zulfiqar khan wafa

  • Home
  • zulfiqar khan wafa

zulfiqar khan wafa Every soul shall taste death, let's prepare for the AKhira...

امریکی جیلیں: 3 لاکھ قیدیوں کا قبولِ اسلامامریکہ کی جیلیں عام طور پر جرم، تشدد اور انسانی زوال کی علامت سمجھی جاتی ہیں، ...
07/02/2026

امریکی جیلیں: 3 لاکھ قیدیوں کا قبولِ اسلام
امریکہ کی جیلیں عام طور پر جرم، تشدد اور انسانی زوال کی علامت سمجھی جاتی ہیں، مگر انہی بلند دیواروں اور آہنی سلاخوں کے پیچھے ایک ایسا خاموش انقلاب بپا ہے جو مغربی سماج کے لیے فکری سوالات پیدا کر رہا ہے۔ یہ انقلاب کسی سیاسی تحریک یا احتجاجی نعرے کا نہیں بلکہ ایک تدریجی روحانی تبدیلی کا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں امریکی جیلوں کے اندر اسلام اس تیزی سے پھیلا ہے کہ آج اسے وہاں سب سے زیادہ قبول کیا جانے والا مذہب قرار دیا جاتا ہے اور مختلف تحقیقی اندازوں کے مطابق تقریباً 3 لاکھ قیدی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ یہ کوئی جذباتی دعویٰ نہیں بلکہ امریکی تحقیقی اداروں، سماجی تنظیموں اور بڑے میڈیا ہاؤسز بالخصوص CBS News، Pew Research اور National Institute of Corrections کی رپورٹس سے ثابت شدہ حقیقت ہے۔
قید کا ماحول چونکہ انسان کو آزادی، سہولت اور مصروفیت سے محروم کر دیتا ہے۔ یہی محرومی انسان کو اپنی ذات، ماضی اور انجام پر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ جیل میں وقت طویل ہو جاتا ہے، شور کم اور ضمیر کی آواز زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ اسی مرحلے پر بہت سے قیدی کسی ایسے نظامِ فکر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو انہیں داخلی سکون فراہم کر سکے۔ امریکی جیلوں کے تجربے میں اسلام اسی ضرورت کا جواب بنتا دکھائی دیتا ہے۔ نماز، روزہ، طہارت، وقت کی پابندی اور اخلاقی خود احتسابی قیدی کو ایک نئی شناخت دیتے ہیں، جو اسے محض ایک مجرم کے خانے سے نکال کر ایک ذمہ دار انسان کے طور پر دیکھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
تحقیقی ادارے Pew Research کے مطابق آج امریکی جیلوں میں مسلم قیدیوں کا تناسب 9 فیصد کے قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ رجحان کسی ایک ریاست یا جیل تک محدود نہیں، بلکہ ملک گیر سطح پر پھیلا ہوا ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں اکثریت افریقی نژاد امریکیوں کی ہے، اس کے بعد لاطینی نژاد قیدی اور پھر سفید فام امریکی شامل ہیں۔ ان میں سے ایک نمایاں حصہ ایسے قیدیوں پر مشتمل ہے جو درمیانی یا طویل مدت کی سزائیں کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ اس حقیقت سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام محض وقتی سہولت یا وقتی جذبات کا نتیجہ نہیں بلکہ گہرے غور و فکر کے بعد اختیار کیا جانے والا راستہ بن چکا ہے۔
2025 میں CBS News نے اپنی ایک تفصیلی سیریز (The State of Spirituality) میں اس رجحان کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہر سال دسیوں ہزار امریکی قیدی جیلوں میں اسلام قبول کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسلام کو جیلوں میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب قرار دیا جا چکا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ تبدیلی وقتی نہیں ہوتی بلکہ زیادہ تر افراد رہائی کے بعد بھی اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام قید کے ماحول میں محض ایک مرحلہ نہیں بلکہ مستقل فکری و اخلاقی تبدیلی کا ذریعہ بنتا ہے۔
اس عمل میں Tayba Foundation نامی تنظیم کا کردار نمایاں ہے، جو امریکہ میں قیدیوں کے لیے اسلامی تعلیم فراہم کرنے والی پہلی منظم تنظیم سمجھی جاتی ہے۔ تنظیم کے بانی رامی نصور گزشتہ 15 برس سے جیلوں میں قیدیوں کو فاصلاتی نظام کے تحت اسلامی تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اب تک 13000 سے زائد قیدی اس نظام سے مستفید ہو چکے ہیں اور ان میں سے تقریباً 90 فیصد نے جیل کے اندر ہی اسلام قبول کیا۔ نصور کے بقول قید جسمانی ہوتی ہے، مگر اسلام قیدی کو روحانی آزادی کا احساس دیتا ہے اور یہی احساس اس کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔
اسلام قبول کرنے والے قیدیوں کے بارے میں یہ مشاہدہ بھی سامنے آیا ہے کہ ان کے رویّوں میں نمایاں تبدیلی آتی ہے۔ جیل انتظامیہ اور تحقیقی ادارے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایسے قیدی عموماً تشدد سے دور رہتے ہیں، نظم و ضبط کا خیال رکھتے ہیں اور دیگر قیدیوں کے لیے بھی مثبت مثال بن جاتے ہیں۔ اکثر غیر مسلم قیدی مسلمانوں کے کردار، سکون اور ضبط وصبر کو دیکھ کر اسلام کے بارے میں سوال کرنا شروع کرتے ہیں اور یوں یہ دعوت کسی تبلیغی مہم کے بغیر، عملی کردار کے ذریعے پھیلتی ہے۔
اس حوالے سے ایک عام خدشہ یہ بھی ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ جیلوں میں اسلام قبول کرنا انتہاپسندی کو فروغ دے سکتا ہے، مگر امریکی اداروں کے اعداد و شمار اس خدشے کی تردید کرتے ہیں۔ National Institute of Corrections کے مطابق مسلم قیدیوں سے منسلک تشدد یا مذہبی انتہاپسندی کے واقعات نہایت کم اور نایاب ہیں۔ اس کے برعکس، زیادہ تر مطالعات یہ بتاتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے والے قیدیوں میں دوبارہ جرم کی شرح نسبتاً کم ہوتی ہے اور وہ رہائی کے بعد سماج میں بہتر انداز سے ضم ہو پاتے ہیں۔
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ میں محمد امین اینڈرسن کی کہانی اسی تبدیلی کی واضح مثال ہے۔ فلاڈیلفیا میں پیدا ہونے والا محمد امین کبھی کرسٹوفر اینڈرسن کہلاتا تھا، وہ ایک پادری کا بیٹا تھا، مگر نوجوانی میں منشیات اور گینگ کلچر میں ملوث ہوا اور ایک قتل کے جرم میں 30 سال قید کی سزا پائی۔ وہ بتاتا ہے کہ جیل میں آنے کے بعد اس نے مختلف مذاہب کا مطالعہ کیا مگر اسلام ہی وہ واحد راستہ تھا جس نے اس کے ضمیر سے بات کی۔ اس کے مطابق اسلام نے مجھے وہ انسانیت واپس دی جو میں جیل آنے سے پہلے کھو چکا تھا۔ آج میں سزا مکمل کر کے رہائی پا چکا ہوں اور خود سماجی خدمت کے میدان میں کام کر رہا ہوں۔
امریکی جیلوں میں اسلام کا پھیلاؤ دراصل ایک گہرا سماجی سوال بھی پیدا کرتا ہے۔ وہ مذہب جسے مغربی بیانیے میں اکثر خوف، تشدد اور انتہاپسندی سے جوڑا جاتا ہے، وہی مذہب قید، جرم اور شکستہ انسانوں کو نظم، وقار اور اخلاقی شعور عطا کر رہا ہے۔ یہ ایک ایسا خاموش انقلاب ہے جو نہ سلاخوں سے رکتا ہے، نہ دیواروں سے، بلکہ انسان کے اندر سے جنم لے کر اس کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔(ذوالفقار جان وفا)

