AD Laghari

AD Laghari Doing things my way.

03/07/2026
02/07/2026

حالیہ دنوں میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) نے جیو نیوز کی نشریات 15 دن کے لیے معطل کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ محرم الحرام کے ایک خصوصی پروگرام میں نشر کیے گئے ایسے مناظر پر کیا گیا جنہیں ریگولیٹر نے مذہبی جذبات مجروح کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

پابندی کی وجوہات:
26 جون 2026 کو نشر ہونے والے محرم کے خصوصی پروگرام میں بعض مذہبی مناظر دکھائے گئے۔
پیمرا کے مطابق یہ مناظر عوام کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتے تھے اور امن و امان کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔
پیمرا نے کہا کہ چینل نے ادارتی نگرانی (Editorial Oversight) میں غفلت برتی، اس لیے 15 روزہ معطلی کے ساتھ معاملہ مزید کارروائی کے لیے کونسل آف کمپلینٹس کو بھی بھیج دیا گیا۔

جیو نیوز کا مؤقف:
جیو نیوز نے باضابطہ معذرت کی۔
چینل کے مطابق متنازع مواد غلطی سے نشر ہو گیا تھا اور یہ ادارے کی پالیسی یا عقائد کی نمائندگی نہیں کرتا۔
جیو نے بتایا کہ متعلقہ ویڈیو فوری طور پر تمام پلیٹ فارمز سے ہٹا دی گئی، اندرونی انکوائری شروع کر دی گئی اور ادارتی نگرانی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

عوامی ردِعمل:
بعض حلقوں نے پیمرا کے فیصلے کی حمایت کی اور اسے مذہبی حساسیت کے پیشِ نظر ضروری قرار دیا۔
جبکہ کچھ صحافیوں، تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس اقدام کو اظہارِ رائے اور میڈیا کی آزادی پر قدغن قرار دیتے ہوئے تنقید بھی کی۔

مختصراً، جیو نیوز پر پابندی کی سرکاری وجہ محرم کے پروگرام میں نشر ہونے والا ایسا مواد تھا جسے پیمرا نے مذہبی طور پر نامناسب اور عوامی امن کے لیے خطرہ قرار دیا، جبکہ جیو نیوز نے اسے غیر ارادی ادارتی غلطی قرار دے کر معذرت کر لی۔

01/07/2026

1947 میں تقسیمِ ہند کے وقت مغربی پنجاب (پاکستان) میں 16 اضلاع شامل کئے گئے تھے۔ یہ اضلاع درج ذیل تھے:
لاہور
شیخوپورہ
گوجرانوالہ
سیالکوٹ
گجرات
راولپنڈی
جہلم
شاہپور (سرگودھا)
میانوالی
کیمبل پور (اٹک)
ملتان
مظفرگڑھ
ڈیرہ غازی خان
مونٹگمری (ساہیوال)
جھنگ
لائل پور (موجودہ فیصل آباد)
جب کہ بہاولپور اس وقت برطانوی پنجاب کا ضلع نہیں تھا بلکہ ایک الگ نوابی ریاست تھی، جس نے بعد میں پاکستان سے الحاق کیا۔

01/07/2026

*ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کیسے گزاری جائے؟*

ریٹائرمنٹ نوکری کا اختتام ہے، زندگی کا نہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب آپ نے سالوں کی محنت کے بعد اپنے لیے جینا ہے۔ مگر خالی پن اور بوریت سے بچنے کے لیے پلاننگ ضروری ہے۔

*1. مالی پلاننگ سب سے پہلے*

- *بجٹ بنائیں*: پنشن، پراویڈنٹ فنڈ اور بچت کو دیکھ کر ماہانہ خرچ طے کریں۔ غیر ضروری خرچ کم کریں۔
- *صحت بیمہ*: اس عمر میں علاج مہنگا ہوتا ہے۔ اچھا ہیلتھ انشورنس لازمی لیں۔
- *سرمایہ کاری*: رقم کو صرف بینک میں نہ رکھیں۔ کچھ حصہ ماہانہ آمدن والی اسکیمز، کچھ بچوں کی شادی/تعلیم کے لیے الگ رکھیں۔ کسی ماہر سے مشورہ کریں۔
- *وصیت*: جائیداد اور اثاثوں کی تقسیم واضح کر دیں تاکہ بعد میں گھر والوں کو پریشانی نہ ہو۔

