17/06/2026
بورڈ چیئرمین اور متعلقہ تعلیمی حکام کے لیے یہ ایک سنجیدہ سوال ہے: کیا آپ لوگ صرف امتحانات کے دنوں میں ہی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں؟
پورا سال اسکولوں کا کوئی مؤثر آڈٹ نہیں ہوتا، نہ تعلیمی معیار پر کوئی سنجیدہ نگرانی کی جاتی ہے، نہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ طلبہ کو واقعی تعلیم مل بھی رہی ہے یا نہیں۔ لیکن جیسے ہی امتحانات شروع ہوتے ہیں تو اچانک سختی، چھاپے اور کارروائیاں یاد آ جاتی ہیں۔
یہ طرزِ عمل کھلی نااہلی اور ناقص انتظامیہ کی علامت ہے۔ اصل مسئلہ نقل نہیں، بلکہ وہ کمزور نظام ہے جسے پورا سال نظر انداز کیا جاتا ہے۔ جب اسکولوں میں لیبارٹریاں ہی موجود نہیں، بنیادی سہولیات نہیں، اور تدریسی معیار کمزور ہے تو طلبہ سے بہترین نتائج کی توقع کرنا خود فریبی ہے۔
بعد میں سارا ملبہ اساتذہ اور اسکولوں پر ڈال دینا آسان ہوتا ہے، لیکن اپنی ناکامیوں کو تسلیم کرنا کوئی نہیں چاہتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک نظام کو پورا سال فعال، شفاف اور سخت نگرانی کے ساتھ نہیں چلایا جائے گا، تب تک یہ مسائل ختم نہیں ہوں گے۔
بچوں کا مستقبل نعروں سے نہیں بنتا، بلکہ عملی اقدامات، مستقل نگرانی اور حقیقی اصلاحات سے بنتا ہے۔