Thanks for being a top engager and making it on to my weekly engagement list! 🎉 Usman Khan Usman, M Waqas M Waqas, Youni...
24/12/2025

Thanks for being a top engager and making it on to my weekly engagement list! 🎉 Usman Khan Usman, M Waqas M Waqas, Younis Khan Dasti

خیانت کا ڈی این اے اور زنا کی وراثت: کیا آپ کے والدین کا گناہ آپ کے خون میں دوڑ رہا ہے؟ -دیہ ایک ایسا موضوع ہے جو شاید ب...
23/12/2025

خیانت کا ڈی این اے اور زنا کی وراثت: کیا آپ کے والدین کا گناہ آپ کے خون میں دوڑ رہا ہے؟ -د

یہ ایک ایسا موضوع ہے جو شاید بہت سے لوگوں کے لیے "شاکنگ" (Shocking) ہو، لیکن سائنس کے لیبارٹری کوٹ اور مذہب کی کالی چادر کے پیچھے چھپی یہ وہ حقیقت ہے جسے اب مزید جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

آج ہم اس بحث کو اس مقام پر لے جا رہے ہیں جہاں "اخلاقیات" اور "جینیات" (Genetics) ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں۔

ہم صدیوں سے اپنے بزرگوں سے ایک جملہ سنتے آ رہے ہیں:

"یہ خاندانی ہے" یا "اس کا خون ہی گندا ہے۔"

لبرل دانشور اور جدیدیت کے علمبردار ہمیشہ ان جملوں کو "دقیانوسی سوچ" اور "تعصب" کہہ کر رد کرتے رہے ہیں۔

ان کا ماننا تھا کہ انسان ایک "کوری سلیٹ" (Blank Slate) کی طرح پیدا ہوتا ہے اور صرف ماحول اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔

وہ کہتے تھے کہ "باپ اگر چور یا زانی ہے، تو ضروری نہیں کہ بیٹا بھی وہی ہو، ہر انسان کا اپنا اختیار ہے۔" بظاہر یہ بات بڑی منطقی اور انصاف پسند لگتی ہے۔

لیکن اکیسویں صدی کی جینیات (Genetics) اور رویوں کی سائنس (Behavioral Science) نے اس "خوش فہمی" کے پرخچے اڑا دیے ہیں۔

