16/09/2024
دستوری پیکج کا ایک 24 صفحات پر مشتمل مسودہ سوشل میڈیا پر گردش میں ہے میں نے ابھی ایک نظر اس پر ڈالی اگر یہ مسودہ مستند ہے تو چند گزارشات عرض ہیں کہ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینے کی سوچ رہی ہے تو صرف اپنے سیاسی مقاصد کیلئے عدالتی نظام پر کیوں حملہ آور ہے ،کھل کر قومی مفاد میں عوامی فلاح و بہبود کا دستوری پیکج لائے اور سب کو ساتھ لیکر اس کو پاس کرائیں۔حکومت مخلص ہے تو
1-آرٹیکل 19 میں ترمیم کرکے آزادی اظہار رائے پر دوست ممالک(امریکہ؟)سے تعلقات پبلک آرڈر جیسے مجہول الفاظ ہٹائیں ،تاکہ حکومت پر تنقید اور اختلافی آوازوں کو نہ دبایا جاسکے۔
2-آرٹیکل 27 میں ترمیم کرکے سرکاری جبری گمشدگی کو سنگین جرم بنائے،کہ جبری گمشدگی دستور آئین اور بشری حقوق پر سنگین حملہ ہے(یاد رہے کہ یہ دستوری ترمیم پہلے سے ہی سینیٹ میں، میں پیش کرچکا ہوں )
3-آرٹیکل۔30(2)کو حذف کریں کہ جس نے پرنسپلز آف پالیسی کو شو پیس بنایا ہے اور کوئی فرد پرنسپلز آف پالیسی پر عملدرآمد نہ کرنے پر حکومت کے خلاف عدالت نہیں جاسکتا۔پرنسپلز آف پالیسی پر عملدرآمد کیلئے ٹائم فریم کو دستور کا حصہ بنایا جائے۔پرنسپلزآف پالیسیز پر عملدرآمدسے پروٹوکول کلچر،طبقاتی ،استحصالی نظام، غربت،سود،ناخواندگی کا خاتمہ ہوجائے گااور ریاست پر لازم ہوگا کہ وہ ہر پاکستانی کوچھت،تعلیم، علاج معالجہ، اور مفت،فوری انصاف فراہم کرے۔(یہ دستوری ترمیم بھی میں پہلے ہی سینیٹ آف پاکستان میں پیش کرچکا ہوں )
4-آرٹیکل۔32 میں ترمیم کرکے لوکل گورنمنٹ کے نظام اور انتخابات اور اختیارات کو دستوری حیثیت دے اور اسے دستوری طور پر تیسرا دائرہ حکومت تسلیم کیاجائے۔کہ اس کے ذریعے جمہوریت اور سیاسی جماعتیں مضبوط ہونگی اور پیراٹروپرز، سیاسی مسافروں اور اے ٹی ایم مشینوں اور مافیا سے ایوانوں کو نجات ملے گی اور عوام کو معیاری قیادت فراہم ہوگی۔
4-آرٹیکل 45 میں صدرکے اختیارات کہ وہ کسی بھی عدالت کا کوئی بھی سزا معاف کرسکتا ہے ختم کردیا جائے ،یہ مکمل طور غیر اسلامی ہے۔
5-ارٹیکل 203D کے اس شرط( proviso )کو حذف کیا جائے جس کوئی فرد/حکومت وفاقی شرعی عدالت کے کسی بھی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرے تو وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ قابل نفاذ نہیں رہتا،اس شرط( proviso )نے وفاقی شرعی عدالت کو ڈاکخانہ بنایا ہے،شرعی عدالت کے فیصلوں کا کوئی نفاذ نہیں ہوتا۔(یہ دستوری ترمیم بھی میں سینیٹ آف پاکستان میں پہلے ہی پیش کرچکاہوں۔
رہنما جماعت اسلامی مشتاق احمد خان