Urdu Jareeda

Urdu Jareeda اسلامی اصلاحی مضامین، سبق آموز واقعات، اردو ادب، شاعری، حکایات، ناولز اور اقتباسات کا خوبصورت خزانہ
ہم بھی کچھ دن چپ رہیں گے،
پھر سنبھل جائیں گے، وقت کی طرح۔

میری آرزو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری جستجو مدینہ
-
Your Feedback Is Very Important For Us So Please Send Your Feedback at [email protected]

18/05/2026

ماں کا خواب
(ماخوذ)
بچوں کے ليے

ميں سوئی جو اک شب تو ديکھا يہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب

يہ ديکھا کہ ميں جا رہی ہوں کہيں
اندھيرا ہے اور راہ ملتى نہيں

لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال
قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال

جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی
تو ديکھا قطار ايک لڑکوں کى تھی

زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے
ديے سب کے ہاتھوں ميں جلتے ہوئے

وہ چپ چاپ تھے آگے پيچھے رواں
خدا جانے جانا تھا اُن کو کہاں

اسی سوچ ميں تھی کہ ميرا پسر
مجھے اس جماعت ميں آيا نظر

وہ پيچھے تھا اور تيز چلتا نہ تھا
ديا اس کے ہاتھوں ميں جلتا نہ تھا

کہا ميں نے پہچان کر ، ميری جاں!
مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں!

جدائی ميں رہتی ہوں ميں بے قرار
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار

نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی
گئے چھوڑ ، اچھی وفا تم نے کی

جو بچے نے ديکھا مرا پيچ و تاب
ديا اس نے منہ پھير کر يوں جواب

رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری
نہيں اس ميں کچھ بھی بھلائی مری

يہ کہہ کر وہ کچھ دير تک چپ رہا
ديا پھر دکھا کر يہ کہنے لگا

سمجھتی ہے تو ہو گيا کيا اسے؟
ترے آنسوؤں نے بجھايا اسے


تمام بچے جگنو بن گئے مگر ایک نہ بن سکا. وجہ یہ تھی کہ جگنو بننے کا عمل ایک طرح سے مر کر دوباره زنده ہونے کے مترادف ہے جیسا کہ جاوید نامہ کے شروع میں مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ نے اقبال کو سمجھایا "یہ اس طرح ہے جیسے دوباره پیدا ہوا جائے. جس طرح تم اس دنیا میں پیدائش کے ذریعے آتے ہو بالکل اسی طرح دوسری پیدائش تمہیں اس دنیا سے باہر لے جاتی ہے. مگر یہ دوسری پیدائش اُنہی کو نصیب ہوتی ہے جن کا باطن عشق کی قوت سے مستحکم ہو چکا ہو." عشق کی تاثیر یہ ہے کہ یہ قوّتِ عمل پیدا کرتا ہے اور انسان کو متحرک کرتا ہے. فرہاد نے عشق کی قوت سے پہاڑ کھود کر رکھ دیا تھا اور دوسری نظم میں گلہری نے (جو تمام مخلوقات کے عشق سے سرمست تھی) پہاڑ کو چھالیہ توڑنے کے مقابلے کی دعوت دی تھی. چنانچہ اپنے آپ کو بدلنا ایک ہنر ہے جو قوّتِ عمل سے پیدا ہوتا ہے اور نتیجے کے طور پر انسان وہ نہیں رہتا جو پیدا ہوا تھا بلکہ کچھ اور ہو جاتا ہے.
ایک بچے کی ماں اِس پر تیار نہ تھی لہٰذا وہ بچہ جگنو نہ بن سکا. ایک شب یہ ماں سوئی ہوئی تو خواب میں اپنے بچے کو مردہ بچوں کی قطار میں دیکھا. سب بچوں نے سبز لباس پہنے ہوئے تھے اور ہاتھوں میں وہی دیے روشن تھے جو خود آگہی کے دیے ہیں، جو سب نے دعا مانگ کر حاصل کیے اور جنہیں پچھلی حکایت میں جگنو سے تشبیہ دی گئی. دیے ہاتھوں میں جلنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے یدِ بیضا کی طرف بھی اشارہ ہے کہ خدا کے حکم سے آپ کا ہاتھ روشن ہو جاتا تھا. جو ماں یہ خواب دیکھ رہی تھی اُس کا بچہ پیچھے تھا اور آہستہ آہستہ چل رہا تھا. اُس کے ہاتھ میں دیا بجھا ہوا تھا.
ماں نے بچے کو جنم دیا ہے لہٰذا اُس کے لاشعور میں بچے کی یہ دوسری پیدائش جو بچے کو روح کی گہرائیوں میں لے جائے گی ایک موت سے کم نہیں. نظم میں کہیں نہیں کہا گیا کہ بچہ سچ مچ فوت ہوا ہے یا ماں صرف اپنے خواب میں اُسے مردہ دیکھ رہی ہے. خواب میں ہم ایسے لوگوں کو بھی مردہ دیکھ لیتے ہیں جو حقیقت میں زندہ ہوتے ہیں چنانچہ ماں کے خواب کا اصل نکتہ بچے کی موت نہیں بلکہ وہ دیا ہے جو بجھا ہوا ہے. اصل سوال یہ ہے کہ وہ کیوں نہیں جل رہا ؟
ماں نے بچے سے یہ نہ پوچھا کہ وہ کس حال میں ہے، اُس کے ہاتھوں میں روشنی کیوں نہیں اور وہ کیوں سب سے پیچھے ہے. اس کی بجائے ماں نے صرف اپنے غم کا دکھڑا رویا کہ وہ بچے کی جدائی میں بے قراری سے روتی رہتی ہے اور بچہ بہت ہی بے وفا نکلا کہ والدین کی پرواہ کیے بغیر اُنہیں چھوڑ کر چلا آیا. یہ گفتگو ماں کے کردار کی پوری طرح عکاسی کر رہی تھی کہ ایسی ماں یقیناً حد سے بڑھی ہوئی پابندیوں میں بچے کی نشوونما کے اصل تقاضوں کو دفن کر سکتی ہے.
بچے نے منہ پھیر کر جواب دیا کہ ماں کے رونے دھونے میں بچے کی کوئی بھلائی نہیں. یہ کہہ کر وہ کچھ دیر غالباً جذبات کی شدت سے خاموش رہا کیونکہ جب بچے کوئی بہت بڑا درد ظاہر کرنا چاہیں تو اُن کے اظہار کی قوت جواب دے جاتی ہے اور یہ مرحلہ اُن کے لیے مشکل ہوتا ہے. بالآخر بچے نے اپنا دیا ماں کے سامنے کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتی ہے اسے کیا ہو گیا ہے؟ یہ اُس کے آنسوؤں سے بجھ گیا ہے.
بچہ جگنو بننے کے لیے والدین کی مدد کا محتاج ہے. اگر وہی اپنی حد سے بڑھی ہوئی احتیاط اور ضد کی وجہ سے اُس کے روشنی بننے میں رکاوٹ بن جائیں تو بچہ اُن سے بغاوت کر کے جگنو نہیں بن سکتا کیونکہ نافرمانی کے نتیجے میں روشنی نہیں بلکہ صرف مزید اندھیرے ہی ملتے ہیں. یہ زندگی کا ایک الجھاوا ہے. پچھلی نظم میں اپنی روح کو روشنی دکھانا ہی دوسروں کے کام آنا تھا جیسا کہ جگنو نے کیا. یہاں دوسروں کے کام آنا اپنی مدد کرنا تھا جو ماں نہ کر سکی اور اپنے بچے کے دیے کو روشن رکھنے میں معاون نہ ہو سکی.
دراصل بچے نے اپنی دعا میں جو نئی اقدار دریافت کی تھیں، اُن سے جنم لینے والی تہذیب کی روح باطنی تبدیلیوں کے ذریعے بیرونی دنیا کو بدلنے کا نام ہے. تبدیلی کے اِس عمل میں سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اُن دوامی اصولوں سے وفا داری کس طرح قائم رکھی جائے جن کی علامت اِس حکایت میں ماں ہے.
تشکیل جدید کے چھٹے خطبے "الاجتہاد فی الاسلام" میں اقبال کہتے ہیں "اب اگر کوئی معاشرہ حقیقتِ مطلقہ کے اِس تصور پر مبنی ہے تو پھر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ثبات اور تغير دونوں خصوصیات کا لحاظ رکھے. اس کے پاس کچھ تو اس قسم کے دوامی اصول ہونے چاہئیں جو حیاتِ اجتماعیہ میں نظم و انضباط قائم رکھیں، کیونکہ مسلسل تغير کی اِس بدلتی ہوئی دنیا میں ہم اپنا قدم مضبوطی سے جما سکتے ہیں تو دوامی ہی کی بدولت. لیکن دوامی اصولوں کا یہ مطلب تو ہے نہیں کہ اس سے تغیر اور تبدیلی کے جملہ امکانات کی نفی ہو جائے، اس لیے کہ تغير وہ حقیقت ہے جسے قرآن پاک نے اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی آیت ٹھہرایا ہے "اُس صورت میں تو ہم اُس شے کو جس کی فطرت ہی حرکت ہے، حرکت سے عاری کر دیں گے" (ترجمہ سید نذیر نیازی، صفحہ 227-228). یہی بچے کا پیچھے رہنا اور تیز نہ چلنا ہے :
A society based on such a conception of Reality must reconcile, in its life, the categories of permanence and change. It must possess eternal principles to regulate its collective life, for the eternal gives us a foothold in the world of perpetual change. But eternal principles when they are understood to exclude all possibilities of change which according to the Quran, is one of the greatest "signs" of God, tend to immobilize what is essentially mobile in its nature.
From Lecture VI
The Reconstruction of Religious Thought in Islam