آج سائنس ایک خوفناک انکشاف کر رہی ہے۔ وہ کہہ رہی ہے کہ اگر آپ کے والدین نے رشتہ ازدواج میں ہوتے ہوئے "خیانت" (Cheating) کی ہے، اگر انہوں نے اپنی جوانی میں جنسی آوارگی (Promiscuity) دکھائی ہے، تو اس بات کے 40 سے 60 فیصد امکانات موجود ہیں کہ یہ "بے وفائی کا وائرس" آپ کے ڈی این اے میں منتقل ہو چکا ہے، اور آپ بھی اپنی بیوی یا شوہر کے ہوتے ہوئے کسی اور کے بستر کی زینت بنیں گے۔

یہ میں نہیں کہہ رہا، یہ وہ ڈیٹا کہہ رہا ہے جو ہزاروں جوڑوں اور جڑواں بچوں پر کی گئی تحقیقات سے کشید کیا گیا ہے۔

آج ہم اسی "جینیاتی خیانت" کا پوسٹ مارٹم کریں گے اور ان تمام "نیم خواندہ نقادوں" کو بھی جواب دیں گے جو پرانی نصابی کتابیں بغل میں دبائے پھرتے ہیں۔

اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے سائنسدانوں نے قدرت کے سب سے دلچسپ نمونوں یعنی "جڑواں بچوں" (Twins) کا مطالعہ کیا۔

تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ "دھوکہ دہی" (Infidelity) ماحول (Nurture) کی وجہ سے ہوتی ہے یا جینز (Nature) کی وجہ سے؟

سائنسدانوں نے دو طرح کے جڑواں بچوں کا ڈیٹا لیا:

مونو زائیگوٹ ٹوئنز Monozygotic Twins (ہم شکل جڑواں): ان کا ڈی این اے 100% ایک جیسا ہوتا ہے۔

ڈی زائیگوٹ ٹوئنز Dizygotic Twins (مختلف شکلوں والے جڑواں): ان کا ڈی این اے عام بہن بھائیوں کی طرح صرف 50% ملتا ہے۔

یونیورسٹی آف کوئینز لینڈ (University of Queensland) کے ماہرین نفسیات اور جینیات دان Brendan Zietsch نے 7,000 سے زائد جڑواں بچوں کا مطالعہ کیا۔ نتائج نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

تحقیق نے ثابت کیا کہ ہم شکل جڑواں (Monozygotic) میں دھوکہ دینے کا رجحان حیران کن حد تک ایک جیسا تھا۔

اگر ایک بھائی نے اپنی بیوی کو دھوکہ دیا، تو قوی امکان تھا کہ دوسرے بھائی نے بھی ایسا ہی کیا، حالانکہ ان کی پرورش مختلف ماحول میں بھی ہوئی ہو۔

اس کے مقابلے میں Dizygotic Twins میں یہ مماثلت بہت کم تھی۔

محققین نے حتمی نتیجہ نکالا کہ:

> "جنسی رشتے میں دھوکہ دینے کے پیچھے 40% سے 60% کردار ہماری جینیات (Genetics) کا ہے۔"

یہ وہ مقام ہے جہاں مذہب کا وہ قدیم اصول سچ ثابت ہوتا ہے کہ "زنا کا بیج" نسلوں میں فساد پیدا کرتا ہے۔ اگر آپ کے خون میں "بے وفائی" کوڈ ہو چکی ہے، تو آپ کو نیک رہنے کے لیے عام انسان سے سو گنا زیادہ جدوجہد کرنی پڑے گی۔

سوال یہ ہے کہ یہ "خیانت" ڈی این اے میں کہاں چھپی ہوتی ہے؟

سائنس نے اس کا جواب DRD4 Gene (Dopamine Receptor D4) میں ڈھونڈا ہے۔ اسے عرفِ عام میں "Thrill-Seeking Gene" کہا جاتا ہے۔

جن لوگوں میں اس جین کی ایک خاص قسم (Polymorphism) ہوتی ہے، ان کا دماغ "ڈوپامائن" (لذت کا کیمیکل) کا بھوکا ہوتا ہے۔

ایک عام انسان کو گھر کے سکون، بیوی کی محبت اور بچوں کی مسکراہٹ سے مطلوبہ ڈوپامائن مل جاتا ہے۔

لیکن جس کے اندر یہ "جینیاتی خرابی" (جو والدین کی آوارگی سے منتقل ہوئی) موجود ہو، اسے یہ سکون کافی نہیں لگتا۔ اسے "نئی لذت"، "خطرہ" اور "چھپ کر گناہ کرنے کا سنسنی خیز احساس" چاہیے۔

جب والدین زنا کرتے ہیں، تو وہ اپنے دماغ کو High Dopamine کا عادی بناتے ہیں۔ ایپی جینیٹکس کے ذریعے یہ "ہائی تھریش ہولڈ" (High Threshold) بچوں میں منتقل ہوتا ہے۔

نتیجہ؟

وہ بچہ پیدا ہی اس "طلب" کے ساتھ ہوتا ہے کہ اسے ایک عورت یا ایک مرد کافی نہیں لگتا۔

اسے Multiple Partners چاہییں۔

یہ "ہوس" نہیں، یہ اب اس کی "جینیاتی مجبوری" بن چکی ہے۔

اب آتے ہیں ان "لبرل سائنسدانوں" کی طرف جو میری پچھلی تحریروں پر چیخ رہے تھے کہ "جسمانی اعمال (Somatic) کا اثر اسپرم (Germline) پر نہیں ہوتا۔

" انہوں نے کہا کہ "زنا دماغ (Soma) کا فعل ہے، اس سے جینز کیسے خراب ہوں گے؟"

میں نے انہیں Extracellular Vesicles (EVs) اور Exosomes کا حوالہ دیا تھا، جس پر انہوں نے کہا کہ ثبوت لاؤ۔

تو جناب!

