Sajid Talks

Sajid Talks writer

27/02/2026

برادر وسیم حیدر
ناظم اعلٰی اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کا ریاض میں احباب جمعیت کے ساتھ نشت


﴿وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾(سورۃ الإسراء، آیت 81)تاریخ کا ایک اٹل اصول...
30/01/2026

﴿وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾
(سورۃ الإسراء، آیت 81)
تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے: ظلم کبھی دائمی نہیں ہوتا۔ جبر کے ایوان چاہے کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، جب حق اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو باطل خود بخود زمین بوس ہو جاتا ہے۔ آج بنگلہ دیش کی فضاؤں میں یہی صدا گونج رہی ہے کہ حق آ چکا ہے اور باطل مٹنے والا ہے۔
برسوں تک بنگلہ دیش ایک ایسے ظالمانہ نظام کی گرفت میں رہا جہاں حق گوئی جرم تھی، اختلافِ رائے کی سزا موت تھی، اور سچ بولنے والوں کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکایا گیا۔ مگر ظلم کے ان اندھیروں میں بھی ایک چراغ مسلسل جلتا رہا — جماعتِ اسلامی کا چراغ۔
جماعتِ اسلامی نے اس دورِ ابتلا میں وہ قربانیاں دیں جو تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ قید و بند، پابندیاں، سزائیں، پھانسیاں — مگر نہ حوصلہ ٹوٹا، نہ نظریہ بکا، نہ زبانِ حق خاموش ہوئی۔ صبر و استقامت، حکمت و جدوجہد، یہی جماعتِ اسلامی کا اصل سرمایہ رہا ہے۔
جب پاکستان ٹوٹا اور بنگلہ دیش ایک نئی ریاست کے طور پر وجود میں آیا، اس نازک گھڑی میں بھی جماعتِ اسلامی نے اتحاد کی آواز بلند کی۔ البدر اور الشمس سے وابستہ افراد نے اپنی جانیں قربان کیں، تاریخ کے ایک مشکل باب میں اپنے کردار ادا کیے۔ اور جب بنگلہ دیش ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن گیا تو جماعتِ اسلامی نے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کے سامنے بھی کلمۂ حق کہنا نہ چھوڑا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے سامنے ڈٹ کر حق بات کہی، چاہے اس کی قیمت مزید مظالم کی صورت میں کیوں نہ ادا کرنی پڑی۔
پابندیاں لگیں، قیادت کو نشانہ بنایا گیا، جماعت کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، مگر تحریکِ اسلامی نہ رکی، نہ جھکی، نہ بکی۔ کیونکہ یہ کسی فرد یا جماعت کی تحریک نہیں، بلکہ ایک نظریے کی جدوجہد ہے۔
آج بنگلہ دیش ایک نئے موڑ پر کھڑا ہے۔ فروری کے انتخابات محض ووٹ کا مرحلہ نہیں، بلکہ ایک قوم کے مستقبل کا فیصلہ ہیں۔ جماعتِ اسلامی ایک باصلاحیت، باکردار اور نظریاتی قیادت کے ساتھ عوام کی امید بن کر ابھر رہی ہے۔ اگر ان شاء اللہ تحریکِ اسلامی کامیاب ہوتی ہے تو یہ صرف بنگلہ دیش کی نہیں، بلکہ پوری عالمِ اسلام کی کامیابی ہوگی۔
یہ وقت خاموشی کا نہیں، حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔
یہ لمحہ تماشائی بننے کا نہیں، تاریخ کا حصہ بننے کا ہے۔
کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے:
حق آتا ہے تو باطل مٹ جاتا ہے، اور باطل مٹنے ہی کے لیے ہوتا ہے۔
تحریر : ساجد احمد

مردِ آہن، شیرِ لاہوراستقامت، جرأت اور حق گوئی کی روشن علامت28 جنوری ہمیں اُس مردِ مجاہد کی یاد دلاتا ہے جس نے آمریت کے ...
28/01/2026

