18/05/2026
ماں کا خواب
(ماخوذ)
بچوں کے ليے
ميں سوئی جو اک شب تو ديکھا يہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
يہ ديکھا کہ ميں جا رہی ہوں کہيں
اندھيرا ہے اور راہ ملتى نہيں
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال
قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی
تو ديکھا قطار ايک لڑکوں کى تھی
زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے
ديے سب کے ہاتھوں ميں جلتے ہوئے
وہ چپ چاپ تھے آگے پيچھے رواں
خدا جانے جانا تھا اُن کو کہاں
اسی سوچ ميں تھی کہ ميرا پسر
مجھے اس جماعت ميں آيا نظر
وہ پيچھے تھا اور تيز چلتا نہ تھا
ديا اس کے ہاتھوں ميں جلتا نہ تھا
کہا ميں نے پہچان کر ، ميری جاں!
مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں!
جدائی ميں رہتی ہوں ميں بے قرار
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار
نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی
گئے چھوڑ ، اچھی وفا تم نے کی
جو بچے نے ديکھا مرا پيچ و تاب
ديا اس نے منہ پھير کر يوں جواب
رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری
نہيں اس ميں کچھ بھی بھلائی مری
يہ کہہ کر وہ کچھ دير تک چپ رہا
ديا پھر دکھا کر يہ کہنے لگا
سمجھتی ہے تو ہو گيا کيا اسے؟
ترے آنسوؤں نے بجھايا اسے
تمام بچے جگنو بن گئے مگر ایک نہ بن سکا. وجہ یہ تھی کہ جگنو بننے کا عمل ایک طرح سے مر کر دوباره زنده ہونے کے مترادف ہے جیسا کہ جاوید نامہ کے شروع میں مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ نے اقبال کو سمجھایا "یہ اس طرح ہے جیسے دوباره پیدا ہوا جائے. جس طرح تم اس دنیا میں پیدائش کے ذریعے آتے ہو بالکل اسی طرح دوسری پیدائش تمہیں اس دنیا سے باہر لے جاتی ہے. مگر یہ دوسری پیدائش اُنہی کو نصیب ہوتی ہے جن کا باطن عشق کی قوت سے مستحکم ہو چکا ہو." عشق کی تاثیر یہ ہے کہ یہ قوّتِ عمل پیدا کرتا ہے اور انسان کو متحرک کرتا ہے. فرہاد نے عشق کی قوت سے پہاڑ کھود کر رکھ دیا تھا اور دوسری نظم میں گلہری نے (جو تمام مخلوقات کے عشق سے سرمست تھی) پہاڑ کو چھالیہ توڑنے کے مقابلے کی دعوت دی تھی. چنانچہ اپنے آپ کو بدلنا ایک ہنر ہے جو قوّتِ عمل سے پیدا ہوتا ہے اور نتیجے کے طور پر انسان وہ نہیں رہتا جو پیدا ہوا تھا بلکہ کچھ اور ہو جاتا ہے.
ایک بچے کی ماں اِس پر تیار نہ تھی لہٰذا وہ بچہ جگنو نہ بن سکا. ایک شب یہ ماں سوئی ہوئی تو خواب میں اپنے بچے کو مردہ بچوں کی قطار میں دیکھا. سب بچوں نے سبز لباس پہنے ہوئے تھے اور ہاتھوں میں وہی دیے روشن تھے جو خود آگہی کے دیے ہیں، جو سب نے دعا مانگ کر حاصل کیے اور جنہیں پچھلی حکایت میں جگنو سے تشبیہ دی گئی. دیے ہاتھوں میں جلنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے یدِ بیضا کی طرف بھی اشارہ ہے کہ خدا کے حکم سے آپ کا ہاتھ روشن ہو جاتا تھا. جو ماں یہ خواب دیکھ رہی تھی اُس کا بچہ پیچھے تھا اور آہستہ آہستہ چل رہا تھا. اُس کے ہاتھ میں دیا بجھا ہوا تھا.