یہ لیجیے وہ ممکنہ ثبوت جو میں نے پچھلی بحث میں بھی پیش کیا اور اب اس سیاق و سباق میں دوبارہ دہرا رہا ہوں تاکہ کوئی شک باقی نہ رہے۔

PubMed Study: 24992257

تحقیق کا عنوان: Soma-to-germline transmission of RNA...

اس تحقیق میں سائنسدانوں نے چوہوں کے جسم میں انسانی کینسر سیلز ڈالے۔ یہ سیلز جسم (Somatic) میں تھے۔ لیکن ان کا RNA چوہوں کے اسپرم (Germline) کے اندر پایا گیا۔

یہ کیسے ہوا؟

یہ انہی Exosomes کے ذریعے ہوا جو خون کے راستے سفر کرتے ہوئے "ایپی ڈیڈیمس" (Epididymis) تک پہنچے اور باپ کے جسم کا ڈیٹا اسپرم میں لوڈ کر دیا۔

اس کا اطلاق زنا پر:

جب ایک شخص زنا کرتا ہے، تو اس کے جسم میں Stress Hormones، Oxidative Stress اور Altered Neurotransmitters کا طوفان ہوتا ہے۔

یہ "بائیولوجیکل ڈیٹا" Exosomes کے پیکٹس میں بند ہو کر اس کے اسپرم میں چلا جاتا ہے۔

لہٰذا، وہ بچہ جو اس اسپرم سے پیدا ہوگا (چاہے وہ حلال نکاح سے ہی کیوں نہ ہو)، اس کے پاس وہ "سافٹ ویئر" پہنچ چکا ہے جس میں لکھا ہے:

"وفاداری مشکل ہے، دھوکہ دہی میں لذت ہے، اور سکون ایک جگہ نہیں ملتا۔"

یہ ہے وہ 60 فیصد جینیاتی منتقلی جس کا ذکر اوپر کیا گیا۔

ایک اور اعتراض جو بار بار دہرایا گیا کہ

"مغرب میں رضامندی ہے، وہاں گلٹ (Guilt) نہیں ہے، تو نقصان کیسے ہوگا؟"

میرے دوستو! "DRD4 جین" اور "Vasopressin Receptor" (وفاداری کا جین) آپ کے "سوشل کنٹریکٹ" یا "رضامندی" کو نہیں پہچانتے۔

اگر آپ نے "کثیر پارٹنرز" (Multiple Partners) کے ساتھ تعلق رکھا، تو آپ نے بائیولوجیکلی اپنے Vasopressin Receptors کو جلا دیا۔

ویسوپریسن Vasopressin وہ ہارمون ہے جو ایک مرد کو اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ "جذباتی طور پر" باندھتا ہے۔

جو مرد "پلے بوائے" (Pl***oy) ہوتے ہیں، ان کے اندر یہ جین "Silenced" (خاموش) ہو جاتا ہے۔

اور سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ یہ "خاموش شدہ جین" (Epigenetically Silenced Gene) بیٹے میں منتقل ہوتا ہے۔ یعنی باپ نے عیاشی کی، اور بیٹا "حیاتیاتی طور پر نااہل" پیدا ہوا کہ وہ اپنی بیوی سے وفاداری کر سکے۔

وہ چاہے گا بھی تو وفادار نہیں رہ سکے گا کیونکہ اس کے پاس وہ "کیمیکل ٹول" ہی نہیں ہے جو رشتے کو جوڑتا ہے۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے؟

کیا یہ نسل کشی نہیں ہے؟

اب سمجھ آیا کہ اسلام نے "زنا" پر اتنی سخت سزائیں کیوں رکھیں؟

اسلام نے زنا کو "فاحشہ" (بے حیائی) اور "سآء سبیلا" (برا راستہ) کیوں کہا؟

کیونکہ یہ صرف ایک رات کا گناہ نہیں ہے؛ یہ ایک "جینیاتی ٹائم بم" ہے جو نسلوں تک پھٹتا رہتا ہے۔

جب اسلام کہتا ہے کہ

"پاک دامن عورتیں پاک دامن مردوں کے لیے ہیں" (النور: 26)،

تو یہ صرف اخلاقی حکم نہیں ہے، یہ "جینیاتی مطابقت" (Genetic Compatibility) کا اصول ہے۔