مردِ آہن، شیرِ لاہور
استقامت، جرأت اور حق گوئی کی روشن علامت
28 جنوری ہمیں اُس مردِ مجاہد کی یاد دلاتا ہے جس نے آمریت کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا، قید و بند کی صعوبتیں سہیں مگر باطل کے آگے سر نہیں جھکایا۔
حافظ سلمان بٹؒ صرف ایک رہنما نہیں تھے، وہ ایک نظریہ تھے—ایسا نظریہ جو حوصلہ دیتا، راستہ دکھاتا اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا سکھاتا تھا۔
ان کی زندگی قربانی، استقامت اور حق پر ڈٹ جانے کی زندہ مثال تھی۔ انہوں نے جماعت اسلامی طلبہ لاہور کی قیادت کرتے ہوئے نوجوانوں کے دلوں میں شعور، غیرت اور مقصدِ حیات کی شمع روشن کی۔
آج وہ ہم میں نہیں، مگر ان کی آواز، فکر اور جدوجہد ہر اُس دل میں زندہ ہے جو حق و انصاف پر یقین رکھتا ہے۔
ایسے لوگ مرتے نہیں، تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ حافظ سلمان بٹؒ کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
یومِ وفات — 28 جنوری
حق کی گواہی، استقامت کی پہچان

یہ قوم کبھی کبھار حیران رہ جاتی ہے کہ جس جماعت کا اپنا دامن خون، جرائم، لسانیت اور بدعنوانی سے آلودہ ہو، وہ آج دوسروں کو...
27/01/2026

یہ قوم کبھی کبھار حیران رہ جاتی ہے کہ جس جماعت کا اپنا دامن خون، جرائم، لسانیت اور بدعنوانی سے آلودہ ہو، وہ آج دوسروں کو حب الوطنی کے طعنے کیسے دے سکتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ پی آئی اے کا طیارہ اغوا کرنے والے کوئی بیرونی دشمن نہیں تھے بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے کی قائم کردہ دہشت گرد تنظیم الذوالفقار کے کارندے تھے۔ یہ وہی جماعت ہے جو آج سندھ میں اقتدار میں ہے اور خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ:
پی آئی اے کا طیارہ کس نے اغوا کروایا؟
دہشت گرد تنظیم الذوالفقار کس نے بنائی؟
“اِدھر تم، اُدھر ہم” کا نعرہ کس نے لگایا جس نے ملک کو دولخت کرنے کی بنیاد رکھی؟
فوجی آمر کو “ڈیڈی” کہنے کی روایت کس نے ڈالی؟
راؤ انوار جیسے قاتل افسر کی پشت پناہی کس کے دور میں ہوئی؟
عزیر بلوچ اور لیاری گینگ جیسے جرائم پیشہ عناصر کو سیاسی سرپرستی کس نے دی؟
کراچی آج بھی سوال کر رہا ہے:
زمینوں پر قبضوں کی سرپرستی کون کر رہا ہے؟
شہر پر تسلط کے لیے من پسند حلقہ بندیاں کس نے کروائیں؟
میئر کے انتخاب میں پی ٹی آئی کے 32 منتخب ارکان کو کس نے خریدا؟
آج جماعت اسلامی کی کردار کشی کے لیے سرکاری فنڈز سے چاکنگ کون کروا رہا ہے؟
یہی نہیں، ماضی پر نظر ڈالیں تو:
بلوچستان کی منتخب حکومت کس نے برطرف کی جس کے نتیجے میں نفرت اور بغاوت نے جنم لیا؟
فیڈرل سیکیورٹی فورس (FSF) جیسے متنازع ادارے کے ذریعے سیاسی مخالفین کو کس نے کچلا؟
صحافیوں کو کوڑے اور میڈیا پر پابندیاں کس دور کا سیاہ باب ہیں؟
سندھ میں شہری و دیہی تفریق کو ہوا دے کر لسانی سیاست کس نے پروان چڑھائی؟
سندھ کی طویل حکمرانی کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں:
تھر میں بھوک اور پیاس سے بچوں کی اموات
کراچی میں کچرے کے ڈھیر، ٹوٹا ہوا انفراسٹرکچر، پانی اور ٹرانسپورٹ کا بحران
جعلی اکاؤنٹس، منی لانڈرنگ اور اربوں روپے کے اسکینڈلز
یہ سب محض الزامات نہیں، یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات قوم برسوں سے مانگ رہی ہے۔ جس جماعت کا اپنا ریکارڈ اتنا متنازع اور داغدار ہو، وہ کسی دوسری جماعت—خصوصاً جماعت اسلامی—کو حب الوطنی کا طعنہ دینے کی اخلاقی پوزیشن میں ہرگز نہیں۔
قوم اب نعروں سے نہیں، کردار اور کارکردگی سے فیصلے کرے گی۔
جرائم کی یہ فہرست طویل ہے—اور اگر سچ بولنے کی ہمت ہو تو اس میں مزید ابواب بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

