Products in demand

Products in demand Elevate your home & kitchen with top-quality products in the USA. Exclusive deals await! Join us now!
(2)

مذاکرات پھر ناکام، سیاسی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے مذاکرات ...
04/10/2026

مذاکرات پھر ناکام، سیاسی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کا دوسرا دور بھی کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگیا۔ یوں ایک طرف مذاکرات کی میز موجود ہے، جبکہ دوسری طرف احتجاج اور سیاسی تصادم کا راستہ بھی کھلا ہوا ہے۔

اصل اختلاف صرف ایک احتجاجی مارچ کا نہیں رہا۔

مذاکرات میں عمران خان سے ملاقات، ان کے ذاتی معالجین تک رسائی اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے جیسے معاملات زیرِ بحث آئے، لیکن فریقین کسی حتمی سمجھوتے تک نہیں پہنچ سکے۔ PTI نے بھی واضح کیا ہے کہ 4 اکتوبر کا مارچ اپنی جگہ برقرار ہے۔

دوسری طرف خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مارچ کا تفصیلی روٹ بھی جاری کردیا ہے، جس میں جنوبی اضلاع سے قافلے کے آغاز، کرک، کوہاٹ، پشاور، چارسدہ اور خیرآباد تک مرحلہ وار پیش قدمی شامل ہے۔

یہ صورتحال ایک اہم سوال پیدا کرتی ہے:

کیا پاکستان کے سیاسی مسائل کا حل سڑکوں پر نکلے گا یا مذاکرات کی میز پر؟

جمہوریت میں احتجاج بھی حق ہے اور اختلافِ رائے بھی، لیکن ریاستی اداروں، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کسی بھی صورت میں عام شہری کے مفاد میں نہیں۔

پاکستان پہلے ہی دہشت گردی، معاشی دباؤ اور سیاسی بے یقینی جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے سب سے بڑی سیاسی کامیابی ایک دوسرے کو شکست دینا نہیں بلکہ ایسا راستہ نکالنا ہے جس سے سیاسی اختلاف تصادم میں تبدیل نہ ہو۔

مذاکرات کا دروازہ ابھی بند نہیں ہوا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دونوں فریق اپنی اپنی سیاسی پوزیشن سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر ملک کو ایک قدم آگے لے جانے کے لیے تیار ہیں؟

Punjabi Virsa Pulse —
پاکستان کے سیاسی معاملات پر ایک مختلف نظر۔

19/09/2026

جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے۔۔۔ لیکن اتر پردیش کے لونڈوں کو کون سمجھائے۔!

کیا نہرو–لیاقت معاہدے میں واقعی یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ بھارت میں چھوڑی گئی ہر ایکڑ زمین کے بدلے پاکستان میں اتنی ہی زمین دی جائے گی؟

شبر زیدی کے بیان کا نہرو–لیاقت معاہدے (1950) کے اصل متن سے موازنہ کریں تو اس دعوے کی تائید نہیں ہوتی۔ معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک میں اقلیتوں کے جان و مال، جائیداد، مذہبی آزادی اور شہری حقوق کا تحفظ تھا، نہ کہ بھارت میں چھوڑی گئی زمین کے عوض پاکستان میں مساوی رقبہ فراہم کرنا۔

تاریخ کے حساس معاملات میں دعووں کے بجائے اصل تاریخی دستاویزات اور قابلِ تصدیق شواہد کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔
انجینیئر منہاس انجم جٹ۔

لگتا ہے پٹرول نے قسم کھا رکھی ہے کہ نہ رکوں گا… نہ جھکوں گا! 🤣اب تو نام بھی بدل دینا چاہیے—پٹرول نہیں، پشپا! 😂
18/09/2026

لگتا ہے پٹرول نے قسم کھا رکھی ہے کہ نہ رکوں گا… نہ جھکوں گا! 🤣
اب تو نام بھی بدل دینا چاہیے—پٹرول نہیں، پشپا! 😂

16/09/2026

اگر شناختی کارڈ دیکھ کر پنجابیوں کو قتل کیا جا رہا ہے تو اس مسئلے پر بات کرنا صوبائیت نہیں، اپنے شہریوں کے حقِ زندگی کا دفاع ہے۔