خرم علی شفیق کی کتاب "روشنی کی تلاش" سے اقتباس

11/05/2026

حقیقت کی جستجو
(ایڈم سمتھ، کارل مارکس اور شاہ ولی اللہ کا مکالمہ)

ایڈم سمتھ بولا!

دنیا کا سسٹم مسابقت پر قائم ہے. جب ہر شخص اپنا مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو معاشرہ خود بخود خوشحال ہو جائے گا. یہی سرمایہ داری نظام (capitalism) کا حُسن ہے۔ آزاد منڈی (indipendent trade) میں مقابلہ ہی ترقی کی ضمانت ہے.

کارل مارکس نے کہا!

مگر یہ کیسا حُسن ہے جو صرف سرمایہ داروں کے لیے ہے؟ محنت کش تو صرف مشین کا پرزہ بن کر رہ جاتا ہے. تمہاری آزاد منڈی میں غریب اور امیر کے درمیان خلیج بڑھتی ہی جاتی ہے. سرمایہ دار عیش کرتے ہیں اور محنت کش استحصال کی چکی میں پِس کر رہ جاتے ہیں.

ایڈم سمتھ (طنزیہ انداز میں):

دیکھو، یہ تگ و دو ہی تو محنت کشوں کو بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرتی ہے. یہاں ہر شخص کو اپنی محنت کا پھل ملتا ہے. اسی مسابقت میں ترقی کا راز پوشیدہ ہے.

کارل مارکس (تلخ لہجے میں):

یہی تو تمہارا دھوکہ ہے! محنت کشوں کو اُن کی محنت کا پورا صلہ کبھی نہیں ملتا. سرمایہ دار اُن کے پسینے سے محلات کھڑے کرتے ہیں. تمہاری مسابقت دراصل استحصال کا دوسرا نام ہے، جس میں دولت چند ہاتھوں میں مرتکز (centred) ہو جاتی ہے اور عام آدمی غریب سے غریب تر ہو جاتا ہے. یہی تو ظلم ہے اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو انقلاب (revolution) فرض ہو جاتا ہے.

ایڈم سمتھ (سرگرداں ہو کر):

رُکو بھائی! کون سا دھوکہ، کون سا استحصال؟ یہ طبقاتیت، یہ اونچ نیچ تو اوپر کی طرف سے ہے. آپ کو اگر یقین نہیں آ رہا تو مذہبی پیشواؤں سے پوچھ لیجیے. پادری کہتا ہے یہ بھوک و افلاس، مفلسی اور امیری سب تقدیر کا کھیل ہے. وہ کہتا ہے غریبوں، کمزوروں اور مزدوروں کو ہر حال میں صبر کرنا چاہیے، کیونکہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے.

کارل مارکس (غصہ ہو کر):

انہیں تو آپ رہنے ہی دیجیے. ہم اچھی طرح جان چکے ہیں کہ مذہب سرمایہ دار کا ساتھی بن چکا ہے. یہ مزدور کو تسلی دینے کے لیے صبر و قناعت کا سبق پڑھاتا ہے. مزدور کے استحصال کے لیے سرمایہ دار اور مذہب ایک پیج پر ہیں. یہی مذہب انقلاب کی راہ میں زبردست رکاوٹ بنا ہوا ہے. اس لیے ہم اپنے پورے ہوش و حواس میں مذہب کو آپ کے پادریوں سمیت مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں.

(اتنے میں ایک اور آواز گونجتی ہے، یہ شاہ ولی اللہ ہیں، جو دونوں مکاتبِ فکر سے مختلف اپنا فلسفہ پیش کرتے ہیں)

سمتھ! تم نے انسان کو محض ایک مشین سمجھا، جس کا مقصد صرف دولت کمانا ہے. اور مارکس...! تم نے سرمایہ دار کے ظلم کو بخوبی پہچانا، کمال کر دیا. تم نے کمزوروں کے حقوق کی بات کی، واقعی کمال کر دیا. لیکن جب تم نے انسانی روح کو یکسر نظر انداز کیا، بہت ہی بُرا کیا. انسان صرف گوشت پوست کا پتلا نہیں، روح اور جسم دونوں کا مرکب ہے. جسم کی طرح روح کی بھی ضروریات ہوتی ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا. مذہب کو رد کرنا خود اپنی حقیقت سے انکار کرنا ہے.

