ندائے فقیرُ الصابری

ندائے فقیرُ الصابری Prof Mazher Faqeer ul Sabri

انشاءاللہ روحانی سفر ملتان شریف ❤️❤️🙏❤️❤️
24/06/2026

انشاءاللہ روحانی سفر ملتان شریف ❤️❤️🙏❤️❤️

23/06/2026
23/06/2026

پانچ محرم الحرام 784واں سالانہ ختم شریف حضرت بابا فرید الدین گنج شکر مسعود العالمین رحمۃ اللہ علیہ برجرہ مبارک حضرت مخدوم علاؤ الدین علیہ احمد صابرپیا کلیری رحمۃ اللہ علیہ
زیر صدارت چراغ بزم صابر پیا مخدوم سید شاہ محمد نجم الحسن صابری چشتی قادری حنفی رامپوری سرکار
❤️❤️🙏❤️❤️

21/06/2026

ذکر پاک کی ایک نورانی جھلک ❤️❤️🙏❤️❤️
پانچ محرم الحرام سالانہ ختم پاک حضرت بابا فرید الدین گنج شکر مسعود العالمین حجرہ مبارک مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری سرکار کے عین سامنے زیر صدارت میرے مرشد کریم چراغ بزم صابر پیا مخدوم سید شاہ محمد نجم الحسن صاحبری سرکار ❤️❤️❤️❤️🙏❤️❤️❤️❤️

*حاضری اور سلام عقیدت*❤️❤️🙏❤️❤️دربار عالیہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمت اللہ علیہ اور حجرہ مبارک حضرت مخدوم علاؤ ال...
20/06/2026

*حاضری اور سلام عقیدت*❤️❤️🙏❤️❤️
دربار عالیہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمت اللہ علیہ اور حجرہ مبارک حضرت مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری سلطان الاولیاء غیاث ہند رحمت اللہ علیہ میں ہمارے مرشد کریم *چراغ بزم صابر پیا مخدوم سید شاہ* *محمد نجم الحسن صابری سرکار ❤️ کی* حاضری کے یہ مبارک لمحات محض تصاویر نہیں بلکہ یادگار, محبت، نسبت, اولیاء, اور روحانی کیفیات کے آئینہ دار ہیں،ان مناظر میں عقیدت کی خوشبو،ادب کی چاشنی،اور اہل دل کے لیے ایک خاموش پیغام پوشیدہ ہے،❤️
اولیاء کرام کے مزارات پر حاضری انسان کو اپنی حقیقت یاد دلاتی ہے،دل کو نرم کرتی ہے اور بندے کو اپنے رب کی طرف متوجہ کرتی ہے، ان مبارک مقامات پر لی گئی تصاویر،،اور محفوظ کیے گئے لمحات،دراصل ان نورانی ساعتوں کی جھلک ہیں جنہیں الفاظ مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتے 🙏
*حق فیضانِ مرشدی*
مظہرحسین فقیرُالصابری
خادم وخاک نشیں درگاہ عالیہ صابریہ چشتیہ مخدوم پاک عارف نگر کنجوانی شریف 🙏

*سالانہ ختم پاک حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمت اللہ علیہ اور ایک روحانی امانت* ❤️❤️🙏❤️❤️حضرت سلطان المشائخ،محبوب الٰہ...
17/06/2026