*2. صحت کو ترجیح دیں*

ریٹائرمنٹ کے بعد سب سے بڑی دولت صحت ہے۔
- *روزانہ واک/ورزش*: 30 منٹ چہل قدمی، یوگا یا ہلکی پھلکی ورزش۔
- *چیک اپ*: شوگر، بلڈ پریشر، دل کا معائنہ ہر 6 ماہ بعد۔
- *متوازن غذا*: تلی ہوئی اور میٹھی چیزوں سے پرہیز۔ سبزی، دال، پھل زیادہ کھائیں۔
- *نیند*: 7-8 گھنٹے کی نیند ضروری ہے۔

*3. مصروف رہیں، خالی نہ بیٹھیں*

خالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے۔ ڈپریشن سے بچنے کے لیے خود کو مصروف رکھیں۔

- *پارٹ ٹائم کام*: اپنی مہارت کے مطابق کنسلٹنسی، ٹیوشن، آن لائن کام، یا چھوٹا کاروبار۔ اس سے آمدن بھی ہوگی اور عزتِ نفس بھی برقرار رہے گی۔
- *مشغلے اپنائیں*: باغبانی، مطالعہ، لکھنا، پینٹنگ، پرندے پالنا، قرآن کی تلاوت و تفسیر۔ وہ سب کریں جس کا نوکری میں وقت نہیں ملا۔
- *ہنر سیکھیں*: کمپیوٹر، موبائل، انٹرنیٹ سیکھیں۔ یوٹیوب سے کھانا پکانا یا کوئی نئی زبان سیکھیں۔ دماغ چلتا رہے گا۔

*4. سماجی تعلق برقرار رکھیں*

تنہائی اس عمر کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
- *دوستوں کا حلقہ*: پرانے کولیگز، محلے داروں سے میل جول رکھیں۔ روز پارک جائیں۔
- *خاندان کو وقت دیں*: پوتے پوتیوں کے ساتھ کھیلیں۔ بچوں کو تجربہ بتائیں۔ مگر ان کے گھر کے معاملات میں بے جا مداخلت نہ کریں۔
- *سماجی کام*: مسجد کمیٹی، فلاحی تنظیم، اسکول میں رضاکارانہ پڑھائیں۔ دوسروں کے لیے جینے سے اپنی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔

*5. روحانی سکون*

اب عبادت، ذکر، اور شکر کا وقت ہے۔
- نماز، تلاوت، تسبیح کو معمول بنائیں۔
- حج/عمرہ کا ارادہ ہے تو کر لیں۔
- درس و تدریس کی محفلوں میں بیٹھیں۔

*6. سفر کریں*

اب آپ وقت کے مالک ہیں۔ ملک کے اندر گلگت، اسکردو، ساحل یا اپنے آبائی گاؤں جائیں۔ بجٹ میں عمرہ یا ترکی، ملائشیا کا ٹور بھی ہو سکتا ہے۔ نئی جگہیں دیکھنے سے ذہن تازہ ہوتا ہے۔

*سب سے اہم بات:*
ریٹائرمنٹ کو "زندگی ختم" نہ سمجھیں۔ یہ "دوسری اننگز" ہے۔ اپنے آپ کو بیکار مت سمجھیں۔ آپ کے پاس تجربہ، وقت اور حکمت ہے – اسے استعمال کریں۔

