25/09/2026
سورة المائدة - آیت 112
ترجمہ : جب حواریوں نے کہا تھا اے عیسٰی بن مریم (علیہ السلام) کیا تیرا رب یہ کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان اتارے۔ (198) (ان کی اس تجویز پر) (عیسٰی علیہ السلام نے) کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ (199)
تفسیر
198 - کیونکہ وہ مسلمان تھے اس لیے انہیں اس میں تو شک نہ تھا کہ مائدہ (خوان) نازل کرنے کی اللہ تعالٰی قدرت رکھتا ہے یا نہیں۔ بلکہ وہ یہ دریافت کر رہے تھے کہ کیا اللہ تعالٰی کی حکمت اور ارادہ اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ ہم پر مائدہ اتارے یعنی کوئی حکمت مائدہ کے نزول میں مانع تو نہیں۔ بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ يستطيع بمعنی يطيع ہے۔ یعنی اگر آپ مائدہ کے نزول کی دعا کریں تو کیا اللہ تعالٰی آپ کی یہ دعا قبول فرمائے گا۔
199 - عیسٰی علیہ السلام کے ماننے والے بنی اسرائیل کے چشم و چراغ تھے۔ نئی نئی تجویزیں پیش کرنا اور انہیں منوانا اُن کا آبائی شعار تھا۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام اُن کو فرماتے ہیں کہ چھوڑو ان حجت بازیوں کو اور اپنے آپ کو امتحان میں نہ ڈالو۔ ایسا نہ ہو کہ اپنے بڑوں کی طرح تم بھی شُکرِ نعمت سے قاصر رہو اور اُس سزا کے مستحق ٹھہرو جو ناشُکروں کے لیے مقرر ہے۔
(ضیاء القرآن - جلد اول - صفحہ 522)
یعنی ایک مومن کیلئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے معجزات کی فرمائش کرے، کیونکہ ایسی فرمائشیں تو عام طور پر کافر لوگ کرتے رہے ہیں۔ البتہ جب انہوں نے یہ وضاحت کی کہ خدا نخواستہ اس فرمائش کا منشا ایمان کا فقدان نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ کر مکمل اطمینان کا حصول اور ادائے شکر ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعا فرما دی۔
(مفتی تقی عثمانی)
چونکہ حواریوں کا ذکر آ گیا تھا اِس لیے سلسلۂ کلام کو توڑ کر جملۂ معترضہ کے طور پر یہاں حواریوں ہی کے متعلّق ایک اور واقعے کی طرف بھی اشارہ کر دیا گیا، جس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ مسیح علیہ السلام سے براہِ راست جن شاگِردوں نے تعلیم پائی تھی وہ مسیح علیہ السلام کو ایک انسان اور محض ایک بندہ سمجھتے تھے اور اُن کے وہم و گمان میں بھی اپنے مرشد کے خدا یا شریکِ خدا یا فرزندِ خدا ہونے کا تصوُّر نہ تھا. نیز یہ کہ مسیح علیہ السلام نے خود بھی اپنے آپ کو اُن کے سامنے ایک بندۂ بے اِختیار کی حیثیت سے پیش کیا تھا.
یہاں یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ جو گفتگو قیامت کے روز ہونے والی ہے، اس کے اندر اس جملۂ معترضہ کا کون سا موقع ہو گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جملۂ معترضہ اُس گفتگو سے متعلق نہیں ہے جو قیامت کے روز ہو گی، بلکہ اُس کی اس پیشگی حکایت سے متعلق ہے جو اس دنیا میں کی جا رہی ہے. قیامت کی اس ہونے والی گفتگو کا ذکر یہاں کیا ہی اس لیے جا رہا ہے کہ موجودہ زندگی میں عیسائیوں کو اُس سے سبق ملے اور وہ راہِ راست پر آئیں. لہٰذا اس گفتگو کے سلسلے میں حواریوں کے اس واقعے کا ذکر بطور ایک جملۂ معترضہ کے آنا کسی طرح غیر متعلق نہیں ہے۔
(تفہیم القرآن - مولانا مودودی)
واللہ اعلم بالصواب