Sukkur Press Club

Sukkur Press Club The Sukkur Press Club is a professional organization and business center for journalists

23/05/2026

سکھر اللّٰہ آباد سائٹ ایریا کے رہائشی سومرو برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین کا اپنے بیٹے غلام نبی سومرو کو بلاجواز گرفتار کئے جانے اور انیلا ابڑو کے جھوٹا بیان دینے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل
Sukkur Press Club Only News fans Sindh Police Highlight District Sukkur Police Syed Nasir Hussain Shah

23/05/2026

سکھر: جائیداد میں حصہ نہ ملنے اور مبینہ ناانصافیوں کے خلاف خاتون کا پریس کلب کے سامنے احتجاج

سکھر کی کمبوہ برادری سے تعلق رکھنے والی خاتون مسرت زوجہ محمد صادق کمبوہ نے اپنے معذور بچے اور بیٹیوں کے ہمراہ مبینہ طور پر سسرالیوں کی جانب سے جائیداد میں حصہ نہ دینے، ظلم و زیادتیوں اور ناانصافیوں کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج میں متاثرہ خاتون اور ان کی بیٹی نے اعلیٰ حکام سے انصاف اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاج کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسرت صادق کمبوہ نے کہا کہ انہیں گزشتہ تقریباً 20 برس سے ان کے جائز حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ ان کے شوہر محمد صادق کمبوہ گھر کے واحد کفیل ہیں، جو سبزی مارکیٹ میں کرائے کی چھوٹی دکان پر محنت مزدوری کر کے گھر کا خرچ چلاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کا ایک بچہ معذوری کا شکار ہے جس کے علاج معالجے پر اخراجات آتے ہیں، جبکہ مالی مشکلات اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ کئی ماہ سے گھر کا کرایہ بھی ادا نہیں کر سکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سسرالیوں نے کبھی ان کے حالات جاننے یا مدد کرنے کی کوشش نہیں کی۔مسرت صادق کمبوہ نے مزید کہا کہ وہ گزشتہ ایک سال سے مختلف دفاتر اور متعلقہ اداروں کے چکر لگا رہی ہیں تاکہ مسئلے کا حل نکل سکے، تاہم انہیں کوئی ریلیف نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ان کے لیے رہائش کا انتظام کیا جائے گا اور کمرہ تعمیر کر کے دیا جائے گا، مگر بعد ازاں وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔خاتون نے الزام لگایا کہ جب انہوں نے اپنے اور اپنے بچوں کے حق کا مطالبہ کیا تو انہیں مبینہ طور پر محمود کمبوہ اور عاشق کمبوہ کی جانب سے دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اور ان کے اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جس کے باعث وہ شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں جائیداد میں ان کا قانونی اور شرعی حق دیا جائے اور رہائش کے لیے جگہ فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ باعزت زندگی گزار سکیں۔اس موقع پر مسرت صادق کمبوہ کی بیٹی رخسار نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد سبزی فروشی کر کے گھر کا خرچ چلاتے ہیں، مگر معاشی حالات انتہائی خراب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے معذور بھائی کی دیکھ بھال اور گھر کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ مشکلات کے باعث ان کی تعلیم بھی متاثر ہوئی۔رخسار نے اعلیٰ حکام، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ ان کے خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے اور ان کے جائز حقوق دلانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔احتجاج کے دوران متاثرہ خاندان نے حکومت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا نوٹس لے کر انہیں تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔
Only News Sukkur Press Club Highlight Sindh Police Sindh Government District Sukkur Police fans Mian Shehbaz Sharif

23/05/2026

خانپور مہر ضلع گھوٹکی کا پریمی جوڑا جان کے خوف سے سکھر پریس کلب پہنچ گیا ’ہم نے باہمی رضامندی سے شادی کی، اپنے ہی رشتہ دار جان کے دشمن بن گئے‘

