Babar Sohail

Babar Sohail Babar Sohail from shakargarh dist Narowal social worker & blogger

منزل کی راہ میں بھونکنے والےکاپی پیسٹسقراط نے کہا تھا:"اگر کوئی گدھا مجھے لات مارے تو کیا میں اس پر مقدمہ کروں گا؟ شکایت...
27/03/2025

منزل کی راہ میں بھونکنے والے
کاپی پیسٹ

سقراط نے کہا تھا:
"اگر کوئی گدھا مجھے لات مارے تو کیا میں اس پر مقدمہ کروں گا؟ شکایت کروں گا یا اسے واپس لات ماروں گا؟"
یہ محض ایک سوال نہیں، بلکہ حکمت و دانائی کی وہ روشنی ہے جو وقت کے ہر نادان، ہر طالع آزما، اور ہر جھوٹ کے پجاری کو بے نقاب کرتی ہے۔ آج ہمیں بھی یہی سوال درپیش ہے کہ کیا ہم ہر چیختی، جھوٹ بولتی، اور افتراء پردازی میں مصروف آواز کے پیچھے دوڑیں، یا اپنی منزل پر نظر رکھیں اور اپنی توانائی کسی بہتر مقصد کے لیے صرف کریں؟
یہ دنیا ازل سے تماش بینوں کا ہجوم رہی ہے، جہاں فریب کو حقیقت کا لبادہ پہنانے والے ہمیشہ سرگرم رہے ہیں۔ یہ وہی دنیا ہے جہاں سقراط کو زہر کا پیالہ دیا گیا، منصور کو سولی پر چڑھایا گیا، اور ہر حق گو کو سنگ زنی کی اذیتوں سے گزارا گیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ حق کبھی مٹا؟ نہیں!
میاں محمد بخش نے کیا خوب فرمایا تھا:
جو کمزوراں نال پیا ر ہوندا، رب نال اوہدی یاری
جیہڑا کمزوراں نوں ستاوے، اوہدے وس ناہیں کاری
جہالت چیختی ہے، عقل خاموش رہتی ہے
تاریخ گواہ ہے کہ جھوٹ ہمیشہ شور مچاتا ہے، جبکہ سچ خاموشی سے اپنا راستہ بناتا ہے۔ دلیل سے محروم لوگ ہمیشہ چیخ و پکار اور پروپیگنڈے کا سہارا لیتے ہیں۔ آج معاشرے میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے، جہاں سچ کہنے والے کو باغی، غدار اور فسادی قرار دیا جاتا ہے، جبکہ جھوٹ کے سوداگر، درباری اور طفیلیے اعزازات سے نوازے جاتے ہیں۔
مگر تاریخ یہی کہتی روشنی خود کو ثابت نہیں کرتی، وہ بس چمکتی ہے
سقراط نے کہا تھا:
"ایک دانا آدمی کبھی کسی احمق سے الجھتا نہیں، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وقت سب سے بڑا منصف ہے۔"
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنی توانائی ان فضول چیخنے چلانے والوں پر ضائع نہ کریں۔ ہم اپنی منزل کی طرف بڑھیں، کیونکہ اگر ہم ہر بھونکنے والے کتے پر پتھر پھینکیں گے، تو ہم اپنی راہ سے بھٹک جائیں گے۔

‏ایک گاؤں میں غریب نائی رہا کرتا تھا جو ایک درخت کے نیچے کرسی لگا کے لوگوں کی حجامت کرتا ۔مشکل سے گزر بسر ہورہی تھی۔ اس ...
15/04/2024

‏ایک گاؤں میں غریب نائی رہا کرتا تھا جو ایک درخت کے نیچے کرسی لگا کے لوگوں کی حجامت کرتا ۔

مشکل سے گزر بسر ہورہی تھی۔ اس کے پاس رہنے کو نہ گھر تھا۔ نہ بیوی تھی نہ بچے تھے۔ صرف ایک چادر اور ایک تکیہ اس کی ملکیت تھی ۔ جب رات ہوتی تو وہ ایک بند سکول کے باہر چادر بچھاتا، تکیہ رکھتا اور سو جاتا.

