Urdu Jareeda

Urdu Jareeda اسلامی اصلاحی مضامین، سبق آموز واقعات، اردو ادب، شاعری، حکایات، ناولز اور اقتباسات کا خوبصورت خزانہ
ہم بھی کچھ دن چپ رہیں گے،
پھر سنبھل جائیں گے، وقت کی طرح۔

میری آرزو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری جستجو مدینہ
-
Your Feedback Is Very Important For Us So Please Send Your Feedback at [email protected]

  سورة المائدة - آیت 112ترجمہ : جب حواریوں نے کہا تھا اے عیسٰی بن مریم (علیہ السلام) کیا تیرا رب یہ کر سکتا ہے کہ ہم پر ...
25/09/2026



سورة المائدة - آیت 112

ترجمہ : جب حواریوں نے کہا تھا اے عیسٰی بن مریم (علیہ السلام) کیا تیرا رب یہ کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان اتارے۔ (198) (ان کی اس تجویز پر) (عیسٰی علیہ السلام نے) کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ (199)

تفسیر

198 - کیونکہ وہ مسلمان تھے اس لیے انہیں اس میں تو شک نہ تھا کہ مائدہ (خوان) نازل کرنے کی اللہ تعالٰی قدرت رکھتا ہے یا نہیں۔ بلکہ وہ یہ دریافت کر رہے تھے کہ کیا اللہ تعالٰی کی حکمت اور ارادہ اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ ہم پر مائدہ اتارے یعنی کوئی حکمت مائدہ کے نزول میں مانع تو نہیں۔ بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ يستطيع بمعنی يطيع ہے۔ یعنی اگر آپ مائدہ کے نزول کی دعا کریں تو کیا اللہ تعالٰی آپ کی یہ دعا قبول فرمائے گا۔

199 - عیسٰی علیہ السلام کے ماننے والے بنی اسرائیل کے چشم و چراغ تھے۔ نئی نئی تجویزیں پیش کرنا اور انہیں منوانا اُن کا آبائی شعار تھا۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام اُن کو فرماتے ہیں کہ چھوڑو ان حجت بازیوں کو اور اپنے آپ کو امتحان میں نہ ڈالو۔ ایسا نہ ہو کہ اپنے بڑوں کی طرح تم بھی شُکرِ نعمت سے قاصر رہو اور اُس سزا کے مستحق ٹھہرو جو ناشُکروں کے لیے مقرر ہے۔
(ضیاء القرآن - جلد اول - صفحہ 522)

یعنی ایک مومن کیلئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے معجزات کی فرمائش کرے، کیونکہ ایسی فرمائشیں تو عام طور پر کافر لوگ کرتے رہے ہیں۔ البتہ جب انہوں نے یہ وضاحت کی کہ خدا نخواستہ اس فرمائش کا منشا ایمان کا فقدان نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ کر مکمل اطمینان کا حصول اور ادائے شکر ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعا فرما دی۔
(مفتی تقی عثمانی)

چونکہ حواریوں کا ذکر آ گیا تھا اِس لیے سلسلۂ کلام کو توڑ کر جملۂ معترضہ کے طور پر یہاں حواریوں ہی کے متعلّق ایک اور واقعے کی طرف بھی اشارہ کر دیا گیا، جس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ مسیح علیہ السلام سے براہِ راست جن شاگِردوں نے تعلیم پائی تھی وہ مسیح علیہ السلام کو ایک انسان اور محض ایک بندہ سمجھتے تھے اور اُن کے وہم و گمان میں بھی اپنے مرشد کے خدا یا شریکِ خدا یا فرزندِ خدا ہونے کا تصوُّر نہ تھا. نیز یہ کہ مسیح علیہ السلام نے خود بھی اپنے آپ کو اُن کے سامنے ایک بندۂ بے اِختیار کی حیثیت سے پیش کیا تھا.
یہاں یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ جو گفتگو قیامت کے روز ہونے والی ہے، اس کے اندر اس جملۂ معترضہ کا کون سا موقع ہو گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جملۂ معترضہ اُس گفتگو سے متعلق نہیں ہے جو قیامت کے روز ہو گی، بلکہ اُس کی اس پیشگی حکایت سے متعلق ہے جو اس دنیا میں کی جا رہی ہے. قیامت کی اس ہونے والی گفتگو کا ذکر یہاں کیا ہی اس لیے جا رہا ہے کہ موجودہ زندگی میں عیسائیوں کو اُس سے سبق ملے اور وہ راہِ راست پر آئیں. لہٰذا اس گفتگو کے سلسلے میں حواریوں کے اس واقعے کا ذکر بطور ایک جملۂ معترضہ کے آنا کسی طرح غیر متعلق نہیں ہے۔
(تفہیم القرآن - مولانا مودودی)

واللہ اعلم بالصواب

رموزِ بے خودی علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ فصل دہم درمعنی ایں کہ وطن اساسِ ملت نیست(وطن اساسِ ملت نہیں ہے)استدراک میکياولی...
24/09/2026

رموزِ بے خودی

علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ

فصل دہم

درمعنی ایں کہ وطن اساسِ ملت نیست
(وطن اساسِ ملت نہیں ہے)

استدراک

میکياولی پر نوٹ

اقبال نے اس فصل میں اجمالی طور پر میکیاولی کے فلسفہ سیاست پر تنقید کی ہے۔ ناظرین کی سہولت کی خاطر میں اس کی قدرے وضاحت کئے دیتا ہوں :۔۔

میکیاولی کے سوانح :

ازمنہ وسطیٰ کا یہ مشہور سیاسی مفکر 1469ء میں اٹلی کے مشہور شہر فلارنس میں ایک دولت مند گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔ اُس نے اپنی زندگی کا آغاز وزارتِ خارجہ میں ایک کلرک کی حیثیت سے کیا۔ لیکن اپنی ذاتی قابلیت کی بدولت بہت جلد اونچے مرتبہ پر پہنچ گیا۔ چنانچہ جمہوریہ فلارنس نے سولہویں صدی کے آغاز میں اُس کو اپنا سفیر بنا کر لوئی دواز دہم کے دربار میں بھیجا۔ چونکہ 1512ء میں جمہوریہ فلارنس کا خاتمہ ہو گیا۔ اس لئے میکیاولی مجبوراً گوشہ نشین ہو گیا۔ اور اس حالتِ عزلت میں اُس نے دو کتابیں لکھیں۔