اگر ایک پاک دامن عورت کی شادی ایک ایسے مرد سے ہو جائے جس کا ڈی این اے اس کی "زناکاری" کی وجہ سے کرپٹ ہو چکا ہے، تو وہ عورت اپنی نسل کو ایک "بیمار باپ" کا ڈی این اے دے رہی ہے۔ وہ بچے "جذباتی یتیم" اور "اخلاقی بیمار" پیدا ہوں گے۔

تو کیا جس کے والدین نے غلطی کی، وہ برباد ہو گیا؟

کیا وہ 60 فیصد امکانات کا قیدی ہے؟

یہیں پر "تدبیر" اور "توبہ" آتی ہے۔

سائنس کہتی ہے کہ جینز "پتھر پر لکیر" نہیں ہیں۔ وہ "سوئچ" ہیں۔

اگر آپ کو ورثے میں "چیٹنگ جین" ملا ہے، تو آپ کے لیے امتحان سخت ہے، لیکن آپ اسے "Switch Off" کر سکتے ہیں۔

کیسے؟

شدید تقویٰ اور ضبطِ نفس: یہ دماغ کی Neuroplasticity کو متحرک کرتا ہے اور پرانے راستے توڑتا ہے۔

ماحول کی تبدیلی: ان محرکات (Triggers) سے دور رہنا جو اس جین کو ایکٹیویٹ کرتے ہیں۔

سچی توبہ: وہ ندامت جو آنسو بن کر بہہ جائے، وہ نیورو کیمیکل لیول پر اتنی بڑی تبدیلی لاتی ہے کہ وہ باپ کی طرف سے ملے ہوئے "منفی ٹیگز" کو دھو سکتی ہے۔

یہ جنگ اب آپ کو لڑنی ہے۔ آپ کے خون میں آپ کے باپ دادا کی غلطیاں دوڑ رہی ہیں، (اگر انہوں نے کی تھیں تو) لیکن آپ کے پاس "اختیار" کا وہ اسٹیئرنگ موجود ہے جسے اللہ نے آپ کے ہاتھ میں دیا ہے۔

آپ اس 60 فیصد امکان کو شکست دے کر وہ "پہلی کڑی" بن سکتے ہیں جو اپنی نسل کو پاکیزگی کی طرف واپس موڑ دے۔

Zulfiqar khan wafa

22/12/2025

دوستوں کے۔ ساتھ۔ ۔۔۔پھاڑوں کے درمیان ایک شام۔۔۔۔۔

پاکستانی لڑکے نے یورپ میں گوری کے ساتھ شادی کرنے کے بعد گھر فون کیا، والد سے کہنے لگا ،بابا میں گوری لڑکی کے ساتھ شادی ک...
22/12/2025

پاکستانی لڑکے نے یورپ میں گوری کے ساتھ شادی کرنے کے بعد گھر فون کیا، والد سے کہنے لگا ،بابا میں گوری لڑکی کے ساتھ شادی کی ہے، باپ کو غصہ آیا کہنے لگا کہ آپ نے کس طرح ایک کافر لڑکی کے ساتھ شادی کی لڑکا پریشان ہوا اور کہنے لگا کہ انہوں نے اسلام قبول کیا ہے اور میں اگلے ہفتے پاکستان آ رہا ہوں آپ ناراض نا ہوں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اگلے ہفتے میاں بیوی پاکستان آ گئے، گوری نے جب دیکھا کہ لڑکے کا والد کافی بوڑھا اور کمزور ہے تو ان کا خصوصی خیال رکھنا شروع کیا، صاف ستھرے کپڑے، صبح ناشتے میں جوس شام پھر جوس شیمپو سے بال داڑھی کی صفائی سسر کا بہت خیال رکھا چند دن بعد بیٹا والد کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ بابا اس کافر سے کوئی شکایت تو نہیں بابا کہنے لگا کہ بیٹا سچ پوچھیں تو اس گھر میں آپ کی والدہ سے بڑھ کر دوسرا کافر کوئی نہیں😐😊👍💕😁👏💖😊

20/12/2025

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

ایک انتہائی سبق آموز کہانیایک عابد نے *خدا کی زیارت* کے لیے 40 دن کا چلہ کاٹا دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا۔...
20/12/2025

