30/01/2026
﴿وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾
(سورۃ الإسراء، آیت 81)
تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے: ظلم کبھی دائمی نہیں ہوتا۔ جبر کے ایوان چاہے کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، جب حق اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو باطل خود بخود زمین بوس ہو جاتا ہے۔ آج بنگلہ دیش کی فضاؤں میں یہی صدا گونج رہی ہے کہ حق آ چکا ہے اور باطل مٹنے والا ہے۔
برسوں تک بنگلہ دیش ایک ایسے ظالمانہ نظام کی گرفت میں رہا جہاں حق گوئی جرم تھی، اختلافِ رائے کی سزا موت تھی، اور سچ بولنے والوں کو پھانسی کے پھندوں پر لٹکایا گیا۔ مگر ظلم کے ان اندھیروں میں بھی ایک چراغ مسلسل جلتا رہا — جماعتِ اسلامی کا چراغ۔
جماعتِ اسلامی نے اس دورِ ابتلا میں وہ قربانیاں دیں جو تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ قید و بند، پابندیاں، سزائیں، پھانسیاں — مگر نہ حوصلہ ٹوٹا، نہ نظریہ بکا، نہ زبانِ حق خاموش ہوئی۔ صبر و استقامت، حکمت و جدوجہد، یہی جماعتِ اسلامی کا اصل سرمایہ رہا ہے۔
جب پاکستان ٹوٹا اور بنگلہ دیش ایک نئی ریاست کے طور پر وجود میں آیا، اس نازک گھڑی میں بھی جماعتِ اسلامی نے اتحاد کی آواز بلند کی۔ البدر اور الشمس سے وابستہ افراد نے اپنی جانیں قربان کیں، تاریخ کے ایک مشکل باب میں اپنے کردار ادا کیے۔ اور جب بنگلہ دیش ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن گیا تو جماعتِ اسلامی نے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کے سامنے بھی کلمۂ حق کہنا نہ چھوڑا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے سامنے ڈٹ کر حق بات کہی، چاہے اس کی قیمت مزید مظالم کی صورت میں کیوں نہ ادا کرنی پڑی۔
پابندیاں لگیں، قیادت کو نشانہ بنایا گیا، جماعت کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، مگر تحریکِ اسلامی نہ رکی، نہ جھکی، نہ بکی۔ کیونکہ یہ کسی فرد یا جماعت کی تحریک نہیں، بلکہ ایک نظریے کی جدوجہد ہے۔
آج بنگلہ دیش ایک نئے موڑ پر کھڑا ہے۔ فروری کے انتخابات محض ووٹ کا مرحلہ نہیں، بلکہ ایک قوم کے مستقبل کا فیصلہ ہیں۔ جماعتِ اسلامی ایک باصلاحیت، باکردار اور نظریاتی قیادت کے ساتھ عوام کی امید بن کر ابھر رہی ہے۔ اگر ان شاء اللہ تحریکِ اسلامی کامیاب ہوتی ہے تو یہ صرف بنگلہ دیش کی نہیں، بلکہ پوری عالمِ اسلام کی کامیابی ہوگی۔
یہ وقت خاموشی کا نہیں، حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔
یہ لمحہ تماشائی بننے کا نہیں، تاریخ کا حصہ بننے کا ہے۔
کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے:
حق آتا ہے تو باطل مٹ جاتا ہے، اور باطل مٹنے ہی کے لیے ہوتا ہے۔
تحریر : ساجد احمد