29/09/2024
یہ دنیا ہمارا گھر نہیں بلکہ ہم یہاں کے مسافر ہیں۔
جس طرح سفر کٹتا ہے۔ کبھی مشکلات، کبھی بیاباں ،کبھی میدان، کبھی پہاڑ، کبھی کانٹے، کبھی پھول، کبھی ٹھوکریں، کبھی گرنا، کبھی گر کر سنمبھلنا، کبھی چوٹ، کبھی زخم، کبھی رونا، کبھی ہنسنا، کبھی گلے لگنا، کبھی ارمان ۔۔۔ یہ ہے سفر رواں دواں ۔ بس ہم سب کا ٹھکانا ہے وہ اندھیرا شہر خاموشاں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا ایمان سلامت رکھے اور پیارے حبیب صلی علیہ وآلہ وسلم کے صدقے اپنا خصوصی کرم فرمائے آمین ۔۔