> ریٹائر نوکری سے ہونا ہے، زندگی سے نہیں۔

01/07/2026

*ملک میں گندم کا بحران – ایک تفصیلی جائزہ*

*تمہید*
گندم پاکستان کی بنیادی غذائی جنس اور "فوڈ سیکیورٹی" کی ضامن ہے۔ ملک کی 70% سے زائد آبادی کی خوراک کا انحصار براہِ راست گندم پر ہے۔ مگر پچھلے کچھ سالوں سے ملک بار بار گندم کے بحران کا شکار ہو رہا ہے۔ کبھی آٹے کی لائنوں میں شہری جاں بحق ہو جاتے ہیں، کبھی کسان اپنی فصل سڑکوں پر پھینکنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہ تضاد ہی اصل بحران ہے۔

*بحران کی نوعیت*
پاکستان میں گندم کا بحران دو رُخا ہے:
1. *قلت کا بحران*: طلب کے مقابلے پیداوار کم، یا وقت پر درآمد نہ ہونا۔ اس سے آٹے کی قیمت 150 سے 200 روپے کلو تک جا پہنچی۔
2. *فراوانی کا بحران*: بمپر فصل کے باوجود حکومت وقت پر گندم نہ خریدے تو کسان کو فصل اونے پونے داموں بیچنی پڑتی ہے۔ اگلے سال وہ گندم کم کاشت کرتا ہے اور پھر قلت پیدا ہو جاتی ہے۔

*بحران کی بڑی وجوہات*

1. *پالیسی کا فقدان*: ہر سال گندم کی امدادی قیمت کا اعلان تاخیر سے ہوتا ہے۔ کسان کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ بونا کیا ہے۔ 2023-2024 میں پنجاب نے قیمت 3900 روپے من رکھی، مگر خریداری نہ کی۔ کسان نے 2800-3000 میں بیچا۔
2. *اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی*: افغانستان اور وسط ایشیا میں گندم مہنگی ہونے کی وجہ سے لاکھوں ٹن گندم اسمگل ہو جاتی ہے۔ بڑے اسٹاکسٹ اور فلور ملز بھی مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں۔
3. *موسمیاتی تبدیلی*: بے وقت بارشیں، گرمی کی لہر اور سیلاب۔ 2022 کے سیلاب سے سندھ اور بلوچستان میں 30% گندم متاثر ہوئی۔
4. *مہنگے زرعی مداخل*: کھاد، ڈیزل، بجلی اور بیج کی قیمت 3 سال میں دوگنی ہو گئی، مگر گندم کی قیمت اس تناسب سے نہ بڑھی۔ کسان کی فی ایکڑ لاگت 1 لاکھ سے اوپر چلی گئی۔
5. *آبادی کا دباؤ*: پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ سالانہ 30 لاکھ نئے لوگ فوڈ چین میں شامل ہو رہے ہیں، مگر گندم کی پیداوار اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔
6. *بدانتظامی*: وفاق اور صوبوں کے درمیان کوآرڈینیشن کا فقدان۔ پاسکو اور صوبائی محکمہ خوراک کے پاس مناسب ذخیرہ اور خریداری کا نظام نہیں۔ گوداموں میں 20% گندم چوہے اور نمی کی نذر ہو جاتی ہے۔

*بحران کے اثرات*
1. *مہنگائی*: آٹا مہنگا ہونے سے روٹی، نان، ڈبل روٹی ہر چیز مہنگی۔ غریب کی خوراک کا 60% خرچ صرف گندم پر آ جاتا ہے۔
2. *غذا کی کمی*: ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق پاکستان میں 37% بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ آٹے کے بحران سے یہ شرح بڑھتی ہے۔
3. *کسان بدحال*: کسان کو نقصان ہو تو وہ اگلی فصل کم لگاتا ہے۔ اس سے "سرکل آف کرائسس" بن جاتا ہے۔
4. *زرِ مبادلہ کا نقصان*: قلت پوری کرنے کے لیے ہر سال 2 سے 3 ارب ڈالر کی گندم درآمد کرنا پڑتی ہے، جو پہلے سے کمزور معیشت پر بوجھ ہے۔