ایک دن صبح کے وقت گاوں میں سیلاب آ گیا۔

اس کی آنکھ کھلی تو ہر طرف شور و غل تھا۔
وہ اٹھا اور سکول کے ساتھ بنی ٹینکی پر چڑھ گیا. چادر بچھائی، دیوار کے ساتھ تکیہ لگایا اور لیٹ کر لوگوں کو دیکھنے لگا ۔

لوگ اپنا سامان، گھر کی قیمتی اشیا لے کر بھاگ رہے تھے. کوئی نقدی لے کر بھاگ رہا ہے، کوئی زیور کوئی بکریاں تو کوئی کچھ قیمتی اشیا لے کر بھاگ رہا ہے۔

اسی دوران ایک شخص بھاگتا آ رہا تھا اس نے سونے کے زیور پیسے اور کپڑے اٹھا رکھے تھے۔ جب وہ شخص اس نائی کے پاس سے گزرا اوراسے سکون سے لیٹے ہوئے دیکھا توغصے سے بولا !

" اوئے ساڈی ہر چیز اجڑ گئی اے۔
ساڈی جان تے بنی اے، تے تو ایتھے سکون نال لما پیا ہویا ایں"۔۔

یہ سن کرنائی بولا !
لالے اج ای تے غربت دی چس آئی اے"

جب میں نے یہ کہانی سنی تو ہنس پڑا مگر پھر ایک خیال آیا کہ شاید روز محشر کا منظر بھی کچھ ایسا ہی ہوگا۔

جب تمام انسانوں سے حساب لیا جائے گا۔
ایک طرف غریبوں کا حساب ہو رہا ہو گا ۔
دو وقت کی روٹی، کپڑا ۔حقوق اللہ اور حقوق العباد ۔

ایک طرف امیروں کا حساب ہو رہا ہو گا ۔
پلازے، دکانیں، فیکٹریاں، گاڑیاں، بنگلے، سونا اور زیوارات
ملازم ۔ پیسہ ۔ حلال حرام ۔ عیش و آرام ۔ زکوۃ ۔ حقوق اللہ۔ حقوق العباد۔۔۔۔
اتنی چیزوں کا حساب کتاب دیتے ہوئے پسینے سے شرابور اور خوف سے تھر تھر کانپ رہے ہوں گے۔

تب شاید اسی نائی کی طرح غریب ان امیروں کو دیکھ رہے ہو گے۔
چہرے پر ایک عجیب سا سکون اور شاید دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے۔۔۔۔!

"اج ای تے غربت دی چس آئی اے ۔۔۔۔

"اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ہر ہر نعمت کا شکر ادا کرنے کی اور اللہ کی رضا کے مطابق استعمال اور تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین..

مُحمد علی محمدیان ایک کُرد ٹیچر ہیں۔ جن کا ایک شاگرد کینسر کے سبب گنجا ہوا تو انہوں نے صرف اس وجہ سے اپنا سر بھی منڈوا ل...
01/03/2024

مُحمد علی محمدیان ایک کُرد ٹیچر ہیں۔ جن کا ایک شاگرد کینسر کے سبب گنجا ہوا تو انہوں نے صرف اس وجہ سے اپنا سر بھی منڈوا لیا کہ کہیں شاگرد احساسِ کمتری کا شکار نہ ہو جائے۔ اُستاد کی دیکھا دیکھی کلاس کی ایک بڑی تعداد گنجی ہو گئی۔
کہتے ہیں
"*احساس کے ترجمے نہیں ہوتے"*

جھوٹی شان کے پرندے ہی زیادہ پھڑپھڑاتے ہیں خاندانی بازوں کی اُڑان میں کبھی آواز نہیں ہوتی
23/11/2022