ایک منظم ریاست میں، شدید سردی اور برفباری کے عالم میں، ہزاروں افراد کو اپنے ہی گھروں سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا۔المیہ ...
26/01/2026

ایک منظم ریاست میں، شدید سردی اور برفباری کے عالم میں، ہزاروں افراد کو اپنے ہی گھروں سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا۔
المیہ یہ ہے کہ فوج اور وفاقی حکومت علاقہ خالی کرانے کے احکامات سے لاعلمی کے باضابطہ بیانات جاری کر رہی ہیں، جبکہ صوبائی حکومت پہلے ہی لاتعلقی کا اعلان کر چکی ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بےچارے لوگ آج بھی دربدر ہیں، عملاً علاقہ بدر کیے جا چکے ہیں، مگر ذمہ داری لینے والا کوئی نہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب کسی کے حکم پر نہیں ہو رہا، تو پھر ہو کیا رہا ہے؟
یہ کیسا تماشا ہے، جس کی قیمت صرف عام لوگ ادا کر رہے ہیں؟
🤔🫣




24/01/2026

پیر کو آنا تھا تو آتے! ڈپٹی کمشنر کی موجودگی کا جھوٹ، چھ دن بعد اسمبلی میں حاضری، اور پھر شکایت؟
اگر مسئلہ ہے تو سارجنٹ کو بلائیں!
جماعتِ اسلامی کے ایم پی اے نے وزیراعلیٰ کو ایوان میں خاموش کرا دیا۔

24/01/2026

وادی تیراہ کے لوگ آج اپنے ہی گھروں سے بے گھر ہو رہے ہیں۔
کوئی دربدر کسی محفوظ اور پرسانِ حال جگہ کی تلاش میں ہے۔ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟
کل وادی تیراہ میں شدید برف باری ہوئی، جس میں بے شمار لوگ راستوں میں پھنس گئے۔ یہ ایک فطری آفت نہیں بلکہ ملٹری آپریشنز کا تسلسل ہے جس نے تیراہ کے عوام کو ہجرت پر مجبور کر دیا ہے۔
اگر ریاست یا حکومت کسی علاقے میں آپریشن کرنا چاہتی ہے تو یہ اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ پہلے وہاں کے عوام کے لیے متبادل وسائل، رہائش، علاج، خوراک اور نقل و حرکت کی سہولیات فراہم کرے، اس کے بعد کسی کارروائی کا آغاز کرے۔
یہ کوئی پہلا آپریشن نہیں—پختون بیلٹ میں اب تک 23 آپریشنز ہو چکے ہیں—پھر بھی امن کیوں قائم نہ ہو سکا؟ یہ ایک سنجیدہ اور بنیادی سوال ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ صوبائی حکومت مکمل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
اس وقت جو لوگ وادی تیراہ کے قریب ہیں، ان پر اخلاقی، انسانی اور دینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان درد مند لوگوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں، خصوصاً اس شدید سردی اور برف باری میں ان کی ہر ممکن خدمت کریں۔
الحمدللہ، الخدمت کے رضاکار اس مشکل وقت میں میدان میں موجود ہیں، جو انسانیت کی خدمت کی ایک روشن مثال ہیں۔
لیکن صرف رضاکار کافی نہیں—ریاست کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔

یکم فروری کو کراچی میں ایک عظیم الشان “کراچی کو جینے دو” ملین مارچ منعقد کیا جائے گا جو شہرِ قائد کے مظلوم عوام کی اجتما...
21/01/2026

