19/09/2026
# **جب دعا نے لباسِ نعمت پہنا**
# # # **رحمتِ ربانی، یقینِ مرید اور نگاہِ مرشد کا ایک روح پرور واقعہ**
**بسم اللہ الرحمٰن الرحیم**
کچھ خوشیاں ایسی ہوتی ہیں جو صرف گھروں کے در و دیوار کو نہیں سجاتیں،
بلکہ دلوں کے اندر چراغ روشن کر دیتی ہیں۔
کچھ نعمتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے ملنے پر زبان صرف **الحمدللہ** کہتی ہے، مگر آنکھیں خاموشی سے برسوں کی دعاؤں کی داستان سناتی ہیں۔
اور کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان محض واقعہ کہہ کر گزر نہیں سکتا؛
وہ دل میں اترتے ہیں، یقین کو تازہ کرتے ہیں اور بندے کو ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف متوجہ کر دیتے ہیں کہ:
11 ستمبر 2026ء، بروز جمعۃ المبارک، اوکاڑہ میں ایک ایسی ہی محبت بھری اور روحانی ساعت نے جنم لیا، جب میرے مرشدِ کریم، **مخدوم سید شاہ محمد نجم الحسن صابری چشتی قادری حنفی رامپوری سرکار** اپنے صاحبزادگانِ گرامی کے ہمراہ اپنے مریدِ خاص **راؤ محمد فیضان صابری** کے دولت کدے پر تشریف لے گئے۔
یہ محض عقیقے کی دعوت نہ تھی۔
یہ برسوں کی دعا کے پھلنے کی خوشی تھی۔
یہ انتظار کے اختتام کی ساعت تھی۔
یہ ایک ایسے گھر میں شکرانے کا چراغ جلنے کا دن تھا جہاں کبھی اولاد کی تمنا میں ہاتھ اٹھتے تھے۔
اور آج وہی ہاتھ **شکر کے لیے اٹھ رہے تھے۔**
---
# # **برسوں کی دعا اور ایک خاموش انتظار**
راؤ محمد فیضان صابری کے گھر اولاد کی نعمت کے لیے عرصہ دراز سے دعائیں کی جا رہی تھیں۔
مرید اپنے مرشد کے آستانۂ محبت پر حاضر ہوتا،
اپنے دل کا حال عرض کرتا،
اور مرشدِ کریم اپنے مرید کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دعا فرماتے۔
دن گزرتے گئے۔
مہینے گزرتے گئے۔
سال گزرتے گئے۔
مگر دعا کا دامن نہ چھوٹا۔
کیونکہ اہلِ یقین جانتے ہیں کہ دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی؛
اس کا وقت اللہ جانتا ہے،
اس کی صورت اللہ جانتا ہے،
اور اس کی قبولیت کا انداز بھی اللہ ہی جانتا ہے۔
پھر وہ ساعت آئی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حمل کی نعمت عطا فرمائی۔
خوشخبری لے کر راؤ فیضان صابری مرشدِ کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
ان کے بیان کے مطابق مرشدِ کریم نے فرمایا:
**"اللہ کا کرم ہو گیا ہے، ان شاء اللہ آپ کو بیٹا ہوگا۔"**
یہ الفاظ شاید چند لمحوں میں ادا ہوئے ہوں،
مگر مرید کے دل میں یہ الفاظ ایک چراغ بن کر جل اٹھے۔
---
# # **جب اسباب نے کچھ اور کہا، مگر دل نے کچھ اور سنا**
زمانے کے معمول کے مطابق طبی معائنہ ہوا۔
الٹراساؤنڈ ہوا۔
اور نتیجہ آیا کہ بچی ہے۔
ایک مرتبہ نہیں،
دوبارہ بھی یہی نتیجہ سامنے آیا۔
پھر وقت گزرا،
مزید معائنہ ہوا،
پھر یہی بتایا گیا کہ بچی ہے۔
گھر والوں نے یہی سمجھ لیا کہ آنے والی رحمت بیٹی کی صورت میں ہے۔
مگر راؤ فیضان صابری کے دل میں ایک عجیب سا سکون تھا۔
نہ ضد،
نہ دنیاوی دعویٰ،
بس ایک خاموش یقین۔
وہ اپنے دل سے کہتے:
