13/04/2026
ٹھہر جائیں اور غور سے پڑھیں
خوارج سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ کررہے ہیں کہ جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں ہونے والے امتِ اسلامیہ کے سُنی شیعہ اجتماع میں پوسٹر پر غلط آیت لکھ کر تحریف کی گئی۔ بعض دہشتگردانہ دماغ رکھنے والے جن سے سُنی شیعہ کا ایک ساتھ مِل بیٹھنا ہضم نہیں ہوتا، کہہ رہے ہیں کہ سید جواد نقوی و دیگر شیعہ علماء پر توہینِ قرآن کا مقدمہ کیا جائے۔
یہاں میں دو گزارشات کروں گا،
اول گزارش حکومت سے ہے کہ ان متشدد حلقوں کو سنبھالنے کے لیے کوئی قانونی لائحہ عمل طے کریں جو ہمارے علماء پر توہینِ قرآن کا الزام لگا کر ان کی جان و مال خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ان کو علم ہونا چاہیے کہ وہ شیعہ عالم آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی ہی تھے جنہوں نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر قرآن بلند کیا اور فرمایا، قرآن کو آتش و تحریف نہیں مٹا سکتی۔ یہ خطاب اس وقت کیا گیا جب یورپ میں قرآن جلانے کے مذموم واقعات سامنے آرہے تھے۔
دوم، یہ نیچے قرآن کی آیت اور زیارت امام حسین ع پیشِ خدمت ہے۔ قرآن کی آیت اور زیارت کے الفاظ مشابہت رکھتے ہیں۔ عربی میں زیارت کے علاوہ بھی کئی محاورے قرآن سے مشابہت رکھتے ہیں مگر قرآن کی آیات واضح ہیں۔ ان میں قیامت تک کوئی تحریف نہیں ہوسکتی۔ قرآن ایک ہی ہے اور وہی ہے جو سعودی عرب سے چھپتا ہے۔ ہماری نظر میں ایک آیت میں بھی تحریف کا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے. آیت اور زیارت کے الفاظ ملاحضہ کریں؛
وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا
اردو ترجمہ:
اور اس پر سلام ہے جس دن وہ پیدا ہوا، اور جس دن وہ فوت ہوگا، اور جس دن وہ زندہ اٹھایا جائے گا۔
سورۂ مریم آیت 15
زیارتِ امام حسین علیہ السلام کے الفاظ جو امام جعفر الصادق ع سے مروی ہے؛
**«اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ رَسُولِ اللَّهِ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَوْمَ وُلِدْتَ وَيَوْمَ قُتِلْتَ وَيَوْمَ تُبْعَثُ حَيًّا، أَشْهَدُ أَنَّكَ حَيٌّ شَهِيدٌ تُرْزَقُ عِنْدَ رَبِّكَ، وَأَتَوَالَى وَلِيَّكَ وَأَبْرَأُ مِنْ عَدُوِّكَ، وَأَشْهَدُ أَنَّ الَّذِينَ قَاتَلُوكَ وَانْتَهَكُوا حُرْمَتَكَ مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ. وَأَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ أَقَمْتَ الصَّلَاةَ وَآتَيْتَ الزَّكَاةَ، وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَيْتَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَجَاهَدْتَ فِي سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، أَسْأَلُ اللَّهَ وَلِيَّكَ وَوَلِيَّنَا أَنْ يَجْعَلَ تَحْفَتَنَا مِنْ زِيَارَتِكَ الصَّلَاةَ عَلَى نَبِيِّنَا، وَالْمَغْفِرَةَ لِذُنُوبِنَا، اشْفَعْ لِي يَا بْنَ رَسُولِ اللَّهِ عِنْدَ رَبِّكَ.»**
سلام ہو آپ پر اے ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام ! سلام ہو آپ پر اے رسول اللہ کے بیٹے! سلام ہو آپ پر اس دن جب آپ پیدا ہوئے، اس دن جب آپ قتل کیے گئے، اور اس دن جب آپ زندہ اٹھائے جائیں گے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ زندہ ہیں، شہید ہیں، اپنے رب کے ہاں رزق پا رہے ہیں۔ میں آپ کے ولی (دوست) سے دوستی رکھتا ہوں اور آپ کے دشمن سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ جن لوگوں نے آپ سے جنگ کی اور آپ کی حرمت کی پامالی کی، وہ نبی امی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے ملعون ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی، زکوٰۃ دی، معروف کا حکم دیا، منکر سے روکا، اور اپنے رب کی راہ میں حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ جہاد کیا۔ میں اللہ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ کے ولی اور ہمارے ولی کو یہ تحفہ دے کہ آپ کی زیارت کا بدلہ ہمارے نبی پر صلوٰۃ اور ہمارے گناہوں کی مغفرت ہو۔ اے رسول اللہ کے بیٹے! اپنے رب کے ہاں میرے لیے شفاعت کیجیے۔
حوالہ: کامل الزیارات
یاد رہے کہ شہدائے ملتِ اسلامیہ کے لیے اس طرح کے کلمات کے ذریعے ان کو خراج تحسین و سلام عقیدت پیش کرنا، عراق اور ایران کے مومنین کے ہاں رواج ہے۔ مذکورہ پوسٹر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے حوالے سے ایک پروگرام کا ہے جو عروۃ الوثقیٰ، لاہور میں منعقد ہوا۔
سید اسفر الحسن