یکم فروری کو کراچی میں ایک عظیم الشان “کراچی کو جینے دو” ملین مارچ منعقد کیا جائے گا جو شہرِ قائد کے مظلوم عوام کی اجتماعی چیخ اور موجودہ حکمرانوں کی ناکامیوں کے خلاف ایک واضح عوامی ریفرنڈم ہوگا۔ یہ مارچ محض ایک اجتماع نہیں بلکہ اس نظام کے خلاف احتجاج ہے جس نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کو مسلسل نظرانداز، محروم اور بے یار و مددگار بنا رکھا ہے۔
کراچی جو ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، آج بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ ٹوٹے ہوئے انفراسٹرکچر، پانی و بجلی کے مسائل، بدامنی، بے روزگاری اور بدترین طرزِ حکمرانی نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو شہر ملک کو پالتا ہے، وہ خود کیوں لاوارث ہے؟
“کراچی کو جینے دو” ملین مارچ اس ناانصافی کے خلاف بیداری کی علامت ہے۔ یہ مارچ حکمرانوں کو یہ پیغام دے گا کہ کراچی کے عوام مزید خاموش نہیں رہیں گے۔ یہ شہر خیرات نہیں، اپنا حق مانگ رہا ہے۔ حقِ حکمرانی، حقِ سہولیات اور حقِ باعزت زندگی۔
یہ مارچ ہر اس شہری کی آواز ہے جو بہتر مستقبل، منصفانہ نظام اور بااختیار بلدیاتی ڈھانچے کا خواہاں ہے۔ یہ ایک پُرامن مگر فیصلہ کن اعلان ہے کہ کراچی کو جان بوجھ کر تباہ کرنے کی پالیسی اب مزید قابلِ قبول نہیں۔
یکم فروری کو کراچی کی سڑکوں پر نکلنے والا سمندر یہ ثابت کرے گا کہ جب عوام متحد ہو جائیں تو تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
کراچی کو جینے دو — کیونکہ زندہ شہر ہی زندہ قوم کی ضمانت ہوتے ہیں۔
Hafiz Naeem ur Rehman

19/01/2026

جماعت اسلامی کشتیہ کے امیر پروفیسر ابو ہاشم بیماری کے باوجود مفتی امیر حمزہ کو قتل کی دھمکیاں دینے کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے تقریر کے دوران انتقال کر گئے

یونیورسٹی سے پڑھا لکھا ڈاکٹر سامنے بیٹھا جرمنی کا سفیر اور مغربی تہذیب کے مقابلے میں اسلامی تہذیب پر اعتماد کا یہ حال سن...
16/01/2026

یونیورسٹی سے پڑھا لکھا ڈاکٹر سامنے بیٹھا جرمنی کا سفیر اور مغربی تہذیب کے مقابلے میں اسلامی تہذیب پر اعتماد کا یہ حال سنت رسول ص سے عشق کا یہ عالم۔۔۔۔یہ ہے سید مودودیؒ کا وہ ویژن کہ "اسلامی قیادت کا ذہن جدید ہو اور قلب قدیم"

جب مولانا مودودی  امیر جماعت منتخب  ہوئے تو حلف اٹھانے کے بعد انکا پہلا خطاب۔  میں آپ کے درمیان نہ سب سے زیادہ علم رکھنے...
14/01/2026