*سالانہ ختم پاک حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمت اللہ علیہ اور ایک روحانی امانت*
❤️❤️🙏❤️❤️
حضرت سلطان المشائخ،محبوب الٰہی ،سید الطائفہ،حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمت اللہ علیہ کا سالانہ ختم شریف اپ کے سلسلہ فیض سلسلہ صابریہ کی طرف سے ہر سال پانچ محرم الحرام کو نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ اس مبارک مقام پر منعقد کیا جاتا ہے،جو *حضرت مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری رحمۃ اللہ علیہ کے حجرہ مبارک کے عین سامنے واقع ہے* ❤️❤️
اس روحانی اجتماع کی تاریخ محض چند سالوں پر شامل نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ایک مبارک روایت ہے،
روایت کے مطابق حضرت مخدوم صابر پاک رحمت اللہ علیہ اپنی مرشد حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمت اللہ علیہ کے سالانہ ختم پاک کا اہتمام اسی مقام پر فرمایا کرتے تھے جہاں آج بھی اپ کا حجرہ مبارک موجود ہے،وہی حجرہ جہاں آپ خلوت،عبادت،مجاہدہ،اور مراقبہ میں مصروف رہتے تھے، آپ اپنے مرشد پاک کے ختم کو نہایت شان و شوکت،ادب اور احترام سے منعقد کیا کرتے تھے،
بعد ازاں یہ سعادت آپ کے خلفائے کرام میں جاری رہی،یہاں تک کہ یہ عظیم ذمہ داری سلسلہ عالیہ صابریہ چشتیہ کے وقت کے *قطب عالم حضرت شاہ* *عبدالقدوس گنگوہی سلطان* *التارکین رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد کی گئی جو کہ حضرت امام* *اعظم ابو حنیفہ سراج امت سرکار کی اولاد پاک میں سے ہیں،* انہوں نے اس ذمہ داری کو اس احسن طریق سے نبھایا کہ یہ ذمہ داری انہی کے خاندان جو کہ سلسلہ عالیہ صابری چشتیہ کی خلفاء اور اکابرین بھی رہے اور اب بھی ہیں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سپرد کر دی گئی۔اس مبارک تسلسل میں یہ شرف حضرت *مخدوم زمن،مجدد الوقت،حضرت مخدوم سید شاہ* *محمد حسن معشوق الہی رحمت _اللہ علیہ کو حاصل ہوا__** ،ان کے بعد ان کے صاحبزادہ گرامی، *قطب الاقطاب حضرت مخدوم* *سید شاہ محمد عارف حسن صابری رامپوری سرکارنےاس* خدمت کو سر انجام دیا،پھر ان کے جانشین *حضرت مخدوم سید شاہ محمد امداد الحسن صابری* *رامپوری سرکار* ،بعد ازاں *حضرت مخدوم سید شاہ محمد ارشاد الحسن صابری رحمۃ اللہ علیہ* اس روحانی فریضے کی ادائیگی کرتے رہے،
میرے *مرشد کریم چراغ بزم صابر پیا مخدوم سید شاہ محمد* *نجم الحسن صابری چشتی* *مدظلہ العالی بیان فرماتے ہیں* کہ تقریباً پچیس سال قبل جب اپ پہلی دفعہ حج بیت اللہ کے لیے سرزمین حجاز مقدس میں حاضر تھے،تو دوران قیام آپ کو باطنی طور پر حکم ہوا کہ فورا وطن (پاکستان) پہنچیں،اور حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے سالانہ عرس و ختم پاک میں شرکت کریں کیونکہ وہاں اپ کو ایک اہم ذمہ داری سپرد کی جائے گی 🙏
