ندائے فقیرُ الصابری

ندائے فقیرُ الصابری Prof Mazher Faqeer ul Sabri

22/09/2026
 # **جب دعا نے لباسِ نعمت پہنا** # # # **رحمتِ ربانی، یقینِ مرید اور نگاہِ مرشد کا ایک روح پرور واقعہ****بسم اللہ الرحمٰ...
19/09/2026

# **جب دعا نے لباسِ نعمت پہنا**

# # # **رحمتِ ربانی، یقینِ مرید اور نگاہِ مرشد کا ایک روح پرور واقعہ**

**بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**

کچھ خوشیاں ایسی ہوتی ہیں جو صرف گھروں کے در و دیوار کو نہیں سجاتیں،
بلکہ دلوں کے اندر چراغ روشن کر دیتی ہیں۔

کچھ نعمتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے ملنے پر زبان صرف **الحمدللہ** کہتی ہے، مگر آنکھیں خاموشی سے برسوں کی دعاؤں کی داستان سناتی ہیں۔

اور کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان محض واقعہ کہہ کر گزر نہیں سکتا؛
وہ دل میں اترتے ہیں، یقین کو تازہ کرتے ہیں اور بندے کو ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف متوجہ کر دیتے ہیں کہ:

11 ستمبر 2026ء، بروز جمعۃ المبارک، اوکاڑہ میں ایک ایسی ہی محبت بھری اور روحانی ساعت نے جنم لیا، جب میرے مرشدِ کریم، **مخدوم سید شاہ محمد نجم الحسن صابری چشتی قادری حنفی رامپوری سرکار** اپنے صاحبزادگانِ گرامی کے ہمراہ اپنے مریدِ خاص **راؤ محمد فیضان صابری** کے دولت کدے پر تشریف لے گئے۔

یہ محض عقیقے کی دعوت نہ تھی۔

یہ برسوں کی دعا کے پھلنے کی خوشی تھی۔

یہ انتظار کے اختتام کی ساعت تھی۔

یہ ایک ایسے گھر میں شکرانے کا چراغ جلنے کا دن تھا جہاں کبھی اولاد کی تمنا میں ہاتھ اٹھتے تھے۔

اور آج وہی ہاتھ **شکر کے لیے اٹھ رہے تھے۔**

---

# # **برسوں کی دعا اور ایک خاموش انتظار**

راؤ محمد فیضان صابری کے گھر اولاد کی نعمت کے لیے عرصہ دراز سے دعائیں کی جا رہی تھیں۔

مرید اپنے مرشد کے آستانۂ محبت پر حاضر ہوتا،
اپنے دل کا حال عرض کرتا،
اور مرشدِ کریم اپنے مرید کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دعا فرماتے۔

دن گزرتے گئے۔

مہینے گزرتے گئے۔

سال گزرتے گئے۔

مگر دعا کا دامن نہ چھوٹا۔

کیونکہ اہلِ یقین جانتے ہیں کہ دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی؛
اس کا وقت اللہ جانتا ہے،
اس کی صورت اللہ جانتا ہے،
اور اس کی قبولیت کا انداز بھی اللہ ہی جانتا ہے۔
پھر وہ ساعت آئی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حمل کی نعمت عطا فرمائی۔

خوشخبری لے کر راؤ فیضان صابری مرشدِ کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

ان کے بیان کے مطابق مرشدِ کریم نے فرمایا:

**"اللہ کا کرم ہو گیا ہے، ان شاء اللہ آپ کو بیٹا ہوگا۔"**

یہ الفاظ شاید چند لمحوں میں ادا ہوئے ہوں،
مگر مرید کے دل میں یہ الفاظ ایک چراغ بن کر جل اٹھے۔

---

# # **جب اسباب نے کچھ اور کہا، مگر دل نے کچھ اور سنا**

زمانے کے معمول کے مطابق طبی معائنہ ہوا۔

الٹراساؤنڈ ہوا۔

اور نتیجہ آیا کہ بچی ہے۔

ایک مرتبہ نہیں،
دوبارہ بھی یہی نتیجہ سامنے آیا۔

پھر وقت گزرا،
مزید معائنہ ہوا،
پھر یہی بتایا گیا کہ بچی ہے۔

گھر والوں نے یہی سمجھ لیا کہ آنے والی رحمت بیٹی کی صورت میں ہے۔

مگر راؤ فیضان صابری کے دل میں ایک عجیب سا سکون تھا۔

نہ ضد،
نہ دنیاوی دعویٰ،
بس ایک خاموش یقین۔

وہ اپنے دل سے کہتے:

