Saqib Mehmood- SWM

Saqib Mehmood- SWM A great way to promote your business is by running targeted ads tailored to your ideal audience.

ان دنوں، بہت سے لوگ اپنے آڈینس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بے چین ہیں، لیکن وہ انھیں مؤثر طریقے سے مشغول کرنے کے لیے جدوجہد...
16/02/2024

ان دنوں، بہت سے لوگ اپنے آڈینس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بے چین ہیں، لیکن وہ انھیں مؤثر طریقے سے مشغول کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بعض اوقات، لوگ منفی اعمال کا سہارا لیتے ہیں جیسے ٹرولنگ، میمز بنانا، یا پھر توجہ حاصل کرنے والے اسٹنٹ جیسے ناچنا یا گانا۔
تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مثبت اقدامات کے مؤثر طریقے سے آڈینس کی توجہ حاصل کر سکتے ہیں۔
ہمارا مقصد ان پلیٹ فارمز پر آپ کے کاروبار یا ذاتی برانڈ کی کامیابی میں مدد کرنا ہے۔

ہماری خدمات معاشرے میں ایک مثبت ساکھ قائم کرنے میں آپ کی مدد کر سکتی ہیں۔
ہماری خدمات میں شامل ہے

👈سوشل میڈیا مارکیٹنگ،
👈اچھا سا پیج بنانا
👈کونٹینٹ مارکیٹنگ،
👈پیج مینجمنٹ،
👈آن لائن پیج رینکنگ،
👈کاپی رائٹنگ،
👈فالوورز میں اضافہ
👈لوگو بنان

Saqib Mehmood- SWM

31/01/2024

جیسا کہ آپ سب جانتے ھیں سوشل میڈیا رابطہ قائم کرنے، معلومات کو حاصل کرنے اور کاروبار کو فروغ دینے کا ایک پلیٹ فارم ہے۔

اس نے معلومات تک رسائی اور اشتہار دینے کے طریقے میں انقلاب برپا کر رکھا ہے۔

ماضی میں، اشتہارات کے لیے بہت زیادہ رقم چاہئیے ہوتی تھی۔

لیکن آج، سوشل میڈیا مارکیٹنگ کے کم خرچ کے ساتھ کاروبار کو فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ، ٹِک ٹاک اور لنکڈ اِن جیسی ایپس کے ذریعے وسیع تر لوگوں تک دیکھانے میں مدد دیتی ہے۔

ہماری خدمات کا مقصد صرف کاروبار کو ان پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھانے میں مدد کرنا ہے جس میں شامل ھے

Lead generation
Lead nurture
Lead conversion

اور آپ کا ہر کلک کامیابی کی طرف ایک قدم ہے

Explor, Connect thrives on Saqib Mehmood- SWM



31/01/24
Wednesday
Saqib Mehmood

27/01/2024

عارف انیس کی وال سے

کیریکٹر اے آئی، سوشل میڈیا کا اگلا پڑاؤ؟

ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں نوجوان خصوصاً ٹین ایجرز اب روایتی سوشل میڈیا حتیٰ کہ چیٹ جی پی ٹی وغیرہ کی بجائے "کیریکٹر اے آئی" جیسے پلیٹ فارم پر زیادہ وقت گذار رہے ہیں۔ لیکن یہ کیریکٹر اے آئی ہے کیا؟

ہم انسان روز اول سے ہی اپنوں اور اجنبیوں سے رابطے میں رہنے کے لیے شارٹ کٹ راستے اپناتے آئے ہیں۔ ایسا شارٹ کٹ جس سے ہم اپنی کہ سکیں ان کی سن سکیں۔ نوے کی دہائی میں ریلے چیٹ، گوفرز، اور فورمز ہمارے ڈیجیٹل سوشل میڈیا کا پہلا پڑاؤ بنے۔ پھر یہ پڑاؤ یاہو اور ایم ایس این میسنجرز سے ہوتا ہوا آج کے فیسبک، ایکس، سنیپ چیٹ، ٹک ٹاک وغیرہ تک پہنچا۔ اب یہ پڑاؤ اپنے دور عروج پر ہے۔ لیکن مصنوعی ذہانت کے قدم جمانے کے بعد مسقبل قریب میں ہم سوشل میڈیا کے ایک نئے پڑاؤ کی جانب گامزن ہونے والے ہیں۔ جس کی ایک جھلک کیریکٹر اے آئی جیسے پلیٹ فارم میں دیکھی جا سکتی ہے۔