مرشد کریم فرماتے ہیں کہ اس و قت میری واپسی کے ویزے اور سفری معاملات میں ابھی کافی دن باقی تھے اور ظاہری حالات میں فوری واپسی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا،لیکن جب حکم باطن کی تعمیل کا ارادہ کیا،تو اللہ تعالی نے ایسے اسباب پیدا فرما دیے جن کا تصور بھی ممکن نہ تھا،
اچانک واپسی کے تمام مراحل آسان ہوتے چلے گئے،سفری دستاویزات مکمل ہو گئیں،واپسی کی ٹکٹ کا انتظام بھی ہو گیا،اور مقررہ وقت پر واپسی کی فلائٹ بھی میسر آگئی ،یہ سب کچھ اس قدر غیر متوقع تھا کہ خود میں بھی اللہ تعالی کی اس خاص تدبیر اور کرم کو دیکھ کر حیران تھا،
مرشد کریم جب وطن واپس تشریف لائے تو سیدھے ہی حضرت بابا فرید الدین گنج شکر سرکار کے آستانہ مقدس پر پہنچے،اور پھر *پانچ محرم الحرام کے سالانہ ختم پاک میں حاضر ہو گئے* ،اس وقت آپ کے والد گرامی حضرت مخدوم سید ارشاد الحسن صابری رحمۃ اللہ علیہ حیات مبارکہ سے سرفراز تھے اور یہی روحانی ذمہ داری خود سر انجام دیا کرتے تھے،
لیکن باطنی حکم کے مطابق ان کو بھی مطلع کر دیا گیا تھا, لہذا حضرت بابا فرید الدین گنج شکر سرکار کے اس ختم پاک کی سرپرستی تاحیات مرشد کریم کو عطا کر دی گئی،
تب سے لے کر آج تک مرشد کریم نہایت اخلاص، محبت،پابندیء وقت اور اولیاء اللہ کے عین آداب کے ساتھ اس خدمت کو سرانجام دے رہے ہیں،
اس ختم پاک کا آغاز تلاوت کلام مجید (پنجاب شریف) سے ہوتا ہے, پھر سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کا شجرہ شریف پڑھا جاتا ہے،بعد ازاں "ذکر جہر"کی وہ مبارک محفل سجتی ہے کہ جس میں اللہ اللہ کی صدائیں فضا کو معطر کر دیتی ہیں،اور عاشقان الہی کے دلوں میں عشق و محبت کے چراغ روشن ہو جاتے ہیں،اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دلوں کے زنگ اتر رہے ہوں، انکھیں نم ہو رہی ہوں،اور روحیں اپنے رب کی طرف متوجہ ہو رہی ہو ں،حاضرین پر ایک خاص کیفیت سکون و سرور طاری ہو جاتی ہے،محبت ادب اخلاص اور روحانیت کا ایسا سماں بندھ جاتا ہے،کہ ہر دل اپنے حصے کی برکت اور فیض سمیٹتا محسوس ہوتا ہے،🙏❤️❤️❤️
بعد میں مرشد کریم بارگاہی الٰہی میں دعائے خیر فرماتے ہیں،دنیا و آخرت کی بھلائی،ایمان کی سلامتی،رزق میں برکت،اولاد کی اصلاح،اور امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کے لیے گڑگڑا کر دعائیں مانگی جاتی ہیں،بالخصوص ملک و ملت کی سلامتی اور استحکام کے لیے بالخصوصی دعا کا اہتمام کیا جاتا ہے،
یہ سالانہ ختم پاک محض ایک رسم نہیں بلکہ بزرگان دین سے وابستگی،محبت اولیاء،اور فیوض و برکات کے حصول کا ایک عظیم ذریعہ ہے،
اللہ تبارک و تعالی انہی نفوس قدسیہ کے صدقے ہمارے دلوں کو بھی اپنی محبت سے روشن فرمائے اور اور ان کا نقش قدم عطا فرمائے، آمین ثم آمین ❤️❤️🙏❤️❤️
*حق فیضانِ مرشدی*
*مظہرحسین فقیرُالصابری*
*خادم وخاک نشیں درگاہ عالیہ صابریہ چشتیہ قادریہ مخدوم پاک عارف نگر کنجوانی شریف*

