16/02/2025
جسم اور سایا
پہلا ایپیسوڈ: راز جو سایوں میں چھپے رہے
منظر 1: دعا – معصوم، نیک دل، اور آزمائشوں میں گھری
رات کے آخری پہر، ہر چیز پر ایک پراسرار خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ آسمان پر مدھم چمکتے ستارے، جیسے کسی پوشیدہ راز کے گواہ ہوں۔
سیاہ چادر اوڑھے، دعا جائے نماز پر بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، اور دل میں بے شمار سوالات…
💬 "یااللہ! میرے والدین کو خوش رکھ، میری بہن کا نصیب اچھا بنا، اور مجھے ہمت دے کہ میں ان سب کی حفاظت کر سکوں!"
مگر اس رات کی دعا عام نہیں تھی… آج اس کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی، جیسے کچھ ہونے والا ہو، جیسے کوئی سایہ اس کے قریب آ رہا ہو…
اسی لمحے، کھڑکی سے ایک تیز جھونکا آیا، اور دعا کی چادر تھوڑا سا سرک گئی۔ اس نے گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھا، لیکن کمرے میں کوئی نہیں تھا۔
"دعا! ابھی تک جاگ رہی ہو؟" ماں نے نرمی سے پوچھا۔
"جی اماں! نیند نہیں آ رہی تھی…"
ماں نے اسے پیار سے قریب کیا، مگر دعا جانتی تھی… یہ نیند کی کمی نہیں، بلکہ کسی انجان خوف کی موجودگی تھی۔
کیا دعا کی زندگی میں کوئی طوفان آنے والا تھا؟
منظر 2: زینب – شوخ مزاج، مگر دل میں چھپے زخم
کراچی کی مشہور یونیورسٹی… کیفے ٹیریا میں قہقہوں کی گونج تھی، ہر طرف ہنسی مذاق، جیسے زندگی میں کوئی پریشانی ہی نہ ہو۔
"یار زینب! تمہارے جیسا کوئی نہیں، ہر وقت ہنستی رہتی ہو!"
زینب نے ہنستے ہوئے بالوں کو جھٹکا، اس کی آنکھوں میں ایک الگ چمک تھی۔
"تم کبھی پریشان نہیں ہوتی؟"
"پریشانیاں ان کے لیے ہوتی ہیں جو ہار مان لیتے ہیں، اور میں تو پیدا ہی جیتنے کے لیے ہوئی ہوں!"
مگر حقیقت میں کیا ایسا ہی تھا؟
رات کے سائے میں، وہ اپنی گاڑی میں بیٹھی تھی، ہنسی کی جگہ آنسوؤں نے لے لی تھی۔ وہ پرس سے ایک تصویر نکالتی ہے، ایک چہرہ… جسے وہ دنیا کے سامنے بھول چکی تھی، مگر دل کے کسی کونے میں آج بھی محفوظ رکھا تھا۔
فون بجا، اسکرین پر ایک نام جھلملایا: "نامعلوم نمبر"
"وقت آ گیا ہے، زینب! تمہارے ماضی کے راز اب زیادہ دیر تک نہیں چھپیں گے…"
وہ چونک گئی…
یہ کون تھا؟ اور اسے زینب کے ماضی کے بارے میں کیا پتا تھا؟
منظر 3: روحَم – وہ جسے کوئی جانتا ہی نہیں تھا
اندھیری گلی… ٹھنڈی ہوا… اور ایک پراسرار سایہ، جو سایوں میں ہی رہنا پسند کرتا تھا۔
"ٹارگٹ کی لوکیشن کنفرم ہو گئی ہے۔" اس نے ایئرفون میں سرگوشی کی۔
"مشکل مت لو روحَم! اگر کچھ غلط ہوا، تو تمہاری زندگی خطرے میں پڑ جائے گی!"
"میری زندگی؟ ہاہ! میں نے تو جینا کب کا چھوڑ دیا…!"
وہ شخص جو کسی کے لیے کچھ نہیں تھا، جس کا کوئی نام نہیں، جس کا کوئی گھر نہیں… مگر جس کا ہر قدم کسی بڑی کہانی کا حصہ تھا۔
روحَم کون تھا؟ وہ کہاں سے آیا تھا؟ اور اس کے اندر وہ نفرت کیوں تھی؟
منظر 4: زارون شہریار – اللہ پر یقین رکھنے والا، مگر آزمائشوں میں گرفتار
مسجد کے صحن میں، ایک لمبا قد، مضبوط شخصیت، اور چہرے پر گہری سنجیدگی… زارون وضو کر رہا تھا۔
امام صاحب نے قریب آ کر پوچھا: "بیٹا، تمہارے چہرے پر سکون کیوں نہیں؟"
"سکون؟ کچھ لوگ سکون کے لیے نہیں پیدا ہوتے، انہیں آزمائشوں کے لیے چُنا جاتا ہے!"
اس کے الفاظ میں ایک گہرا درد تھا، مگر وہ جانتا تھا کہ اس کی زندگی میں ہر چیز کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ مشکل راستوں پر چلنے والا تھا، مگر اس کے قدم کبھی نہیں ڈگمگائیں گے، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ "ایمان والوں کو اللہ کبھی تنہا نہیں چھوڑتا"۔
مگر کیا اس کے حوصلے کسی ایسے راز سے ٹکرا کر ٹوٹنے والے تھے، جس کا وہ خود حصہ تھا؟
قسط کا اختتام – ایک پہلا اشارہ!
کہیں کسی خفیہ ایجنسی میں…
"پاکستان میں کچھ عجیب ہو رہا ہے… تین مختلف لوگ ٹریس ہو رہے ہیں، مگر…"
"مگر کیا؟"
"ہمیں شبہ ہے کہ… یہ تینوں شاید ایک ہی چہرہ ہیں!"
یہ دعا، زینب، روحَم، اور زارون… کیا ان کے درمیان کوئی خفیہ تعلق تھا؟
کون سا سچ پردے کے پیچھے چھپا تھا؟
(جاری ہے… اگلی قسط میں مزید انکشافات!)
#کتابیں