(۱) مقالاتِ سیاسی (۲) کتاب الملوک

اُس نے 1527ء میں وفات پائی۔

پندرہویں اور سولہویں صدی میں اٹلی کی سیاسی حالت جس وقت میکیاولی نے ہوش سنبھالا تو اُس نے دیکھا کہ میرا ملک طوائف الملوکی، خانہ جنگی اور امراء کی ریشہ دوانیوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ دولتمندوں سے لے کر دوکاندار اور مزدور تک عیاشی میں مستغرق ہے۔ ان باتوں سے بڑھ کر تکلیف دہ بات یہ تھی کہ اُسقفِ اعظم (پوپ) اور اُس کے حاشیہ نشین لوگوں کے سامنے اپنے طرزِ عمل سے بہت برا نمونہ پیش کر رہے تھے۔
(میکیاولی اور اُس کے عہد کے دوسرے مصنفین اور موجودہ زمانے کے مورخین نے پوپوں اور اُن کے ماتحتوں کی زندگیوں کے جو حالات درج کئے ہیں اور جن جن الفاظ سے اُن کو یاد کیا ہے، میں اس شرح میں نہ اُن کو درج کر سکتا ہوں اور نہ کرنا چاہتا ہوں۔ مبادا اس ملک کے رومن کیتھولک باشندے اُن تصریحات کو "دل آزاری" سے تعبیر کریں)

دوسرے اطالوی مصنفین اور مفکرین کی طرح میکیاولی نے کلیسائے روم ہی کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے مقالات میں یوں رقم طراز ہے :۔

"ہم اطالوی لوگ رومی کلیسا اور اس کے پادریوں ہی کی وجہ سے اس قدر لامذہب اور بدکردار ہو گئے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر مصیبت یہ ہے کہ اس کلیسا نے ہمارے ملک کو شدید قسم کے انتشار میں مبتلا کر دیا ہے۔ نہ تو اس میں خود اتنی طاقت ہے کہ وہ ملک میں اتحاد قائم کر سکے اور نہ وہ دوسروں کو اس کی اجازت دیتی ہے، نتیجہ یہ ہے کہ ہم لوگ ہر قسم کی مصیبت سے دوچار ہو گئے ہیں"

تمام مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ سولہویں صدی میں اطالوی معاشرہ خرابیوں اور بدکاریوں اور اخلاقی برائیوں کی انتہائی پستی میں گرا ہوا تھا۔ بعض مورخین نے اُس زمانے کو "حرامزادوں اور قسمت آزماؤں کا دور" قرار دیا ہے۔

میرا خیال یہ ہے کہ میکیاولی درحقیقت محبِ وطن تھا۔ اُس کا دل اپنے وطن کی بربادی پر ہر وقت کڑھتا رہتا تھا۔ چنانچہ یہ بات اُس کی تصانیف کے مطالعہ سے بالکل واضح ہو سکتی ہے۔ اور چونکہ وہ ایمانداری کے ساتھ رومی کلیسا کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار سمجھتا تھا۔ اس لئے وہ پہلے کلیسا اور بعد ازاں نفسِ مذہب ہی سے متنفر ہو گیا.

بدقسمتی سے اُس کے سامنے صرف ایک ہی مذہب تھا اور اس کو اربابِ کلیسا نے اس درجہ مسخ کر دیا تھا کہ ایک میکیاولی پر کیا موقوف ہے، یورپ کا ہر تعلیم یافتہ آدمی اُس سے بیزار ہو گیا تھا. اکثر مورخین کی رائے یہ ہے کہ یورپ میں ارتیابیت، دہریت، مادیت اور لامذہبیت کی ترویج اور اشاعت کا سب سے بڑا سبب رومی کلیسا کا طرزِ عمل تھا.

میکیاولی کی تصانیف :

اُس نے بہت سی کتابیں لکھیں لیکن اُس کی دو سیاسی تصانیف یعنی کتاب الملوک اور ٹائیٹس لویس کی پہلی دس فصول پر مقالات بہت مشہور ہیں. ان دونوں کتابوں میں جو شئے مشترک ہے، وہ یہ ہے کہ میکیاولی نے حصولِ مقصد کے لئے ہر بات کو جائز قرار دیا ہے.
(اُس کی تعلیمات کی بدولت یورپ اس مقولہ پر عامل ہوا ہے کہ "محبت اور جنگ میں ہر بات جائز ہے")

اُس نے سیاست کو مذہب سے اور اُس کی گرفت سے بالکل آزاد کر دیا۔ اور کئی مقامات میں حکمرانوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ اگر حصولِ مقصد (اور اُس کی نظر میں مقصدِ اعلیٰ صرف یہ ہے کہ مملکت طاقتور ہو جائے) کے لئے اخلاقِ حسنہ کو بالائے طاق رکھنا پڑے تو شوق سے ایسا کر سکتے ہو۔ اصلی چیز مملکت ہے۔ اس لئے اس کے استحکام اور بقاء کے لئے مذہب اور اخلاق دونوں کو بلا تامل قربان کیا جا سکتا ہے.

اُس نے اپنی تصانیف میں مسيحيت کو بھی ہدفِ اعتراضات بنایا ہے، اور اُس کو سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ مسیحی ضابطہ اخلاق انسانوں کے اندر غلامانہ ذہنیت پیدا کرتا ہے. (یہی اعتراض نطشے نے عائد کیا ہے، ملاخطہ ہو اُس کی مشہور تصنیف اینٹی کرائسٹ) چنانچہ وہ مقالات میں رقمطراز ہے :-
"ہمارا مذہب فروتنی، مسکینی اور عاجزی کو سب سے بڑی نیکی قرار دیتا ہے۔ اور دنیاوی مقاصد کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دیگر مذاہبِ عالم، روح کی بلندی، جسم کی طاقت اور اُن صفات کو جن سے بنی آدم میں شوکت اور ہیبت کا رنگ پیدا ہو، اخلاقِ حسنہ سمجھتے ہیں۔ مسیحیت کے اصولوں نے میری رائے میں ہمیں بہت کمزور کر دیا ہے اور اسی لئے ہم بدکاروں کے چنگل میں بآسانی پھنس جاتے ہیں. کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ مسیحیوں کی اکثریت حصولِ بہشت کی خاطر توہین کا انتقام لینے کے بجائے اسے برداشت کرنے کو مناسب بلکہ بہتر خیال کرتی ہے"

اُس نے حکمرانوں کو بےشک یہ مشورہ دیا کہ مملکت کو مستحکم کرنے کے لئے مذہب اور اخلاق دونوں کو پسِ پشت ڈال دو۔ لیکن عوام کے لیے اُس کا فیصلہ یہ ہے کہ انہیں مذہب، اخلاق، انصاف اور ایمانداری ان تمام باتوں کو مدِ نظر رکھنا چاہیے. اُس کی یہی دو رنگی یا منافقت ہے جس نے اُسے بہت زیادہ بدنام کیا۔ اور بجا طور پر کیا۔ اور یہی میکیاولیت ہے۔ اور اسی وجہ سے اقبال نے اُسے "مُرسلِ شیطان" قرار دیا ہے. وہ عوام سے تو یہ کہتا ہے کہ اخلاقِ حسنہ کی پابندی کرو لیکن حکمران کو یہ مشورہ دیتا ہے کہ وطن (اسٹیٹ) کو مستحکم کرنے کے لئے جھوٹ، قریب، دغا، بے ایمانی، مکاری، عیاری سب جائز ہے۔

اسی لئے اُس نے حکمران کی ذات کو مملکت کے قانون کی گرفت سے بالاتر کیا ہے. اور یہیں سے یہ نظریہ پیدا ہوا کہ

