AMZ Online Products Store

AMZ Online Products Store All kind of mobile phone accessories available at very low comparable price.

16/08/2024

عصرِ حاضر میں کیمرے اور تصویر کے فتنے نے عبادات اور خیر کے کاموں سے خلوص چھین لیا ہے.
آج کا انسان ساری دنیا کو نیکیاں دکھانے کے نت نئے طریقے اختیار کررہا ہے.
جبکہ صالحین نیکیوں کو اپنے اہل خانہ سے بھی مخفی رکھنے کی کوشش کیا کرتے تھے ۔
جمعہ مبارک

16/08/2024

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
زندگی ایک خواب اور امتحان ہے۔ یہاں ہم ایک دن خوش ہوں گے تو دوسرے دن اداس۔مشکلات سے سبھی گزرتے ہیں اور گزرتے رہیں گے۔بس تکالیف پر ہمارہ ردِعمل اور ہمارے الفاظ بتاتے ہیں کہ ہم ٹیسٹ میں پاس رہے یا فیل۔جب بھی کسی بھی آزمائش میں ہم اداس اور غمزدہ ہوں تو ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ صرف اللہ کریم ہی ہماری زندگی میں خوشی و مسرت لا سکتے ہیں اس لیے ہم اس ہی پر بھروسہ رکھیں اور صرف اسی سے امید لگائیں صبر اور برداشت سے کام لیتے جائیں کیونکہ جلد ہی ہماری آزمائش ختم کر دی جائے گی اور پھر یہ محض ماضی کا حصہ بن جائے گی۔پیچھے کیا رہ جائے گا؟ صرف ہمارہ ری ایکشَن کہ ہم اللہ کے شکر گزار بندے بنے رہے یا نافرمان
ایمان وصحت بخیر زندگی
جمعہ مبارک

16/08/2024
*شیخ الحدیث مولانا محمد انور بدخشانی کون تھے؟**عربی، اردو اور فارسی زبان میں درجنوں مقبول عام کتب کے مصنف تھے، جن میں شہ...
14/08/2024

*شیخ الحدیث مولانا محمد انور بدخشانی کون تھے؟*

*عربی، اردو اور فارسی زبان میں درجنوں مقبول عام کتب کے مصنف تھے، جن میں شہرہ آفاق فارسی زبان میں وہ تفسیر قرآن بھی شامل ہے جو سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے حجاج کو پیش کی جاتی ہے*

*محقق و مصنف، معروف علمی شخصیت شیخ الحدیث مولانا محمد انور بدخشانی انتقال کرگئے۔ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کی امامت میں نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ جس میں ہزاروں علماء سمیت بڑی تعداد میں طلبہ وشہریوں نے شرکت کی ۔*

*کراچی: عظیم و قدیم دینی درسگاہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے شیخ الحدیث مولانا محمد انور بدخشانی تقریباً 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ میڈیا کوآرڈینیٹر وفاق المدارس العربیہ مولانا طلحہ رحمانی کے مطابق مولانا مرحوم بلند پایہ محقق و مصنف، مفسر قرآن و شیخ الحدیث تھے۔ آپ کی پیدائش 1932ء میں افغا، نستان کے صوبہ بدخشان کے شہر وردوج کے قریب زردیو کے علاقہ میں ہوئی، آپ کے والد مرحوم مرزا محمد ایک نیک سیرت انسان تھے، آپ کے خاندان میں دینی رجحان بہت زیادہ تھا اور علاقہ بھر میں علمی و دینی حوالہ سے ممتاز تھا۔*

آپ کے چچا مولانا محمد شریف مرحوم جامعہ امینیہ دھلی سے فارغ التحصیل تھے اور فقیہہ وقت مفتی کفایت اللہ کے شاگرد تھے جنہوں نے درس نظامی سے فراغت کے بعد اپنے آبائی علاقہ میں درس و تدریس کا آغاز کیا، مولانا محمد انور بدخشانی مرحوم نے بارہ سال کی عمر میں قرآن کی تعلیم کا آغاز کیا، پندرہ برس کی عمر میں اپنے مرحوم چچا مولانا محمد شریف کی نگرانی میں فارسی اور اپنی ابتدائی دینی تعلیم کا مرحلہ مکمل کیا۔ اس کے بعد افغا، نستان کے علاقہ تخار میں چھ سال تک درس نظامی کے دیگر علوم وفنون کی تعلیم کا مرحلہ مکمل کیا، یہاں آپ کے اساتذہ میں علوم و فنون کے ماہر مولانا عبد الجلیل تخاری، شیخ محمد امین، مولانا شیخ خلیل الرحمٰن، شیخ محمد اسماعیل، شیخ محمد یوسف البدخشانی شامل تھے۔