سکھر خانپور مہر ضلع گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے ایک پریمی جوڑے نے جان کے شدید خطرات کے پیش نظر سکھر پریس کلب پہنچ کر میڈیا کے سامنے تحفظ کی اپیل کی ہے۔پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج احمد ولد جمال الدین سومرو اور ان کی اہلیہ ماریہ ولد عبدالمجید پیران نے بتایا کہ انہوں نے 22 مئی کو باہمی رضامندی سے گھوٹکی سیشن کورٹ میں قانونی طور پر پسند کی شادی کی ہے اور اب وہ اپنے علاقے خانپور مہر میں پرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں، تاہم ماریہ کے ماموں، بھائی اور قریبی رشتہ داروں کی جانب سے انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ماریہ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اہل خانہ نے نہ صرف ان کے شوہر اور سسرالی رشتہ داروں کے خلاف اغواء کا جھوٹا الزام عائد کیا انہیں جان لیوا دھمکیاں بھی دیں رہے ہیں، حالانکہ نہ انہیں کسی نے اغواء کیا اور نہ ہی ان افراد کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے۔ماریہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر سے نکلی تھیں اور سراج احمد سومرو سے عدالت میں نکاح کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد عبدالمجید،ماموں، بھائی اور رشتہ دار جن میں آفتاب، شبیرو، دلبر، شوکت سمیت دیگر افراد شامل ہیں، انہیں مسلسل ہراساں کر رہے ہیں اور قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے ماریہ نے کہا:"میرے بھائی اور رشتہ دار ہماری جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ہم نے عدالت میں اپنی مرضی سے شادی کی ہے لیکن ہمارے اپنے والدین اور رشتہ دار ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔"سراج احمد سومرو نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اور ماریہ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے، اسی لیے انہوں نے قانونی طریقے سے شادی کی۔ ان کے مطابق ماریہ کے والد اور بھائی اس شادی سے ناخوش ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ وہ کسی بھی وقت ان کے خلاف خطرناک قدم اٹھا سکتے ہیں۔ سراج احمد سومرو کا کہنا تھا کہ ماریہ نے اپنی مرضی سے گھر سے نکل کر ان سے شادی کی، جس کے بعد ماریہ کے والد اور بھائی نے جھوٹا اغواء کا الزام لگایا ۔جوڑے نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ انہیں فوری طور پر قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اور اغواء کے جھوٹے مقدمے کو ختم کیا جائے۔ تاکہ وہ پرامن زندگی گزار سکیں۔پریمی جوڑے نے مطالبہ کیا کہ ان کا بیان ریکارڈ پر لیا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔اس موقع پر جوڑے نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ جوڑے کا کہنا تھا کہ اگر انہیں بروقت تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو انہیں کسی بھی وقت قتل کیے جانے کا خدشہ ہے۔
Sukkur Press Club Only News Highlight Sindh Police fans District Sukkur Police Syed Murad Ali Shah Sindh Government

22/05/2026

سیاسی کارکنوں کی رہائی، مہنگائی میں کمی اور امن و امان کی بہتری کے مطالبات، پاکستان تحریک انصاف سکھر کا احتجاجی مظاہرہ

سکھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ضلع سکھر کی جانب سے تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر بڑھتی ہوئی مہنگائی، امن و امان کی ابتر صورتحال، بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، لوڈشیڈنگ اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت سیاسی کارکنوں کی رہائی کے مطالبات کے حق میں سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی ضلع سکھر کے صدر گوہر خان کوسو نے کہا کہ ملک بھر میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے احتجاج کی کال دی گئی تھی، جس کے تحت سکھر میں بھی کارکنان نے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت شدید مہنگائی، بے روزگاری اور امن و امان کے مسائل کا شکار ہے جبکہ عام آدمی معاشی مشکلات کے باعث شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت متعدد سیاسی کارکن جیلوں میں قید ہیں، جن کی فوری رہائی عمل میں لائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، اس لیے حکومت عوام کو فوری ریلیف فراہم کرے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔اس موقع پر پی ٹی آئی ضلع سکھر کے نائب صدر طارق محمود کمبوہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، لوڈشیڈنگ، گیس بحران اور امن و امان کی صورتحال سنگین شکل اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ حکومتی پالیسیوں کے باعث مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔پی ٹی آئی کے انفارمیشن سیکریٹری نعمان احمد شیخ نے کہا کہ مہنگائی نے غریب طبقے کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے اور عوام شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر عوامی مسائل کے حل کے لیے اقدامات کرے اور سیاسی رہنماؤں و کارکنوں کی رہائی کو یقینی بنایا جائے۔
مظاہرے میں شریک رہنماؤں کا کہنا تھا کہ احتجاج کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا، بڑھتی ہوئی مہنگائی، لوڈشیڈنگ، امن و امان کی خراب صورتحال اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی کی جائے، عوام کو ریلیف دیا جائے اور ملک میں معاشی و انتظامی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔احتجاج کے اختتام پر شرکاء نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی اور مسائل کے حل تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
Sukkur Press Club Only News fans Highlight Sindh Police Sindh Government Mian Shehbaz Sharif Syed Nasir Hussain Shah Syed Murad Ali Shah District Sukkur Police