ماں نے بچے کو جنم دیا ہے لہٰذا اُس کے لاشعور میں بچے کی یہ دوسری پیدائش جو بچے کو روح کی گہرائیوں میں لے جائے گی ایک موت سے کم نہیں. نظم میں کہیں نہیں کہا گیا کہ بچہ سچ مچ فوت ہوا ہے یا ماں صرف اپنے خواب میں اُسے مردہ دیکھ رہی ہے. خواب میں ہم ایسے لوگوں کو بھی مردہ دیکھ لیتے ہیں جو حقیقت میں زندہ ہوتے ہیں چنانچہ ماں کے خواب کا اصل نکتہ بچے کی موت نہیں بلکہ وہ دیا ہے جو بجھا ہوا ہے. اصل سوال یہ ہے کہ وہ کیوں نہیں جل رہا ؟
ماں نے بچے سے یہ نہ پوچھا کہ وہ کس حال میں ہے، اُس کے ہاتھوں میں روشنی کیوں نہیں اور وہ کیوں سب سے پیچھے ہے. اس کی بجائے ماں نے صرف اپنے غم کا دکھڑا رویا کہ وہ بچے کی جدائی میں بے قراری سے روتی رہتی ہے اور بچہ بہت ہی بے وفا نکلا کہ والدین کی پرواہ کیے بغیر اُنہیں چھوڑ کر چلا آیا. یہ گفتگو ماں کے کردار کی پوری طرح عکاسی کر رہی تھی کہ ایسی ماں یقیناً حد سے بڑھی ہوئی پابندیوں میں بچے کی نشوونما کے اصل تقاضوں کو دفن کر سکتی ہے.
بچے نے منہ پھیر کر جواب دیا کہ ماں کے رونے دھونے میں بچے کی کوئی بھلائی نہیں. یہ کہہ کر وہ کچھ دیر غالباً جذبات کی شدت سے خاموش رہا کیونکہ جب بچے کوئی بہت بڑا درد ظاہر کرنا چاہیں تو اُن کے اظہار کی قوت جواب دے جاتی ہے اور یہ مرحلہ اُن کے لیے مشکل ہوتا ہے. بالآخر بچے نے اپنا دیا ماں کے سامنے کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتی ہے اسے کیا ہو گیا ہے؟ یہ اُس کے آنسوؤں سے بجھ گیا ہے.
بچہ جگنو بننے کے لیے والدین کی مدد کا محتاج ہے. اگر وہی اپنی حد سے بڑھی ہوئی احتیاط اور ضد کی وجہ سے اُس کے روشنی بننے میں رکاوٹ بن جائیں تو بچہ اُن سے بغاوت کر کے جگنو نہیں بن سکتا کیونکہ نافرمانی کے نتیجے میں روشنی نہیں بلکہ صرف مزید اندھیرے ہی ملتے ہیں. یہ زندگی کا ایک الجھاوا ہے. پچھلی نظم میں اپنی روح کو روشنی دکھانا ہی دوسروں کے کام آنا تھا جیسا کہ جگنو نے کیا. یہاں دوسروں کے کام آنا اپنی مدد کرنا تھا جو ماں نہ کر سکی اور اپنے بچے کے دیے کو روشن رکھنے میں معاون نہ ہو سکی.
دراصل بچے نے اپنی دعا میں جو نئی اقدار دریافت کی تھیں، اُن سے جنم لینے والی تہذیب کی روح باطنی تبدیلیوں کے ذریعے بیرونی دنیا کو بدلنے کا نام ہے. تبدیلی کے اِس عمل میں سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اُن دوامی اصولوں سے وفا داری کس طرح قائم رکھی جائے جن کی علامت اِس حکایت میں ماں ہے.
تشکیل جدید کے چھٹے خطبے "الاجتہاد فی الاسلام" میں اقبال کہتے ہیں "اب اگر کوئی معاشرہ حقیقتِ مطلقہ کے اِس تصور پر مبنی ہے تو پھر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ثبات اور تغير دونوں خصوصیات کا لحاظ رکھے. اس کے پاس کچھ تو اس قسم کے دوامی اصول ہونے چاہئیں جو حیاتِ اجتماعیہ میں نظم و انضباط قائم رکھیں، کیونکہ مسلسل تغير کی اِس بدلتی ہوئی دنیا میں ہم اپنا قدم مضبوطی سے جما سکتے ہیں تو دوامی ہی کی بدولت. لیکن دوامی اصولوں کا یہ مطلب تو ہے نہیں کہ اس سے تغیر اور تبدیلی کے جملہ امکانات کی نفی ہو جائے، اس لیے کہ تغير وہ حقیقت ہے جسے قرآن پاک نے اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی آیت ٹھہرایا ہے "اُس صورت میں تو ہم اُس شے کو جس کی فطرت ہی حرکت ہے، حرکت سے عاری کر دیں گے" (ترجمہ سید نذیر نیازی، صفحہ 227-228). یہی بچے کا پیچھے رہنا اور تیز نہ چلنا ہے :
A society based on such a conception of Reality must reconcile, in its life, the categories of permanence and change. It must possess eternal principles to regulate its collective life, for the eternal gives us a foothold in the world of perpetual change. But eternal principles when they are understood to exclude all possibilities of change which according to the Quran, is one of the greatest "signs" of God, tend to immobilize what is essentially mobile in its nature.
From Lecture VI
The Reconstruction of Religious Thought in Islam
خرم علی شفیق کی کتاب "روشنی کی تلاش" سے اقتباس