جھوٹی شان کے پرندے ہی زیادہ پھڑپھڑاتے ہیں
خاندانی بازوں کی اُڑان میں کبھی آواز نہیں ہوتی

20/04/2021

اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَاتَمَ النَّبِيينَ،
عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کا تحفظ کسی پارٹی یا فرد واحد کا مسلہ نہیں بلکہ ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے ہمارے نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں کو ٹھیس پہنچتی ہے پر امن احتجاج کیا جائے نہ حکومت عوام کے خلاف قاتلانہ ایکشن لے نہ عوام فتنہ فساد کا ماحول برپا کرے مسلمان بھائیوں پر تشدد کسی بھی مسلے کا حل نہیں دونوں طرف سے اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے امت مسلمہ کو اس وقت اتحاد کی ضرورت ہے حکومت کو چاہیے تمام مسلم ممالک کو ساتھ ملا کے اس مسلے کو اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے۔۔۔
دعا ہے اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور ہمارے ملک پاکستان میں امن و امان کی فضا قائم رہے۔۔۔

تاجدارِ ختم نبوت زندہ آباد
پاکستان زندہ آباد
از قلم بابر سہیل

05/04/2021

گاڑیوں پر لکھی ہوئی عبارتوں کو پڑھ کر ہم یوں ہی آگے گزر جاتے ہیں لیکن ان بعض گاڑیوں پر لکھے ہوئے جملے ہمیں کچھ یاد دلا رہے ہوتے ہیں لیکن جس کی طرف ہمارا دھیان بہت کم جاتا ہے یہ جملے اپنے اندر بہت سارے انمول موتی سمائے ہوئے ہوتے ہیں جنہیں ہم تلاش کرنے کی زحمت اور سوچ نہیں رکھتے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں ریاکاری، حسد، نفرت اور تفرقہ بازی سے ہی فرصت نہیں ہوتی اس ہوس میں ہم ہر وہ جائز ناجائز حربے اپنے مفادات کی خاطر کرنے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں ایک لوڈر رکشہ کی بیک پر ایک ایسا ہی خوبصورت جملہ لکھا تھا کہ ''کراس کر یا برداشت کر'' یہ وہ جملہ ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر کام آنے والا ہے بظاہر تو جس میں یہ کہا جا رہا ہے کہ آپ آگے نکل جاؤ یا پھر راستہ ملنے تک صبر کرو اگر یہاں پر غور کیا جائے تو یہ زندگی کے ان معاملات کی طرف اشارہ ہے جو ہم ایک دوسرے کی شخصیت کو محض اس لئے برداشت نہیں کرتے کہ معاشرے کے اندر اس کی عزت، شہرت اور حلقہ احباب ہم سے زیادہ کیوں ہے اور ایسی صورتحال میں ہم اندر ہی اندر ایسی حسد اور بغض کو پروان چڑھانے میں بھرپور مدد دیتے ہیں جی ہاں بالکل ایسا اس وقت ہوتا ہے جب ہم ایسے مقبول اور اچھی