جب مولانا مودودی امیر جماعت منتخب ہوئے تو حلف اٹھانے کے بعد انکا پہلا خطاب۔

میں آپ کے درمیان نہ سب سے زیادہ علم رکھنے والا تھا، نہ سب سے زیادہ متقی،اور نہ کسی اور خصوصیت میں مجھے فضیلت حاصل تھی۔ بہر حال جب آپ نے مجھ پر اعتماد کرکے اس کار عظیم کا بار میرے اوپر رکھ دیا ہے تو اب میں اللہ سے دعا کرتا ہوں اور آپ لوگ بھی دعا کریں کہ مجھے اس بار کو سنبھالنے کی قوت عطاء فرمائے ۔
میں اپنے علم کی حد تک کتاب اللہ، سنت رسول اور خلفائے راشدین کے نقش قدم کی پیروی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھوں گا۔ تاہم اگر مجھ سے کوئی لغزش ہوا اور آپ میں سے کوئی محسوس کرے کہ میں راہ راست سے ہٹ گیا ہوں تو مجھ پر بدگمانی نہ کرے کہ میں عمدا ایسا کر رہا ہوں، بلکہ حسن ظن سے کام لے اور نصیحت سے مجھے سیدھا کرنے کی کوشش کرے۔
مجھے اس تحریک کی عظمت اور خود اپنے نقائص کا پورا احساس ہے۔ میں جانتا ہوں یہ وہ تحریک ہے جس کی قیادت اولوالعزم پیغمبروں نے کی ہے، اور زمانہ نبوت گزر جانے کے بعد وہ غیر معمولی انسان اسے لے کر اٹھتے رہے ہیں جو نسل انسانی کے گل سر سبد تھے۔ مجھے ایک لمحے کے لئے اپنے بارے میں یہ غلط فہمی نہیں ہوئی کہ میں اس عظیم الشان تحریک کی قیادت کا اہل ہوں بلکہ میں تو اسے بدقسمتی سمجھتا ہوں کہ اس وقت اس کار عظیم کے لئے آپ کو مجھ سے بہتر کوئی آدمی نہیں ملا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اپنے فرائض امارت کی انجام دہی کے ساتھ میں برابر تلاش میں رہوں گا کہ کوئی اہل تر آدمی اس کا بار اٹھانے کے لئے مل جائے اور جب میں ایسے آدمیوں کو پاؤں گا تو خود سب سے پہلے اس کے ہاتھ پر بیعت کروں گا۔
میرے لئے تو یہ تحریک عین مقصدِ زندگی ہے میرا مرنا اور جینا اس کے لئے ہے کوئی اس پر چلنے کے لیے تیار ہو یا نہ ہو، بہرحال مجھے تو اسی راہ پر چلنا اور اسی راہ میں جان دینا ہے کوئی آگے نہ بڑھے گا تو میں بڑھوں گا کوئی ساتھ نہ دے گا تو میں اکیلا چلوں گا ساری دُنیا متحد ہوکر مخالفت کرے گی تو مجھے تن تنہا اس سے لڑنے میں بھی باک نہیں ہے۔
آخر میں ایک اور بات کی اور توضیح کرنا چاہتا ہوں ۔ فقہ اور کلام کے مسائل میں میرا ایک خاص مسلک ہے جسے میں نے اپنی ذاتی تحقیق کی بنا پر اختیار کیا ہے اور پچھلے آٹھ سال کے دوران میں جو اصحاب "ترجمان القرآن" کا مطالعہ کرتے رہے ہیں وہ اسے جانتے ہیں۔ اب جب کہ میری حیثیت اس جماعت کے امیر کی ہوگئی، میرے لئے یہ بات صاف کردینی ضروری ہے کہ فقہ و کلام کے مسائل میں جو کچھ میں نے پہلے لکھا ہے اور جو کچھ آئیندہ لکھوں گا یا کہوں گا اس کی حیثیت امیر جماعت اسلامی کے فیصلے کی نہ ہوگی بلکہ میرے ذاتی رائے کی ہوگی۔ میں نہ تو یہ چاہتا ہوں کہ ان مسائل میں اپنی رائے کو جماعت کے دوسرے اہل علم و تحقیق پر مسلط کروں، اور نہ اسی پسند کرتا ہوں کہ جماعت کی طرف سے مجھ پر ایسی کوئی پابندی عائد ہو کہ مجھ سے علمی تحقیق اور اظہارِ رائے کی آزادی سلب ہوجائے۔ ارکان جماعت کو خداوند برتر کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کوئی کوئی شخص فقہی و کلامی مسائل میں میرے اقوال کو دوسروں کے سامنے حجت کے طور پر پیش نہ کرے۔

روداد جماعت اسلامی اول، دوم صفحہ 30 ، 31

ایک ایسے دور میں جب دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی Gen Z محض ایک عمرانیاتی گروہ نہیں بلکہ ایک سیاسی و فکری قوت بن چکی ہ...
10/01/2026

