07/03/2026
پوسٹ لکھنے سے پہلے تھوڑی سی تصدیق بھی کر لیا کریں۔
اگر قلم ہاتھ میں آ گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو دل چاہے لکھ دیا جائے۔ ایک جھوٹی بات یا ادھوری خبر کسی کی سالوں کی عزت کو لمحوں میں خراب کر سکتی ہے۔
خاص طور پر رمضان جیسے مقدس مہینے میں تو ہمیں اور زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔ صرف اپنی پبلسٹی یا توجہ حاصل کرنے کے لیے جھوٹی باتیں پھیلانا نہ صرف غلط ہے بلکہ گناہ بھی ہے۔
آج کل سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ گردش کر رہی ہے جس میں لکھا جا رہا ہے:
“ویہاڑی 19WB نعمان عرف ہینی ولد منظور عرف جھلہ کو پولیس نے منشیات کی بھاری مقدار سمیت گرفتار کر لیا اور اپنے بھتیجے کو چھڑوانے کیلئے رانا خالد متحرک ہو گیا، بارگین جاری ہے۔”
اگر واقعی کوئی چیز برآمد ہوئی ہے تو پولیس ریکارڈ، ایف آئی آر یا سرکاری بیان سامنے آنا چاہیے۔
لیکن بغیر ثبوت کے کسی کا نام اچھال دینا صرف افواہ اور کردار کشی کہلاتا ہے۔
اختلاف ہو سکتا ہے، تنقید بھی ہو سکتی ہے… مگر وہ سچ اور ثبوت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ کیونکہ سچ لکھنے سے کسی کو مسئلہ نہیں ہوتا، مسئلہ تب بنتا ہے جب بغیر تحقیق کے کسی عزت دار انسان کی عزت اچھالی جائے۔
کیونکہ الفاظ بھی امانت ہوتے ہیں۔
اور امانت میں خیانت نہیں کرنی چاہیے۔
میری سب سے گزارش ہے:
ہر وائرل پوسٹ کو سچ نہ سمجھیں۔
پہلے تحقیق کریں… پھر یقین کریں… اور پھر آگے شیئر کریں