کیریکٹر اے آئی، یوں سمجھیے سوشل میڈیا کا نیکسٹ لیول ہے۔ ایک سروے نے تو یہاں تک دعویٰ کیا کہ امریکہ میں نوجوان نسل چیٹ جی پی ٹی کی نسبت بھی کیریکٹر اے آئی پر دو گھنٹے اضافی وقت دے رہی۔ ہم ذرا ٹیکنالوجی کو دیر سے اپناتے ہیں اس لیے ابھی ہمارے ہاں اسے عام ہونے میں وقت لگے گا۔

یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں آپ کسی بھی طرح کا کوئی بھی کیریکٹر یعنی ڈیجیٹل چیٹ باٹ بنا سکتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ بالکل اسی طرح گفتگو کر سکتے ہیں جیسے کہ حقیقی انسان سے کر رہے ہوں۔ یہ کیریکٹر کسی مشہور شخصیت کا بھی ہو سکتا ہے جو موجود یا گذر چکی ہو۔ آپ کا اپنا بھی ہو سکتا ہے۔ یا پھر آپ کے ذہن میں کوئی آئیڈیل شخصیت ہے جو کہ حقیقت میں وجود نہیں رکھتی تو آپ بآسانی اپنی پسند بتا کر اپنی مرضی کا کیریکٹر بنوا سکتے ہیں۔ اور یہ آپ سے بالکل ویسے ہی گفتگو کرے گا جیسی آپ چاہتے ہیں۔ بات صرف یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ آپ چاہیں تو ایک سے زیادہ شخصیات کے کریکٹر بنوائیں۔ اور ایک چیٹ روم تخلیق کر کے اس میں سب کے ساتھ مشترکہ گفتگو کریں۔ یوں جیسے کسی گھمبیر مسئلے کو سلجھانے کے لیے چوپال سجی ہو۔

ایک مثال، فرض کریں میں چاہتا ہوں کہ کوانٹم سطح پر لاگو ہونے والے قوانین کے بارے میں روایتی یعنی کلاسک فزکس اور جدید فزکس کا ٹکراؤ کہاں اور کیسے ہو رہا ہے تو میں آنجہانی نیوٹن، اور البرٹ آئن سٹائن کے کریکٹرز بنا کر چیٹ روم میں ان کو یہ موضوع دوں گا اور بیٹھ کر ان کی مدلل پرمغز گفتگو انجوائے کروں گا۔ ہو سکا تو گاہے گاہے اپنی طرف سے لقمہ یا سوال بھی رکھتا چلوں گا۔ نیز مدعے پر کسی فلسفی کی رائے جاننے کے لیے بھائی افلاطون کو بھی ایڈ کر دوں گا کہ آئیے اور ذرا اپنے فلسفیانہ وچار سے آگاہ کیجئے۔

خیر مثال کی مانند تو شاید ہی کوئی عمل کرنا چاہے۔ لیکن حقیقت میں ہو یہ رہا ہے کہ نوجوان خصوصاً لڑکے (لفظ لڑکے پر غور کریں) اپنی پسند کے مطابق کسی لڑکی کا کیریکٹر بناتے ہیں اور رات رات بھر ان سے محو گفتگو رہتے ہیں۔ نہ ایزی لوڈ کا جھنجھٹ ناں لاڈ پیار کے رونے، ناں اچانک مما آ گئی ہیں بعد میں بات کرتی ہوں جیسے جذباتی جھٹکے۔۔۔۔۔۔