"ایک بادشاہ کبھی غلطی نہیں کرتا، کیونکہ کر نہیں سکتا"

گویا جس طرح کلیسا نے پوپ کو معصوم قرار دیا تھا، میکیاولی نے پوپ اور کلیسا کا زور کم کرنے کے لئے حکمران کو معصومیت کا درجہ دے دیا۔

اُس نے حکمرانوں کو صاف لفظوں میں ظلم و ستم، دغا بازی، فریب کاری اور قتل و غارت کا مشورہ دیا ہے. بشرطیکہ ان باتوں سے مملکت کو تقویت حاصل ہو سکے یا اقتدار میں اضافہ ہو سکے. چنانچہ وہ کہتا ہے :۔

"جو بادشاہ اپنے اقتدار کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، اُسے اس حقیقت کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ ہر حال میں نکو کاری لازمی نہیں ہے. بعض اوقات نیکی (صداقت) انسان کے لئے بہت ہی مصائب کا موجب بن جاتی ہے۔ اور بسا اوقات بدی کا راستہ اُس کے لئے پیامِ راحت بن جاتا ہے"

اُس نے یہ بھی تعلیم دی ہے کہ وطن اور اس کی محبت، اس کی خدمت اور اس کا استحکام، یہ انسان کا پہلا فرض ہے. اور اس کے سامنے مذہب اور اخلاق سب کو قربان کر دینا چاہیے. چنانچہ وہ لکھتا ہے :۔

"لیکن جہاں اور جس وقت وطن کی حفاظت اور بقاء کا سوال درپیش ہو تو ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ وہ اس کے لئے اپنی جان قربان کر دے اور اپنے وطن کو بچانے کے لئے سچ اور جھوٹ، عدل اور ناانصافی، مروت اور ظلم، ذاتی عزت اور ذلت سب اصولوں کو بالائے طاق رکھ دے۔ اُس وقت ہر شخص کو اس سوال پر غور کرنا چاہیے کہ میں اپنے وطن کو کس طریقہ سے بچا سکتا ہوں ؟"

میکیاولی کی اس تعلیم کو سامنے رکھ کر، اقبال کے اس مصرع کے معنی بآسانی سمجھ میں آ سکتے ہیں کہ

مملکت را دینِ او معبود ساخت

خلاصہ کلام یہ ہے کہ میکیاولی نے

1 - وطن کو انسانوں کے لئے ایک بت یا معبود بنا دیا۔
2 - مذہب اور اخلاق کو سیاست سے خارج کر دیا۔
3 - جھوٹ اور مکاری بلکہ ہر برائی کو فن بنا دیا۔
4 ۔ تمام یورپ کو اخلاقی قیود سے آزاد کر دیا۔ اور اس طرح الحاد کے لئے راستہ صاف کر دیا۔
5 - مملکت (اسٹیٹ) کو انسانوں کے خیالات بلکہ عقائد پر بھی حکمران بنا دیا۔
6 - اربابِ سیاست کو مذہب سے بیگانہ کر دیا۔

شرح : پروفیسر یوسف سلیم چشتی

پیشکش : قیصر نديم

بالِ جبریل علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ غزلیات حصہ دوم غزل 33خِردمندوں سے کیا پُوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہےکہ مَیں اس فکر م...
22/09/2026

بالِ جبریل

علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ

غزلیات حصہ دوم

غزل 33

خِردمندوں سے کیا پُوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ مَیں اس فکر میں رہتا ہوں، میری انتہا کیا ہے

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پُوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

مقامِ گُفتگو کیا ہے اگر مَیں کیمیاگر ہوں
یہی سوزِ نفَس ہے، اَور میری کیمیا کیا ہے!

نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اُس میں
نہ پُوچھ اے ہم نشیں مجھ سے وہ چشمِ سُرمہ سا کیا ہے

اگر ہوتا وہ مجذوبِ فرنگی اس زمانے میں
تو اقبالؔ اس کو سمجھاتا مقامِ کبریا کیا ہے

نوائے صُبح‌گاہی نے جگر خُوں کر دیا میرا
خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے، وہ خطا کیا ہے!

یہ غزل بلاغت، مضمون آفرینی اور نکتہ سنجی کے اعتبار سے بالِ جبریل کی بہترین غزلوں میں سے ہے، اس لیے اس کا ہر شعر بہت غور سے پڑھنے کے لائق ہے۔

پہلا شعر :

ابتداء اور انتہاء یہ دو لفظ دونوں مصرعوں کی جان ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ان کے تقابل سے شعر میں بڑی دلکشی پیدا ہو گئی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ میں حکماء سے یہ دریافت کرنا نہیں چاہتا کہ میری ابتداء کیا ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ کوئی فلسفی اس بنیادی سوال کا صحیح اور تسلی بخش جواب نہیں دے سکتا کہ انسان کی ابتداء کیونکر ہوئی۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سوال کا جواب عقل کی دسترس سے باہر ہے۔

جب یہ مسلم ہے کہ مجھے اپنی ابتداء کا علم حاصل نہیں ہو سکتا تو میں اس ناممکن بات کے حصول میں اپنا وقت اور اپنی دماغی قوت کیوں ضائع کروں ؟

اس کے بجائے میں یہ غور کرتا رہتا ہوں کہ میری انتہاء کیا ہے ؟ یعنی روحانی اعتبار سے انسان کہاں تک ترقی کر سکتا ہے؟ اور چونکہ اس سوال کا جواب مل سکتا ہے اس لئے میرا فرض یہ ہے کہ میں روحانی ترقی کے لئے کوشش کروں۔

واضح ہو کہ قرآن حکیم نے ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کر دیا ہے کہ انسانی ترقی کی معراج یہ ہے کہ نفسِ انسانی برائی کا حکم دینے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت میں ایسا پختہ ہو جائے اسے اطمینان حاصل ہو جائے اور اس حالت کو قرآن حکیم نے "نفسِ مطمئنہ" سے تعبیر کیا ہے. یہ وہ حالت ہے جب انسان اللہ سے اور اللہ انسان سے راضی ہو جاتا ہے یعنی بندہ اور خدا دونوں کے درمیان کامل موافقت اور ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے۔

شعر کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو لازم ہے کہ اپنی ابتداء پر غور نہ کرے (کیونکہ) اس سوال کا جواب نہ کسی نے دیا ہے، نہ دے سکتا ہے۔ بلکہ پوری توجہ اس امر پر مبذول کرے کہ میں اپنے "نفسِ امارہ" کو "نفسِ مطمئنہ" کے مقام پر کیسے پہنچاؤں ؟

اللہ نے انسان کو ابتداء کا علم نہیں دیا لیکن انتہاء کا علم دے دیا ہے پس معلوم ہو کہ ابتداء کا علم نہ ہمارے لئے ضروری ہے، نہ مفید ورنہ اللہ ہمیں ضرور مطلع فرما دیتا۔

اقبال نے پہلے مصرع میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ انسان کو اپنی ابتداء کا علم حاصل نہیں ہو سکتا۔ میں چاہتا ہوں کہ اُن کے اس دعویٰ پر کچھ شواہد ضرور پیش کر دوں.

