Sajid Talks

Sajid Talks writer
(4)

05/05/2026

کب تک یہ بدامنی جاری رہے گی؟ خدارا، اس خونریزی کو بند کریں۔اور میں ہر گزرتا دن ایک نئے المیے کی خبر لاتا ہے۔ مولانا شیخ ادریس جیسے جید عالمِ دین، فاضل اور عظیم شخصیت کی شہادت نے اس درد کو اور گہرا کر دیا ہے۔

حقیقت واضح ہے: صوبائی حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ جب شہری، علماء اور بےگناہ لوگ محفوظ نہ ہوں تو یہ صرف بدامنی نہیں، بلکہ ایک سنگین قومی بحران ہے۔
Old video

سید مودودیؒ کی یہ کتاب صرف مطالعہ نہیں، بلکہ فکر اور شعور کی رہنمائی ہے۔آج کے نوجوان کے لیے اسلامی کتب کا مطالعہ نہایت ض...
01/05/2026

سید مودودیؒ کی یہ کتاب صرف مطالعہ نہیں، بلکہ فکر اور شعور کی رہنمائی ہے۔
آج کے نوجوان کے لیے اسلامی کتب کا مطالعہ نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہی علم کردار، مقصد اور سمت متعین کرتا ہے۔
کتابوں کا عالمی دن

فجر کی نماز اور تلاوتِ قرآن کے بعد علمی بیانات سننا اب معمول کا حصہ بن چکا ہے—ایک ایسا معمول جو دن کی شروعات کو صرف روحا...
16/04/2026

فجر کی نماز اور تلاوتِ قرآن کے بعد علمی بیانات سننا اب معمول کا حصہ بن چکا ہے—ایک ایسا معمول جو دن کی شروعات کو صرف روحانی نہیں بلکہ فکری طور پر بھی مضبوط بنا دیتا ہے۔ آج جب سفر کا آغاز ہوا اور گاڑی میں بیٹھتے ہی میں نے ڈاکٹر اسامہ رضی کا بیان سننا شروع کیا، تو ان کے اندازِ گفتگو کی سنجیدگی، دلیل کی مضبوطی اور موضوع پر گرفت نے فوراً توجہ اپنی جانب مرکوز کر لی۔
بیان آگے بڑھا تو ایک عجیب سی فکری مماثلت محسوس ہوئی—یہی ترتیب، یہی ٹھہراؤ، یہی جراتِ اظہار… اور ذہن غیر ارادی طور پر سید منور حسن مرحوم کی طرف منتقل ہو گیا۔ اگرچہ ان سے بالمشافہ ملاقات کبھی ممکن نہ ہو سکی، لیکن ان کے بیانات کو بارہا سننے کے باعث ان کی فکر، اسلوب اور انداز سے ایک گہری شناسائی قائم ہو چکی ہے۔
یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ایک ہی فکری و دعوتی دھارے سے وابستہ افراد میں اس قدر ہم آہنگی، فکری تسلسل اور علمی وقار پایا جائے۔ جماعت اسلامی کی یہ ایک نمایاں خوبی رہی ہے کہ اس نے ایسے افراد تیار کیے جو محض خطیب نہیں بلکہ صاحبِ فکر، صاحبِ شعور اور دلیل کے ساتھ بات کرنے والے ہوں۔
ایسے اسکالرز کا وجود اس بات کا ثبوت ہے کہ جب تربیت درست ہو، بنیاد مضبوط ہو اور مقصد واضح ہو تو الفاظ محض الفاظ نہیں رہتے—وہ فکر بن جاتے ہیں، اور فکر جب بیدار ہو جائے تو معاشرے بدلنے لگتے ہیں
ساجد احمد

10/04/2026

پاکستان عالمی سفارتکاری کا مرکز بن چکا ہے،
جہاں دنیا کے دو فریقین ایک میز پر جمع ہو رہے ہیں۔




Sajid Ahmad

08/04/2026

طلبہ یونین پر پابندی کے باوجود، آپ بطور ناظم اعلیٰ اس کی بحالی کے لیے کیا حکمتِ عملی اور عملی اقدامات کریں گے؟
صاحبزادہ وسیم حیدر ناظم اعلٰی اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان

27/02/2026

برادر وسیم حیدر
ناظم اعلٰی اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کا ریاض میں احباب جمعیت کے ساتھ نشت