صرف یہی نہیں۔۔۔۔ اس پلیٹ فارم پر ایک صارف کی جانب سے بنایا گیا "سائیکالوجسٹ" یعنی ماہر نفسیات نامی چیٹ باٹ اتنا مقبول ہوا ہے کہ ویب سائٹ کے مطابق اسے آٹھ کروڑ لوگوں نے میسجز کیے۔ اور ان میں سے اکثریت نفسیاتی مسائل کا شکار یہاں تک کہ خودکشی پر مائل تھی لیکن باٹ سے بات کرنے کے بعد وہ مایوسی کے پاتال سے باہر نکل آئے۔ یہ باٹ اتنا ذہین ہے کہ آپ سے گفتگو کے شروع میں ہی اندازہ لگا لیتا ہے کہ آپ کس جذباتی کیفیت سے گذر رہے ہیں۔۔۔۔ اور "ارے کیا آپ غمگین ہیں؟" جیسا سوال کرنے میں دیر نہیں لگاتا۔
کیریکٹر اے آئی سے ملتا جلتا ایک اور پلیٹ فارم "ریپلیکا" ہے۔ جس پر اٹھارہ سال سے زائد عمر صارفین زیادہ تر جنسی گفتگو وغیرہ کرتے ہیں۔ اس حوالے سے مزید تحریر میں نہیں لکھا جا سکتا۔

لب لباب یہ کہ جلد یا بدیر سوشل میڈیا کا اگلا پڑاؤ کیریکٹراےآئی اور ریپلیکا جیسے پلیٹ فارمز پر ہو گا۔ ممکن ہے میٹا اور ایکس صورتحال کو بھانپتے ہوئے اپنے پلیٹ فارمز کی نوعیت کو بدل لیں یا اسے نئے سوشل میڈیا سے ہم آہنگ کر لیں۔ حال ہی میں مارک زکر برگ نے عندیہ بھی دیا ہے اور میٹا کی جانب سے اے آئی چپس میں اربوں ڈالر انویسٹمنٹ کی جا رہی ہے۔ بہرحال یہ وقت بتائے گا کہ میٹا جیسے پلیٹ فارم اب بھی اربوں صارفین کی توجہ کا مرکز رہیں گے یا ان کا قبلہ تبدیل ہونے والا ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ اگلے چند ماہ میں ہم دہائیوں میں ہونے والی تبدیلیاں دنوں میں ہوتا دیکھیں گے۔

(ندیم رزاق کھوہارا)

09/01/2024

آپ کا ہر کلک کامیابی کی طرف ایک قدم ہے

Explor, Connect thrives on Saqib Mehmood- SWM

08/01/2024

میم سدرہ نسیم کی وال سے

آج مختلف انڈین سٹارٹ اپس کو دیکھ رہا تھا۔ بھارت میں سب سے کم عمر ارب پتی لوگوں میں ایڈ ٹیک یا پھر ایجوکیشن انڈسٹری سے وابستہ لوگ شامل ہیں اس کے ساتھ فن ٹیک یا پھر ڈیجیٹل فنانس والے آتے ہیں۔

یہ لوگ بھارت میں فقط چھوٹے سے مسائل کے حل سوچنے کے بعد ارب پتی بن گئے اور چونکہ یہاں پہ نوجوان آبادی کا تناسب کافی زیادہ ہے اس لئے ان کے بزنس کی گروتھ بہت تیز رہی تھی۔