کارل مارکس (حیران ہو کر):

عجیب بات کرتے ہو شاہ صاحب! کیا تم نے نہیں دیکھا کہ مذہب نے کس طرح مزدور کے استحصال کے لیے سرمایہ دار کا ساتھ دیا ؟ مذہب تو ظلم سہنے کا درس دیتا ہے، صبر اور قناعت کا سبق پڑھاتا ہے. کیا یہ انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نہیں ہے؟

شاہ ولی اللہ (مسکراتے ہوئے):

یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ مذہب جب اپنی اصل حالت میں ہو تو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا سبق دیتا ہے. دُکھی انسانیت کی خاطر عدل و انصاف قائم کرنے کا حکم دیتا ہے. مذہب تو ظلم برداشت کرنے کو گناہ قرار دیتا ہے۔ یہ نہ تو سرمایہ داری کی بے رحم طبقاتیت اور آزاد منڈی کو قبول کرتا ہے، اور نہ ہی تمہارے انقلاب کی بے روح مادیت (Materialism) کو. یہ تو انسان کے جسم و روح دونوں کی کفالت کا بیڑا اٹھاتا ہے. دراصل آپ کو مذہب کی غلط تعبیر پڑھائی گئی ہے.

ایڈم سمتھ (مُخِل ہوتے ہوئے):

شاہ صاحب، تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ انسان کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ یہ زندگی ایک جنگ ہے. یہاں طاقت ور آگے بڑھتے ہیں، کمزور پیچھے رہ جاتے ہیں. کوئی بادشاہ تو کوئی گدا، کوئی امیر تو کوئی فقیر. یہی قدرت کا قانون ہے. وسائل محدود ہیں اور آبادی بڑھتی ہی جا رہی ہے، اس لیے بقا کی جدوجہد اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کرنے کی دوڑ ہمیشہ جاری رکھنی چاہیے. سرمایہ ہی طاقت ہے، سرمایہ ہی عزت اور شہرت ہے، اور سرمایہ ہی نیک نامی ہے. نیز سرمایہ ہی اصل ہے. محنت تو سرمایہ کا معاون ہے، کیونکہ اس کے پاس Bargaining Power نہیں ہوتی.

شاہ ولی اللہ (گہرے لہجے میں): سمتھ صاحب! آپ زندگی کو ایک سرمایہ دار کی نظر سے دیکھ رہے ہیں. جب آپ ایک انسان کی نظر سے دیکھیں گے تو زندگی جنگ نہیں، محبت نظر آئے گی. آپ جان پائیں گے کہ یہ آگے نکل جانے کا نام نہیں، بلکہ ساتھ چلنے کا سفر ہے. مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے. طاقت ور مسلسل آگے اس لیے نہیں بڑھ رہے کہ وہ محنت زیادہ کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ پرائی محنت پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ مسابقت تو تب ہو گی جب بنیادی ضروریات پوری ہوں گی. دولت کمانے میں حرج نہیں لیکن اس کے لیے اساس (base foundation) محنت ہونی چاہیے. محنت سرمایہ کا معاون نہیں، سرمایہ محنت کا معاون ہے. جسم کی ضروریات پوری ہونے کے ساتھ ساتھ روح کی غذا بھی برقرار رہے. یہی مکمل انسانیت کا فلسفہ ہے، جو نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے.

ایڈم سمتھ خاموش اور لاجواب..!!

کارل مارکس (سوچ میں پڑ کر): یہ گفتگو میرے ذہن میں نئے سوالات جگا رہی ہے۔ کاش! میں نے کیپیٹلزم کے ردعمل میں جذباتی ہو کر فیصلہ نہ کیا ہوتا. میں نے انسانی فطرت کو سمجھنے میں کچھ زیادہ ہی جلدی کر دی!

شاہ ولی اللہ (اطمینان سے): یہی مکالمے کا حسن ہے! سوالات ہی حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔ غور و فکر سے ہی سچائی تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔ مکالمے سے ہی سوچ کے نئے دروازے کھلتے ہیں اور

مکالمہ کبھی ختم نہیں ہوتا!

✍️ سفیان خان

(نشرِ مکرر 2025)

 سورۃ المائدۃ - آیات 87-88ترجمہ : اے ایمان والو! پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال فرمایا...
01/05/2026



سورۃ المائدۃ - آیات 87-88

ترجمہ : اے ایمان والو! پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو. بےشک اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا. (158)

تفسیر

158 - چند جلیل القدر صحابہ جن میں حضرت صدیق و علی رضی اللہ عنہم بھی شریک تھے حضرت عثمان بن مظعون کے گھر میں جمع ہوئے اور یہ فیصلہ کیا کہ آئندہ وہ ہمیشہ روزہ رکھا کریں گے، ساری رات عبادت میں گزاریں گے، بستروں پر نہیں سوئیں گئے، گوشت گھی وغیرہ نہیں کھائیں گے، عورتوں اور خوشبو سے بالکل اجتناب کریں گے. اونی لباس پہنیں گے اور دنیا سے قطع تعلق کر لیں گے. رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع ملی تو حضور نے انہیں بلا کر یہ حقیقت افروز ارشاد فرمایا :- مجھے ان باتوں کا حکم نہیں دیا گیا.
ترجمہ : اے میرے صحابہ : تمہارے نفسوں کا بھی تم پر حق ہے اس لیے روزے بھی رکھ اور افطار بھی کرو. راتوں میں جاگ کر عبادت بھی کرو اور آرام سے سوؤ بھی کیونکہ میں رات کو جاگتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں. روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں. گوشت اور گھی بھی کھاتا ہوں. اور اپنی ازواج سے بھی مقاربت کرتا ہوں (یہ میرا طریقِ کار اور سنت ہے) جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ میری جماعت سے نہیں. (کشاف وغیرہ)

اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ نہ تو یہودیوں کی طرح لذاتِ دنیا میں کھو جاؤ اور نہ مسیحی راہبوں کی طرح دنیا کی حلال لذتوں کو اپنے اوپر حرام کر دو بلکہ اعتدال اور میانہ روی اختیار کرو. یہی دینِ اسلام کا طرۂ امتیاز ہے. اس آیت میں لا تحرموا کا معنی یہ ہے کہ نہ تو یہ اعتقاد رکھو کہ یہ چیزیں حرام ہیں اور نہ زبان سے ایسا کہو اور نہ ان کے استعمال کو اس طرح ترک کرو جیسے حرام چیز کو ترک کیا جاتا ہے. اولیاء کرام نفسِ سرکش کی سرکوبی کے لیے بعض حلال چیزوں کو استعمال نہیں کرتے تو وہ ان کی حرمت کے قائل نہیں ہوتے. بلکہ جس طرح جسمانی طبیب بعض اشیاء کو صحتِ جسمانی کے لیے مضر خیال کر کے مریض کو ان کے استعمال سے روک دیتا ہے اسی طرح یہ روحانی معالج بعض روحانی مفاسد کے پیشِ نظر بعض چیزوں سے وقتی طور پر اجتناب کرتے ہیں. لیکن اگر کوئی جاہل اللہ تعالیٰ کی کسی حلال کردہ چیز کو اعتقادی یا قولی طور پر حرام جانے تو یہ باطل ہے اور گمراہی ہے.
(ضیاء القرآن - جلد اول - صفحہ 505)

ترجمہ : اور اُس سے کھاؤ جو تمہیں اللہ تعالیٰ نے حلال (اور) پاکیزہ رزق دیا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو. (159)