واضح ہو کہ جب سے انسان نے غور و فکر کرنا شروع کیا ہے یہ سوال اُسی وقت سے اُس کے پیشِ نظر رہا ہے کہ انسان کی ابتداء کب ہوئی ؟ کیسے ہوئی اور کیوں ہوئی ؟ ہر زمانہ اور ہر ملک میں مختلف حکماء نے اس سوال کے مختلف جواب دیے ہیں جن کو پڑھ کر انسان ورطہ حیرت میں گم ہو جاتا ہے. میں اگر اس سوال کا جواب تفصیل کے ساتھ لکھوں تو یہ شرح فلسفہ کی ڈھائی ہزار سال کی تاریخ بن جائے گی اس لئے اختصاراً چند مشہور نظریات درج کرنے پر اکتفا کرتا ہوں.

(1) ایک گروہ کا خیال یہ ہے کہ انسان ازلی ہے اور اس میں رونح نہیں ہے. صرف سالماتِ مادی کے امتزاج سے خود بخود پیدا ہو گیا ہے، نہ اس کا کوئی خالق ہے اور نہ اس کی پیدائش کا کوئی مقصد ہے چنانچہ مرنے کے بعد ہمیشہ کے لئے فنا ہو جائے گا. (مادیت)

(2) دوسرے گروہ کا نظریہ یہ ہے کہ انسان سالماتِ مادی اور روح دو چیزوں کے مجموعوں کا نام ہے اور یہ دونوں ازلی ہیں۔ روح جسم کی قید میں ہے اور حیاتِ انسانی کا مقصد یہ ہے کہ انسان جسم سے رہائی حاصل کر کے سِد ہو جائے تاکہ اُس کی روح دوبارہ جسم کی قید میں نہ آئے. (جین دھرم)

(3) تیسرے گروہ کی تعلیم یہ ہے کہ جب روح جسم کی قید سے رہا ہو جائے گی تو ایک عرصہ معین تک آزاد رہے گی۔ لیکن اس کے بعد پھر قید میں مبتلا ہو جائے گی اور یہ سلسلہ ہمیشہ یونہی چلتا رہے گا۔ یہ گروہ خدا کی ہستی کا بھی معترف ہے۔ (ہندو دھرم)

(4) چوتھے گروہ کا عقیدہ ہے کہ انسان میں روح تو نہیں ہے لیکن اسے اپنی ہستی کا شعور حاصل ہے اور یہ شعور یا "گیان دھارا" انسان کے مرنے کے بعد دوسرے جسم میں منتقل ہو جاتا ہے اور جب انسان ترسنا (آرزو) کو اپنی زندگی سے بالکل خارج کر دے گا تو نروان حاصل ہو جائے گا۔ (تروان بمعنی فنائے) (بدھ مت)

(5) پانچویں گروہ کا قول یہ ہے کہ انسان کی روح خدا سے صادر ہوتی ہے جس طرح شعاع آفتاب سے صادر ہوتی ہے انسان کا فرض ہے کہ مادیات اور دنیاوی تعلقات سے بکلی کنارہ کش رہے کیونکہ مادہ اور ہر مادی شئے ناپاک ہے اور خدا کی یاد میں زندگی بسر کرے تاکہ مرنے کے بعد قطرہ سمندر سے حاصل ہو جائے۔ (اشراق)

(6) چھٹے گروہ کا فیصلہ یہ ہے کہ درحقیقت صرف خدا موجود ہے۔ انسان کا وجود فریبِ نظر ہے یعنی وہ نظر تو آتا ہے لیکن دراصل موجود نہیں ہے. اس کی مثال ایسی ہے جیسے دوپہر کے وقت دھوپ میں آپ بہت سے طشت محض حسی ہے۔ درحقیقت صرف ایک آفتاب موجود ہے جس کا عکس مختلف برتنوں میں نظر آ رہا ہے۔ (ویدانت)

اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ انسان کو اللہ نے اپنی مرضی سے پیدا کیا ہے یعنی نیست سے ہست کیا ہے اور اس کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ احکامِ الٰہی کی پابندی کر کے دنیا میں خلافتِ الٰہیہ کا مرتبہ حاصل کرے.

ان مذاہب کے علاوہ اور بھی بہت سے مذاہب ہیں جن کا ذکر میں نے بخوفِ طوالت نظر انداز کر دیا ہے. لیکن ان کے مطالعہ سے بھی اقبال کا دعویٰ ثابت ہو سکتا ہے کہ خرد مندوں سے یہ دریافت کرنا بالکل بے سود ہے کہ انسان کی ابتداء کیا ہے ؟ عقلِ انسانی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی اس لئے اقبال نے مرشدِ رومی کی اس نصیحت پر عمل کیا ہے۔

قال را بگذار و مردِ حال شو
پیشِ مردِ کاملے پامال شو

ترجمہ : محض زبانی گفتگو اور دعوے چھوڑ کر عملی کیفیت اختیار کریں اور کسی مردِ کامل کی صحبت میں عاجزی اپنائیں۔ حقیقی قلبی اصلاح صرف کتابی علم یا بحث مباحثے سے نہیں بلکہ کامل رہنما کی رہنمائی اور باطنی عمل سے حاصل ہوتی ہے۔

جب انسانی عقل اس سوال کا جواب دینے سے عاجز ہے تو عقلمند آدمی کے لئے صرف یہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ وہ مردِ کامل یعنی سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور اپنی توجہ حصولِ مقصد پر مرکوز کر دے اور اقبال نے اس شعر میں مسلمانوں کو یہی پیغام دیا ہے کہ اس لایعنی بحث میں اپنا وقت ضائع مت کرو کہ میری ابتداء کیا ہے بلکہ اس بات پر غور کرو کہ میں اپنا مقصدِ حیات کیسے حاصل کر سکتا ہوں.

شرح : پروفیسر یوسف سلیم چشتی

پیشکش : قیصر نديم

وراثت ميں خواتين كا حقہمارے ہاں خواتین کے معاملے میں عملاً یہ مان لیا گیا ہے اور بہت سے جذباتی ہتھکنڈے اور دباؤ استعمال ...
21/09/2026

وراثت ميں خواتين كا حق

ہمارے ہاں خواتین کے معاملے میں عملاً یہ مان لیا گیا ہے اور بہت سے جذباتی ہتھکنڈے اور دباؤ استعمال کر کے خواتین کو بھی اس پر قائل کر لیا گیا ہے کہ وہ باپ یا ماں کے مرنے کے بعد وراثت میں اپنے حصے کا مطالبہ نہ کریں۔ کوئی بہن اگر حصہ مانگ لے تو یہ ناقابلِ معافی جرم ہے کہ وہ بھائیوں سے حصہ مانگتی ہے۔ دین دار لوگ ہیں تو انھوں نے بھی اس کے جواز کے لیے یہ راستہ نکالا ہوا ہے کہ بہنوں سے معاف کروا لیتے ہیں۔ بہت سے دین دار ہیں جو ایسا کروا لیتے ہیں تاکہ یہ کہہ سکیں کہ ہم نے بہنوں کی حق تلفی نہیں کی۔ بھئی، اگر بہن کو یہ منظر نظر آ رہا ہو کہ آج میں لاکھ، ڈیڑھ لاکھ روپے لے لوں گی اور اس کے بعد باقی ساری زندگی کے لیے میرے ساتھ تعلق ختم ہو جائے گا اور اگر رہے گا بھی تو بس برائے نام رہے گا تو اُس نے تو معاف کرنا ہی ہے۔

