08/08/2026
#ویہاڑی 165WB کے رہائشی محمد اکبر نے اپنی اہلیہ فیضہ کو طلاق دے دی ہے۔ بچوں کی جانب سے بیان کیا گیا ہے کہ ان کی والدہ کے اسلم، سکنہ 89/WB، کے ساتھ مبینہ طور پر ناجائز تعلقات تھے۔ بچوں کے مطابق مذکورہ شخص اس سے قبل بھی رات کے اوقات میں ان کی والدہ کے پاس آتا اور وہاں قیام کرتا رہا ہے۔
بچوں کے بیان کے مطابق مذکورہ صورتحال اور ازدواجی تنازع کے باعث ان کے والد اکبر نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی، جس کے بعد فریقین کے درمیان حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔
بچوں کا مزید مؤقف ہے کہ اسلم نامی شخص مبینہ طور پر انہیں ڈراتا، دھمکاتا اور ذہنی دباؤ میں لاتا رہا ہے۔ بچوں کے مطابق انہیں کہا جاتا رہا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے والد اکبر کے خلاف بیان نہ دیا تو ان کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا جائے گا اور انہیں جیل بھجوا دیا جائے گا۔
بچوں کے مطابق مذکورہ شخص خود کو ڈی پی او کا آدمی ظاہر کرتے ہوئے انہیں مبینہ طور پر دھمکاتا اور اسلحہ بھی دکھاتا رہا، جبکہ انہیں کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے والد کے خلاف بیان دیں، بصورتِ دیگر انہیں جیل بھجوا دیا جائے گا۔ ان مبینہ دھمکیوں کے باعث بچے شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں اور خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔
بچوں نے اپنی والدہ فیضہ کے حوالے سے بھی اپنی جان کو مبینہ خطرہ ظاہر کیا ہے۔ بچوں کے مطابق ایک موقع پر فیضہ مبینہ طور پر ان کے پیچھے چھری وغیرہ لے کر آئی، جس کے باعث بچوں کے تایا اور دیگر رشتہ داروں نے انہیں اپنی حفاظت کے لیے اپنے گھر میں رکھ لیا ہے۔
مزید برآں، بچوں نے ایک انتہائی تشویشناک واقعہ بھی بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً تین سالہ ایک کم سن کزن ان کے گھر آیا تھا۔ بچوں کے مطابق جب انہوں نے اپنی والدہ کو گھر سے باہر جانے کا کہا تو بعد میں مذکورہ کم سن بچے کے ساتھ مبینہ طور پر مارپیٹ یا گلا دبانے کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد بچہ رونے اور چلانے لگا۔ بچوں کے مطابق جب وہ واپس آئے تو بچے نے بتایا کہ اسے مبینہ طور پر مارا گیا ہے، جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گیا اور اسے ہسپتال لے جایا گیا، تاہم راستے میں ہی اس کی موت واقع ہو گئی۔
مندرجہ بالا واقعات بچوں کے بیان کردہ مؤقف پر مبنی ہیں، جن کی غیر جانب دارانہ اور مکمل قانونی تحقیقات انتہائی ضروری ہیں۔ بالخصوص کم سن بچے کی مبینہ موت کے واقعہ کی بھی فوری طور پر تحقیقات کی جائیں.
Rashid Latif
Vᴇʜᴀʀɪ Wɪʀᴇ