﴿وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾(سورۃ الإسراء، آیت 81)تاریخ کا ایک اٹل اصول...
30/01/2026

﴿وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾
(سورۃ الإسراء، آیت 81)
تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے: ظلم کبھی دائمی نہیں ہوتا۔ جبر کے ایوان چاہے کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، جب حق اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو باطل خود بخود زمین بوس ہو جاتا ہے۔ آج بنگلہ دیش کی فضاؤں میں یہی صدا گونج رہی ہے کہ حق آ چکا ہے اور باطل مٹنے والا ہے۔
برسوں تک بنگلہ دیش ایک ایسے ظالمانہ نظام کی گرفت میں رہا جہاں حق گوئی جرم تھی، اختلافِ رائے کی سزا موت تھی، اور سچ بولنے والوں کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکایا گیا۔ مگر ظلم کے ان اندھیروں میں بھی ایک چراغ مسلسل جلتا رہا — جماعتِ اسلامی کا چراغ۔
جماعتِ اسلامی نے اس دورِ ابتلا میں وہ قربانیاں دیں جو تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ قید و بند، پابندیاں، سزائیں، پھانسیاں — مگر نہ حوصلہ ٹوٹا، نہ نظریہ بکا، نہ زبانِ حق خاموش ہوئی۔ صبر و استقامت، حکمت و جدوجہد، یہی جماعتِ اسلامی کا اصل سرمایہ رہا ہے۔
جب پاکستان ٹوٹا اور بنگلہ دیش ایک نئی ریاست کے طور پر وجود میں آیا، اس نازک گھڑی میں بھی جماعتِ اسلامی نے اتحاد کی آواز بلند کی۔ البدر اور الشمس سے وابستہ افراد نے اپنی جانیں قربان کیں، تاریخ کے ایک مشکل باب میں اپنے کردار ادا کیے۔ اور جب بنگلہ دیش ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن گیا تو جماعتِ اسلامی نے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کے سامنے بھی کلمۂ حق کہنا نہ چھوڑا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے سامنے ڈٹ کر حق بات کہی، چاہے اس کی قیمت مزید مظالم کی صورت میں کیوں نہ ادا کرنی پڑی۔
پابندیاں لگیں، قیادت کو نشانہ بنایا گیا، جماعت کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، مگر تحریکِ اسلامی نہ رکی، نہ جھکی، نہ بکی۔ کیونکہ یہ کسی فرد یا جماعت کی تحریک نہیں، بلکہ ایک نظریے کی جدوجہد ہے۔
آج بنگلہ دیش ایک نئے موڑ پر کھڑا ہے۔ فروری کے انتخابات محض ووٹ کا مرحلہ نہیں، بلکہ ایک قوم کے مستقبل کا فیصلہ ہیں۔ جماعتِ اسلامی ایک باصلاحیت، باکردار اور نظریاتی قیادت کے ساتھ عوام کی امید بن کر ابھر رہی ہے۔ اگر ان شاء اللہ تحریکِ اسلامی کامیاب ہوتی ہے تو یہ صرف بنگلہ دیش کی نہیں، بلکہ پوری عالمِ اسلام کی کامیابی ہوگی۔
یہ وقت خاموشی کا نہیں، حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔
یہ لمحہ تماشائی بننے کا نہیں، تاریخ کا حصہ بننے کا ہے۔
کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے:
حق آتا ہے تو باطل مٹ جاتا ہے، اور باطل مٹنے ہی کے لیے ہوتا ہے۔
تحریر : ساجد احمد

مردِ آہن، شیرِ لاہوراستقامت، جرأت اور حق گوئی کی روشن علامت28 جنوری ہمیں اُس مردِ مجاہد کی یاد دلاتا ہے جس نے آمریت کے ...
28/01/2026

مردِ آہن، شیرِ لاہور
استقامت، جرأت اور حق گوئی کی روشن علامت
28 جنوری ہمیں اُس مردِ مجاہد کی یاد دلاتا ہے جس نے آمریت کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا، قید و بند کی صعوبتیں سہیں مگر باطل کے آگے سر نہیں جھکایا۔
حافظ سلمان بٹؒ صرف ایک رہنما نہیں تھے، وہ ایک نظریہ تھے—ایسا نظریہ جو حوصلہ دیتا، راستہ دکھاتا اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا سکھاتا تھا۔
ان کی زندگی قربانی، استقامت اور حق پر ڈٹ جانے کی زندہ مثال تھی۔ انہوں نے جماعت اسلامی طلبہ لاہور کی قیادت کرتے ہوئے نوجوانوں کے دلوں میں شعور، غیرت اور مقصدِ حیات کی شمع روشن کی۔
آج وہ ہم میں نہیں، مگر ان کی آواز، فکر اور جدوجہد ہر اُس دل میں زندہ ہے جو حق و انصاف پر یقین رکھتا ہے۔
ایسے لوگ مرتے نہیں، تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ حافظ سلمان بٹؒ کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
یومِ وفات — 28 جنوری
حق کی گواہی، استقامت کی پہچان