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر فرمایا کرتے تھے کہ ایسی زبانی کلامی معافی کا کوئی اعتبار نہیں، چاہے بہن دس دفعہ منہ سے کہہ دے یا لکھ کر دے دے کہ میں نے اپنا حق معاف کیا، کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ یہ حقیقت میں طیب خاطر سے معاف نہیں کیا گیا۔ وہ کہتے تھے کہ معافی وہ معتبر ہے کہ آپ بہن کو اُس کا جو حصہ بنتا ہے، وہ الگ کر کے اُس کے سپرد کریں۔ وہ بالفعل اُس کی مالک بن جائے، اُس کو اس میں تصرف کا حق حاصل ہو جائے اور پھر اُس کے بعد وہ اپنی مرضی سے، کسی دباؤ کے بغیر اور کسی طعن و تشنیع یا قطع تعلق کے خوف کے بغیر یہ کہے کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں، میں اپنے بھائی کو دیتی ہوں تو وہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ لیکن جہاں کسی قسم کا کوئی دباؤ، کوئی خوف یا قطع تعلق کا کوئی اندیشہ شامل ہوگا تو اس معافی کا شریعت میں کوئی اعتبار نہیں، بلکہ بعض اکابر صحابہ و تابعین کے ایسے فیصلے موجود ہیں کہ اگر عورت شادی ہونے اور بچے کو جنم دینے سے پہلے اس طرح کا کوئی فیصلہ کرے تو وہ اسے قانوناً نافذ ہی نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ جلیل القدر تابعی عامر شعبی کہتے ہیں کہ قریش کی ایک لڑکی سے اُس کے بھائی نے کہا کہ تم اپنے شوہر کے پاس جانے سے پہلے اپنی وہ میراث جو تمھیں والد کی طرف سے ملی ہے، مجھے ہبہ کر دو۔ لڑکی نے اُس کی بات مان لی، لیکن پھر شادی ہو جانے کے بعد اُس نے اپنی میراث دوبارہ مانگی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ اُسے واپس دلوا دی اور قاضی شریح کو تاکید کی کہ جب تک عورت اپنے شوہر کے گھر میں جا کر ایک سال نہ گزار لے یا ایک بچے کو جنم نہ دے دے، اُس وقت تک اُس کی طرف سے ہبہ کے فیصلے کو نافذ نہ مانا جائے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ۲۱۹۱۴، ۲۱۹۱۶) اس فیصلے کے پیچھے بھی یہی حکمت دکھائی دیتی ہے کہ شادی سے پہلے لڑکی اپنے مال کے متعلق بہتر فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی اور مال کی اہمیت کا احساس اُسے دراصل شوہر اور بچوں والی زندگی سے واسطہ پیش آنے کے بعد ہی ہوتا ہے، اس لیے وراثت میں اپنا حق معاف کرنے یا نہ کرنے کے ضمن میں اُس کا فیصلہ بھی وہی معتبر ہوگا جو وہ اس صورت حال سے سابقہ پیش آنے کے بعد کرے گی۔

منقول

اقبال اپنی نظر میںاقبال نے حیات و کائنات پر جو وسیع اور گہری نظر ڈالی اس سے پیدا شدہ افکار و تاثرات سے اُس کا کلام لبریز...
21/09/2026

اقبال اپنی نظر میں

اقبال نے حیات و کائنات پر جو وسیع اور گہری نظر ڈالی اس سے پیدا شدہ افکار و تاثرات سے اُس کا کلام لبریز ہے لیکن اقبال کی تعلیم و تلقین کا ایک بڑا اہم عنصر چشم بر خویشتن کشادی ہے۔ انسان بدن سے زیادہ ایک نفس ہے اور اُس کے ظاہر سے زیادہ اُس کا باطن اہم ہے۔ اقبال کے کلام سے شروع سے آخر تک مسلسل ارتقائے فکر پایا جاتا ہے۔

ابتداء میں وہ زیادہ تر ”فی کل واد یہیمون“ والا شاعر دکھائی دیتا ہے۔ گرد و پیش کی جس شے سے متاثر ہوتا ہے، اُس کو فنِ لطیف کا لباس پہنا دیتا ہے اور خود اپنے اندر جو کیفیت محسوس ہوتی ہے، اعلیٰ ہو یا ادنیٰ، صلحا و حکماء و عباد کے نزدیک مستحسن ہو یا مشتبہ، سب کو من و عن ببانگِ دہل، یا لطافت کے لحاظ سے یوں کہئے کہ بہ بانگِ چنگ نغموں میں منتقل کر دیتا ہے۔

اگرچہ یہ نغمے جا بجا فریاد کی لے سے بھی خالی نہیں ”کوچہ گرد نے ہوا جس دم نفس فریاد ہے“ ہر شاعر اپنی شاعری میں اپنے متعلق بہت کچھ کہتا ہے۔ کبھی براہِ راست اور کبھی ”گفتہ آید در حدیث دیگراں“ لیکن دنیا عام طور پر شاعروں کے اپنے متعلق بیان کا اعتبار نہیں کرتی۔ نہ صرف اس لئے کہ کبھی وہ کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ اور ہمارے ہاں کے عام بلکہ بعض خاص غزل نویس تو ایک ہی غزل کے مختلف اشعار میں فکر و تاثر کے تضاد کی پروا نہیں کرتے۔