ایک انتہائی سبق آموز کہانی
ایک عابد نے *خدا کی زیارت* کے لیے 40 دن کا چلہ
کاٹا دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا۔ اعتکاف کی وجہ سے خدا کی مخلوق سے یکسر کٹا ہوا تھا اس کا سارا وقت آہ و زاری اور راز و نیاز میں گذرتا تھا
36 ویں رات اس عابد نے ایک آواز سنی شام 6 بجے، ‏تانبے کے بازار میں فلاں تانبہ ساز کی دکان پر جاؤ اور خدا کی زیارت کرو_*
عابد وقت مقررہ سے پہلے پہنچ گیا اور مارکیٹ کی گلیوں میں تانبہ ساز کی اس دوکان کو ڈھونڈنے لگا۔
وہ کہتا ہے:
"میں نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو تانبے کی دیگچی پکڑے ہوئے تھی اور اسے ہر تانبہ ساز کو دکھارہی تھی"
‏اسے وہ بیچنا چاہتی تھی- وہ جس تانبہ ساز کو اپنی دیگچی دکھاتی وہ اسے تول کر کہتا:
"4 ریال ملیں گے"
وہ بڑھیا کہتی:
"6 ریال میں بیچوں گی"
پر کوئی تانبہ ساز اسے چار ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہ تھا-
آخر کار وہ بڑھیا ایک تانبہ ساز کے پاس پہنچی۔ تانبہ ساز اپنے کام میں مصروف تھا۔
‏بوڑھی عورت نے کہا:
"میں یہ برتن بیچنے کے لیے لائی ہوں اور میں اسے 6 ریال میں بیچوں گی کیا آپ چھ ریال دیں گے؟"
تانبہ ساز نے پوچھا:
"چھ ریال میں کیوں؟؟؟"
بوڑھی عورت نے دل کی بات بتاتے ہوئے کہا:
"میرا بیٹا بیمار ہے، ڈاکٹر نے اس کے لیے نسخہ لکھا ہے جس کی قیمت 6 ریال ہے"
‏تانبہ ساز نے دیگچی لے کر کہا:
"ماں یہ دیگچی بہت عمدہ اور نہایت قیمتی ہے۔ اگر آپ بیچنا ہی چاہتی ہیں تو میں اسے 25 ریال میں خریدوں گا!!"
بوڑھی عورت نے کہا:
"کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟!!! "
تانبہ والے نے کہا:
"ہرگز نہیں،میں واقعی پچیس ریال دوں گا"
یہ کہہ کر اس نے برتن لیا اور ‏بوڑھی عورت کے ہاتھ میں 25 ریال رکھ دیئے !!!
بوڑھی عورت، بہت حیران ہوئی۔ دعا دیتی ہوئی جلدی اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
عابد کہتا ہے میں یہ سارا ماجرہ دیکھ رہا تھا جب وہ بوڑھی عورت چلی گئی تو میں نے تانبے کی دوکان والے سے کہا:
"چچا، لگتا ہے آپ کو کاروبار نہیں آتا؟
‏بازار میں کم و بیش سبھی تانبے والے اس دیگچی کو تولتے تھے اور 4 ریال سے زیادہ کسی نے اسکی قیمت نہیں لگائی اور آپ نے 25 ریال میں اسے خریدا"
بوڑھے تانبہ ساز نے کہا:
"میں نے برتن نہیں خریدا ہے۔ میں نے اس کے بچے کا نسخہ خریدنے کے لیے اور ایک ہفتے تک اس کے ‏بچے کی دیکھ بھال کے لئے پیسے دئیے ہیں۔ میں نے اسے اس لئے یہ قیمت دی کہ گھر کا باقی سامان بیچنے کی نوبت نہ آئے-"
عابد کہتا ہے میں سوچ میں پڑگیا۔ اتنے میں غیبی آواز آئی:
‏"چلہ کشی سے کوئی میری زیارت کا شرف حاصل نہیں کرسکتا۔ گرتے ہووں کو تھامو؛ غریب کا ہاتھ پکڑو؛ ہم خود تمہاری زیارت کو آئیں گے"۔
وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُم°
"وہ تمہـــارے ساتھ ہــے جہـــاں بھـــی تــم ہـــو .
پسند آئے تو دوستوں کیساتھ شیُر کیجیےُ گ
zulfiqar khan wafa youtube.com

19/12/2025

« اگر مجھے خلافت بھی دے دی جائے تو ہاتھ باہر نہ نکالوں »
ایک اعرابی سے کسی نے پوچھا *سناؤ سردی تمہارے ساتھ کیا کر رہی ہے؟*
اس نے جواباً کہا
> لو ان كل الامه جائت لتبايعني على الخلافة ما مددت يدي
`اگر ساری امت جمع ہو کے آ جائے کہ مجھ سے خلافت پر بیعت کرے میں پھر بھی اپنا ہاتھ باہر نہیں نکالوں گا` 😅

*بیعت ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر عہد و پیمان کا نام ہے*
`اعرابی کا مقصد تھا کہ سردی اتنی ہے میں کسی صورت ہاتھ باہر نہیں نکالوں گا خواہ مجھے تمام مسلمانوں کو خلیفہ بنا دیا جائے`
کسی شے کا انکار یا اقرار اتنے گہرے الفاظ سے کرنا کہ آگے والا حیران رہ جائے یہ اھلِ عرب کا خاصہ ہے

سردی دشمن ہے اس کے مقابلے کی تیاری کی جائے

*جب سردی آتی تو سیدنا عمر فاروق اعظم رضی الله عنہ وصیت فرماتے*
> اِن الشّتاء قد حضر وهُو عدُو فتأهَّبوا له أهبته من الصُّوف والخفاف والجوارب واتخذوا الصُّوف شعارًا ودثارًا فإن البرد عدُو سريع دخُوله بعِيد خُروجه
`سردی آگئی ہے بے شک وہ تمہاری دشمن ہے تو اس مقابلے کے لیئے موزے دستانے تیار کرو`
اُون کا اوڑھنا بچھونا بناؤ کیونکہ سردی ایسا دشمن ہے جو جلد گھس جاتا ہے اور دیر سے نکلتا ہے
❗ *لطائف المعارف لابن رجب حنبلی* ❗