**"میرے مرشد نے جو فرمایا ہے، اللہ اپنے فضل سے وہی فرمائے گا۔"**

پانچ مرتبہ تک الٹراساؤنڈ میں بچی کی نشاندہی ہوئی۔

اسباب اپنی زبان بولتے رہے۔

رپورٹیں اپنا فیصلہ سناتی رہیں۔

مگر ایک مرید کا دل اپنے مرشد کے الفاظ کو یاد کرکے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی طرف دیکھتا رہا۔

یہاں اصل راز کسی ظاہری سبب میں نہیں تھا؛
اصل راز **اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین** میں تھا۔

---

# **پھر پردہ اٹھا۔۔۔**

پھر وہ دن آیا جس کا انتظار تھا۔

ولادت کی ساعت آئی۔

گھر والوں کے ذہن میں یہی تھا کہ بیٹی ہوگی۔

بچہ پیدا ہوا۔

نہلایا دھلایا گیا۔

اور جب دیکھا گیا تو ایک لمحے کے لیے جیسے سب کی نظریں ٹھہر گئیں۔

**سبحان اللہ!**

وہ **بیٹا** تھا۔

وہی گھر جو بیٹی کی آمد کا منتظر تھا،
اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیٹے کی نعمت سے جگمگا اٹھا۔

حیرت بھی تھی۔

خوشی بھی تھی۔

اور شکر بھی۔

لیکن راؤ فیضان صابری کے دل میں شاید حیرت سے زیادہ **اطمینان** تھا۔

کیونکہ جس بات کا دوسروں کو آج علم ہوا تھا،
اس کی امید وہ پہلے ہی اپنے دل میں لیے بیٹھے تھے۔

---

اور جب اللہ کا فضل شاملِ حال ہو جائے تو بسا اوقات انسان اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھ لیتا ہے جس کا تصور بھی اس نے نہ کیا ہو۔

---

# **اور پھر عقیقے کی وہ بابرکت محفل۔۔۔**

اسی عطائے ربانی کی خوشی میں راؤ محمد فیضان صابری نے اپنے مرشدِ کریم اور ان کے صاحبزادگانِ گرامی کو عقیقے کی دعوت پر مدعو کیا۔

11 ستمبر 2026ء کی وہ جمعۃ المبارک کی ساعت یقیناً ان کے لیے کبھی فراموش نہ ہونے والی ساعت تھی۔

مرشدِ کریم تشریف لائے۔

میزبان نے عقیدت و محبت سے استقبال کیا۔

صاحبزادگانِ گرامی کی خدمت میں محبت و احترام کا اظہار کیا۔

اور یوں عقیقے کی خوشی ایک ایسی روحانی مجلس میں بدل گئی جہاں شکر بھی تھا، محبت بھی، نسبت بھی اور خوشی بھی۔

ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ایک طویل دعا نے آج لباسِ نعمت پہن لیا ہو۔

جیسے برسوں سے بند ہاتھ آج شکر کے لیے کھل گئے ہوں۔

جیسے آنکھوں کی نمی آج خوشی کے آنسو بن گئی ہو۔

اور جیسے ایک خاموش انتظار آج مسکراہٹ بن کر گھر کے آنگن میں اتر آیا ہو۔

---

# **مرشد کی آمد اور خوشی کا رنگ**

اہلِ محبت کے لیے مرشد کی آمد محض کسی بزرگ کی آمد نہیں ہوتی؛
وہ اپنے ساتھ ایک نسبت، ایک یاد، ایک دعا اور ایک روحانی وابستگی لے کر آتے ہیں۔

راؤ فیضان صابری کے لیے تو یہ ساعت اور بھی خاص تھی۔

جس نعمت کے لیے کبھی مرشد کی خدمت میں دعا کی گئی تھی،
آج اسی نعمت کا عقیقہ تھا۔

جس خوشخبری کے لیے کبھی دل منتظر تھا،
آج وہ خوشخبری ایک بچے کی صورت میں آنگن میں موجود تھی۔

اور جس مرشد کے حضور کبھی اپنی تمنا عرض کی تھی،
آج وہی مرشد اس نعمت کے شکرانے کی محفل میں بنفسِ نفیس تشریف فرما تھے۔

**اس سے بڑھ کر مرید کے لیے خوشی کی اور کیا ساعت ہو سکتی ہے؟**
*حق فیضانِ مرشدی*
مظہر حسین فقیرالصابری
خادم وخاک نشیں درگاہ عالیہ صابریہ چشتیہ قادریہ مخدوم پاک عارف نگر کنجوانی شریف

