06/05/2025
کچھ بے حسوں کو سونپ کر گلشن پہ اختیار
اے خدا تو دیکھتا تو ہوگا پھولوں کی بے بسی
وہ جن کو ہم نے چُنا تھا، محافظِ خاکِ وطن
وہی بیچ آئے خواب، وفا کی ہر روشنی
لبوں پہ نعرۂ دیں، دلوں میں کفر کی چال
ہزاروں زخم ہیں چھپے، ہیں آنکھیں بھی نمکین
نہ عدل باقی رہا، نہ رحم کی وہ ہوا
جو دین کے علمبردار تھے، بنے تاجرِ زمیں
بچوں کے ہاتھ میں بندوق، ماؤں کی آہیں سرد
حکومتیں خاموش ہیں، صرف تقریریں گرم
کیا ایسا وقت بھی آئے گا پھر سے، اے ربِ جلیل
کہ ہو خلیفہ کوئی، عدل ہو جیسے آبِ سلسبیل
جہاں نہ ہو ظلمت کا سایہ، نہ فتنہ و فساد
بس ایک درختِ خلافت ہو، سایہ دار، پُرامن، آباد