پاکستان میں سٹارٹ اپ کلچر کبھی بن ہی نہیں پایا ہے۔ خدا خدا کر کے ہمارا دراز برینڈ بنا تھا مگر وہ بھی علی بابا کو فروخت کر دیا گیا اور یوں اب وہ بھی پاکستانی کی بجائے چینی برینڈ ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان میں دو سال پہلے تک شپمنٹ سے منسلک بزنس جیسا کہ فوڈ ڈیلیوری، گروسری شاپنگ اور ڈیجیٹل رائیڈ جیسے بزنس اوپر آ رہے تھے مگر اب پٹرول کی وجہ سے ڈیلیوری کی قیمت بڑھنے کے سبب سب سے پہلے ائیر لفٹ نامی برینڈ دیوالیہ ہوا اور اس کے بعد کچھ ایسے ہی سٹارٹ اپ دیوالیہ ہوئے اور اب وہ منظر نامے سے غائب ہو چکے ہیں۔

اس وقت پاکستان میں بڑے سٹارٹ اپس میں فوڈ پانڈا، پرائس اوے یا پھر دوائی ڈاٹ کام جیسے سٹارٹ اپ بچے ہوئے ہیں لیکن ان کے منافع کے لئے بھی سستے پٹرول کی ضرورت ہے۔

گو انڈیا اتنی بڑی مارکیٹ ہے لیکن وہاں لوگ پیسہ خرچ کرنے سے گھبراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کا زمیٹو کا برینڈ فقط سو سے دو سو ملین ڈالر کی مالیت کا ہے جبکہ پاکستانی فوڈ پانڈا ان حالات میں بھی چالیس سے پچاس ملین ڈالر کی ویلیوایشن رکھتا ہے۔

یورپئین مارکیٹ کو دیکھنے کے بعد مجھے جس چیز کا سب سے بری طرح سے احساس ہوا وہ یہاں ان ممالک کے اپنے لوکل سٹارٹ اپس کا ہونا ہے۔ پولینڈ ، بیلجئیم اور جرمنی یہ تین ممالک بالکل ساتھ ساتھ ہیں مگر ان تینوں ممالک میں گروسری سے لیکر پیٹرول ڈلوانے تک ہر ملک میں الگ برینڈ موجود ہیں۔

ان کے پاس ایک سوئی سے لیکر ٹماٹر مرچ تک ہر چیز کا اپنا لوکل برینڈ موجود ہے گو ان ممالک میں ایلیٹ ہماری ایلیٹ کی طرح غیرملکی برینڈ پہ جانا پسند کرتی ہے لیکن یہاں ایک چھوٹے سے چھوٹے پراڈکٹ کو بھی بہت اچھے اور منفرد طریقے سے کمرشلائز کرکے بیچا جاتا ہے اور زیادہ تر آبادی لوکل سستے برینڈز پہ جانا پسند کرتی ہے۔

پاکستان اکنامک ڈائنامکس کے حساب سے امریکہ سے ملتا جلتا ایک ملک ہے۔ یہاں کے لوگ غریب ہو کر بھی پیسہ لگانے سے نہیں گھبراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ یہاں پہ لوگوں کو شادیوں سے لے کر شام کے کھابوں تک ہر جگہ بے تحاشہ پیسہ لگاتے ہوئے دیکھیں گے۔

مگر

ٹیکس نیٹ کے پراپر نفاذ اور مستحکم پالیسیز کے نا ہونے کی وجہ سے یہاں پہ لوگ اپنے بزنس کو ٹھیک طرح سے بڑھانے کی طرف نہیں جاتے ہیں اور اسی لئے آپ یہاں برینڈ بہت کم دیکھیں گے۔ کیونکہ لوگوں کو اس بات پر یقین ہے کہ ایک دوکان رکھ کر وہ ٹیکس نہیں دے رہے تو اس دوکان کو بڑا کرکے وہ ٹیکس کیوں بھریں؟ اسی طرح لوگوں میں یہ سوچ بھی کافی حد تک موجود ہے کہ اگر وہ ایک چیز ملاوٹ کرکے اچھے نفع کے ساتھ بیچ رہے ہیں تو اس چیز پر محنت کیوں کریں؟