---

-

---

---

اس شعر کا بنیادی پیغام صوفیانہ فناء فللہ اور خود شناسی (اپنے نفس کو پہچاننا) ہے۔ صوفیانہ کلام میں "مرنے" سے مراد جسمانی ...
07/09/2026

اس شعر کا بنیادی پیغام صوفیانہ فناء فللہ اور خود شناسی (اپنے نفس کو پہچاننا) ہے۔ صوفیانہ کلام میں "مرنے" سے مراد جسمانی موت نہیں، بلکہ اپنے "نفسِ امارہ" (غرور، تکبر اور خواہشات) کو مارنا ہے، bجسے تصوف کی اصطلاح میں "موتوا قبل ان تموتوا" (مرنے سے پہلے مر جاؤ) کہا جاتا ہے۔
اس خوبصورت شعر کا صوفیانہ ترجمہ اور تشریح درج ذیل ہے:
# # 1۔ صوفیانہ ترجمہ (مفہوم)
"میں نہ تو زبان سے (اپنی پارسائی یا علم کا) دعویٰ کرنے کا قائل ہوں، اور نہ ہی دل میں دنیاوی جاہ و جلال، نام و نمود یا مٹنے والی چیزوں کو پانے کی کوئی تمنا رکھتا ہوں۔ حقیقی خود شناسی (اپنے رب اور اپنی اصل کو پہچاننا) تو یہ ہے کہ انسان اپنی خودی، انا اور خواہشات کو مٹا کر اس دنیا میں جیتے جی مر جائے (یعنی اللہ کی رضا میں گم ہو جائے)۔"
------------------------------
# # 2۔ تفصیلی صوفیانہ تشریح
شعر کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے اسے دو حصوں میں دیکھا جا سکتا ہے:

* پہلا مصرع (نہ میں کہنے کا قائل ہوں، نہ ہونے کا تمنائی):
* "کہنے کا قائل نہ ہونا": تصوف میں زبانی دعووں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ صوفی کہتا ہے کہ میں زبان سے یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں بہت بڑا زاہد، عابد یا عارف ہوں۔ کیونکہ دعویٰ کرنا "انا" (Ego) کو جنم دیتا ہے۔
* "ہونے کا تمنائی نہ ہونا": یہاں "ہونے" سے مراد دنیا میں اپنی پہچان بنانا، بڑا آدمی بننا یا اپنی ہستی کو کچھ سمجھنا ہے۔ سالک (راستے کا مسافر) کہتا ہے کہ میرے دل میں یہ تمنا ہی نہیں ہے کہ دنیا مجھے کسی اعلیٰ مقام پر دیکھے یا میری واہ واہ ہو۔ وہ اپنی ہستی کو "لا" (کچھ نہیں) الہیٰ ثابت کرنا چاہتا ہے۔
* دوسرا مصرع (جہاں میں مر کے رہ جائے، وہی تو خود شناسی ہے):
* "مر کے رہ جانا" (فناء): یہ شعر کا مرکزی نقطہ ہے۔ صوفیانہ سلوک میں جب تک انسان اپنی انا، خواہشات، اور "میں" کو ختم نہیں کرتا، وہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ یہاں مرنے سے مراد اپنے نفس کو قابو کرنا ہے تاکہ دل میں صرف اللہ کی ذات باقی رہے۔
* حقیقی خود شناسی: حدیثِ مبارکہ ہے کہ "جس نے اپنے نفس کو پہچانا، اس نے اپنے رب کو پہچانا"۔ شاعر کہتا ہے کہ سچی معرفت اور خود شناسی کا اعزاز صرف اسی کو ملتا ہے جو دنیا کی رنگینیوں اور نفسانی خواہشات کے لیے "مر" جاتا ہے اور اس کا دل دنیا کی محبت سے خالی ہو کر یادِ الہیٰ کا مسکن بن جاتا ہے۔

# # حاصلِ کلام
یہ شعر انسان کو عاجزی، انکساری اور فناء کا درس دیتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ زبانی دعوے اور دنیاوی تمنائیں انسان کو خدا سے دور کرتی ہیں۔ اگر تم واقعی خود کو اور اپنے رب کو پہچاننا چاہتے ہو، تو اپنی "انا" کو مٹا دو۔
*حق فیضانِ مرشدی*
مظہر حسین فقیرالصابری
خادم وخاک نشیں درگاہ عالیہ صابریہ چشتیہ قادریہ مخدوم پاک عارف نگر کنجوانی شریف
------------------------------

Address

Rafi Garden Sahiwal
Sahiwal

Telephone

+923466304393

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ندائے فقیرُ الصابری posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ندائے فقیرُ الصابری:

Shortcuts

Share