1965ء میں پاکستان آئے ۔ یہاں انجمن تعلیم القرآن کوہاٹ، جامعہ اسلامیہ اکوڑہ خٹک اور دارالعلوم اسلامیہ سیدو شریف میں مولانا شیخ عبد الغفار، مولانا احمد گل، مولانا نعمت اللہ، مولانا یوسف بونیری، مفتی محمد فرید، شیخ فضل الہی، شیخ جان عالم، شیخ عبداللہ کوہستانی، شیخ مولانا بہادر مارتونگ، شیخ لطافت الرحمن اور شیخ عبدالمجید جیسی علمی ہستیاں آپ کے اساتذہ میں شامل تھیں۔ اس کے بعد 1968ء میں کراچی تشریف لائے۔ یہاں عظیم دینی درسگاہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں درس نظامی کے آخری دو درجوں کی تکمیل کی۔ یہاں محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری، مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی، مولانا محمد ادریس میرٹھی، مولانا فضل محمد سواتی، مولانا بدیع الزمان، مولانا سید مصباح اللہ شاہ جیسے اساتذہ آپ کے حدیث کے اساتذہ تھے۔ اس کے علاؤہ آپ کو شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی، مہتمم دارالعلوم دیوبند حکیم العصر مولانا قاری محمد طیب، شام کے معروف محقق محدث شیخ عبدالفتاح ابوغدہ، شیخ عبد الرشید نعمانی سے بھی اجازت حدیث حاصل تھی۔ جبکہ تفسیر قرآن شیخ القرآن مولانا غلام اللہ مرحوم سے پڑھی۔

1970ء میں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی سے درس نظامی کی تکمیل کی اور معروف دینی درسگاہ جامعہ فاروقیہ کراچی میں دو سال تدریسی خدمات سے عملی زندگی کا آغاز کیا، جہاں حدیث، اصول حدیث سمیت دیگر فنون کی کتب آپ کے زیر درس رہیں۔

1972ء میں جامعہ علوم اسلامیہ میں تدریس کا آغاز کیا۔ اور باون (52) سال مختلف علوم و فنون کی تدریس کی، گزشتہ کئی سالوں سے حدیث کے استاد تھے، مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مرحوم کی وفات کے بعد شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہوئے۔ پانچ دھائیوں سے زائد تدریس میں آپ کے نمایاں شاگردوں میں مولانا ڈاکٹر عادل خان ش ہ ید، مفتی محمد زرولی خان، مولانا عطاء الرحمن، مولانا سید سلیمان بنوری، مولانا امداداللہ یوسف زئی، مولانا محب اللہ، مفتی محمد نعیم، مولانا احمد یوسف بنوری، مولانا سعید اللہ شاہ، مفتی ابو لبابہ سمیت دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں علماء شامل ہیں۔ عربی، اردو اور فارسی زبان میں درجنوں مقبول عام کتب کے مصنف تھے، جن میں شہرہ آفاق فارسی زبان میں وہ تفسیر قرآن بھی شامل ہے جو سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے حجاج کو پیش کی جاتی ہے جو لاکھوں کی تعداد میں گزشتہ کئی سالوں سے شائع ہورہی ہے۔ درس نظامی کی کئی کتب کی تسہیل بھی آپ نے مرتب کیں۔ آپ کی علمیت کا ہی اثر تھا کہ گزشتہ کئی سالوں عرب ممالک کے بڑے بڑے شیوخ و علماء ان سے حدیث کی اجازت کیلئے رجوع کرتے تھے۔

مولانا طلحہ رحمانی نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے مختلف امراض میں مبتلاء ہونے کے باوجود درس حدیث کا معمول تھا، ایک روز قبل دل کی تکلیف کی وجہ سے ہسپتال میں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا اور گزشتہ شب تقریباً 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں بعد نماز ظہر شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے نماز جنازہ پڑھائی، جس میں مولانا سید سلیمان بنوری، مولانا احمد یوسف بنوری، مولانا محمد انور، مولانا شمس الرحمن عباسی، مولانا عبدالرزاق زاہد، مولانا عزیز الرحمن، مولانا قاری مفتاح اللہ، مولانا عبدالستار، مولانا اورنگزیب فاروقی، مفتی زبیر اشرف عثمانی، ڈاکٹر عمران اشرف عثمانی، مفتی نعمان نعیم، مولانا انور شاہ، قاری محمد عثمان، مفتی خالد محمود، مولانا عبدالجبار، مولانا عبد الروف غزنوی، مولانا تاج محمد حنفی، مولانا یوسف افشانی، مولانا محمد عمر مکی، مولانا راحت علی ہاشمی، مفتی انس عادل، مولانا محمد زیب، قاری ضیاء الحق، مولانا قاری فیض اللہ چترالی، مولانا قاسم عبداللہ و سینکڑوں علماء اور ہزاروں طلباء سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی بہت بڑی تعداد شریک ہوئی۔