22/05/2026
22/05/2026

کندھکوٹ کا پریمی جوڑا جان کے خوف سے سکھر پریس کلب پہنچ گیا ’ہم نے باہمی رضامندی سے شادی کی، اپنے ہی رشتہ دار جان کے دشمن بن گئے‘

سکھر کندھکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ پریمی جوڑے نے جان کے شدید خطرات کے پیش نظر سکھر پریس کلب پہنچ کر میڈیا کے سامنے تحفظ کی اپیل کی ہے۔پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اکرم ولد محمد سلیم لکھن اور ان کی اہلیہ مہک ولد سوداگر ملک نے بتایا کہ انہوں نے 22 مئی کو باہمی رضامندی سے سکھر سیشن کورٹ میں قانونی طور پر پسند کی شادی کی ہے اور اب وہ اپنے علاقے کندھکوٹ میں پرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں، تاہم مہک ملک کے ماموں، بھائی اور قریبی رشتہ داروں کی جانب سے انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔مہک ملک نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اہل خانہ نے نہ صرف ان کے شوہر اور سسرالی رشتہ داروں کے خلاف اغواء کی جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی، حالانکہ نہ انہیں کسی نے اغواء کیا اور نہ ہی ان افراد کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے۔مہک ملک کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر سے نکلی تھیں اور محمد اکرم لکھن سے عدالت میں نکاح کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد سوداگر ملک،ماموں، بھائی اور رشتہ دار جن میں آصف شہزاد، عامر شہزاد، محسن رضا عرف سنی سمیت دیگر افراد شامل ہیں، انہیں مسلسل ہراساں کر رہے ہیں اور قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے مہک ملک نے کہا:"میرے بھائی اور رشتہ دار ہماری جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ہم نے عدالت میں اپنی مرضی سے شادی کی ہے لیکن ہمارے اپنے والدین اور رشتہ دار ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔"محمد اکرم لکھن نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اور مہک ملک ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے، اسی لیے انہوں نے قانونی طریقے سے شادی کی۔ ان کے مطابق مہک ملک کے ماموں اور بھائی اس شادی سے ناخوش ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ وہ کسی بھی وقت ان کے خلاف خطرناک قدم اٹھا سکتے ہیں۔ محمد اکرم لکھن کا کہنا تھا کہ مہک ملک نے اپنی مرضی سے گھر سے نکل کر ان سے شادی کی، جس کے بعد مہک ملک کے ماموں اور بھائی نے جھوٹا اغواء کا الزام لگایا ۔جوڑے نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ انہیں فوری طور پر قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اور اغواء کے جھوٹے مقدمے کو ختم کیا جائے۔ تاکہ وہ پرامن زندگی گزار سکیں۔پریمی جوڑے نے مطالبہ کیا کہ ان کا بیان ریکارڈ پر لیا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔اس موقع پر جوڑے نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ جوڑے کا کہنا تھا کہ اگر انہیں بروقت تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو انہیں کسی بھی وقت قتل کیے جانے کا خدشہ ہے۔
Sukkur Press Club Only News Sindh Police Sindh Government Highlight fans District Sukkur Police Syed Murad Ali Shah Top Fans

22/05/2026

شوہر اور دیور پر تشدد اور قتل کی کوشش کا الزام، خاتون کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج، تحفظ اور انصاف کی اپیل