*اور دوسرے لحاظ سے سردی نعمت ہے کہ اس کے دن چھوٹے کہ روزے آسانی سے رکھے جا سکتے ہیں اور راتیں بڑی کہ قیام اللیل زیادہ ہو جاتا ہے*
بہر حال سردی اتنا بڑا دشمن ہے کہ بندے کو دستانوں موزوں اور جرسیوں میں یوں قید کر دیتا ہے جیسے دشمن کے آنے سے لوگ قلعے میں قید ہو جاتے ہیں
*اور دشمن آنے پر اس سے ہاتھ نہیں ملایا جاتا اسی وجہ سے اعرابی نے کہا مجھ سے خلافت پر بیعت کریں تب بھی ہاتھ باہر نہ نکالوں*
zulfiqar khan wafa youtube.com

موٹر سائیکل پر ہیلمٹ پہننے کے نقصاناتہیلمٹ پہننے سے دائیں اور بائیں دیکھنے کا زاویہ نگاہ جو کہ نارمل 120-180 ہوتا ہے، یہ...
19/12/2025

موٹر سائیکل پر ہیلمٹ پہننے کے نقصانات
ہیلمٹ پہننے سے دائیں اور بائیں دیکھنے کا زاویہ نگاہ جو کہ نارمل 120-180 ہوتا ہے، یہ 22 فیصد کم ہوجاتا ہے۔ جو 30 فیصد حادثات میں اضافہ کا باعث ہے۔ یعنی اگر ہیلمٹ کے بغیر روزانہ 100 حادثات ہوتے تھے تو ہیلمٹ پہننے سے روزانہ 130 حادثات ہونگے۔۔۔۔
ہیلمٹ پہننے سے سانس میں زبردست تنگی ہوتی ہے، دمہ کے مریض ہیلمٹ نہیں پہن سکتے۔ اس لئے اگر کوئی دمہ کا مریض کسی دفتریا فیکٹری یا دوکان پر ملازم ہے، وہ اپنے کاروبار پر نہیں پہنچ سکتا، جس سے بزنس میں کمی اور بے روزگاری کا خطرہ ہے۔
ہیلمٹ پہننے سے دل کے مریضوں میں دل کی تکلیف میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس لئے دل کے مریض ہیلمٹ پہن کر اپنے دفتر یا فیکٹری یا شاپ پر نہیں جاسکتے۔
ہیلمٹ پہننے سے کچھ لوگوں میں نفسیاتی بیماری Claustrophobia پیدا ہوجاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ان کے کاروبار پر فرق پڑتا ہے، بزنس ڈسٹرب ہوتا ہے، اور نفسیاتی ڈاکٹرز کے کلینک پر مریضوں کا رش مزید بڑھ جاتا ہے۔
ہیلمٹ پہننے سے کم سُنائی دیتا ہے، جس سے ساتھ سے گزرنے والی یا پیچھے آنے والی گاڑی کی آواز سُنائی نہیں دیتی، جس سے 20 فیصد حادثات میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ ڈرائیور یہی سمجھتا ہے کہ میرےپیچھے کوئی گاڑی نہیں، جس سے وہ بے دھیانی میں گاڑی کو موڑ لیتا ہے۔۔۔
ہیلمٹ پہننے سے ڈرائیور پیچھے بیٹھے مسافر سے بات بھی نہیں کرسکتا۔ Conversation میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
ہیلمٹ پہننے سے ڈرائیور زیادہ اکڑ کا یا بہت زیادہ محتاط اور Tense ہوجاتا ہے، جسے سے ڈرائیونگ میں غلطیاں ہوتی ہیں، جس سے 10 فیصد حادثات میں اضافہ کا خدشہ ہے۔
ہیلمٹ پہننے سے موٹرسائیکل والا کسی دوسری گاڑی کو اوور ٹیک باآسانی نہیں کرسکتا۔ اور پیچھے دیکھے بغیر اوور ٹیک کرنے پر حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ہیلمٹ پہننے سے بار بار پوری گردن گُھما کر دائیں بائیں دیکھنے سے گردن کے مہروں کی بیماری Cervical Spondylosis کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یا اس میں Degenerative تبدیلیاں ہونے کا اہتمال ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے ڈاکٹروں کے کلینک پر مریضوں کا رش بڑھتا ہے اور دافع درد Analgesic ادویات کی فروخت بھی بڑھ جاتی ہے۔ جس سے معدہ کے امراض بڑھ جاتے ہیں۔
ہیلمٹ پہننے سے سر پر وزن میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ جس سے گردن کے مہرے بیٹھ جاتے ہیں اور گُھمانے پر Osteoporosis کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پیچھے یا دائیں بائیں گردن گھما کر دیکھنے سے سامنے سے آنے والی ٹریفک پر سے نظر ہٹ جاتی ہیں، جس سے حادثہ ہوسکتا ہے۔۔۔۔
ہیلمٹ لگا کر پھر موٹر سائیکل پر پیچھے دیکھنے والے Back Mirror لگانے لازم ہیں۔ جس سے موٹر سائیکل کی چوڑائی میں اضافہ ہوجاتا ہے، جو فٹنس سرٹیفکیٹ کے رولز کے خلاف ہے۔ اور بیک مرر پر پیچھے آنے والی ٹریفک کی ہیڈ لائٹ سے فلیش پڑتی ہے، جس سے ڈرائیور کی آنکھیں چُندیا جاتی ہیں، جو حادثہ کا سبب بنتی ہیں۔
ہیلمٹ پہننے سے سر میں پسینہ آتا ہے، جس سے بلڈپریشر میں کمی یا زیادتی کا ازحد خطرہ ہوتا ہے۔ گرمیوں میں ویسے بھی ہیلمٹ پہننا بہت مشکل ہے۔۔۔ لو لگنے Heat Stroke کا خطرہ ہوتاہے۔۔۔۔ ہیلمٹ پہن کر گرمی کی شدت سے سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے۔
ہیلمٹ پہننے سے Fogging کا خطرہ ہوتاہے، ہیلمٹ کے شیشے کے سامنے دُھند اور اندھیرہ چھا جاتا ہے۔ جس سے حادثات میں اضافہ ہوتا ہے۔
ہیلمٹ پہننے سے اگر وہ اچھی کوالٹی کا ہو، تو پھر بھاری اور Bulky ہونے سے سنبھالنتا مشکل ہے۔ اور اگر ہلکا ہو، تو پھر اس کو پہننے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔۔ کیونکہ حادثہ کی صورت میں ہیلمٹ ہی ٹوٹ گیا تو اس نے کھوپڑی Skull کی کیا بچت کرنی ہے؟
بھاری ہیلمٹ پہننے سے حادثہ کی صورت میں گردن کے ٹوٹنے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔۔۔۔ ہیلمٹ کا وزن بہت زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔
ہیلمٹ بغیر ٹھوری سٹرپ پہننے سے حادثہ ہونے کی صورت میں سب سے پہلے ہیلمٹ ہی اُتر کا دور جا گرتا ہے اور حادثہ ہونے پر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔۔۔۔
ہیلمٹ پہننے سے دہشت گرد اپنی دہشت گرد کاروائیوں میں آزاد ہوگئے ہیں۔ ان کو دور سے آتے پہچاننا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ ہیلمٹ پہننے سے نہ صرف دہشت گردوں کی کاروائیوں میں اضافہ ہوا، بلکہ چور اُچکے اور ڈاکوئوں نے بھی ہیلمٹ پہن کر بینک لوٹے اور چوریاں کی ہیں۔۔۔۔ اور Street Crimes یا Road Snatching میں اضافہ ہوتا ہے۔۔۔۔ ہیلمٹ پہنے چور ڈاکو CCTv کیمروں میں ان کی شکلیں نہیں آتیں۔۔۔۔ اور وہ باآسانی بچ جاتے ہیں۔
ہیلمٹ پہننے سے جہاں موٹر سائیکل پارک کی جاتی ہے، وہاں ہیلمٹ کو ہینڈل کے ساتھ لٹکا دیا جاتا ہے، جس سے ہیلمٹ بہت زیادہ چوری ہوتے ہیں۔ اور اگر ساتھ لیکر جائیں تو دفتروں میں ہیلمٹ پہن کر یا ہاتھ میں لیکر اندر نہیں داخل ہونے دیتے۔۔۔۔ اور وہاں پر باہر ہیلمٹ رکھنے کا کوئی انتظام بھی نہیں ہوتا، لائن میں بھی اپنا ہیلمٹ اپنے ہاتھ میں رکھ کر کھڑا ہونا پڑتا ہے، جو ایک عام لڑکے یا خواتین کیلئے بہت مشکل ہے۔۔۔

