07/02/2026
امریکی جیلیں: 3 لاکھ قیدیوں کا قبولِ اسلام
امریکہ کی جیلیں عام طور پر جرم، تشدد اور انسانی زوال کی علامت سمجھی جاتی ہیں، مگر انہی بلند دیواروں اور آہنی سلاخوں کے پیچھے ایک ایسا خاموش انقلاب بپا ہے جو مغربی سماج کے لیے فکری سوالات پیدا کر رہا ہے۔ یہ انقلاب کسی سیاسی تحریک یا احتجاجی نعرے کا نہیں بلکہ ایک تدریجی روحانی تبدیلی کا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں امریکی جیلوں کے اندر اسلام اس تیزی سے پھیلا ہے کہ آج اسے وہاں سب سے زیادہ قبول کیا جانے والا مذہب قرار دیا جاتا ہے اور مختلف تحقیقی اندازوں کے مطابق تقریباً 3 لاکھ قیدی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ یہ کوئی جذباتی دعویٰ نہیں بلکہ امریکی تحقیقی اداروں، سماجی تنظیموں اور بڑے میڈیا ہاؤسز بالخصوص CBS News، Pew Research اور National Institute of Corrections کی رپورٹس سے ثابت شدہ حقیقت ہے۔
قید کا ماحول چونکہ انسان کو آزادی، سہولت اور مصروفیت سے محروم کر دیتا ہے۔ یہی محرومی انسان کو اپنی ذات، ماضی اور انجام پر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ جیل میں وقت طویل ہو جاتا ہے، شور کم اور ضمیر کی آواز زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ اسی مرحلے پر بہت سے قیدی کسی ایسے نظامِ فکر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو انہیں داخلی سکون فراہم کر سکے۔ امریکی جیلوں کے تجربے میں اسلام اسی ضرورت کا جواب بنتا دکھائی دیتا ہے۔ نماز، روزہ، طہارت، وقت کی پابندی اور اخلاقی خود احتسابی قیدی کو ایک نئی شناخت دیتے ہیں، جو اسے محض ایک مجرم کے خانے سے نکال کر ایک ذمہ دار انسان کے طور پر دیکھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
تحقیقی ادارے Pew Research کے مطابق آج امریکی جیلوں میں مسلم قیدیوں کا تناسب 9 فیصد کے قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ رجحان کسی ایک ریاست یا جیل تک محدود نہیں، بلکہ ملک گیر سطح پر پھیلا ہوا ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں اکثریت افریقی نژاد امریکیوں کی ہے، اس کے بعد لاطینی نژاد قیدی اور پھر سفید فام امریکی شامل ہیں۔ ان میں سے ایک نمایاں حصہ ایسے قیدیوں پر مشتمل ہے جو درمیانی یا طویل مدت کی سزائیں کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ اس حقیقت سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام محض وقتی سہولت یا وقتی جذبات کا نتیجہ نہیں بلکہ گہرے غور و فکر کے بعد اختیار کیا جانے والا راستہ بن چکا ہے۔
2025 میں CBS News نے اپنی ایک تفصیلی سیریز (The State of Spirituality) میں اس رجحان کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہر سال دسیوں ہزار امریکی قیدی جیلوں میں اسلام قبول کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسلام کو جیلوں میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب قرار دیا جا چکا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ تبدیلی وقتی نہیں ہوتی بلکہ زیادہ تر افراد رہائی کے بعد بھی اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام قید کے ماحول میں محض ایک مرحلہ نہیں بلکہ مستقل فکری و اخلاقی تبدیلی کا ذریعہ بنتا ہے۔
اس عمل میں Tayba Foundation نامی تنظیم کا کردار نمایاں ہے، جو امریکہ میں قیدیوں کے لیے اسلامی تعلیم فراہم کرنے والی پہلی منظم تنظیم سمجھی جاتی ہے۔ تنظیم کے بانی رامی نصور گزشتہ 15 برس سے جیلوں میں قیدیوں کو فاصلاتی نظام کے تحت اسلامی تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اب تک 13000 سے زائد قیدی اس نظام سے مستفید ہو چکے ہیں اور ان میں سے تقریباً 90 فیصد نے جیل کے اندر ہی اسلام قبول کیا۔ نصور کے بقول قید جسمانی ہوتی ہے، مگر اسلام قیدی کو روحانی آزادی کا احساس دیتا ہے اور یہی احساس اس کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔
اسلام قبول کرنے والے قیدیوں کے بارے میں یہ مشاہدہ بھی سامنے آیا ہے کہ ان کے رویّوں میں نمایاں تبدیلی آتی ہے۔ جیل انتظامیہ اور تحقیقی ادارے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایسے قیدی عموماً تشدد سے دور رہتے ہیں، نظم و ضبط کا خیال رکھتے ہیں اور دیگر قیدیوں کے لیے بھی مثبت مثال بن جاتے ہیں۔ اکثر غیر مسلم قیدی مسلمانوں کے کردار، سکون اور ضبط وصبر کو دیکھ کر اسلام کے بارے میں سوال کرنا شروع کرتے ہیں اور یوں یہ دعوت کسی تبلیغی مہم کے بغیر، عملی کردار کے ذریعے پھیلتی ہے۔
اس حوالے سے ایک عام خدشہ یہ بھی ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ جیلوں میں اسلام قبول کرنا انتہاپسندی کو فروغ دے سکتا ہے، مگر امریکی اداروں کے اعداد و شمار اس خدشے کی تردید کرتے ہیں۔ National Institute of Corrections کے مطابق مسلم قیدیوں سے منسلک تشدد یا مذہبی انتہاپسندی کے واقعات نہایت کم اور نایاب ہیں۔ اس کے برعکس، زیادہ تر مطالعات یہ بتاتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے والے قیدیوں میں دوبارہ جرم کی شرح نسبتاً کم ہوتی ہے اور وہ رہائی کے بعد سماج میں بہتر انداز سے ضم ہو پاتے ہیں۔
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ میں محمد امین اینڈرسن کی کہانی اسی تبدیلی کی واضح مثال ہے۔ فلاڈیلفیا میں پیدا ہونے والا محمد امین کبھی کرسٹوفر اینڈرسن کہلاتا تھا، وہ ایک پادری کا بیٹا تھا، مگر نوجوانی میں منشیات اور گینگ کلچر میں ملوث ہوا اور ایک قتل کے جرم میں 30 سال قید کی سزا پائی۔ وہ بتاتا ہے کہ جیل میں آنے کے بعد اس نے مختلف مذاہب کا مطالعہ کیا مگر اسلام ہی وہ واحد راستہ تھا جس نے اس کے ضمیر سے بات کی۔ اس کے مطابق اسلام نے مجھے وہ انسانیت واپس دی جو میں جیل آنے سے پہلے کھو چکا تھا۔ آج میں سزا مکمل کر کے رہائی پا چکا ہوں اور خود سماجی خدمت کے میدان میں کام کر رہا ہوں۔
امریکی جیلوں میں اسلام کا پھیلاؤ دراصل ایک گہرا سماجی سوال بھی پیدا کرتا ہے۔ وہ مذہب جسے مغربی بیانیے میں اکثر خوف، تشدد اور انتہاپسندی سے جوڑا جاتا ہے، وہی مذہب قید، جرم اور شکستہ انسانوں کو نظم، وقار اور اخلاقی شعور عطا کر رہا ہے۔ یہ ایک ایسا خاموش انقلاب ہے جو نہ سلاخوں سے رکتا ہے، نہ دیواروں سے، بلکہ انسان کے اندر سے جنم لے کر اس کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔(ذوالفقار جان وفا)