صدیوں سے ہماری شاعری، جس میں ہم فارسی اور اُردو شاعری دونوں کو شامل کرتے ہیں، خلوص اور حقیقت سے عاری رہی ہے۔ قصائد کا دفتر تو دروغ بافی کا ایک طومار ہے۔ ان میں تمام صناعی کے محور خوشامد اور مبالغہ ہیں۔ اس طومار میں کہیں "فن برائے فن" ہے اور کہیں "فن برائے زر"۔ ایسی شاعری میں ش*ذ و نادر ہی اپنی زندگی پر حقیقت طلب نگاہ ڈالی گئی ہے۔ شاعر فقط اپنے اندازِ بیان اور ندرتِ صنعت کی داد حاصل کرنا چاہتا ہے۔
نہ اُس کو اس سے غرض ہے کہ وہ اپنے یا دوسروں کے متعلق سچ کہہ رہا ہے وہ واقعی محسوس کردہ ہیں یا تکلف و تصنع کا نتیجہ ہیں۔ اس لئے کوئی سخن فہم یا نقاد سنجیدہ طور پر اسے قابلِ غور نہیں سمجھتا کہ شاعر نے اپنے متعلق کیا کیا کہا ہے۔ کئی شعراء نے تصوف کے افکار و جذبات سے اپنے کلام میں لطف پیدا کیا، لیکن وہ اپنی زندگی میں عشقِ الٰہی سے کوسوں دور تھے۔
ایسوں ہی کے متعلق شیخ علی حزیں کا قول درست ہے کہ ”تصوف برائے شعر گفتن خوب است۔“
اسی طرح عشقِ مجازی کے احوال و معاملات سے ہمارے اکثر شعراء کے دیوان بھرے پڑے ہیں، لیکن اُن میں بہت سے ایسے ہیں کہ کبھی عشقِ مجازی کے قریب نہیں پھٹکے۔ ہوس پرستی کی شاعری میں ذوق کی صناعی دیکھئے، لیکن اُس کی زندگی میں کہیں یہ دکھائی نہیں دیتا کہ وہ کبھی جنسی عشق کی گرفت میں آیا ہو۔
اُس کی صناعی خود اُس کی غماز ہے کہ یہاں محض "فن برائے فن" ہے اور بیانِ عشق کی تہہ میں کوئی جذبہ کارفرما نہیں۔ امیر مینائی کو دیکھئے کہ تہجد گزار، تسبیح بدست، عابد و زاہد، نہ جنسِ لطیف سے واسطہ اور نہ ہم جنسوں کے کسی قدر غیر فطری عشق سے کوئی تعلق، لیکن محض صناعی کی داد لینے کیلئے برہنہ گوئی اور فحش نگاری سے بھی گریز نہیں۔ شراب کے قطرے سے کبھی زبان آلودہ یا لطف اندوز نہیں ہوئی مگر غزلوں میں پکے شرابی بن رہے ہیں اور شراب بھی وہی افشردہ انگور، ام الخبائث جس پر کبھی صہبائے عشقِ الٰہی کا دھوکا نہ ہو سکے۔

بعض شعراء ایسے ہیں کہ اُن کا واحد مضمون خمریات ہی ہے۔ جام و مینا و خم کی جزئیات، سکر کی نفسی کیفیات، ان کی تعریف و توصیف، کمال درجے کی نکتہ آفرینی اور ترغیب شراب نوشی، لیکن اصل زندگی میں زاہد و پاکباز۔ انہیں وجوہ سے ہماری شاعری میں یہ ایک روایت پیدا ہو گئی کہ شاعر جو کچھ اپنے متعلق کہتا ہے اُس پر نہ اعتبار کرو۔ کیوں کہ اس بیان کا کچھ تعلق اُن کے حقائقِ نفسی سے نہیں ہوتا۔

اقبال کو پھر اگر کوئی شخص اسی قسم کا شاعر سمجھ لے تو اقبال اپنی نظر میں ایک بے حقیقت عنوان بن جاتا ہے۔ لیکن اقبال کی روش شروع سے ہماری روائتی شاعری سے الگ رہی ہے۔ غالب تک بھی محض لطفِ بیان کو وظیفہ فنِ لطیف سمجھتا ہے اور شاعری کا کام کبھی مضمون آفرینی قرار دیتا ہے اور کبھی کہتا ہے کہ ”نگویم اگر نغزنباشد“ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اظہار حقیقت نہیں بلکہ محض نغز گوئی اس کا مطمع نظر ہے۔

اقبال کی شاعری میں شروع ہی سے خلوص نظر آتا ہے۔ جو کچھ محسوس کرتا ہے وہی کہتا ہے اور جب تک طبیعت پر کوئی تاثر طاری نہیں ہوتا، وہ نہ دوسروں کے تقاضے سے شعر کہتا ہے اور نہ صناعی کے شوق سے۔ شعر کہنا تو درکنار جب تک طبیعت میں خاص کیفیت موجود نہ ہو وہ کسی کے تقاضے سے شعر سناتا بھی نہیں۔ فن میں خلوص کا یہ کمال ہمارے شعراء میں الش*ذ کالمعدوم ہے۔

حیات و کائنات کے متعلق اقبال کے افکار و تاثرات بہت کچھ بیان ہو چکے ہیں، لیکن یہ بیان تشنہ رہ جاتا ہے اگر اس کے ساتھ ہی اس کا جائزہ نہ لیں کہ حکیمانہ اور الہامی شاعری کے علاوہ یہ صاحب کامل شخص وقتاً فوقتاً خود اپنے اوپر نظر ڈال کر اپنی کیفیت کس طرح بیان کرتا ہے۔ اقبال ان شعراء میں سے نہیں ہے جن کے فن کو اُن کی زندگی سے کوئی قریبی رابطہ نہیں ہوتا۔
اُس کے کلام کا زیادہ تر حصہ حیات و کائنات کے مظاہر و حوادث پر اُس کے اپنے نفس کا ردِ عمل ہے۔ اُس کے نظریات حیات کی اپنی نفسی کیفیات کے ساتھ وابستہ ہیں۔
ہم اوپر لکھ چکے ہیں کہ شعراء کے اپنے بیان ذات و صفات پر لوگ اس لئے اعتبار نہیں کرتے کہ ان میں کچھ ہم آہنگی نہیں ہوتی اور خلوص کا بھی فقدان ہوتا ہے۔ اگر کوئی کامل یک آہنگی اقبال میں بھی ڈھونڈے، جس کے اندر کوئی داخلی تضاد نظر نہ آئے تو اسے اس طلب میں مایوسی ہو گی۔
اقبال بھی اپنے متعلق مختلف حالات اور کیفیات میں متضاد باتیں کرتا ہے، لیکن یہ تضاد مصنوعی یا وہمی نہیں ہوتا۔ زندگی میں کامل یک آہنگی تو شاید کسی کو بھی نصیب نہیں ہوتی۔ یہ ایک کمالی نصب العین ہے اور جو اس کے حصول کے مدعی ہیں وہ یا دوسروں کو دھوکا دے رہے ہیں یا خود دھوکا کھائے ہوئے ہیں۔ کم و بیش اندرونی پیکار اور مختلف میلانات میں کشمکش، ہمیشہ انسانی زندگی میں موجود رہتی ہے۔
برگزیدہ انسانوں کے متعلق اگر یہ درست ہے کہ:

گہے بر طارم اعلیٰ نشینم
گہے بر پشت پائے خود نہ بینم

ترجمہ : کبھی میں بلند آسمان (عرشِ بریں) پر بیٹھتا ہوں، اور کبھی اپنے پاؤں کی پشت (اوپری حصہ) بھی نہیں دیکھ پاتا۔

