28/05/2026
پشاور کے تاریخی اور ثقافتی میلوں میں اخونے بابا میلہ سوریزی کو ایک منفرد مقام حاصل ہے، اور محمد حمزہ جیسے نوجوان آج بھی اس خوبصورت روایت کو زندہ رکھنے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔
یہ عظیم الشان میلہ ہر سال عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دوسرے روز منعقد ہوتا ہے جہاں دور دراز علاقوں سے ہزاروں لوگ شرکت کرتے ہیں۔
سوریزی بالا، سوریزی پایان، میرہ موسیٰ زئی، چمکنی، سکیم چوک، امت خیل، بازی خیل، متنی، بڈھ بیر، داودزئی، تہکال، پشتخرہ، حسن خیل، ماشوخیل، ارمڑ، اچنی اور دیگر علاقوں کے لوگ اپنے دوستوں اور خاندانوں کے ساتھ اس میلے میں آتے ہیں۔ محمد حمزہ بھی ہر سال اس تاریخی میلے کی رونقوں کو اپنے انداز میں لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور ثقافتی روایات کو اجاگر کرتے ہیں۔
سو سال سے زائد پرانی اس روایت میں آج بھی پشتون ثقافت کی اصل جھلک دکھائی دیتی ہے۔ بزرگوں کے مطابق پہلے لوگ میلوں میں گھوڑوں، تانگوں اور پیدل سفر کرکے پہنچتے تھے، جبکہ آج نوجوان نسل، جن میں محمد حمزہ جیسے سوشل میڈیا کریئیٹرز بھی شامل ہیں، اس ثقافت کو نئی پہچان دے رہے ہیں۔
میلے میں ، پشتون روایتی کھیل، دیسی کھانے، کباب، چپلی کباب، مٹھائیاں، جھولے اور رنگ برنگی دکانیں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔ محمد حمزہ جیسے نوجوان اس میلے کی خوبصورت یادوں کو ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے محفوظ کرتے ہیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اپنی ثقافت سے جڑی رہیں۔
اخون بابا کی زیارت کے لیے آنے والے زائرین عید کی خوشیوں کے ساتھ اس میلے کو مزید خوبصورت بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اخون بابا میلہ سوریزی آج بھی پشاور کی ثقافتی شان اور عوامی محبت کی ایک زندہ مثال سمجھا جاتا ہے، اور محمد حمزہ جیسے نوجوان اس روایت کو نئی آواز دے رہے ہیں۔