ایک ایسے دور میں جب دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی Gen Z محض ایک عمرانیاتی گروہ نہیں بلکہ ایک سیاسی و فکری قوت بن چکی ہے، ہماری ریاستی، سیاسی اور غیر سیاسی اشرافیہ شدید غلط فہمی کا شکار نظر آتی ہے۔ یہ طبقہ جین زی کو سمجھنے کے بجائے اس سے خوفزدہ ہے، اور خوف کا فطری نتیجہ جبر، تحقیر اور کنٹرول کی خواہش کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
پاکستانی اشرافیہ آج بھی جین زی کو ایک “بگڑا ہوا ہجوم” سمجھتی ہے جسے طاقت، بیانیے یا تمسخر کے ذریعے زیر کیا جا سکتا ہے۔ اسی صف میں ہمارے وہ نام نہاد “مست دانشور” بھی کھڑے ہیں جو بدلتی دنیا، ڈیجیٹل سیاست، اور نوجوانوں کی نئی نفسیات سے یکسر ناواقف ہیں۔ ان کے نزدیک جین زی محض نعرے لگانے والی، تاریخ سے نابلد اور سطحی سوچ رکھنے والی نسل ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ نسل ہے جو سوال پوچھتی ہے، طاقت کے ماخذ پر انگلی رکھتی ہے، اور بیانیہ قبول کرنے سے پہلے دلیل مانگتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جین زی کو مفتوح دیکھنے کی خواہش — چاہے وہ ریاستی اشرافیہ کی ہو یا فکری اجارہ داروں کی — ایک ایسی تمنا ہے جو کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔ یہ نسل نہ روایتی ڈراؤنیوں سے مرعوب ہوتی ہے اور نہ ہی مقدس نعروں کے پیچھے آنکھ بند کر کے چلتی ہے۔
ایسے پس منظر میں حافظ نعیم الرحمن کی سیاسی حکمتِ عملی قابلِ توجہ ہے۔ وہ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ جین زی کو خطبوں، فتوؤں یا بالادستی کے احساس سے نہیں بلکہ مکالمے، شعور اور شراکت کے ذریعے ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے جین زی کے ساتھ وہ رویہ اختیار نہیں کیا جو اکثر مذہبی یا نظریاتی قیادتیں کرتی رہی ہیں، یعنی “ہم جانتے ہیں، تم نہیں جانتے” والا انداز۔ اس کے برعکس، وہ نوجوانوں کے ذہن، دل اور شعور پر دستک دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ فی الوقت مقبولیت کی اس جنگ میں عمران خان واضح برتری رکھتے ہیں۔ عمران خان جین زی کے لیے مزاحمت، خودداری اور طاقتور اسٹیٹس کو کے خلاف بغاوت کی علامت بن چکے ہیں۔ مگر سیاست جامد نہیں ہوتی۔ حافظ نعیم کی خاموش، منظم اور نظریاتی محنت یہ عندیہ دے رہی ہے کہ وہ یا تو عمران خان کے اثر سے نکلے ہوئے جین زی کے حصے کو اپنے ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں، یا پھر مستقبل میں اس نسل کو ایک متبادل بیانیہ فراہم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آنے والے وقت میں قومی سیاست کا اصل مقابلہ اشرافیہ بمقابلہ جین زی نہیں بلکہ جین زی کے دل و دماغ میں جگہ بنانے والی قیادتوں کے درمیان ہوگا۔ اور اس منظرنامے میں یہ امکان واضح طور پر نظر آتا ہے کہ آئندہ انتخابات کے فوری بعد، قومی سیاست میں عمران خان کے مقابل ایک سنجیدہ اور نظریاتی چیلنج حافظ نعیم کی صورت میں ابھر سکتا ہے۔
البتہ اس پورے امکان کے ساتھ ایک بنیادی شرط جڑی ہوئی ہے:
اگر حافظ نعیم کے ذہن میں کبھی اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت یا دوستی کی خواہش نے جگہ بنا لی، تو نہ صرف یہ ساری محنت ضائع ہو جائے گی بلکہ جین زی کی نظر میں ان کی ساکھ بھی شدید متاثر ہوگی۔ کیونکہ جین زی کا سب سے مضبوط ریڈ لائن یہی ہے:
طاقت کے غیر منتخب مراکز سے سمجھوتہ۔
مختصراً، پاکستان کی آنے والی سیاست کا فیصلہ بند کمروں میں نہیں بلکہ نوجوانوں کے ڈیجیٹل، فکری اور شعوری میدان میں ہوگا۔ جو قیادت اس میدان کو سمجھے گی، وہی مستقبل کی سیاست کی مالک بنے گی۔

Address

Riyadh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sajid Talks posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share