یہ قوم کبھی کبھار حیران رہ جاتی ہے کہ جس جماعت کا اپنا دامن خون، جرائم، لسانیت اور بدعنوانی سے آلودہ ہو، وہ آج دوسروں کو...
27/01/2026

یہ قوم کبھی کبھار حیران رہ جاتی ہے کہ جس جماعت کا اپنا دامن خون، جرائم، لسانیت اور بدعنوانی سے آلودہ ہو، وہ آج دوسروں کو حب الوطنی کے طعنے کیسے دے سکتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ پی آئی اے کا طیارہ اغوا کرنے والے کوئی بیرونی دشمن نہیں تھے بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے کی قائم کردہ دہشت گرد تنظیم الذوالفقار کے کارندے تھے۔ یہ وہی جماعت ہے جو آج سندھ میں اقتدار میں ہے اور خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ:
پی آئی اے کا طیارہ کس نے اغوا کروایا؟
دہشت گرد تنظیم الذوالفقار کس نے بنائی؟
“اِدھر تم، اُدھر ہم” کا نعرہ کس نے لگایا جس نے ملک کو دولخت کرنے کی بنیاد رکھی؟
فوجی آمر کو “ڈیڈی” کہنے کی روایت کس نے ڈالی؟
راؤ انوار جیسے قاتل افسر کی پشت پناہی کس کے دور میں ہوئی؟
عزیر بلوچ اور لیاری گینگ جیسے جرائم پیشہ عناصر کو سیاسی سرپرستی کس نے دی؟
کراچی آج بھی سوال کر رہا ہے:
زمینوں پر قبضوں کی سرپرستی کون کر رہا ہے؟
شہر پر تسلط کے لیے من پسند حلقہ بندیاں کس نے کروائیں؟
میئر کے انتخاب میں پی ٹی آئی کے 32 منتخب ارکان کو کس نے خریدا؟
آج جماعت اسلامی کی کردار کشی کے لیے سرکاری فنڈز سے چاکنگ کون کروا رہا ہے؟
یہی نہیں، ماضی پر نظر ڈالیں تو:
بلوچستان کی منتخب حکومت کس نے برطرف کی جس کے نتیجے میں نفرت اور بغاوت نے جنم لیا؟
فیڈرل سیکیورٹی فورس (FSF) جیسے متنازع ادارے کے ذریعے سیاسی مخالفین کو کس نے کچلا؟
صحافیوں کو کوڑے اور میڈیا پر پابندیاں کس دور کا سیاہ باب ہیں؟
سندھ میں شہری و دیہی تفریق کو ہوا دے کر لسانی سیاست کس نے پروان چڑھائی؟
سندھ کی طویل حکمرانی کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں:
تھر میں بھوک اور پیاس سے بچوں کی اموات
کراچی میں کچرے کے ڈھیر، ٹوٹا ہوا انفراسٹرکچر، پانی اور ٹرانسپورٹ کا بحران
جعلی اکاؤنٹس، منی لانڈرنگ اور اربوں روپے کے اسکینڈلز
یہ سب محض الزامات نہیں، یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات قوم برسوں سے مانگ رہی ہے۔ جس جماعت کا اپنا ریکارڈ اتنا متنازع اور داغدار ہو، وہ کسی دوسری جماعت—خصوصاً جماعت اسلامی—کو حب الوطنی کا طعنہ دینے کی اخلاقی پوزیشن میں ہرگز نہیں۔
قوم اب نعروں سے نہیں، کردار اور کارکردگی سے فیصلے کرے گی۔
جرائم کی یہ فہرست طویل ہے—اور اگر سچ بولنے کی ہمت ہو تو اس میں مزید ابواب بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

Address

Riyadh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sajid Talks posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sajid Talks:

Share