بعد ازاں عظیم دینی درسگاہ جامعہ دارالعلوم کراچی کے قبرستان میں تدفین عمل میں لائی گئی۔

مولانا طلحہ رحمانی کے مطابق مولانا انور بدخشانی مرحوم کی پہلی شادی محدث کبیر علامہ سید محمد یوسف بنوری کی بیٹی سے ہوئی جن سے ایک بیٹی تھی جن کا انتقال کم عمری میں ہوگیا تھا۔ 1975ء میں آپ کی پہلی اہلیہ کا انتقال ہوا،اس کے بعد مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی کی نواسی اور مولانا نور احمد نور کی بیٹی سے آپ کی شادی ہوئی، آپ کے دو بڑے فرزند مفتی انس انور اور مولانا عمر انور بدخشانی جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں استاد ہیں، دونوں تدریس و شعبہ تحقیق و افتاء سے بھی منسلک ہیں۔ جبکہ سب سے چھوٹے فرزند احمد انور زیر تعلیم ہیں۔ سوگواران میں ایک بیوہ، چھ بیٹیاں اور تین بیٹے شامل ہیں۔ مولانا محمد انور بدخشانی کی رحلت پر قائدین وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا انوار الحق، مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا عبیداللہ خالد، مولانا سعید یوسف، صوبائی نظماء مولانا حسین احمد، مولانا قاضی عبد الرشید، مولانا صلاح الدین ایوبی، مرکزی ناظم دفتر مولانا عبدالمجید،میڈیا انچارچ مولانا عبد القدوس محمدی، مفتی سراج الحسن سمیت دیگر منتظمین نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے علمی حلقوں کیلئے بڑا سانحہ قرار دیا،قائدین نے اہل خانہ سے مسنون تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے تمام متعلقین سے بھی افسوس کا اظہار کیا،اس موقع پر قائدین وفاق المدارس نے احباب و اہل مدارس سے خصوصی دعاؤں کے اہتمام کرنے کی درخواست بھی کی۔
*جاری کردہ*
*میڈیا سینٹر وفاق المدارس العربیہ پاکستان*
منقول

13/08/2024

Assalamoalekum

👈 *صرف آٹھ مسئلے __!!*

ایک روز شیخ شفیق بلخیؒ نے اپنے شاگرد حاتمؒ سے پوچھا: "حاتم! تم کتنے دنوں سے میرے ساتھ ہو..؟"
حاتم نے کہا.. "بتیس برس سے..."

شیخ نے پوچھا.. "بتاؤ اتنے طویل عرصے میں تم نے مجھ سے کیا سیکھا..؟"

حاتم نے کہا.. "صرف آٹھ مسئلے.."
شیخ نے کہا.. "انا للہ وانا الیہ راجعون.. میرے اوقات تیرے اوپر ضائع چلے گئے.. تُو نے صرف آٹھ مسئلے سیکھے..؟"

حاتم نے کہا.. "استادِ محترم! زیادہ نہیں سیکھ سکا اور جھوٹ بھی نہیں بول سکتا.."

شیخ نے کہا.. "اچھا بتاؤ کیا سیکھا ہے..؟"
حاتمؒ نے کہا.. "میں نے مخلوق کو دیکھا تو معلوم ہوا ہر ایک کا محبوب ہوتا ہے قبر میں جانے تک.. جب بندہ قبر میں پہنچ جاتا ہے تو اپنے محبوب سے جدا ہو جاتا ہے.. اس لیے میں نے اپنا محبوب "نیکیوں" کو بنا لیا ہے کہ جب میں قبر میں جاؤں گا تو یہ میرا محبوب میرے ساتھ قبر میں رہے گا۔

2- لوگوں کو دیکھا کہ کسی کے پاس قیمتی چیز ہے تو اسے سنبھال کر رکھتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے.. پھر فرمانِ الہی پڑھا..

"جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہوجانے والا ہے..
جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے.."
(سورۃ النحل آیت 96)

تو جو چیز مجھے قیمتی ہاتھ آئی اسے اللہ کی طرف پھیر دیا تاکہ اس کے پاس محفوظ ہوجائے جو کبھی ضائع نہ ہو ۔

3- میں نے خدا کے فرمان پر غور کیا.. "اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا اور نفس کو بُری خواہشات سے باز رکھا' جنت اسی کا ٹھکانہ ہوگا.." (سورۃ النازعات آیت 40)

تو اپنے نفس کو بُرائیوں سے لگام دی.. خواہشاتِ نفسانی سے بچنے کی محنت کی , یہاں تک کہ میرا نفس اطاعتِ الٰہی پر جم گیا ۔

4- لوگوں کو دیکھا ہر ایک کا رجہان دنیاوی مال، حسب نسب، دنیاوی جاہ ومنصب میں پایا.. ان امور میں غور کرنے سے یہ چیزیں ہیچ دکھائی دیں.. اُدھر فرمان الٰہی دیکھا..

"درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے"
(سورۃ الحجرات آیت 13)

تو میں نے تقوٰی اختیار کیا تاکہ اللہ کے ہاں عزت پاؤں

5- لوگوں میں یہ بھی دیکھا کہ آپس میں گمانِ بد رکھتے ہیں، ایک دوسرے کو بُرا کہتے ہیں.. دوسری طرف اللہ کا فرمان دیکھا..

"دنیا کی زندگی میں ان کی بسرو اوقات کی ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کیے ہیں.."
(سورۃ الزخرف آیت 32)

اس لیے میں حسد کو چھوڑ کر خلق سے کنارہ کر لیا اور یقین ہوا کہ قسمت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے.. خلق کی عداوت سے باز آگیا ۔

6- لوگوں کو دیکھا کہ ایک دوسرے سے سرکشی اور کشت و خون کرتے ہیں.. اللہ کی طرف رجوع کیا تو فرمایا..

"درحقیقت شیطان تمہارا دشمن ہے اس لیے تم بھی اسے اپنا دشمن سمجھو۔" (سورۃ فاطر آیت 6)

اس بنا پر میں نے صرف اس اکیلے شیطان کو اپنا دشمن ٹھہرا لیا اور اس بات کی کوشش کی کہ اس سے بچتا رہوں ۔

7- لوگوں کو دیکھا پارہ نان (روٹی کے ٹکرے) پر اپنے نفس کو ذلیل کر رہے ہیں، ناجائز امور میں قدم رکھتے ہیں.. میں نے ارشادِ باری تعالٰی دیکھا..

"زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو.." (سورۃ ہود آیت6)

پھر میں ان باتوں میں مشغول ہوا جو اللہ کے حقوق میرے ذمے ہیں.. اس رزق کی طلب ترک کی جو اللہ کے ذمے ہے ۔

8- میں نے خلق کو دیکھا، ہر ایک کسی عارضی چیز پر بھروسہ کرتا ہے.. کوئی زمین پر بھروسہ کرتا ہے، کوئی اپنی تجارت پر، کوئی اپنے پیشے پر، کوئی بدن پر، کوئی ذہنی اور علمی صلاحیتوں پر بھروسہ کیے ہوئے ہے.. میں نے خدا کی طرف رجوع کیا.. یہ ارشاد دیکھا ...!

"جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لیے وہ کافی ہے.."
(سورۃ طلاق آیت3)

تو میں نے اپنےخدا پر توکل کیا.. وہی مجھے کافی ہے"

شیخ بلخیؒ نے فرمایا۔۔۔"اے میرے پیارے شاگرد حاتم! خدا تمہیں ان کی توفیق نصیب کرے.. میں نے قرآن کے علوم پر مطالعہ کیا تو ان سب کی اصل جڑ انہی آٹھ مسائل کو پایا.. ان پر عمل کرنے والا گویا چاروں آسمانی کتابوں کا عامل ہوا ..." احیاء العلـوم.... امـام غـزالـیؒ۔۔۔

*جزاكم الله خيرٱ كثيرا*

13/08/2024

ہماری دنیا کے مسائل اتنے زیادہ نہیں ہیں جتنے طنز، سوال، غلط فہمیاں، دل دکھانے والے تبصرے ہیں. اگر صرف زبان روک لی جائے تو لوگوں کے دلوں کی تکالیف کم ہو جائیں گی اور بہت سے دلوں کو سکون مل جائے گا.

13/08/2024

انٹرنیٹ سروس پروائیڈرز کا کہنا ہے کہ ملک میں انٹرنیشنل ٹریفک 30 سے 40 فی صد ڈاؤن گریڈ چل رہی ہے جس کی وجہ سے انٹرنیٹ پر ہونے والے کاروبار مشکلات کا شکار ہیں۔ فری لانسرز کے لیے کام کرنے والی کمپنی 'فائیور' نے پاکستان میں انٹرنیٹ اسپیڈ نہ ہونے کی وجہ سے فری لانسرز کی عدم دستیابی کا بھی کہہ دیا ہے۔.

Address

Tench Bhatta
Rawalpindi
46000

Telephone

+923335333465

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AMZ Online Products Store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to AMZ Online Products Store:

Share