*حل کیا ہے؟*
1. *بروقت پالیسی*: ستمبر میں ہی اگلے سال کی امدادی قیمت اور خریداری کا ہدف مقرر کیا جائے۔
2. *اسٹریٹجک ذخائر*: کم از کم 6 ماہ کا اسٹاک ہر وقت موجود ہو۔ جدید سائلوز بنائے جائیں تاکہ ضیاع رکے۔
3. *اسمگلنگ روکی جائے*: بارڈر پر سخت چیکنگ اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ۔
4. *کسان کو سہولت*: سستی کھاد، بیج اور پانی۔ فی ایکڑ پیداوار 32 من سے بڑھا کر 50 من تک لے جانے کے لیے تحقیق پر خرچ کیا جائے۔
5. *متبادل خوراک*: عوام میں چاول، مکئی، جو اور باجرہ کے استعمال کی آگاہی تاکہ گندم پر انحصار کم ہو۔
6. *ڈیٹا کا نظام*: سیٹلائٹ سے کاشت کا رقبہ اور پیداوار کا درست تخمینہ لگایا جائے تاکہ درآمد یا برآمد کا بروقت فیصلہ ہو۔

*حرفِ آخر*
گندم کا بحران صرف محکمہ خوراک کا نہیں، یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ جب تک کسان کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ نہیں ملے گا اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی، یہ بحران ہر سال سر اٹھاتا رہے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ "کسان خوشحال تو پاکستان خوشحال" کے نعرے کو پالیسی میں بدلا جائے۔

30/06/2026

ہمالیہ پہاڑ

ہمالیہ دنیا کا سب سے بلند اور عظیم پہاڑی سلسلہ ہے۔ لفظ "ہمالیہ" سنسکرت کے دو الفاظ "ہِم" (برف) اور "آلیہ" (گھر) سے مل کر بنا ہے، جس کا مطلب "برف کا گھر" ہے۔ یہ پہاڑی سلسلہ اپنی برف پوش چوٹیوں، گہرے دروں، وسیع گلیشیئرز اور قدرتی حسن کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ ہمالیہ نہ صرف ایک قدرتی عجوبہ ہے بلکہ ایشیا کے موسم، آب و ہوا، زراعت اور آبی وسائل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
محلِ وقوع
ہمالیہ کا سلسلہ تقریباً 2,400 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ پاکستان، بھارت، نیپال، بھوٹان اور چین (تبت) تک وسیع ہے۔ اس کی چوڑائی مختلف مقامات پر 200 سے 400 کلومیٹر تک ہے۔ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ بھی اسی سلسلے میں واقع ہے، جس کی بلندی 8,848.86 میٹر ہے۔
قدرتی خصوصیات
ہمالیہ میں ہزاروں برفانی چوٹیاں، گلیشیئرز، جھیلیں، آبشاریں اور سرسبز وادیاں موجود ہیں۔ یہاں دنیا کے بڑے گلیشیئرز پائے جاتے ہیں جو لاکھوں لوگوں کے لیے پانی کا اہم ذریعہ ہیں۔ ہمالیہ کے دامن میں گھنے جنگلات، نایاب پودے اور مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں، جن میں برفانی چیتا، ہمالیائی ریچھ، یاک اور کئی نایاب پرندے شامل ہیں۔
دریاؤں کا سرچشمہ
ہمالیہ کو ایشیا کا آبی ذخیرہ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس سے نکلنے والے دریا کروڑوں انسانوں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ دریائے سندھ، دریائے گنگا اور دریائے برہم پترا سمیت کئی اہم دریا ہمالیہ کے برفانی ذخائر سے جنم لیتے ہیں۔ یہی دریا زراعت، بجلی کی پیداوار اور انسانی زندگی کے لیے نہایت اہم ہیں۔
موسم پر اثرات
ہمالیہ جنوبی ایشیا کی آب و ہوا پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ یہ شمال سے آنے والی انتہائی سرد ہواؤں کو روک کر برصغیر کے موسم کو معتدل بناتا ہے۔ اسی طرح مون سون کی ہوائیں جب ہمالیہ سے ٹکراتی ہیں تو بارش کا باعث بنتی ہیں، جس سے کھیتی باڑی کو فائدہ پہنچتا ہے۔
پاکستان کے لیے اہمیت
پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہمالیہ کے اثرات نمایاں ہیں۔ یہ سلسلہ ملک کے آبی ذخائر کو برقرار رکھنے، دریاؤں میں پانی کی فراہمی، سیاحت کے فروغ اور ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہر سال ہزاروں سیاح اور کوہ پیما اس کے دلکش مناظر سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں۔
ماحولیاتی چیلنجز
موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کٹائی اور بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے ہمالیہ کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ اگر اس مسئلے پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں پانی کی قلت، سیلاب اور دیگر ماحولیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہمالیہ کے قدرتی ماحول کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
نتیجہ
ہمالیہ صرف ایک پہاڑی سلسلہ نہیں بلکہ قدرت کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ یہ ایشیا کے کروڑوں انسانوں کے لیے پانی، زرخیزی، خوشگوار موسم اور قدرتی حسن کا اہم ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس عظیم نعمت کی حفاظت کریں، جنگلات کو محفوظ بنائیں، ماحول کو آلودگی سے بچائیں اور آنے والی نسلوں کے لیے اس قدرتی ورثے کو برقرار رکھیں۔