سکھر کے علاقے بورڈ آفس کی رہائشی ابڑو برادری سے تعلق رکھنے والی خاتون مسمات انیلا بنت مولابخش ابڑو نے مبینہ گھریلو تشدد، سیاہ کاری کا الزام لگا کر ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی کوشش کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج کے دوران خاتون نے اعلیٰ حکام سے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔تفصیلات کے مطابق احتجاج کے دوران میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسمات انیلا نے الزام عائد کیا کہ ان کے شوہر غلام نبی سومرو اور دیور مرتضیٰ سومرو انہیں مبینہ طور پر مسلسل تشدد کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پر سیاہ کاری کا الزام عائد کیا گیا اور انہیں قتل کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ وہ انتہائی مشکل حالات میں اپنی جان بچا کر گھر سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں، جس کے بعد انصاف کے حصول کے لیے سکھر پریس کلب پہنچی ہیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جان کا خطرہ لاحق ہے، اس لیے ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔مسمات انیلا نے قانون نافذ کرنے والے اداروں، چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے مطالبہ کیا کہ ان کے شوہر غلام نبی سومرو اور دیور مرتضیٰ سومرو کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، انہیں گرفتار کیا جائے اور متاثرہ خاتون کو تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔
Only News Sukkur Press Club Sindh Police Highlight District Sukkur Police Syed Murad Ali Shah fans Sindh Government Syed Nasir Hussain Shah

22/05/2026

سکھر پریس کلب کے سامنے تحریک آئین پاکستان اور پی ٹی آئی کارکنان کا احتجاج، مہنگائی، پیکا ایکٹ اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ

سکھر تحریک آئین پاکستان ضلع سکھر کی جانب سے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، سیاسی صورتحال، متنازع آئینی ترامیم، پیکا ایکٹ اور سیاسی رہنماؤں و کارکنان کی گرفتاریوں کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج میں پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنماؤں، وکلا، سیاسی کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔احتجاجی مظاہرے میں پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ نورالدین چوہان، عیدن جاگیرانی، ماجد ڈنور سمیت دیگر کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر مہنگائی کے خاتمے، سیاسی قیدیوں کی رہائی، اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ اور پیکا ایکٹ کے خلاف نعرے درج تھے۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے متوسط اور غریب طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔مظاہرین نے 26ویں، 27ویں اور مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوری روایات اور آئینی تقاضوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی اختلاف رائے رکھنے والے افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔مقررین نے سابق وزیراعظم عمران خان، شاہ محمود قریشی، ماہ رنگ بلوچ، علی وزیر اور دیگر زیر حراست سیاسی کارکنان و رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی انداز میں نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور صحافیوں و میڈیا پر کسی قسم کی غیر ضروری پابندی قبول نہیں کی جا سکتی۔احتجاج کے شرکاء نے پیکا ایکٹ پر بھی تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ آزادیٔ اظہار اور صحافتی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں مہنگائی پر قابو پایا جائے، عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے اور سیاسی استحکام کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی اختیار کی جائے۔مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، معاشی بحران پر قابو پایا جائے اور ملک میں قانون کی بالادستی، آئینی نظام اور جمہوری اقدار کو فروغ دیا جائے۔احتجاج کے اختتام پر شرکاء نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی، مہنگائی کے خاتمے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ دہرایا۔
Sukkur Press Club Only News Highlight Sindh Government fans Syed Murad Ali Shah Syed Nasir Hussain Shah Mian Shehbaz Sharif

22/05/2026

مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف جمعیت علماء اسلام کی سکھر میں احتجاجی ریلی، حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید

سکھر جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی ہدایت پر مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور عوامی مشکلات کے خلاف ضلع سکھر میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کیا گیا۔ریلی جامعہ حمادیہ منزل گاہ سے شروع ہو کر سکھر پریس کلب تک نکالی گئی، جس کی قیادت جمعیت علماء اسلام ضلع سکھر کے امیر مولانا محمد صالح اندھڑ نے کی۔ریلی سکھر پریس کلب پہنچ کر بڑے احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کر گئی، جس میں جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں، کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مظاہرے میں شریک رہنماؤں میں مفتی سعود افضل ہالیجوی، حافظ عبدالحمید مہر، مولانا غلام اللہ ہالیجوی، مولانا زبیر احمد مہر، قاری لیاقت علی مغل، مولانا امیر خان متقی، مولانا امان اللہ سکھروی، مولانا علی اکبر عباسی، مولانا عبد الکریم جونیجو، مولانا سیف اللہ سمیجو، مولانا محمد عابد سندھی، قاری عبدالمنان سمیجو، مولانا اسامہ محمود ہالیجوی اور قاری نصر اللہ سکھروی سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعۃ المبارک کے روز جمعیت علماء اسلام کی اپیل پر ملک بھر کے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف یومِ احتجاج منایا جا رہا ہے، جس کے تحت احتجاجی ریلیاں، مظاہرے اور دھرنے دیے جا رہے ہیں۔مقررین کا کہنا تھا کہ موجودہ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، عام آدمی کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے اور معاشی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوامی مشکلات مزید بڑھ رہی ہیں۔رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل احتجاجی تحریک کا اعلان کیا تھا، تاہم حکومت کی درخواست پر اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔مقررین کے مطابق اس وقت بعض اہم سفارتی اور سیاسی سرگرمیوں کے باعث احتجاج کو وقتی طور پر ملتوی کیا گیا، تاہم بعد ازاں مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعوے پورے نہ ہونے پر دوبارہ احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام عوامی مسائل کے حل اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ مقررین نے اعلان کیا کہ مرکزی اور صوبائی قیادت کی آئندہ ہدایات کے مطابق احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر شرکاء نے مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی اور عوامی مشکلات کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔
Only News Sukkur Press Club Highlight fans Sindh Government Syed Murad Ali Shah Mian Shehbaz Sharif Syed Nasir Hussain Shah

اطلاع گمشدگی نام۔۔۔۔لطیف جلبانی زہنی توازن درست نہیں رتودیرو کے رہائشی سکندر جلبانی اور ندیم جلبانی کا اپنے بھائی لطیف ج...
21/05/2026

اطلاع گمشدگی

نام۔۔۔۔لطیف جلبانی
زہنی توازن درست نہیں
رتودیرو کے رہائشی سکندر جلبانی اور ندیم جلبانی کا اپنے بھائی لطیف جلبانی جو کہ دو ماہ قبل گھر سے نکل کر گیا واپس نہیں آیا جس وجہ سے گھر والے انتہائی پریشانی کا شکار ہیں سکندر اور ندیم سکھر پریس کلب پہنچ کر قانون نافذ کرنیوالے اداروں سمیت عوام الناس سے تلاش کرنے کی اپیل
سکندر ، ندیم ولد میر خان جلبانی
رتودیرو
پرانی عید گاہ
فون نمبر 03702701577
Sindh Police Sukkur Press Club District Sukkur Police Only News Highlight fans Sindh Government Syed Nasir Hussain Shah

21/05/2026

بااثر افراد کی مبینہ زیادتیوں کیخلاف خاتون کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج، انصاف و تحفظ کا مطالبہ

سکھر روہڑی کے علاقے نیو یارڈ کی رہائشی مغل برادری سے تعلق رکھنے والی خاتون مسمات حسنا نے اپنے بھائی محمد اقبال اور بھابھی نجمہ کے ہمراہ سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے علاقے کے بااثر افراد پر مبینہ زیادتیوں، ہراسانی اور پلاٹ پر قبضے کی کوششوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔مظاہرین نے انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔
احتجاج کے دوران مسمات حسنا نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ علاقے کے بعض بااثر افراد، جن میں عابد پلھ، غلام حسن، خادم، فضلو اور دیگر شامل ہیں، ان کے پلاٹ پر غیر قانونی قبضہ کرنا چاہتے ہیں.انہوں نے کہا کہ مذکورہ پلاٹ سے متعلق معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اس کے باوجود مبینہ طور پر مخالف فریق انہیں مسلسل ہراساں کر رہا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ روز نامزد افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کی بھابھی نجمہ کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ کیس واپس لینے کے لیے سنگین دھمکیاں بھی دیں۔ متاثرہ خاتون کے مطابق واقعے کے بعد متعلقہ تھانے میں شکایت درج کرانے کی کوشش کی گئی، تاہم پولیس نے ان کی داد رسی کرنے کے بجائے مبینہ طور پر ملزمان کی حمایت کی اور انہیں تھانے سے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ شکایات درج کرانے کے باوجود انہیں مسلسل سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس کے باعث اہل خانہ شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف اور جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جائے۔
Sukkur Press Club Only News Highlight fans Sindh Police Sindh Government District Sukkur Police

Address

Press Club Bulevard, Minara Road
Sukkur
65200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sukkur Press Club posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sukkur Press Club:

Share