بسم اللہ الرحمن الرحیم " *حق موجود سدا موجود* "حق ہمیشہ موجود اور زندہ حقیقت ہے،مگر انسان کی کاملت *صرف حق کے وجود کو ما...
14/06/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
" *حق موجود سدا موجود* "
حق ہمیشہ موجود اور زندہ حقیقت ہے،مگر انسان کی کاملت *صرف حق کے وجود کو مان* لینے میں کافی نہیں،بلکہ *حق* کو *پہچاننے، سمجھنے، قبول کرنے* اور اس کے سامنے *جھک جانے* میں ہے،
علم،عبادت،ظاہری تقوی'منصب،سرداری اگر انسان کو حق کے آگے سر تسلیم خم کرنا نہ سکھائیں،تو وہ محض ظاہری سرمایہ رہ جاتے ہیں، *قرآن کریم* نے اسی حقیقت کو یوں بیان فرمایا؛-
*فلما جاءهم ما عرفوا كفروا به*
پھر ان کے پاس وہ چیز آئی جسے وہ پہچانتے تھے پھر اس کا انکار کر بیٹھے (سورہ البقرہ89)
یعنی پہچان ہونا کافی نہیں،قبولیت اور سر تسلیم خم ہونا اصل کمال ہے،ورنہ جہالت ہی رہ جاتی ہے،
*حق کی پہچان کیوں مشکل ہو جاتی ہے*
حق ایک جامد صورت میں نہیں آتا اللہ تعالی ہر دور،ہر حال اور ہر انسان کے لیے حق کو مختلف حکمتوں،قدرتوں،صورتوں اور نئے سے نئے انداز میں ظاہر فرماتا ہے،
جب حق ہمارے تصورات،خواہشات ، گروہی تعصبات یا مانوس قالبوں سے مختلف انداز میں سامنے آتا ہے تو بہت سے لوگ ٹھوکر کھا جاتے ہیں،
سب سے پہلے *ابلیس* (عزازیل) کی مثال لیجیے قرآن کریم کے مطابق وہ بہت عبادت گزار تھا،اس کے دلائل دیکھیں تو لگتا ہے بظاہر دانا اور مدبر بھی تھا،مگر اللہ تعالی نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا،تو اصل امتحان یہ نہیں تھا کہ اللہ کو مانتا ہے یا نہیں،بلکہ یہ تھا کہ وہ اللہ کے نئے حکم کے سامنے جھکتا ہے یا نہیں،وہ اپنی رائے پر قائم رہا اور ناکام ہوا،قران اس واقعہ کو تکبر اور نافرمانی کہ تناظر میں بیان فرماتا ہے،
اسی طرح حضرت نوح،حضرت موسی'،حضرت ابراہیم،اور حضرت عیسی' علیہم السلام جیسے تمام انبیاء علیہم السلام بالخصوص جناب احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادوار میں بھی لوگوں نے دعوت حق کو قبول کیا مگر بہت سے لوگوں نے انکار کیا،
قران پاک بار بار یہ حقیقت بیان کرتا ہے کہ بعض لوگ حق کے واضح ہو جانے کے باوجود بھی اپنی تعصبات،مفادات یا سابقہ تصورات کی وجہ سے اسے قبول نہیں کرتے،
اسی طرح صحابہ کرام جنہوں نے حق کو جانا پہچانا اور تسلیم کیا جو جھک گئے تو کوئی حضرت ابوبکر صدیق بنا کوئی حضرت عمر فاروق (جو کہ پہلے اسلام کے بڑے دشمن بن کر سامنے آئے مگر حق واضح ہو جانے کے بعد جھک گئے تو کامیاب ہو گئے)،اسی طرح حضرت عثمان غنی رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین حق کے آگے ایسے جھکے کہ سبحان اللہ رہتی دنیا تک ان کو غنی پکارا جائے گا،اور بالخصوص حضرت مولا علی کرم اللہ وجہ سبحان اللہ جو انتہائی چھوٹی عمر میں ہی بلکہ پیدا ہوتے ہی آنکھ ہی تب کھولی جب تک حق کو دیکھ نہیں لیا،یہ مقام خاص ہے اسی لیے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح فرمایا کہ
" *حق علی کے ساتھ ہے اور علی حق کے ساتھ ہے* "
اسی طرح پھر حسنین کریمین کے روپ میں جب حق آیا تو یزید پلید کے خوف سے اور اپنے علم و زہد کے ایما پر 18 ہزار علماء راندہ درگاہ ہو گئے،حق نہ پہچان سکے اور نہ ہی سر تسلیم خم کیا آج ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں،
اسی طرح تمام اولیاء اللہ کی حیات پاک کو دیکھیں تو ہر دور میں کوئی نہ کوئی یزید کسی نہ کسی شیطانی روپ میں سامنے آیا
مگر حق غالب رہا اور قیامت تک اسی کا وجود رہے گا،
" *حق موجود ہے سدا موجود ہے،حق کو نہ زمانہ بدلتا ہے نہ حالات،البتہ حق کے ظہور کے انداز طریقے ،رنگ ،ڈھنگ،اور صورتیں بدلتی رہتی ہیں،یہی مقام, امتحان ہے* "
جب حق ایک نئے روپ میں جلوہ گر ہوتا ہے،تو بہت سے لوگ اس کی حقیقت کی بجائے،اس کی ظاہری صورت کو دیکھتے ہیں،
چنانچہ کوئی عالم اپنے علم کے غرور میں،کوئی زاہد اپنی ریاضت کے زعم میں،کوئی عابد اپنی عبادت کے اعتماد میں،کوئی سردار اپنے منصب کے تکبر میں،اور کوئی ذہین اپنے عقل کی برتری کے گمان میں،اس نئے ظہور حق کو قبول کرنے سے محروم رہ جاتا ہے 🙏
" *لہذا جہالت صرف علم کی کمی کا نام نہیں, بلکہ حق کو جان لینے کے بعد بھی،اپنی رائے ،اپنے تعصب اپنی عادت،یا اپنی انا کی وجہ سے اس کے سامنے نہ جھکنا ہی اصل جہالت ہے* ،"
*حق فیضانِ مرشدی* ❤️❤️❤️
مظہرحسین فقیرُالصابری
خادم وخاک نشیں درگاہ عالیہ صابریہ چشتیہ قادریہ مخدوم پاک عارف نگر کنجوانی شریف

Address

Rafi Garden Sahiwal
Sahiwal

Telephone

+923466304393

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ندائے فقیرُ الصابری posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ندائے فقیرُ الصابری:

Share