30/06/2026

حضرت بلال حبشیؓ
حضرت بلال حبشیؓ اسلام کے عظیم صحابہ کرام میں سے ایک، رسول اللہ ﷺ کے وفادار خادم اور اسلام کے پہلے مؤذن تھے۔ آپؓ کا تعلق حبشہ (موجودہ ایتھوپیا) سے تھا۔ اسلام قبول کرنے سے قبل آپؓ غلام تھے، لیکن ایمان لانے کے بعد آپؓ نے کفارِ مکہ کے شدید ظلم و ستم کو نہایت صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیا۔ وہ آپؓ کو تپتی ہوئی ریت پر لٹاتے اور سینے پر بھاری پتھر رکھتے، مگر آپؓ کی زبان پر ہمیشہ "احد، احد" کے الفاظ جاری رہتے، جن کا مفہوم ہے کہ اللہ ایک ہے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آپؓ کو خرید کر آزاد فرمایا۔ آزادی کے بعد حضرت بلالؓ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کی دلنشین اور بلند آواز کی وجہ سے آپ کو مسجد نبوی کا مؤذن مقرر فرمایا۔ آپؓ کی دی ہوئی اذان مسلمانوں کو نماز کی طرف بلاتی تھی، اور یہ ایک عظیم اعزاز تھا۔
حضرت بلالؓ ہر جنگ اور ہر آزمائش میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے۔ آپؓ نہایت بہادر، صابر، سچے اور وفادار صحابی تھے۔ رسول اللہ ﷺ کو آپؓ سے گہری محبت تھی۔ ایک روایت کے مطابق، نبی کریم ﷺ نے جنت میں حضرت بلالؓ کے قدموں کی آہٹ سنی، جو ان کے بلند مرتبے کی واضح دلیل ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد حضرت بلالؓ کے لیے مدینہ میں قیام نہایت دشوار ہو گیا، کیونکہ ہر لمحہ آپ ﷺ کی یاد انہیں بے چین رکھتی تھی۔ بعد ازاں آپؓ شام تشریف لے گئے اور اپنی بقیہ زندگی وہیں بسر کی۔ آپؓ کا وصال تقریباً 20 ہجری میں دمشق میں ہوا۔
حضرت بلال حبشیؓ کی حیاتِ مبارکہ ہمیں صبر، استقامت، اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان، قربانی اور دینِ اسلام سے محبت کا درس دیتی ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سچائی، دیانت داری اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

Address

Tando Allahyar
70010

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AD Laghari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share