تو عام انسانوں کے اندر، جنہیں انبیاء و اولیاء کا مرتبہ حاصل نہیں، یہ کیفیت اور بھی زیادہ تضاد آفرین ہوتی ہے۔ اقبال کو اخیر عمر میں بعض معتقدوں نے عابد و زاہد، عارف و ولی یا مجددِ عصر سمجھنا شروع کیا، لیکن اقبال کی طبیعت میں اس قدر شناسی نے کچھ مغالطہ پیدا نہ کیا۔
وہ آخر تک معتقدوں کے اس مغالطے کو رفع کرنے کی کوشش کرتا رہا اور اس پوجا سے بچنے کیلئے اپنی کمزوریوں کو طشت از بام کرتا رہا۔ اس پر بعض معتقدوں نے یہ نظریہ قائم کیا کہ یہ عارفانہ کسر نفسی کا مظاہرہ ہے اور ایک مشہور شخص نے یہ کہا کہ حضرت اقبال صوفیہ کے فرقہ ملامتیہ میں داخل ہیں۔ جو ستائش خلق کی آفت سے بچنے کیلئے خواہ مخواہ اپنے آپ کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ لوگ انہیں عاصی یا رند سمجھیں۔
اقبال نے اپنے اندازِ تفکر و تاثر کو کس کس طرح بیان کیا ہے اسے پہلے اس کے ابتدائی کلام میں تلاش کرنا چاہئے۔ بانگ درا میں ”گلِ رنگیں“ کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی فطرت کا خارجی فطرت سے مقابلہ کیا ہے۔ سوز و ساز آرزو، جو ترقی یافتہ کلام میں اس کا موضوع خاص بن گیا اور جس کیلئے آخر میں اس نے عشق کی اصطلاح کو مخصوص کر لیا، وہ ابتداء میں بھی موجود ہے۔
اس لئے کہ اقبال کی فطرت کا اصلی جوہر یہی تھا جو ارتقاء کی ہر منزل میں نمایاں ہے۔ پھول کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تو بڑا مطمئن خود مست اور بے پروا معلوم ہوتا ہے۔ زندگی کی شورش اور کشاکش سے تجھے فراغت حاصل ہے جو میرے لئے باعث رشک ہے:

تو تُو شناسائے خراشِ عُقدۂ مشکل نہیں
اے گُلِ رنگیں ترے پہلو میں شاید دل نہیں
زیبِ محفل ہے، شریکِ شورشِ محفل نہیں
یہ فراغت بزمِ ہستی میں مجھے حاصل نہیں
اس چمن میں مَیں سراپا سوز و سازِ آرزو
اور تیری زندگانی بے گدازِ آرزو

اس سے آگے چل کر وہ اطمینان کو قابلِ رشک نہیں سمجھتا اور اُس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے جسے وہ ابھی پورے یقین کے ساتھ پیش نہیں کرتا، کہ تو مطمئن ہے اور میں مثال بو پریشاں اور زخمی شمشیر ذوق جستجو، بظاہر یہ بے اطمینانی تو خواہ مخواہ کی سزا معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کا بھی احتمال ہے کہ انسان کا نصب العین جس انداز کی جمعیت خاطر ہے، وہ اضطراب و جستجو اور سوز و ساز ہی کے وسیلے سے پیدا ہوتی ہے اور شاید حکمت کا سرچشمہ بھی یہی بیتابی ہو:

یہ پریشانی مری سامانِ جمعیّت نہ ہو
یہ جگر سوزی چراغِ خانۂ حکمت نہ ہو
ناتوانی ہی مری سرمایۂ قوّت نہ ہو
رشکِ جامِ جم مرا آئینۂ حیرت نہ ہو
یہ تلاشِ متصّل شمعِ جہاں افروز ہے
تَوسنِ ادراکِ انساں کو خرام آموز ہے

ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم کی تصنیف "فکرِ اقبال" سے اقتباس

21/09/2026

ہر معلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کو صرف درسی کتابوں کے مطالعے تک محدود نہ رکھے، بلکہ جدید نفسیات اور تعلیمی نفسیات سے متعلق کتابوں کا بھی باقاعدگی سے مطالعہ کرے۔

کیونکہ استاد کا کام صرف کتاب کے صفحات پڑھا دینا نہیں، بلکہ وہ بچوں کے ذہن، شخصیت، رویّوں اور جذبات کی تربیت بھی کرتا ہے۔

اس لیے ایک معلم کے لیے یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ بچہ کس طرح سوچتا ہے، کیسے سیکھتا ہے اور کن عوامل سے اس کی شخصیت متاثر ہوتی ہے۔

منقول

  صحیح بخاری - حدیث 669كِتَابُ الأَذَانِکتاب: اذان کے مسائل کے بیان میںبَابٌ: هَلْ يُصَلِّي الإِمَامُ بِمَنْ حَضَرَ؟ وَه...
21/09/2026



صحیح بخاری - حدیث 669

كِتَابُ الأَذَانِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

بَابٌ: هَلْ يُصَلِّي الإِمَامُ بِمَنْ حَضَرَ؟ وَهَلْ يَخْطُبُ يَوْمَ الجُمُعَةِ فِي المَطَرِ؟

باب: کیا جو لوگ حاضر ہو جائیں امام انہیں نماز پڑھائے؟ اور کیا جمعہ کے روز بارش میں امام خطبہ دے؟

669 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ، فَقَالَ: جَاءَتْ سَحَابَةٌ، فَمَطَرَتْ حَتَّى سَالَ السَّقْفُ، وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ، فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، «فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي المَاءِ وَالطِّينِ، حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ»

ترجمہ : ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن کثیر سے بیان کیا، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے (شب قدر کو) پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ بادل کا ایک ٹکڑا آیا اور برسا یہاں تک کہ (مسجد کی چھت) ٹپکنے لگی جو کھجور کی شاخوں سے بنائی گئی تھی۔ پھر نماز کے لیے تکبیر ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیچڑ اور پانی میں سجدہ کر رہے تھے۔ کیچڑ کا نشان آپ کی پیشانی پر بھی میں نے دیکھا۔

تشریح :

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے یہ ثابت کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیچڑ اور بارش میں بھی نماز مسجد میں پڑھی۔ باب کا یہی مقصد ہے کہ ایسی آفتوں میں جو لوگ مسجد میں آ جائیں اُن کے ساتھ امام نماز پڑھ لے۔
(مکتبہ شاملہ)

یہ حدیث اعتکاف کے باب میں مذکور ہے کہ ابو سلمہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیلتہ القدر کے متعلق کچھ سنا ہے ؟ ابو سعید نے کہا جی ہاں اور حدیث ذکر کی لہٰذا اس روایت میں اگرچہ مسئول عنہ کا ذکر نہیں۔ مگر یہی حدیث اعتکاف میں مذکور ہے وہاں مسئول عنہ مذکور ہے۔ بارش کے روز عادةً بعض لوگ جماعت سے رہ جاتے ہیں تو یہ ضروری بات ہے کہ اس وقت امام انہی کو نماز پڑھائے جو مسجد میں حاضر ہوں گے۔
(تفہیم البخاری - جلد اول - صفحہ 1021)

واللہ اعلم بالصواب

بس کسی کا گھر مت اجاڑیں یوکرین کی ایک عورت ہر مہینے اپنے بھائی کو ملنے اُس کے گھر آتی ہے لیکن نا وہ سیڑھیاں چڑھ کے اوپر ...
21/09/2026