یہی وجہ ہے کہ یہاں سٹارٹ اپ کلچر سے لے کر برینڈ کلچر تک سب پنپ نہیں رہا ہے لیکن تین سو ملین لوگوں کی مارکیٹ میں بڑے سٹارٹ اپس کا نا ہونا ایک مایوسی کی خبر اور سرمایہ کار کی مارکیٹ میں دلچسپی نا لینے کی نشانی ہے۔

اتنی بڑی مارکیٹ کو فقط گورمے، فوجی فاؤنڈیشن اور چند ایک دیگر برینڈز کے سہارے چھوڑنا انکی ایک مناپلی قائم کرنے کے مترادف ہے اور اس بات کے ہمارے سماج کو کافی نقصانات ہو رہے ہیں جن میں سے سب سے بڑا نقصان کثیر سرمائے کا وجود میں نا آنا ہے۔

ورنہ جتنی فضول خرچی کا رواج ہمارے کلچر میں ہے یہاں تھوڑی سی بھی معاشی بہتری آجائے تو یہ کلچر بہت پروان چڑھ سکتا ہے اور اس ضمن میں مزید محنت کرنے کی بہت ضرورت ہے۔

اس کے لئے سٹارٹ اپس کو دوبارہ سے سبسڈیز دینے کے ساتھ ساتھ ان کو آسانیاں فراہم کرنا ضروری ہے۔ تین سو ملین کی مارکیٹ میں آپ کو ایک بھی بڑا گروسری کا برینڈ نظر نہیں آئے گا۔ جبکہ چھوٹے کریانہ سٹور اپنی اشیا کا معیار کم اور قیمت زیادہ رکھ کر انہیں بیچ رہے ہیں وہیں پر اگر ان چیزوں کی ویلیو ایڈیشن کی جائے اچھی پیکنگ کے ساتھ بڑے سکیل پر بیچا جائے تو جہاں یہ چیزیں سستی بکیں گی وہیں پر ان چیزوں کو بنانے والے مطلب کسان حضرات کے منافع میں بھی بہتری آئے گی اور ان کے دن بھی پھریں گے۔

ایسے ہی فن ٹیک اور ایڈ ٹیک میں بھی بہتری کی گنجائش باقی ہے۔ سب ٹرانزیکشنز کو ڈیجٹلائز کرنے اور ایجوکیشن کو ایپلی کیشنز کی طرف لانے کی کوشش کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ اگر آج کے پاکستان کو دو گھنٹے کی مسافت پہ موجود عرب ممالک سے موازنہ کرکے دیکھیں تو یہ بہت پیچھے نظر آتا ہے۔

ضیغم قدیر

06/01/2024

شہزاد حسین کی وال سے

مشہور زمانہ ریڈ کار تھیوری:

اگر کوئی آپ سے سوال کرے کہ آج کے دن سڑک پر آپ پر کوئی سرخ گاڑی دیکھی؟

تو آپ سوچ میں پڑ جائیں گے۔ شاید آپ کو ٹھیک سے یاد نہیں آئے۔ آپ کہیں گے کہ شاید دیکھی ہوگی، پر صحیح سے یاد نہیں

لیکن،

اگلے دن گھر سے نکلنے سے پہلے، آپ کو کہا جائے کہ آپ سڑک پر چلتی، جتنی بھی سرخ گاڑیوں کی نشاندہی کریں گے، آپ کو ہر گاڑی کے لیے سو ڈالر دئیے جائیں گے

تو کیا ہوگا؟

آپ کی ساری توجہ سرخ گاڑیوں کی طرف مبذول ہوجائے گی۔ آپ چن چن کر انھیں تلاشیں گے اور ان کی نشاندہی کریں گے

آپ کا فوکس، آپ کی اٹینشن بالکل بدل جائے گی

تو،

کیا سرخ گاڑیوں کی تعداد میں تبدیلی آگئی؟

ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔

وہ تو ویسے کی ویسی ہی ہیں

تبدیلی آپ کے فوکس میں آچکی ہے

بالکل اسی طرح،

زندگی میں قسمت اور مواقعوں کی مثال بھی سرخ گاڑیوں کی طرح ہی ہے۔ یہ ہمارے اطراف موجود ہیں۔ ہمارے آگے پیچھے گزرتی رہتی ہیں پر اکثریت انھیں سرے سے نوٹس ہی نہیں کرپاتی۔ انھیں ان مواقعوں کا سینس ہی نہیں

