04/10/2026
مذاکرات پھر ناکام، سیاسی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کا دوسرا دور بھی کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگیا۔ یوں ایک طرف مذاکرات کی میز موجود ہے، جبکہ دوسری طرف احتجاج اور سیاسی تصادم کا راستہ بھی کھلا ہوا ہے۔
اصل اختلاف صرف ایک احتجاجی مارچ کا نہیں رہا۔
مذاکرات میں عمران خان سے ملاقات، ان کے ذاتی معالجین تک رسائی اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے جیسے معاملات زیرِ بحث آئے، لیکن فریقین کسی حتمی سمجھوتے تک نہیں پہنچ سکے۔ PTI نے بھی واضح کیا ہے کہ 4 اکتوبر کا مارچ اپنی جگہ برقرار ہے۔
دوسری طرف خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مارچ کا تفصیلی روٹ بھی جاری کردیا ہے، جس میں جنوبی اضلاع سے قافلے کے آغاز، کرک، کوہاٹ، پشاور، چارسدہ اور خیرآباد تک مرحلہ وار پیش قدمی شامل ہے۔
یہ صورتحال ایک اہم سوال پیدا کرتی ہے:
کیا پاکستان کے سیاسی مسائل کا حل سڑکوں پر نکلے گا یا مذاکرات کی میز پر؟
جمہوریت میں احتجاج بھی حق ہے اور اختلافِ رائے بھی، لیکن ریاستی اداروں، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کسی بھی صورت میں عام شہری کے مفاد میں نہیں۔
پاکستان پہلے ہی دہشت گردی، معاشی دباؤ اور سیاسی بے یقینی جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے سب سے بڑی سیاسی کامیابی ایک دوسرے کو شکست دینا نہیں بلکہ ایسا راستہ نکالنا ہے جس سے سیاسی اختلاف تصادم میں تبدیل نہ ہو۔
مذاکرات کا دروازہ ابھی بند نہیں ہوا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دونوں فریق اپنی اپنی سیاسی پوزیشن سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر ملک کو ایک قدم آگے لے جانے کے لیے تیار ہیں؟
Punjabi Virsa Pulse —
پاکستان کے سیاسی معاملات پر ایک مختلف نظر۔