تفسیر

159 - اکل سے مراد کھانا ہی نہیں بلکہ اکل بمعنی تمتع ہے یعنی فائدہ اٹھانا، استعمال کرنا خواہ کھانے، پینے، پہننے کی صورت میں ہو یا سواری وغیرہ کی شکل میں. الأكل في هذا الآية عبارة عن تمتع بالأكل والشرب و اللباس و الركوب وغير ذلك.
(ضیاء القرآن - جلد اول - صفحہ 505)

والله اعلم بالصواب

رموزِ بے خودیعلامہ اقبال رحمۃ اللہرکنِ دوم : رسالتقلبِ مومن را کتابش قوت استحکمتش حبل الورید ملت استترجمہ : رسول اللہ ﷺ ...
29/04/2026

رموزِ بے خودی

علامہ اقبال رحمۃ اللہ

رکنِ دوم : رسالت

قلبِ مومن را کتابش قوت است
حکمتش حبل الورید ملت است

ترجمہ : رسول اللہ ﷺ جو کتاب یعنی قرآن مجید لائے وہ مومن کے دل کے لیے قوت و استحکام کا سامان ہے اور جو حکیمانہ ارشادات حضور ﷺ کی زبان مبارک پر جاری ہوئے انہیں ملت کی زندگی میں شہ رگ کی حیثیت حاصل ہے.


دامنش از دست دادن مُردن است
چوں گل از بادِ خزاں افسردن است

ترجمہ : رسول اللہ ﷺ کا دامن ہاتھ سے دینے کا مطلب یہ ہے کہ موت قبول کر لی جائے اور وہ حالت پیدا ہو جائے جو موسم خزاں میں پھول کی ہوتی ہے یعنی افسردہ ہو کر ختم ہو جاتا ہے.


زندگی قوم از دمِ او یافت است
ایں سحر از آفتابش تافت است

ترجمہ : قوم نے صرف رسول اللہ ﷺ کے دم سے زندگی پائی. یہ صبح اسی آفتاب کی روشنی سے منور ہوئی.


فرد از حق ملت از روئے زندہ است
از شعاعِ مہرِ او تابندہ است

ترجمہ : افراد اللہ تعالیٰ کے حکم سے زندہ رہتے ہیں، قوم کی زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر موقوف ہے یعنی قوم اس سورج کی کرن سے آب و تاب حاصل کرتی ہے.


از رسالت ہم نوا گشتیم ما
ہم نفس ہم مدعا گشتیم ما

ترجمہ : رسالت نے ہمیں ہم نوا اور ہم آہنگ کیا. رسالت ہی کی برکت سے ہم ایک دوسرے کے ساتھ، رفیق اور ہمدرد بنے. اس کی برکت سے ہم سب کا نصب العین ایک ہو گیا.


کثرتِ ہم مدعا وحدت شود
پختہ چوں وحدت شود ملت شود

ترجمہ : جب ایک مدعا، ایک مقصد اور ایک نصب العین والے اکٹھے ہو جاتے ہیں تو اُن میں ایک وحدت آ جاتی ہے، یہی وحدت پختہ اور پائیدار ہو جاتی ہے تو ملت کی شکل اختیار کر لیتی ہے.


زندہ ہر کثرت ز بند وحدت است
وحدتِ مسلم ز دینِ فطرت است

ترجمہ : ہر کثرت صرف وحدت کے بندھن کی بنا پر زندہ ہے اور مسلمان کی وحدت دینِ فطرت یعنی اسلام پر مبنی ہے.


دینِ فطرت از نبی آموختیم
در رہِ حق مشعلے افروختیم

ترجمہ : ہم نے رسول اللہ ﷺ سے دینِ فطرت سیکھا اور اللہ کے راستے میں مشعل روشن کر کے کھڑے ہو گئے.


ایں گہر از بحرِ بے پایانِ اوست
ما کہ یک جانیم از احسانِ اوست

ترجمہ : یہ وحدت کا راز ایک موتی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بے پایاں سمندر سے نکلا، ہم یک جان ہیں تو یہ حضور ہی کا احسان ہے.


تا نہ ایں وحدت ز دستِ ما رود
ہستئ ما با ابد ہمدم شود

ترجمہ : اگر وحدت کا یہ رشتہ ہمارے ہاتھ سے نہیں چھوٹے گا تو ہماری ہستی بحیثیت ملت و قوم رہتی دنیا تک باقی رہے گی.


پس خدا بر ما شریعت ختم کرد
بر رسولِ ما رسالت ختم کرد

ترجمہ : خدا نے ہم پر شریعت ختم کر دی اور ہمارے رسول پر رسالت ختم ہو گئی.


رونق از ما محفلِ ایام را
او رسل را ختم و ما اقوام را

ترجمہ : اب زمانے کی مجلس میں رونق ہمارے ہی دم سے رہے گی. ہمارے رسول رسولوں کے خاتم تھے، ہم قوموں کے خاتم ہیں.


لا نبی بعدی ز احسانِ خداست
پردۂ ناموسِ دینِ مصطفٰی است

ترجمہ : رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، یہ خدا کا احسان ہے اور یہ دینِ مصطفٰی کے ناموس کا پردہ ہے.


قوم را سرمایۂ قوت ازو
حفظِ سرِ وحدت ملت ازو

ترجمہ : قوم کو قوت ملتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی سے ملتی ہے اور ملت کی وحدت کا راز بھی اسی پاک ذات کی بدولت محفوظ ہے.


حق تعالیٰ نقشِ ہر دعویٰ شکست
تا ابد اسلام را شیرازہ بست

ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے ہر دعوے کا نقش مٹا دیا اور اسلام کا شیرازہ ابد تک کے لیے باندھ دیا.


دل ز غیر اللہ مسلمان بر کند
نعرۂ لا قوم بعدی می زند

ترجمہ : مسلمان جب غیر اللہ سے دل کا تعلق توڑ لیتا ہے تو لا قوم بعدی کا نعرہ لگاتا ہے یعنی میرے بعد کوئی قوم نہیں ہے.

تشریح :

آپ نے جو کتاب دنیا کو عطاء فرمائی ہے وہ مومن کے دل کے لئے بلاشبہ موجبِ تقویت ہے اور اس کی حکمت، ملتِ اسلامیہ کے حق میں وہی حیثیت رکھتی ہے جو شہ رگ انسان کے حق میں یعنی اس کی حکمت ملتِ اسلامیہ کی زندگی کا سبب ہے.

حکمت کا لفظ اس آیت سے ماخوذ ہے

يَتْلُوا عَلَيْهِمْ اٰيَاتِهِ وَيُنَ لَيْهُمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ایک عظیم الشان رسول کو مبعوث کیا ہے جو انسانوں کو ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے. اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے.

اس آیت میں کتاب اور حکمت دو لفظ آئے ہیں. کتاب سے قرآن حکیم مراد ہے اور حکمت سے سنتِ نبوی مراد ہے. اس لئے اس مصرع کا مطلب یہ ہو گا کہ اگر ملتِ اسلامیہ حضورِ انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو ترک کر دے تو فنا ہو جائے گی. چنانچہ اگلے شعروں میں اقبال نے خود اس مصرع کی تشریح کر دی ہے کہ اگر ملتِ اسلامیہ آپ کا دامن چھوڑ دے تو فنا ہو جائے گی. قوم کو آپ ہی کے دم سے زندگی نصیب ہوتی ہے. کہتے ہیں کہ فرد تو اللہ کے حکم سے یا اس کی صفت قیومیت کی بدولت زندہ ہے لیکن ملت (قوم) اسلامیہ محض آپ کے وجود با جود کے سہارے قائم ہے. آپ نہ ہوتے تو ملتِ اسلامیہ کہاں ہوتی.