شہرت کی حامل شخصیت کو اس کے بہترین فن اور سوچ کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور اس کے دشمن بنتے ہوئے اس سے بگاڑ پیدا کر لینے کو اپنی جیت تصور کرنے لگتے ہیں یہی ہماری سب سے بڑی غلطی اور نادانی ہوتی ہے کیونکہ جب ہم سے اس کی شخصیت برداشت نہیں ہوتی اور اس کی خداداد صلاحیتوں کا ہم مقابلہ نہیں کر پاتے پھر ایسی صورت میں اس طرح یہ دوستی یا کوئی بھی ایسا اور رشتہ ہی کیوں نہ ہو ایک دن شیشے کی طرح ٹوٹ کر چکنا چور ہو جاتا ہے۔ کیونکہ روایت ہے کہ دوست سے محبت ایک حد تک کرو شاید کہ کل وہ تمہارا دشمن بن جائے اور اپنے دشمن سے دشمنی بھی ایک حد تک رکھو ممکن ہے کل وہ تمہارا دوست بن جائے کیونکہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی جو لوگ کبھی تمہارے اپنے تھے وہ کیا پتہ کہ کل کو دشمنوں کے ساتھ مل کر ان کے دوست بن کر تمہارے سامنے کھڑے ہوجائیں لیکن قدرت والے کے کھیل بھی عجیب ہوتے ہیں جب ایسے لوگ اپنے ایک ظلم و ستم کے بعد انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں جنہیں بعد میں معاشرہ بھی بڑی مشکل سے اپنی گود میں جگہ دیتا ہے کیونکہ اس وقت ایسے شخص کو یہ پورا سماج ایک طلاق یافتہ خاتون کی طرح سمجھتے ہوئے ایسے دونوں رشتوں سے رشتہ قائم کرنے سے ڈرتے ہیں کہتے ہیں قدرت والا اس وقت تک کسی کا بھی وہ در بند نہیں کرتا جب تک اس کے لئے نئے در کھول نہیں دیتا پھر ہوتا یہ ہے کہ کبھی کبھی وہ اجنبی جنہوں کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا کہ وہ آ کر تھام لیں گے یہ سب تقدیر کے کھیل ہیں پھر ایسے لوگوں کو جب احساس ہوتا ہے کہ میں نے یہ کیا کر دیا مگر اس وقت ان باتوں کا وقت گزر چکا ہوتا ہے پھر یہ لوگ چاہ کر بھی ایک دوسرے کے قریب نہیں ہو سکتے اسی لیے یہ حقیقت ہے کہ ہم اگر اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کر لے تو صورتحال خاصی بہتر ہو سکتی ہے اور اپنے آپ کو افضل اور دوسرے کو کمتر سمجھنا چھوڑ دیں برداشت پیدا کرنے سے پورے معاشرے میں بسنے والے تمام رشتوں کا امن و چین لوٹ سکتا ہے لہذا بہتری اسی میں ہے کہ ہر آدمی کو عدم برداشت کے رویوں سے جان چھڑانی چاہیے ایک دوسرے کا احترام کیا جائے اور ہر طرح کی منافقت جھوٹ اور حسد کو چھوڑ کر انسانیت کا درس دیا جائے آئیے اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے اور اپنے اپنے حصے کی وہ شمع جو اس پورے سماج میں بوجھتی جا رہی ہے اسے روشن کریں۔