لیکن،

اگر آپ اپنی اپروچ کو درست کرلیں، اپنے فوکس کو تیز کرلیں، تو آپ کو اپنے اطراف متعدد opportunities نظر آنے لگیں گی۔

آپ کے سرکل میں ایسے لوگ موجود ہوں گے جو ان مواقعوں کو، عام لوگوں کے مقابلے کہیں تیزی سے بھانپ لیتے ہیں، انھیں پہچان لیتے ہیں

اگر آپ اپنے اطراف بکھرے ان مواقعوں کو پہچاننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، تو آپ کے دائیں بائیں گزرتے رہتے ہیں اور آپ کو ان کا ادراک تک نہیں ہوتا

جو شخص ان مواقعوں کا ادراک حاصل کرلے، کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔۔۔۔۔۔!!!!

06/01/2024

مشہور اداکار جیکی چن کی ایک فلم " میں کون ہوں" میں وہ اپنی شناخت کی تلاش میں ہوتا ہے. یہ فلم اپنے انتہائی خطرناک سینز کیلئے مشہور ہے. جیکی چن بہت مشکل جان لیوا سین اس فلم میں فلماتا ہے. کافی پہلے جیکی چن کا ایک انٹرویو آیا تھا. انٹرویو والا پوچھتا ہے آپ اتنے خطرناک سین کیوں فلماتے ہیں؟

جیکی چن نے کہا ہمارے چائنیز سینما کے پاس ایسے آلات نہ تھے جس سے ہم کوئی اچھی فلم بنا پاتے. آلات ڈھونڈ بھی لیتے تو ان کو چلانے والے ماہرین ہمارے پاس نہ تھے تب عالمی سینما میں داخل ہونے کیلئے ہمارے پاس بس ایک ہی چیز بچ جاتی تھی. وہ چائنیز کنگ فو اور ہماری اپنی جان تھی. ہم نے دونوں کا خوب استعمال کیا.

جیکی چن کے جسم کی کوئی ہڈی ایسی نہیں جو ٹوٹ نہ چکی ہو. لیکن جیکی چن 1960 سے فلم انڈسٹری میں داخل ہوا اور آج تک اس میدان میں ڈٹا ہوا ہے. آج جیکی چن دُنیا کے کسی بھی مقام پر پوچھ لے میں کون ہوں.؟ اسے شناخت کرنے والے ہزاروں لاکھوں میں ہیں.

شناخت کے اس سفر میں لوازمات سفر ضروری نہیں سب کے پاس مکمل ہوں. آپ لیکن اگر میدان میں ہیں اور کھڑے ہیں تو زمانہ آپ کو پہچان لیتا ہے. بقا کی اس جنگ کو آپ کنگ فو کہہ دیں جوڈو کراٹے یا علم و ہنر سمجھ لیں آپ کو بس خود میں کچھ ایسا تلاش کرنا ہے جسے میدان میں پیش کر سکیں.

ریاض علی خٹک

✍️ Saqib Mehmood  سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال "ہم اپنی چیز کو کونسے پلیٹ فارم پہ بیجیں"تو اسکا جواب ھے یہ سب کچھ آپ...
29/12/2023

✍️ Saqib Mehmood

سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال

"ہم اپنی چیز کو کونسے پلیٹ فارم پہ بیجیں"

تو اسکا جواب ھے

یہ سب کچھ آپکے انحصار کرتا ھے کہ آپکا کاروبار کس نوعیت کا ھے اور آپ کتنا بجٹ خرچ کرنا جانتے ھیں کیونکہ