نوٹ :۔ اس شعر کو منطقی پیمانہ سے نہیں ناپنا چاہیے. کیونکہ اقبال ہم سے بہتر جانتے تھے کہ فرد اور ملت دونوں کی زندگی اللہ تعالیٰ ہی کی صفتِ خالقیت ربوبیت اور قومیت پر منحصر ہے. یہاں جو انہوں نے تفریق کی ہے، وہ شاعرانہ اندازِ بیان پر مبنی ہے یعنی انہوں نے اس حقیقت کو کہ اگر آپ نہ ہوتے تو ملت بھی نہ ہوتی. اور آج بھی اگر ملت زندہ ہے تو آپ ہی کے دم سے زندہ ہے. اس انداز سے بیان کیا کہ اس میں بڑی دلکشی پیدا ہو گئی ہے.

اب اقبال تیسری بات کہتے ہیں. اس سے پہلے وہ دو باتیں کہہ چکے ہیں.

(1) ملتِ اسلامیہ کی پیدائش (۲) حضورِ انور صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ. وہ تیسری بات یہ ہے کہ

ہم مسلمان جو ایک قوم ہیں وہ محض اس لئے کہ ہم سب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا ہیں. ہمارے اندر جو یہ وحدت پائی جاتی ہے (یعنی ہم سب ہمنوا ہیں، ہم نفس ہیں اور ہم دعا ہیں) اس کا سبب یہ ہے کہ ہم سب ایک ہی آقا کے غلام ہیں.

اگر بہت سے افراد ہم مدعا ہو جائیں تو اُن میں وحدت پیدا ہو جاتی ہے اور اگر اس وحدت میں پختگی پیدا ہو جائے تو پھر وہ سب ایک قوم بن جاتے ہیں.

ہر کثرت یعنی ہر جماعت (قوم) وحدتِ افکار و کردار ہی کی بدولت زندہ رہ سکتی ہے

مسلمانوں کی وحدت کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ وہ سب دینِ فطرت کے پیروکار ہیں اور اس دینِ فطرت نے ان میں وحدتِ افکار و کردار پیدا کر دی ہے.

اور دینِ فطرت کی تعلیم جو نعمتِ کُبریٰ ہے، ہمیں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت نصیب ہوئی. یہ موتی ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی مہربانی کی بدولت حاصل ہوا اور یہ آپ ہی کا احسان ہے کہ ہم ایک قوم ہیں.

آخر میں اقبال نے یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ جس طرح حضور خاتم الانبیاء ہیں، اسی طرح آپ کی قوم خاتم الاقوام ہے.

اللہ تعالیٰ نے ہم پر شریعت ختم کر دی یعنی اب کوئی نبی نہیں آئے گا. اب قیامت تک دنیا کی رونق ہمارے ہی دم سے ہے.

او رسل را ختم و ما اقوام را

یعنی آپ پر رسولوں کا خاتمہ ہو گیا اور ہم پر قوموں کا.

نوٹ :۔ یہ شعر قصیدہ بردہ کے اس شعر سے ماخوذ ہے:-

لَما دَعَا اللهُ دَاعِيْنَا لطَاعِتَه
بِاکرَمِ الرُّسُلِ كُنَّا أَكْرَمَ الا جم

جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو ہمیں اللہ کی اطاعت کی طرف بلاتے ہیں، سب رسولوں کا سردار (اکرم الرسل) کہہ کر پکارا تو ہم (قدرتی طور پر) سب قوموں کے سردار ہو گئے.

اللہ نے اپنے میخانہ کا آخری جام ہمیں عطاء فرما دیا. اب ہم ہی قیامت تک ساری دنیا کو اس جام (شریعتِ محمدیہ) سے سیراب کرتے رہیں گے.

سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ ارشاد فرمایا کہ :۔

انا خاتم النبیین لا نبي بعدي

ترجمہ : میں سلسلۂ انبیاء کا ختم کرنے والا ہوں. میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا.

یہ ارشاد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی عزت کا محافظ ہے یعنی قیامت تک کوئی شخص آپ کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتا.

اللہ تعالیٰ نے ہر مدعی نبوت کے دعویٰ کو باطل کر دیا اس لئے قیامت تک دینِ اسلام ہی کا سکہ رواں رہے گا.

یہ مصرع اس آیت سے ماخوذ ہے :

ما كان محمد ابا احد من رجالكم وولكن رسول الله و خاتم النبيين یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ آپ تو اللہ کے رسول ہیں اور انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں.
حضورِ انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں "لا نبی بعدی" فرمایا یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا.

نوٹ :۔ جو مسلمان حضورِ انور کے بعد کسی شخص کو نبی تسلیم کرے. ظلی یا بروزی، حقیقی یا مجازی، تشریعی یا غیر تشریعی، مستقل یا غیر مستقل - وه دائرۂ اسلام سے خارج ہے.

شرح : پروفیسر یوسف سلیم چشتی مرحوم

پیشکش : قیصر ندیم

 بالِ جبریل سے انتخابغزلیات حصہ دومانیسویں غزل کمالِ تَرک نہیں آب و گِل سے مہجوریکمالِ ترک ہے تسخیرِ خاکی و نوریمَیں ایس...
28/04/2026



بالِ جبریل سے انتخاب

غزلیات حصہ دوم

انیسویں غزل

کمالِ تَرک نہیں آب و گِل سے مہجوری
کمالِ ترک ہے تسخیرِ خاکی و نوری

مَیں ایسے فقر سے اے اہلِ حلقہ باز آیا
تمھارا فقر ہے بے دَولتی و رنجوری

نہ فقر کے لیے موزُوں، نہ سلطنت کے لیے
وہ قوم جس نے گنّوایا متاعِ تیموری

سُنے نہ ساقیِ مہ‌وَش تو اور بھی اچھّا
عیارِ گرمیِ صُحبت ہے حرفِ معذوری

حکیم و عارف و صُوفی، تمام مستِ ظہور
کسے خبر کہ تجلّی ہے عین مستوری

وہ مُلتفت ہوں تو کُنجِ قفَس بھی آزادی
نہ ہوں تو صحنِ چمن بھی مقامِ مجبوری

بُرا نہ مان، ذرا آزما کے دیکھ اسے
فرنگ دل کی خرابی، خرد کی معموری

پہلے چار اشعار کی تشریح

پہلا شعر

اس شعر میں علامہ اقبال نے اسلام کی ایک خصوصیت کو بڑی عمدگی کے ساتھ واضح کیا ہے یعنی ترکِ دنیا کے اسلامی تصور اور غیر اسلامی تصور میں جو فرق ہے اس کو دلنشیں انداز میں بیان کیا ہے.

اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ دنیا کو ترک کرکے کسی پہاڑ کی کھوہ میں زندگی بسر کرنا یہ ترکِ دنیا نہیں ہے بلکہ بزدلی ہے. ہمت کی پستی ہے اور خلافِ فطرت زندگی ہے. اسلام کے زاویۂ نگاہ سے ترکِ دنیا کا مفہوم یہ ہے کہ انسان پہلے اس کائنات کو مسخر کرے اور اس کی قوتوں پر غالب آنے کے بعد یعنی دولت، ثروت، عزت اور حکومت حاصل کرنے کے بعد پھر ان سب چیزوں کو اللہ کے لئے ترک کر کے شانِ فقر اختیار کرے جس طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ترکِ دنیا کا نمونہ دنیا والوں کے سامنے پیش کیا کہ وہ عرب، عجم، عراق، ایران، شام اور مصر کے فرماں روا تھے. لاکھوں بلکہ کروڑوں انسانوں پر حکمراں تھے. اس کے باوجود اُن کے کُرتے میں پیوند لگے ہوئے تھے اور چٹائی پر سوتے تھے.

فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہی کے ایک غلام نے جس کا نام عالمگیر تھا ہندوستان کے باشندوں کو ترکِ دنیا کا اسلامی نمونہ دکھایا کہ پچاس سال تک سارے ہندوستان پر حکومت کی لیکن خزانہ شاہی سے کوئی رقم اپنی بسر اوقات کے لئے وصول نہیں کی بلکہ ٹوپیاں اور رومال سی کر اپنی روزی کا سامان مہیا کیا. ان تاریخی شواہد کو مد نظر رکھ کر اس شعر کو پڑھیے تو اس کی صداقت کا صحیح اندازہ ہو سکے گا.

دوسرا شعر

اہلِ حلقہ سے مراد ہے صوفیوں کی وہ جماعت جو خانقاہوں میں حلقہ باندھ کر ذکر کرتی ہے لیکن شانِ فقر سے محروم رہتی ہے بلکہ محکومی، بے دولتی اور مسکینی میں زندگی بسر کرتی ہے اسی لئے اس قسم کے فقر سے بیزار ہیں.

تیسرا شعر

وہ قوم جس نے عالمگیر کی اس عظیم الشان سلطنت کو جو ہندوستان اور افغانستان تک پھیلی ہوئی تھی اپنی عیاشی اور بدکاری کی بدولت صرف 32 سال کی قلیل مدت میں ہمیشہ کے لئے فنا کر دیا. واقعی کسی عزت کی مستحق نہیں ہے وہ قوم نہ فقر کی صلاحیت رکھتی ہے نہ سلطنت کی.

واضح ہو کہ حضرت عالمگیر نے 1707ء میں رحلت فرمائی اور نادر شاہ نے 1739ء میں دلی میں قتلِ عام کر کے سلطنت مغلیہ کا وقار ختم کر دیا یعنی جاٹوں، راجپوتوں، مرہٹوں اور ایرانی پارٹی جملہ "ہوا خواہان سلطنت" کو معلوم ہو گیا کہ ہم تو اپنی نادانی کی بدولت ایک نعش کی پرستش کر رہے تھے چنانچہ دس پندرہ سال کے اندر اندر ان سب نے مل کر اس عظیم الشان سلطنت کا خاتمہ کر دیا. جب شاہ عالم ثانی 1759ء میں تخت نشین ہوا تو اُس کی سلطنت کے رقبہ کا اندازہ اس مختصر جملہ سے ہو سکتا ہے.

حکومت شاہ عالم از دہلی تا پالم

دلّی سے پالم کا فاصلہ صرف دس میل ہے.

چوتھا شعر

اگر ساقی میری طرف متوجہ نہیں ہے تو یہ کوئی رنجیدہ ہونے کی بات نہیں ہے کیونکہ وہ جس قدر تغافل کرے گا اسی قدر اس کی طرف میرا التفات زیادہ ہو گا اور یہ شدتِ التفات یقیناً کامیابی کی ضامن ہے. میخانہ میں جتنا زیادہ وقت صرف ہو میخوار کے لئے قطعاً تکلیف دہ نہیں ہے اسی طرح سالک صحبتِ شیخ میں جس قدر زیادہ وقت صرف کرے گا اُس کے حق میں اُتنا ہی مفید ہو گا. اگر شیخ متوجہ نہ ہو تو سالک اپنی ارادت کیشی اور اس کی خدمت میں حاضر رہنے کی بدولت یقیناً شیخ کی توجہ ایک نہ ایک دن اپنی طرف مبذول کر لے گا اور یہ کامیابی کی بنیاد ہے.

شرح : یوسف سلیم چشتی مرحوم

پیشکش : قیصر ندیم

 صحیح بخاری - حدیث 644 كِتَابُ الأَذَانِکتاب: اذان کے مسائل کے بیان میںبَابُ وُجُوبِ صَلاَةِ الجَمَاعَةِباب: جماعت سے نم...
27/04/2026



صحیح بخاری - حدیث 644

كِتَابُ الأَذَانِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

بَابُ وُجُوبِ صَلاَةِ الجَمَاعَةِ
باب: جماعت سے نماز پڑھنا فرض ہے

وقال الحسن إن منعته أمه عن العشاء في الجماعة شفقة لم يطعها‏.‏

ترجمہ : اور امام حسن بصری نے کہا کہ اگر کسی شخص کی ماں اُس کو محبت کی بنا پر عشاء کی نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جانے سے روک دے تو اس شخص کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ماں کی بات نہ مانے.

644 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ، فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاَةِ، فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ، أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا، أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ، لَشَهِدَ العِشَاءَ»

ترجمہ : ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی، انھوں نے اعرج سے، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں. پھر نماز کے لیے کہوں، اس کے لیے اذان دی جائے پھر کسی شخص سے کہوں کہ وہ امامت کرے اور میں ان لوگوں کی طرف جاؤں (جو نماز باجماعت میں حاضر نہیں ہوتے) پھر انھیں اُن کے گھروں سمیت جلا دوں. اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر یہ جماعت میں نہ شریک ہونے والے لوگ اتنی بات جان لیں کہ انھیں مسجد میں ایک اچھے قسم کی گوشت والی ہڈی مل جائے گی یا دو عمدہ کُھر ہی مل جائیں گے تو یہ عشاء کی جماعت کے لیے مسجد میں ضرور حاضر ہو جائیں.

تشریح : اس حدیث سے نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا جس قدر ضروری معلوم ہوتا ہے وہ الفاظِ حدیث سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تارکینِ جماعت کے لیے اُن کے گھروں کو آگ لگانے کا ارادہ ظاہر فرمایا. اسی لیے جن علماء نے نماز کو جماعت کے ساتھ فرض قرار دیا ہے یہ حدیث اُن کی اہم دلیل ہے. علامہ شوکانی فرماتے ہیں: والحدیث استدل بہ القائلون بوجوب صلوٰۃ الجماعۃ لانہا لو کانت سنۃ لم یہدد تارکہا بالتحریق۔ یعنی اس حدیث سے اُن لوگوں نے دلیل پکڑی ہے جو نماز باجماعت کو واجب قرار دیتے ہیں. اگر یہ محض سنت ہوتی تو اس کے چھوڑنے والے کو آگ میں جلانے کی دھمکی نہ دی جاتی.