🍟  🍟☚5 سال کی عمر میں اس کے والد کا انتقال ہوگیا .☚16 سال کی عمر میں اس نے اسکول چھوڑ دیا.☚17 سال کی عمر تک اس نے4ملازمت...
25/02/2021

🍟 🍟
☚5 سال کی عمر میں اس کے والد کا انتقال ہوگیا .
☚16 سال کی عمر میں اس نے اسکول چھوڑ دیا.
☚17 سال کی عمر تک اس نے4ملازمتیں کھو دیں.
☚18 سال کی عمر میں اس نے شادی کرلی.
☚18سے 22 سال کی عمر کے درمیان، وہ ایک ریلوے کنڈیکٹر رہا لیکن ناکام رہا...
☚19 سال کی عمر میں وہ باپ بن گیا.
☚20 سال کی عمر میں اس کی بیوی نے اسے چھوڑ دیا اور بیٹی کو لے گئی
☚وہ فوج میں شامل ہوا لیکن نکال دیا گیا.
☚اس نےقانون کی پڑھائی کے لئے درخواست دی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا.
☚وہ ایک انشورنس سیلز مین بن گیا لیکن ایک بار پھر ناکام ہوا..
☚وہ ایک چھوٹے سے کیفے میں ایک باورچی اور بیرہ بن گیا.
☚اس نے اپنی بیٹی کو اغوا کرنے کی ناکام کوشش کی، لیکن آخر کار وہ اپنی بیوی اور بیٹی کو گھر واپس لانے میں کامیاب ہو گیا.
☚65 سال کی عمر میں اس کی سبکدوشی کے موقع پر حکومت کی طرف سے اسے صرف 105 ڈالر کا ایک چیک ملا. اسے لگا حکومت اس چیک کے ذریعے اسے ایک نا اہل انسان ثابت کرنا چاہتی ہے...
☚اس نےخود کشی کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ اتنی بارناکام ہوا تھا کہ اب وہ مزید زندگی گزارنے کے قابل نہیں تھا؛
☚وہ اپنی وصیت لکھنے ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا، لیکن وصیت لکھنے کی بجائے، اس نے یہ لکھا کہ زندگی میں اس نے کس کام میں مہارت حاصل کی.
☚اس نے لکھا کہ وہ صرف ایک کام دوسروں کے مقابلے میں بہتر کر سکتا ہے اور وہ ہے کھانا پکانا...
☚تو اس نے اپنے چیک کے عوض87 ڈالر ادھار لئے اور کچھ چکن خریدا. ایک خاص مصالحہ استعمال کر کے اس نے چکن کو تل لیا اور کینٹکی میں اپنے پڑوسیوں کو فروخت کرنے کیلئے گھر سے نکل پڑا...
☚یاد رکھیں 65 سال کی عمر میں وہ خود کشی کے لئے تیار تھا. لیکن 88 سال کی عمر میں وہ یعنی کرنل سینڈرز، کینٹکی فرائیڈ چکن (KFC) سلطنت کا بانی اور ایک ارب پتی بزنس مین تھا.
👈 اس لئے دوستو " کبھی ہمت مت ہاریں " کوشش کرتے رہیں ۔ آپ کا اچھا وقت بھی ضرور آئے گا .

Happy Independence day 🇵🇰🇵🇰 #2020
14/08/2020

Happy Independence day 🇵🇰🇵🇰
#2020

پاکستان کا قابل فخر سپوتطارق عزیز نے اپنے اثاثے پاکستان کے نام کردئیے   معروف دانشور اور ٹی وی میزبان طارق عزیزنے اپنی و...
17/06/2020

پاکستان کا قابل فخر سپوت
طارق عزیز نے اپنے اثاثے پاکستان کے نام کردئیے

معروف دانشور اور ٹی وی میزبان طارق عزیزنے اپنی وصیت میں تمام اثاثے پاکستان کے نام کر دئیے۔ انہوں نے کہا کہ مرنے کے بعد اپنی ساری جائیداد پاکستان کے نام کرتا ہوں۔طارق عزیز اس وقت اپنی زندگی کی 82 بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ انپی وصیت میں انہوں نے لکھاکہ بے اولاد ہونے کے باعث اپنے تمام تر سرما ئے اور املاک کو پاکستان کے نام کرنے کا اعلان کرتا ہوں اور یہ املاک میری وفات کے بعد پاکستان کے نا م ہو جا ئے گی۔ واضح رہے کہ طارق عزیز کا شمار پی ٹی وی کے لیجنڈزمیں ہوتا ہے ۔ریڈیو پاکستان سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے طارق عزیز کو پاکستان ٹیلی ویژن کے پہلے مرد اناونسر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔26 نومبر 1964 کو پی ٹی وی کی ا سکرین پر نظر آنے والا سب سے پہلا چہرہ انہی کا تھا۔1975 میں شروع کئے جانے والے ان کے شو نیلام گھر نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔یہ پروگرام کئی سال تک جاری رہا ۔اسے بعد میں بزمِ طارق عزیز شوکا نام دے دیا گیا۔

Address

Shakargarr

Telephone

00923004200448

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Babar Sohail posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Babar Sohail:

Share