اگر آپکا کاروبار آٹو انڈسٹری، گھریلو آئٹم کا ھے تو فیسبک کیونکہ اس پہ ہمارے زیادہ تو بزرگ حضرات اور گھریلو صارفین استمعال کرتے ھیں

اور اگر اپکا کاروبا فیشن پروڈکٹ کاسمیٹک پروڈکٹ کا ھے تو انسٹگرام اور سنیپ چیٹ بہترین جگہ ھے آپکی سیل کے لیے کیونکہ درمیانی عمر کی لڑکیاں آجکل ان پلیٹ فارم کو زیادہ محفوظ اور پسند جگہ سمجھتی ھیں

اور اگر آپ کھلونے اور بکس وغیرہ سیل کرنا چاہتے ھیں تو ٹک ٹاک کیونکہ اس میں ترقی کی بہترین صلاحیت موجود ھے لہذا اگر اسکے متعلقہ ھو تو ضرور غور کریں

Saqib Mehmood- SWM


مقصد کی وضاحت✍️ Saqib Mehmood لوگوں کی وڈیوز دیکھ کے کچھ نہیں ھوتا جب تک آپ اپنے مقصد کو واضح نہیں کرتے  رتن ٹاٹا کہتے ھ...
26/12/2023

مقصد کی وضاحت
✍️ Saqib Mehmood

لوگوں کی وڈیوز دیکھ کے کچھ نہیں ھوتا جب تک آپ اپنے مقصد کو واضح نہیں کرتے

رتن ٹاٹا کہتے ھیں

"زندگی کو اچھے طریقے سے گزارنے کے لیے واضح مقصد اور ہداف کا تعیں کر لینا ضروری ھوتا ھے"

سائمن سائنک آپنی کتاب

Start with Why

میں لکھتے ھیں کہ

کامیاب لوگ کچھ بھی نیا کرنے سے پہلے یہ نہیں سوچتے کہ کیا کرنا ھے کیسے کرنا ھے

وہ یہ سوچتے ھیں کہ کیسے کرنا ھے، کہاں کرنا ھے اور کیوں کرنا ھے وہی #کیوں کے جواب کے ساتھ اپنا زندگی کا مقصد منتخب کر لیتے ھیں اور کامیاب ھونے تک اسی سے خود کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہتے ھیں۔

کیونکہ جب انسان اپنے ہداف کا واضح تعین کر لیتا ھے تو پھر آسانی سے اپنے مقصد کو حاصل کر لیتا ھے

Saqib Mehmood- SWM

09/10/2023

منقول

‏"اسٹیو جابز ایک ارب پتی کے طور پر وفات پاگئے، IPhone اس کی ہی ایجاد ہیں ۔
7 ارب ڈالر کے سرمایے کے ساتھ، 56 سال کی عمر میں پینکریاس کینسر کی وجہ سے،
‏اور یہاں کچھ اس کے آخری الفاظ ہیں...
‏"اس وقت، بستر میں لیٹ کر، بیمار ہوکر اپنی پوری زندگی کو یاد کرتے ہوئے، مجھے احساس ہوتا ہے کہ موت کے قریبی موقع کے موجودگی میں میری تمغہ داری اور دولت تو کسی کام کا نہیں ۔
آپ کسی کو اپنی گاڑی چلانے کے لئے نوکری پر لے سکتے ہیں، اور پیسے کمانے کے لئےبھی -
لیکن آپ کسی کو اپنی بیماری دینے کیلئے تنخواہ پر نہیں لے سکتے۔
جب ہم بڑھتے ہیں تو ہم عقلمند ہوتے ہیں، اور ہم دھیرے دھیرے سمجھتے ہیں کہ جب ایک گھڑی کی قیمت 30 ڈالر ہو یا 30000 -
دونوں بالکل ہی وقت دکھاتی ہیں زیادہ نہیں کرسکتی ۔
‏چاہے ہم 150,000 ڈالر کی کار چلائیں یا 2000 ڈالر کی کار - راستہ اور فاصلہ بالکل ہی وہی ہیں، ہم وہی منزل پر پہنچتے ہیں جو مقرر ہیں۔
‏۔
‏👇5 اہم حقائق جن کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا:
‏1. اپنے بچوں کو امیر بنانے کی بجائے خوش رہنے کے لئے تعلیم دیں تاکہ جب وہ بڑے ہوں تو اشیائی قیمت کی بجائے اشیائی قدر کو جانیں۔
‏2. اپنا کھانا دوائی کی طرح کھائیں، ورنہ آپ کو اپنی دوائی کھانے کی طرح کھانا پڑی گی۔
‏3. وہ جو آپ کو محبت کرتا ہے، وہ کبھی آپ کو چھوڑ کر نہیں جائے گا، حتی کہ اس کے پاس 100 وجوہات ہوں، وہ ہمیشہ ایک وجہ پائے گا کہ تھامے رہے۔
‏4.انسان بننے اور ہونے میں بڑا فرق ہے۔
‏5. اگر آپ تیزی سے جانا چاہتے ہیں - تنہا جائیں!
لیکن اگر آپ دور جانا چاہتے ہیں - اکھٹے جائیں!