بعض علماء کہتے ہیں کہ اگر نماز باجماعت ہی فرض ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بغیر جلائے نہ چھوڑتے. آپ کا اس سے رک جانا اس امر کی دلیل ہے کہ یہ فرض نہیں بلکہ سنت مؤکدہ ہے. نیل الاوطار میں تفصیل سے ان مباحث کو لکھا گیا ہے.
(مکتبہ شاملہ)

یعنی جو لوگ گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں اور نماز عشاء باجماعت نہیں پڑھتے تو میں لکڑیاں جمع کرنے اور نماز قائم کرنے کا حکم دے کر اُن لوگوں کے گھروں میں جاؤں اور ان کو جلا دوں. ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر وہ مسجد میں عشاء کی نماز باجماعت پڑھنے کی صورت میں گوشت والی موٹی ہڈی یا بکری کے خوبصورت کھر پانے کی امید کریں تو دوڑ کر مسجد میں آئیں.

ظاہر ہے کہ یہ زجر و توبیخ منافقوں کے لئے تھی کیونکہ یہی لوگ عشاء کی نماز سے سنتی کرتے تھے جیسے سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "فجر اور عشاء منافقوں پر بہت گراں ہے" اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : و اذا قاموا الى الصلوة قاموا كسالى یعنی جب منافق نماز کے لئے اُٹھتے ہیں تو تھکے ماندے کھڑے ہوتے ہیں. یہی لوگ تھے جو عظمِ سمین کو حضورِ جماعت پر ترجیح دیتے تھے. صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جن کو سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کے ستارے فرمایا اور اُن میں سے ہر ایک کی اقتداء کو اھتداء کا سبب فرمایا اور یہ فرمایا کہ میرے صحابہ پر سب و شتم نہ کرو اگر بعد میں آنے والے لوگ پہاڑوں سونا خرچ کر دیں تو اُن کے ثواب کے عشرِ عشیر کو بھی نہیں پہنچ سکتے تو اُن سے ایسی کمینی حرکت کیسے متصور ہو سکتی تھی".

اس تقریر سے یہ واضح ہو گیا کہ اس حدیث سے نماز باجماعت کی فرضیت پر استدلال درست نہیں ہے. حنفی مشائخ نے کہا کہ نماز باجماعت واجب ہے اور اس کو سنتِ مؤکدہ کہنا اس لئے ہے کہ اس کا وجوب سنت سے ثابت ہے. اور عُذر کے ساتھ جماعت ساقط ہو جاتی ہے. لہٰذا بیمار، نابینا وغیرہ پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب نہیں جبکہ اُن کو کوئی شخص مسجد میں لے جانے والا نہ ہو ورنہ اُن پر بھی امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک واجب ہے. اگر مسجد میں جماعت نہ پا سکے تو گھر میں اپنے افرادِ خانہ کے ساتھ نماز باجماعت پڑھ لے یہ ایسی ہی ہے جیسی مسجد میں نماز باجماعت پڑھی.

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ افضل کے ہوتے مفضول امامت کر سکتا ہے جبکہ اس میں مصلحت ہو اور یہ کہنا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کوئی دوسرا شخص امامت نہیں کر سکا صحیح نہیں اور وہ اس سے ناواقف ہے کہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں پانچ روز ایامِ مرض میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے رہے تھے اور خود سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں فجر کی نماز پڑھی.
(تفہیم البخاری - جلد اول - صفحہ 997-998)

والله اعلم بالصواب

جاوید نامہعلامہ اقبال رحمۃ اللہبودھ دھرم میں انسان کا تصورواضح ہو کہ بودھ دھرم اور جین دھرم دراصل مذہب نہیں بلکہ دو مختل...
26/04/2026

جاوید نامہ

علامہ اقبال رحمۃ اللہ

بودھ دھرم میں انسان کا تصور

واضح ہو کہ بودھ دھرم اور جین دھرم دراصل مذہب نہیں بلکہ دو مختلف فلسفیانہ نظام ہیں. جب تک فلسفہ کے بنیادی اصول سے آگاہی نہ ہو کوئی شخص ان مذاہب کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتا. ان دونوں مذہبوں کے سمجھنے میں دوسری دشواری یہ ہے کہ ان کے بانیوں نے کوئی کتاب اپنی زندگی میں مدون کر کے اپنے پیروکاروں کو نہیں دی. اُن کے مرنے کے بعد اُن کے شاگردوں نے مختلف خیالات پیش کیے، جب اختلافات حد سے بڑھ گئے تو مذہبی مجالس کے انعقاد کا سلسلہ شروع ہوا تا کہ کثرت آراء سے یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ "حق" کہاں ہے ؟ تیسری دشواری یہ ہے کہ جس زبان میں ان مذاہب کا لٹریچر ہے وہ مردہ ہو چکی ہے. چوتھی دشواری یہ ہے کہ مذہبی کتابیں بہت سی ہیں اور ہر شخص نے ان کی شرح اپنی سمجھ کے مطابق کی ہے. آج یہ معلوم کرنا ناممکن ہے کہ دراصل گوتم بدھ نے کیا کہا تھا اور جو کچھ کہا تھا اس کا مطلب کیا تھا ؟

یہی وجہ ہے کہ آج جس قدر لٹریچر بودھ دھرم پر دستیاب ہو سکتا ہے اس میں بڑا ختلاف پایا جاتا ہے اور لُطف کی بات یہ ہے کہ کشمیر کے بودھوں کا مذہب اور ہے، اور لنکا کے بودھوں کا اور، برہما کے بودھوں کا اور اور چین کے بودھوں کا اور

شد پریشاں خوابِ من از کثرتِ تعبیرہا

راقم الحروف (یوسف سلیم چشتی) کو بودھ دھرم اور جین دھرم کا مطالعہ کرتے ہوئے عرصہ دراز گزر چکا ہے لیکن ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکا کہ اس دھرم کی صحیح تصویر کس نے کھینچی ہے.

بہر حال اس کا خلاصہ ذیل میں درج کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ ناظرین کو یہ معلوم ہو سکے کہ اس مذہب نے انسان سے متعلق کسی قسم کا تصور پیش کیا ہے.

(1) واضح ہو کہ بودھ دھرم کا نقطۂ آغاز خدا نہیں ہے بلکہ او دیا (جہالت کا اعلان) ہے یعنی یہ مذہب اس نکتہ سے شروع ہوتا ہے کہ انسان چار بنیادی صداقتوں سے ناواقف ہے. یہ عدم واقفیت اس کی تمام مصائب کی جڑ ہے. گوتم بدھ نے سارناتھ میں اپنے پہلے لیکچر میں ان چار بنیادی صداقتوں کا اعلان کیا تھا:۔

ا۔ زندگی سراسر دُکھ ہے (سروم دکھم)

٢۔ اس دکھ کا ایک سبب ہے (سمودیا)

٣۔ اس دکھ کا ازالہ ممکن ہے (نرودھ)

٤- اس ازالہ کا ایک طریقہ ہے (مارگ)

(2) او دیا تمام مصائب کی جڑ ہے. اس کی تشریح یہ ہے کہ او دیا سے سنسکار (ارادہ) پیدا ہوتا ہے اور سنسکار سے وجنان (شعور) اس سے نام روپ ( نام اور شکل) اس سے حواسِ خمسہ مع عقل، اس سے اتصالِ جسمانی، اس سے ویدان (احساس) اس سے ترشنا ( آرزو خواہش) اس سے اپادنا (وابستگی) اس سے بہاؤ (ہستی) اس سے ولادت، اس سے جرا مرن (بڑھایا اور موت)

(3) بودھ دھرم کا بنیادی تصور یہ ہے کہ زندگی دکھ ہے. ہر انسان دُکھی ہے، دکھ کے ازالہ کی ایک ہی صورت ہے کہ زندگی کو ختم کر دیا جائے، نہ بانس ہو گا نہ بانسری بجے گی.