حامد میر صاحب کہتے ہیں کہ اگر بلوچستان، سندھ یا خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ ایسا بیان دیتا تو اس کی زندگی عذاب ہو جاتی۔

حامد میر صاحب! ذرا زمینی حقیقت کا فرق بھی دیکھ لیجیے۔

کیا بلوچستان، سندھ یا خیبر پختونخوا کے لوگ پنجاب میں آ کر کاروبار نہیں کر رہے؟
کیا وہ پنجاب میں ملازمتیں نہیں کر رہے؟
کیا وہ یہاں بلاخوف و خطر رہ نہیں رہے؟

پنجاب میں ایسا کوئی سلسلہ سامنے نہیں آتا کہ کسی شخص کا شناختی کارڈ دیکھ کر اسے صرف دوسرے صوبے سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر قتل کیا گیا ہو۔

لیکن دوسری طرف پنجاب کے لوگوں کو دوسرے صوبوں میں شناختی کارڈ دیکھ کر نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ تو پھر پنجاب کی وزیراعلیٰ اگر اپنے صوبے کے شہریوں کو درپیش اس خطرے کی نشاندہی کرتی ہیں تو اس پر اتنا شور کیوں؟

آپ پنجاب کا شناختی کارڈ لے کر بلوچستان جائیں، وہاں کاروبار شروع کریں اور ثابت کریں کہ کوئی خطرہ نہیں۔

بیانیہ بنانے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔

حامد میر کا بلڈ گروپ “-P (پی نیگٹو) پنجاب نیگٹو/ پاکستان نیگٹو” ہے۔پنجاب کی تقسیم اور نئے صوبوں کی بحث کے تناظر میں حامد...
16/09/2026

حامد میر کا بلڈ گروپ “-P (پی نیگٹو) پنجاب نیگٹو/ پاکستان نیگٹو” ہے۔
پنجاب کی تقسیم اور نئے صوبوں کی بحث کے تناظر میں حامد میر کا مؤقف کیا ان کی مسلسل حمایت پنجاب مخالف بیانیے کو تقویت نہیں دے رہا؟

15/09/2026

صحافت کریں، سیاست نہ کریں۔

نئے صوبوں اور پنجاب کی تقسیم کے معاملے پر آپ کی مسلسل دلچسپی کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ کیا ایک صحافی کو کسی مخصوص سیاسی ایجنڈے کی وکالت کرنی چاہیے، یا صحافت کا اصل کام سوال اٹھانا اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا ہے؟

پنجاب کو توڑنے کی خواہش رکھنے والے یہ ذہن نشین کر لیں کہ پنجاب اپنی شناخت اور وحدت کے ساتھ قائم رہے گا۔ بغضِ پنجاب کی بن...
14/09/2026

پنجاب کو توڑنے کی خواہش رکھنے والے یہ ذہن نشین کر لیں کہ پنجاب اپنی شناخت اور وحدت کے ساتھ قائم رہے گا۔ بغضِ پنجاب کی بنیاد پر کھڑی سیاست وقت کے ساتھ خود بکھر جائے گی۔

13/09/2026

ممدانی اور صادق خان پیدا کرنے کے لیے پہلے نظام بدلنا ہوگا، صرف نظام کا نقشہ نہیں۔

جس سیاسی نظام کی ایک نمایاں علامت خود محسن نقوی ہوں، وہ نظام زُہران ممدانی ( Zohran Mamdani )اور صادق خان ( Sadiq Khan )جیسے سیاسی کردار کیسے پیدا کرے گا؟

نئے صوبے یا انتظامی یونٹ نقشہ بدل سکتے ہیں، سیاسی کلچر نہیں۔

اگر نظام وہی رہے، اختیار وہی طبقہ استعمال کرے، احتساب وہی کمزور ہو اور عوام کا کردار صرف ووٹ ڈالنے تک محدود رہے تو:

نیا صوبہ بنے گا، نیا پاکستان نہیں۔

Address

Wah Cantt
Rawalpindi
47010

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Products in demand posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Products in demand:

Shortcuts

Share