14/08/2026
میں نے ایک ویڈیو دیکھی
جس میں ایک بیٹا اپنی ماں کی شکایت لے کر آیا کہ وہ مجھے حصہ نہیں دے رہی
سنتے سنتے ان کے چہرے کے تاثرات بدلے، ہاتھ میں پکڑا قلم، انہوں نے یک دم میز پر پٹخا
اور سرد لہجے میں کہا
میں ماں باپ کے خلاف بات نہیں سنتا... جاؤ جا کر اپنی ماں کی خدمت کرو، تمھیں تمہارا حصہ خود ہی مل جائے گا
اور پھر ان کی بے شمار ویڈیوز میں ایک بات خاص طور پر نوٹ کی: کھلی کچہری لگتی, اور غربت اور پسینے سے نہایا، پریشان حال، غریب، ان کے قریب رکھی کرسی پر بڑی عزت سے بٹھا ہوتا اور پھر انتہائی اطمینان سے انھیں بات کرنے کا جو موقع احمد صاحب دیتے رہے، وہ میرے لیے حیران کن اس لیے تھا کہ ہم نے اس مملکت خداداد میں کبھی پولیس افسر کا یہ روپ نہیں دیکھا... بخدا
یہی وجہ ہے کہ میرے دل میں ان کا احترام بڑھتا چلا گیا
لیکن ان کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی نیوز نے مجھے اب تک افسردہ کر رکھا ہے
سچ تو یہ ہے کہ ہمیں ہر ڈیپارٹمنٹ میں ایسے ہی ایماندار اور فرض شناس انسانوں کی ضرورت ہے
مگر کیا کہیں اور کیا کہہ سکتے ہیں ہم... 💔
یہاں پر بڑے بڑے محب وطن آئے اور چپ چاپ چلے گئے
اسی طرح.. کبھی کینیڈا کی برف باری میں ٹرک چلاتے عاشر عظیم کو آپ نے دیکھا ہے؟؟؟
جس نے کبھی پاکستان کسٹمز کی وردی پہن کر کرپشن کے خلاف کھلی جنگ لڑی، لیکن اس سسٹم کا تادیر ساتھ نہ دے سکا... جاب چھوڑ دی
دھواں ڈرامہ بنایا
پھر ملک چھوڑ دیا
اس سر پھرے نے، نہ جانے کیا سوچ کر اپنی ساری جمع پونجی سے ایک فلم "مالک" ہمارے لیے بنا ڈالی
لیکن
اس کی ریلیز میں، پہلے تو کافی سارے روڑے اٹکائے گئے.... فلم بین کی گئی...
اور پھر عاشر چپ ہو گیا.. کیونکہ وہ کسی مل اونر کا بیٹا تو تھا نہیں، اک مڈل کلاس بندہ تھا
اور آج.... اتنا تعلیم یافتہ، پرعزم، اس زمین کا وفادار.. محض اک ٹرک ڈرائیور ہے
لیکن
باضمیر ہے، اور رزق حلال کی کمائی پر مطمئن ہے
اس فلم کو ضرور دیکھیے، اس میں ہماری ہاں کی جانے والی سیاست کے حوالے سے کافی کچھ ہے
اچھا مزے کی بات یہ ہے کہ یہ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں ...
کیونکہ یہ مٹی بانجھ نہیں ہے ،کوئی نہ کوئی دل جلا، سر پھرا اٹھ کھڑا ضرور ہوتا ہے
انھی میں نادرا کے سابق چیئرمین طارق ملک کا چہرہ بھی دکھائی دیتا ہے
یہ وہ دماغ تھا جس نے سمارٹ کارڈ، الیکشن بائیو میٹرک اور پاک آئی ڈی ایپ جیسی ٹیکنالوجی دے کر پاکستان کے فرسودہ نظام کو دیوار کے ساتھ لگا دیا
جس کی وجہ سے دو نمبری کے تمام راستے بند ہو گے۔ انھیں بھی انعام کے طور پر ملک چھوڑنا پڑا
آج وہ امریکہ کی ایک ٹاپ کلاس کمپنی کے عالیشان دفتر میں بیٹھا ان کی ترقی میں رول ادا کر رہا ہے
اور ہمارا سسٹم.. اللہ نظرِ بد سے بچائے ،آج بھی فکری اور عملی طور پر بیساکھیوں کے سہارے چلے جا رہا ہے
رہے نام اللہ کا....
بات تو صرف احساس کی .