**"میرے مرشد نے جو فرمایا ہے، اللہ اپنے فضل سے وہی فرمائے گا۔"**
پانچ مرتبہ تک الٹراساؤنڈ میں بچی کی نشاندہی ہوئی۔
اسباب اپنی زبان بولتے رہے۔
رپورٹیں اپنا فیصلہ سناتی رہیں۔
مگر ایک مرید کا دل اپنے مرشد کے الفاظ کو یاد کرکے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی طرف دیکھتا رہا۔
یہاں اصل راز کسی ظاہری سبب میں نہیں تھا؛
اصل راز **اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین** میں تھا۔
---
# **پھر پردہ اٹھا۔۔۔**
پھر وہ دن آیا جس کا انتظار تھا۔
ولادت کی ساعت آئی۔
گھر والوں کے ذہن میں یہی تھا کہ بیٹی ہوگی۔
بچہ پیدا ہوا۔
نہلایا دھلایا گیا۔
اور جب دیکھا گیا تو ایک لمحے کے لیے جیسے سب کی نظریں ٹھہر گئیں۔
**سبحان اللہ!**
وہ **بیٹا** تھا۔
وہی گھر جو بیٹی کی آمد کا منتظر تھا،
اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیٹے کی نعمت سے جگمگا اٹھا۔
حیرت بھی تھی۔
خوشی بھی تھی۔
اور شکر بھی۔
لیکن راؤ فیضان صابری کے دل میں شاید حیرت سے زیادہ **اطمینان** تھا۔
کیونکہ جس بات کا دوسروں کو آج علم ہوا تھا،
اس کی امید وہ پہلے ہی اپنے دل میں لیے بیٹھے تھے۔
---
اور جب اللہ کا فضل شاملِ حال ہو جائے تو بسا اوقات انسان اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھ لیتا ہے جس کا تصور بھی اس نے نہ کیا ہو۔
---
# **اور پھر عقیقے کی وہ بابرکت محفل۔۔۔**
اسی عطائے ربانی کی خوشی میں راؤ محمد فیضان صابری نے اپنے مرشدِ کریم اور ان کے صاحبزادگانِ گرامی کو عقیقے کی دعوت پر مدعو کیا۔
11 ستمبر 2026ء کی وہ جمعۃ المبارک کی ساعت یقیناً ان کے لیے کبھی فراموش نہ ہونے والی ساعت تھی۔
مرشدِ کریم تشریف لائے۔
میزبان نے عقیدت و محبت سے استقبال کیا۔
صاحبزادگانِ گرامی کی خدمت میں محبت و احترام کا اظہار کیا۔
اور یوں عقیقے کی خوشی ایک ایسی روحانی مجلس میں بدل گئی جہاں شکر بھی تھا، محبت بھی، نسبت بھی اور خوشی بھی۔
ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ایک طویل دعا نے آج لباسِ نعمت پہن لیا ہو۔
جیسے برسوں سے بند ہاتھ آج شکر کے لیے کھل گئے ہوں۔
جیسے آنکھوں کی نمی آج خوشی کے آنسو بن گئی ہو۔
اور جیسے ایک خاموش انتظار آج مسکراہٹ بن کر گھر کے آنگن میں اتر آیا ہو۔
---
# **مرشد کی آمد اور خوشی کا رنگ**
اہلِ محبت کے لیے مرشد کی آمد محض کسی بزرگ کی آمد نہیں ہوتی؛
وہ اپنے ساتھ ایک نسبت، ایک یاد، ایک دعا اور ایک روحانی وابستگی لے کر آتے ہیں۔
راؤ فیضان صابری کے لیے تو یہ ساعت اور بھی خاص تھی۔
جس نعمت کے لیے کبھی مرشد کی خدمت میں دعا کی گئی تھی،
آج اسی نعمت کا عقیقہ تھا۔
جس خوشخبری کے لیے کبھی دل منتظر تھا،
آج وہ خوشخبری ایک بچے کی صورت میں آنگن میں موجود تھی۔
اور جس مرشد کے حضور کبھی اپنی تمنا عرض کی تھی،
آج وہی مرشد اس نعمت کے شکرانے کی محفل میں بنفسِ نفیس تشریف فرما تھے۔
**اس سے بڑھ کر مرید کے لیے خوشی کی اور کیا ساعت ہو سکتی ہے؟**
*حق فیضانِ مرشدی*
مظہر حسین فقیرالصابری
خادم وخاک نشیں درگاہ عالیہ صابریہ چشتیہ قادریہ مخدوم پاک عارف نگر کنجوانی شریف
---
-
---
---