‏مجھے تو سرخرو ہونا ہے آقا کی نگاہوں میںصلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ❤
29/09/2023

‏مجھے تو سرخرو ہونا ہے آقا کی نگاہوں میں

صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ❤

سوشل میڈیا×کنکشن= منافع✍️ثاقب محمودایک کامیاب سوشل میڈیا مارکیٹر جو 6k$ کی ماہانہ آمدنی کاتا ہے Indeed.com کے مطابق سوشل...
23/09/2023

سوشل میڈیا×کنکشن= منافع
✍️ثاقب محمود

ایک کامیاب سوشل میڈیا مارکیٹر جو 6k$ کی ماہانہ آمدنی کاتا ہے

Indeed.com

کے مطابق سوشل میڈیا مارکیٹر امریکہ میں ایک گنٹھہ کا 19$ تک وصول کرتا ھے اور اپنے سیٹ کیے گے اس ہداف کو پورا کرنے کے لیے آپکو کچھ محنت کرنے کی ضرورت پڑتی ھے

سب سے پہلے، مالی صلاحیت کے حامل کمپنیز کی شناخت کرنا ضروری ہے۔
جیسے رئیل اسٹیٹ، ہسپتال، ملٹی نیشنل کمپنیز کی نشاندہی کر لیتے ہیں، تو معلوم کریں کہ ان کمپنیز کے اندر فیصلہ سازوں کو کن چیلنجوں کا سامنا ہے۔

انہیں کارروائی کرنے کے لیے کیا ترغیب دیتی ہے۔ فون یا ای میل کے ذریعے ان افراد تک پہنچیں اور سوالات پوچھ کر معلومات اکٹھی کریں۔

اس کے بعد، آپ اپنے دریافت کردہ چیلنجوں کی بنیاد پر ایک پیشکش بنائیں۔

مثال کے طور پر، "میں رئیل اسٹیٹ کو سرمایہ داروں اور فروخت کاروں کو تلاش کرنے میں مدد کرتا ہوں، بغیر وقت گزاری کی توقع یا کولڈ کالنگ کی ضرورت کے۔"

اپنی پیشکش تیار کرنے کے بعد، اسے فیسبک یا انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر لوگوں تک پہنچنا۔ لوگوں سے آف لائن جڑنا بھی مؤثر ہے۔

آخر میں، فیس بک اشتہارات کا فائدہ اٹھائیں کہ اگر آپ ایک ابھرتے ہوئے کاروباری ہیں، تو براہ کرم بلا جھجھک مجھ سے اعزازی کاروباری مشورے کے لیے رابطہ کریں۔ میں ہمیشہ مدد کرنے میں خوش ہوں!


Address

Sheikhupura
39170

Telephone

+923114913333

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saqib Mehmood- SWM posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Saqib Mehmood- SWM:

Share