپید ہے۔

اسی قصیدے میں امام بوصیری نے مذکورہ مسئلے کے حوالے سے ان کے نظریہ کو باطل قرار دیتے ہوئے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت کو نصاریٰ کی مدحت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم سے منزہ و مبرا ثابت کیا۔ چنانچہ قصیدہ بردہ میں امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

دَعْ مَا پادَّعَتْهُ النَّصَارٰی فِيْ نَبِيِّهِم
وَاحْکُمْ بِمَا شِئْتَ مَدْحًا فِيْهِ وَاحْتَکِم

’’جو کچھ نصاریٰ نے اپنے پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ادعا کیا (یعنی انہیں خدا کا بیٹا کہا) اس کو چھوڑ دے باقی جو تیرا جی چاہے بحالت مدح حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی فضیلتوں کو بیان کر اور اچھی طرح بیان کر‘‘۔

فَإِنَّ فَضْلَ رَسُوْلِ اﷲِ لَيْسَ لَهُ
حَدٌّ فَيُعْرِبَ عَنْهُ نَاطِقٌ بِفَم

’’کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بزرگی کی کوئی حد و نہایت نہیں ہے جس کو بولنے والا بیان کرسکے‘‘۔

امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ دوسرے مقام پر فرماتے ہیں :

يَاحَبِيْبًا وَشَفِيْعًا مَطَاعًا
حَسْبُنَا اَنَّه اِلَيْکَ الْاِ يَابَا

’’اے حبیب و شفیع قابل اتباع ذات گرامی! آپ کی بارگاہ اقدس میں حاضری ہی ہمارے لئے کافی ہے‘‘۔

لَمْ نَقُلْ فِيْکَ مَقَالَ النَّصَارٰی
اِذْ اَضَلُّوْا فِيْ الْمَسِيْحِ الصَّوَابَا

’’ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے نصاریٰ جیسی باتیں نہیں کریں گے کیونکہ وہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے متعلق راہ صواب سے بھٹک گئے تھے‘‘۔

اِنَّمَا اَنْتَ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ
اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْکَ الْکِتَابَ

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو واضح ڈر سنانے والے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پروردگار نے قرآن حکیم نازل فرمایا‘‘۔

گویا امام بوصیری نے اس مدحت سے ڈرایا جو عیسائی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی کیا کرتے تھے وہ کہتے تھے۔

اِنَّه اِبْن اللّٰهِ اَوْثَالِثُ ثَلَاثَةٍ.

’’یعنی آپ تو اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں یا پھر وہ لوگ تثلیث کا عقیدہ رکھتے تھے کہ تین خداؤں میں ایک خدا عیسیٰ بن مریم ہیں‘‘۔ (معاذاللہ)

لیکن اس کے ساتھ ساتھ امام بوصیری نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دائرہ بشریت سے خارج نہیں کیا اور ثابت بھی کر دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام مخلوق سے افضل ہیں۔

فَمَبْلَغُ الْعِلْمِ فِيهِ أَنَّهُ بَشَرٌ
وَ أَنَّهُ خَيْرُ خَلْقِ اﷲِ کُلِّهِم

’’پس ہمارے علم کا منتہیٰ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقت کی نسبت صرف یہی کافی ہے کہ آپ انسان ہیں اور تمام مخلوقات سے افضل ہیں‘‘۔

ایک اور جگہ پر اس موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں :

فَاقَ النَّبِيِّيْنَ فِيْ خَلْقٍ وَّ فِيْ خُلُقٍ
وَلَمْ يُدَانُوْهُ فِيْ عِلْمٍ وَّلَا کَرَم

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسن صورت اور حسن سیرت میں سب پیغمبروں پر سبقت لے گئے اور کوئی پیغمبر بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رتبہ معرفت اور سخاوت تک نہیں پہنچا‘‘۔

کسی شاعر نے صنعت ملمّع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف و توصیف کا حق ادا کردیا ہے :

يَاصَاحِبَ الْجَمَالِ وَيَا سَیِّدَ الْبَشَرِ
مِنْ وَّجْهِکَ الْمُنِيْرِ لَقَدْ نُوِّرَ الْقَمَرُ

’’اے خوبصورتی کے پیکر اور تمام مخلوق کے سردار! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور سے ہی چاند نے اپنی چاندنی حاصل کی ہے‘‘۔

لَايُمْکِنْ الثَّنَاءُ کَمَا کَانَ حَقُّه
بعد از خدا بزرگ توئی قصه مختصر

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری مدحت و ثناء کا حق ادا کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ اسی مسئلے کو مختصر کرتے ہوئے کہا جائے آپ تو اللہ بزرگ و برتر کے بعد عظیم ہستی ہیں‘‘۔

جبکہ ثناء خوان بارگاہ نبوی حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اس سے پہلے حقیقت بیان کرچکے ہیں۔

وَاَحْسَنُ مِنْکَ لَمْ تَرَقَطُّ عَيْنِيْ
وَاَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ

’’آپ سے زیادہ حسین بندہ میری آنکھوں نے کبھی آج تک نہیں دیکھا ہے اور آپ سے زیادہ خوبصورت آج تک کسی ماں نے جنا ہی نہیں ہے‘‘۔

خُلِقْتَ مُبَرَّاً مِّنْ کُلِّ عَيْبٍ
کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَاءُ

’’آپ تمام عیوب و نقائص سے پاک پیدا ہوئے ہیں گویا آپ کی جیسی خواہش تھی اسی طرح آپ مولود ہوئے‘‘۔

اسی طرح امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

مُحَمَّدٌ سَيِّدُ الْکَوْنَيْنِ وَ الثَّقَلَيْنِ
وَ الْفَرِيْقَيْنِ مِنْ عُرْبٍ وَّ مِنْ عَجَم

’’اوصافِ مذکورہ بالا کے مصداق جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں جو دین اور دنیا، جن و بشر اور دونوں فریق عرب و عجم کے سردار ہیں‘‘۔

اپنے عقیدے کی مزید وضاحت یوں فرماتے ہیں :

هُوَ الْحَبِيْبُ الَّذِيْ تُرْجٰی شَفَاعَتُهُ
لِکُلِّ هَوْلٍ مِّنَ الْاَهْوَالِ مُقْتَحِمِ

’’آپ خدائے تعالیٰ کے وہ محبوب ہیں کہ مصیبتوں میں ہر ایک سخت مصیبت میں آپ کی شفاعت کی توقع کی جاتی ہے‘‘۔

يَا أَکْرَمَ الْخَلْقِ مَالِی مَنْ أَلُوذُ بِه
سِوَاکَ عِندَ حُلُولِ الْحَادِثِ الْعَمِم

’’اے اشرف المخلوقات! سوائے آپ کے بوقت نزول حادثات عامہ کوئی ایسا نہیں ہے جس کے پاس جاکر میں پناہ لوں‘‘۔

کیونکہ

فَإنَّ مِنْ جُودِکَ الدُّنْيَا وَ ضَرَّتَهَا
وَ مِنْ عُلُومِکَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالْقَلَم

’’آپ ہی کی بخشش سے دنیا اور اس سوت (آخرت) معرض وجود میں آئیں یارسول اللہ! اور لوح و قلم کا علم آپ کے علم کا ایک جزو ہے‘‘۔

وَ مُنْذُ أَلْذَمْتُ أَفْکَارِيْ مَدَائِحَه
وَ جَدْتُهُ لِخَلَاصِی خَيْرَ مُلْتَزِم

’’میں نے جب سے اپنے افکار کو حضور علیہ السلام کی نعمت کے لئے لازم یا وقف کردیا ہے تب سے میں نے حضور علیہ السلام کو اپنی نجات کا بہترین معاون پایا‘‘۔

آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات تو ایسی ہے :

حاَشَاهُ أَنْ يَحْرِمَ الرَّاجِی مَکَارِمَه
أَوْ يَرْجِعَ الْجَارُ مِنْهُ غَيْرَ مُحْتَرَم

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس سے یہ بعید ہے کہ آپ کے الطاف و کرم امیدوار کو محروم کریں یا آپ کے الطاف سے وہ محروم کیا جائے اور آپ کی پناہ گزیں آپ کی درگاہ سے بلااحترام واپس ہو‘‘۔

اسی طرح باقی قصیدہ کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو رقم کیا۔ یہ محنت اور خلوص ومحبت کا ہی نتیجہ ہے کہ کوئی قصیدہ اس جیسا ہو۔ یقیناً اس کی نظیر نہ ماضی میں تھی اور نہ مستقبل میں ممکن ہے۔ لاتعداد قصائد بعد میں اس کی طرز اور اسلوب پر لکھے گئے جن کی طویل فہرست مرتب کی جاسکتی ہے لیکن کوئی بھی قصیدہ بردہ کے مقام کو ذرہ برابر بھی نہ چھو سکا حتی کہ امیرالشعراء احمد شوقی یہ کہنے پر مجبور ہوگیا جب وہ اپنا مشہور مدحیہ قصیدہ ’’ولد الھدٰی‘‘ رقم کررہا تھا۔

اَلْمَارِحُوْنَ وَاَرْبَابُ الْهَوٰی تَبَعٌ
لِصَاحِبِ الْبَرْدَةِ وَالْضَيْحَاءِ ذِيْ الْقِدَمِ

’’جملہ ثناء خوان مصطفیٰ اور اہل محبت عظیم قصیدہ بردہ کے ناظم کی اتباع کرتے ہیں جس کی اولیت قطعی ہے‘‘۔

مَدِيْحُه فِيْکَ حُبٌّ خَالِصٌ وَهَوًی
وَصَادِقُ الْحُبِّ عَلٰی صَادِقِ الْکَلِمِ

’’بوصیری کی نعت سرکار علیہ الصلوۃ والسلام سے سراپا محبت اور نیاز ہے محبت میں سچے انسان کے سچے کلمات ہیں‘‘۔

هَذَا مَقَامٌ مِنَ الرَّحْمٰنِ مُقْتَبِسٌ
تَرٰی مَهًابَتَه سُحْبَانُ بِالْبُکُمْ

’’یہ عظیم مقام و مرتبہ یقیناً اللہ کی مہربان ذات کا عطا کردہ ہے۔ جس کی ہیبت کا اندازہ ایک گونگا بھی بخوبی لگاسکتا ہے‘‘۔

از قلم:
سگ عطار
مولانا ذیشان اشتیاق عطاری قادری

Address

Rawalpindi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al_MADINA Graphic Designing posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al_MADINA Graphic Designing:

Share