بس کسی کا گھر مت اجاڑیں

یوکرین کی ایک عورت ہر مہینے اپنے بھائی کو ملنے اُس کے گھر آتی ہے لیکن نا وہ سیڑھیاں چڑھ کے اوپر جاتی ھے اور نہ ہی بھائی سیڑھیاں اتر کر نیچے آتا ہے بس وہ عورت اپنی گاڑی کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر ہی اپنے بھائی سے گپ شپ کر کے واپس چلی جاتی ہے۔ اور یہاں ہمارے اندر دین کی ناسمجھی، اللہ سے دوری، شادی کے بعد دولتمندی، آنا پرستی، خود غرضی، نفرت اور اکڑ پن نے بہن بھائیوں کو ساری زندگی دور کر رکھا ہے، یہاں تک کہ موت آ جاتی ہے۔ اپنے خون کے رشتوں سے جڑے رہو۔

نہ آج تلک کسی نے میرا رزق بند یا کم کیا ہے اور نہ میں کر سکتا ہوں۔

منقول

20/09/2026

لہروں کا ہر اُتار چڑھاؤ ہے ایک سا
دریا الگ ہیں ان کا بہاؤ ہے ایک سا

عاشق ہوں یا فقیر ہوں یا ماہی گیر ہوں
سب کے دلوں میں ہجر کا گھاؤ ہے ایک سا

ہم درمیانِ دُنیا و دیں ہیں جہان میں
دونوں طرف سے ہم پہ دباؤ ہے ایک سا

گو مختلف ہیں شام و سحر لیکن ان میں بھی
سارا گُھماؤ اور پِھراؤ ہے ایک سا

کیا سب کی صورتوں میں ہے کوئی نہ کوئی نقص
کیا سب سے آئنے کا سبھاؤ ہے ایک سا

یہ آگ کہہ رہی ہے جلاؤں گی ہجر میں
یہ لاگ کہہ رہی ہے لگاؤ ہے ایک سا

آزر سبھی خیام میں روشن ہے شمعِ حرف
دشتِ سخن میں سب کا پڑاؤ ہے ایک سا

دلاور علی آزر

جاوید نامہ علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ مناجات چوتھا بند عصرِ حاضر را خرد زنجیرِ پاستجانِ بے تابے کہ من دارم کجاست ؟ترجمہ:...
20/09/2026

جاوید نامہ

علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ

مناجات

چوتھا بند

عصرِ حاضر را خرد زنجیرِ پاست
جانِ بے تابے کہ من دارم کجاست ؟

ترجمہ: یہ دورِ حاضر کے لیے خرد کے پاؤں کی زنجیر بنی ہوئی ہے. میری جیسی بے تاب جان کہاں ہے ؟


عمر ہا بر خویش می پیچد وجود
تا یکے بے تاب جان آید فرود

ترجمہ: حیات مدتوں پیچ و تاب کھاتی ہے تب کہیں جا کر ایک جانِ بیتاب ظہور میں آتی ہے۔


گر نرنجی ایں زمین شورہ زار
نیست تخم آرزو را سازگار

ترجمہ: اگر آپ (اے خدا) ناراض نہ ہوں تو میں یہ عرض کروں گا کہ یہ شورہ زار زمین آرزو کے بیج کے لیے سازگار نہیں. لوگوں کے دلوں میں جذبہ عشق پیدا کرنا محال ہے۔


از درونِ ایں گلِ بے حاصلے
بس غنیمت دان اگر روید دلے

ترجمہ: اس بنجر مٹی میں سے اگر ایک دل بھی اگ آئے تو اسے غنیمت سمجھ۔ دل سے مراد دلِ زندہ و بیدار ہے۔


تو مہی اندر شبستانم گزر
یک زمان بے نوریِ جانم نگر

ترجمہ: (اے محبوب حقیقی) آپ تو چاند ہیں، میری محفل شب کی طرف آئیے اور ذرا میری جان کی تاریکی کو دیکھیے یعنی میری زندگی کی تاریک رات کو اپنے نور سے منور فرما دیں۔


شعلہ را پرہیز از خاشاک چیست
برق را از برفتادن باک چیست

ترجمہ: شعلے کو بھلا خشک تنکوں کو جلانے سے پرہیز کیوں ہو بجلی کو گرنے سے ڈر کیا ہے۔ (خود کو خشک تنکے اور حاصل زندگی سے تشبیہ دی ہے جبکہ خدا کے جلوے کو بجلی سے)

تمہید

چوتھے بند میں اُس افسوسناک صورت حال کو واضح کیا ہے کہ عصرِ حاضر کا مسلمان عقل کی پیروی کر رہا ہے بلکہ اس کا غلام ہو گیا ہے اور اس غلامی نے اسے "ذوقِ نظر" سے محروم کر دیا ہے اس لئے وہ عشق اور اس کی بے پناہ قوتوں سے یکسر بیگانہ ہو گیا ہے۔ لہٰذا اقبال خدا سے دعا کرتے ہیں کہ اے خدا ! مسلمانوں کو عشق کی دولت سے مالا مال کر دے۔

برق را از برفتادن باک چیست

تشریح

اس بند میں اقبال نے یہ بات واضح کی ہے کہ موجودہ دور میں ہر شخص عقل کی پیروی کر رہا ہے حالانکہ انسان کی روحانی اور اخلاقی ترقی عشق کی اتباع پر موقوف ہے۔ عقل، انسان کو مادی منفعت اور جسمانی آسائش کے راستے تو بتا سکتی ہے مگر اس کی روح کی تسکین کا سامان مہیا نہیں کر سکتی۔

کہتے ہیں کہ دنیا والے تو عقل کے غلام ہیں اور میں عشق کا غلام ہوں، اس لئے جو بے تابی میرے اندر ہے وہ دوسروں میں کہاں نظر آ سکتی ہے ؟

جانِ بے تابے کہ من دارم کجاست ؟

ہی وجہ ہے کہ اقبال کو ساری عمر کوئی ہم نفس نہیں ملا۔

اس کے بعد کہتے ہیں کہ "وجود" مدتوں تک اپنی مخفی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے اور ارتقائی منازل طے کرتا ہے، تب کہیں جا کر کوئی عاشق (اللہ کا بندہ) پیدا ہوتا ہے۔

اے خدا ! اگر تو مجھ سے ناراض نہ ہو تو میں یہ عرض کروں کہ تیری یہ دنیا (زمین شوره زار) عشق و عاشقی کی زندگی کے لیے مطلق سازگار نہیں ہے کیونکہ یہاں ہر جگہ خودغرضی کا سکہ چل رہا ہے۔ اور خودغرضی اور عاشقی یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اندریں حالات اگر ایک عاشقِ صادق بھی کہیں پیدا ہو جائے تو بہت غنیمت ہے. اے خدا ! میں بہت تاریک دور میں زندگی بسر کر رہا ہوں۔ تو اپنے کرم سے میری زندگی کو منور کر دے یعنی مجھے دولتِ عشق عطاء فرما دے

برق را از برفتادن باک چیست

شرح : پروفیسر یوسف سلیم چشتی

ترجمہ : اقبال رہبر

پیشکش : قیصر نديم

Address

Gulzar-e-Quaid Airport Housing Society
Rawalpindi
46300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Jareeda posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Urdu Jareeda:

Shortcuts

Share