(4) روح یا نفسِ ناطقہ کی ماہیت میں غور و فکر کا نتیجہ تین مذاہب کی شکل میں برآمد ہوا.
(ا) مادیت یعنی روح کا مطلق وجود نہیں ہے.
(ب) مطلقیت یعنی ایک روح مطلق موجود ہے، تمام ارواح اسی مطلق کا عکوس ہیں.
(ج) ثنویت یعنی روح اور مادہ دونوں موجود ہیں.

بودھ دھرم کی تعلیم ان سب سے جداگانہ ہے یعنی اگرچہ کوئی ایسی شئے موجود نہیں ہے جسے ہم آتما (روح) کہہ سکیں مگر ایک شئے ہے جو مادی نہیں ہے اور فعلیت سے بالکل معریٰ بھی نہیں ہے، جب وہ جسم سے جدا ہو جاتی ہے تو جسم مر جاتا ہے یعنی نفس ناطقہ کی مثیل ایک شئے تو ہے مگر وہ مستقل بالذات نہیں ہے.

ہماری شخصیت یا انفرادیت روپ اور نام سے مرکب ہے. روپ - عناصر اربعہ کے مجموعہ کا نام ہے (آب و آتش و خاک و باد)
نام - یہ بھی چار قوتوں کے مجموعہ کا نام ہے (احساس تخیل ۔ ارادہ اور عقل)
چونکہ ہمارے احساسات، تخیلات، ارادہ، مزاج، عادات، جذبات، میلانات ہر آن متغیر ہیں اس لئے سب غیر حقیقی ہیں لہذا ہماری روحانی زندگی میں کوئی شئے ایسی نہیں ہے جیسے آتما سے تعبیر کیا جائے یعنی بودھ دھرم میں نہ خدا ہے نہ روح. بس انسان میں گیان دھار پائی جاتی ہے یعنی شعور کا تسلسل ہے جسے جہلاء روح سمجھتے ہیں.

(5) چونکہ ہمارا شعور بھی مختلف عوامل کا نتیجہ ہے اس لئے وہ بھی مستقل بالذات نہیں ہے اور اسی لئے مختلف قالبوں میں منتقل نہیں ہو سکتا. پچھلی زندگی سے اگلی زندگی اسی طرح سرزد ہوتی ہے جس طرح ایک بجھی ہوئی شمع سے دوسری شمع جلائی جائے.

(6) نہ روح ہے نہ تناسخِ ارواح ہے مگر کرم کا قانون جاری ہے اس کی رو سے جب زید (فرضی نام) کی شخصیت فنا ہوتی ہے تو موہن (فرضی نام) کی شخصیت اُس کی جگہ لے لیتی ہے. یہ نئی شخصیت نہ تو پرانی ہوتی ہے (کیونکہ تو فنا ہو گئی) اور نہ پرانی شخصیت سے بے تعلق ہوتی ہے کیونکہ اس میں پرانی شخصیت کے اعمال کے ثمرات منتقل ہو جاتے ہیں. اسی طرح سابقہ شخصیت سے رشتہ قائم ہو جاتا ہے.

اس کی مثال بھی شمع سے مل سکتی ہے. ایک شمع جو جل رہی ہے وہ ہر آن فنا ہو رہی ہے، نیا تیل اوپر چڑھتا ہے بتی کا نیا حصہ جل کر فنا ہوتا ہے مگر لَو کا تسلسل چونکہ قائم ہے اس لئے غلطی سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہی شمع جل رہی ہے.

(7) اگر انسانوں کو معلوم ہو جائے کہ آتما کا مستقل وجود نہیں ہے، محض شعور کا تسلسل ہے تو ان میں دنیا طلبی اور باقی رہنے کی آرزو دونوں کا خاتمہ ہو جائے یعنی دکھ کا ازالہ ہو جائے. اس کی صورت یہ ہے کہ اشٹنگ مارگ (طریق ہشت گانہ) پر عمل کیا جائے وہ مارگ یہ ہے :۔ صحیح عقائد، صحیح ارادہ، صحیح قول، صحیح فعل، صحیح طریقِ حیات، صحیح کوشش، صحیح علم اور صحیح مراقبہ.

اس مارگ پر چل کر ایک سالک اسی دنیا میں نروان حاصل کر لیتا ہے جسے ہندو دھرم میں جیون مکتی کہتے ہیں. چونکہ سالک کی روح آرزو سے معریٰ ہو جاتی ہے اس لئے جب وہ مرتا ہے تو اس میں یہ قابلیت ہی نہیں ہوتی کہ کسی قالب سے مربوط ہو سکے وہ بھی جسم کے ساتھ نروان میں چلی جاتی ہے.

(8) اگر کوئی یہ سوال کرے کہ موت کے بعد اس نجات یافتہ شخص کا کیا حال ہوتا ہے یعنی اسے کیا صلہ ملا؟ وہ تتھا گت (روحِ منور) اب کہاں ہے ؟ تو ناظرین یہ سن کر حیران رہ جائیں گے کہ مہاتما گوتم بدھ نے پایں ہمہ ادعائے دانش، اس معقول سوال کا نہایت غیر معقول جواب دیا ہے جسے سن کر شاید بچوں کو بھی اپنی ہنسی ضبط کرنی دشوار ہو جائے. پا سیدک سوتنت میں لکھا ہے کہ گوتم یہ کہا کرتا تھا کہ اس بات کی تحقیق کہ موت کے بعد اس منور انسان کی کیا گت (حالت) ہوئی ؟ وہ کہاں ہے ؟ اور کس حال میں ہے ؟ یہ سب بے سود تحقیق ہے بلکہ دھرم کے خلاف ہے.

اسی طرح اُس نے ایک شاگرد کے سوال کے جواب میں یہ کہا کہ جس طرح یہ سوال بے سود ہے کہ جب شمع گل ہو جاتی ہے تو شعلہ کہاں چلا جاتا ہے؟ اسی طرح یہ سوال بھی بےکار ہے کہ جب کسی انسان کو نروان حاصل ہو گیا تو وہ کہاں چلا جاتا ہے؟ یا کس حال میں ہوتا ہے؟

ناظرین! یہ ہے بودھ دھرم میں انسان کا تصور جس کے مطالعہ کے بعد یہ مصرع بے ساختہ زبان پر جاری ہو جاتا ہے.
دہن کا ذکر کیا یاں سر ہی غائب ہے گریباں سے

جب انسان ہی کا کوئی مستقل وجود نہیں تو پھر اس کا تصور چہ معنی؟

شرح : پروفیسر یوسف سلیم چشتی مرحوم

پیشکش : قیصر ندیم

Address

Gulzar-e-Quaid Airport Housing Society
Rawalpindi
46300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Jareeda posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Urdu Jareeda:

Share