ہیلمٹ پہننے سے صرف ایک فائدہ ہے کہ اچھا بھاری ہیلمٹ پہننے سے ڈرائیور سر پر چوٹ لگنے سے نہیں مرتا، بلکہ باقی دیگر وجوہات سے مرجاتا ہے۔ یاد رہے کہ روڈ پر تیز رفتاری سے حادثہ ہونے پر پیٹ کے اندر کے اعضاء کو زبردست جھٹکا لگتا ہے، جس سے اندرونی اعضاء پھٹ جاتے ہیں، جس سے خون بہہ Internal Bleeding جاتا ہے یا ہڈیوں کے ٹوٹنے سے موت واقع ہوجاتی ہے۔

ہیلمٹ ہر شخص کے سر کے سائز کے مطابق پہننا ہی فائدہ مند ہوسکتا ہے، پر ایک ہیلمٹ ہی گھر کا ہر شخص استعمال کرتا ہے، جس کی وجہ سے بڑے سر والے کو یہ ہیلمٹ تنگ آتا ہے، جو ڈرائیونگ میں مشکلات کا باعث ہے اور چھوٹے سر والے کا یہی ہیلمٹ پہننا کھوچلا (کُھلا بڑا) ہونے کی وجہ سے پہنا نہ پہنا ایک برابر ہے۔۔۔۔۔

ہیلمٹ پہننا اگر Safety میں شامل ہے تو موٹرسائیکل پر پیچھے بیٹھی خاتون کو کون ہیلمٹ پہنائے گا؟ اس کی سیفٹی کون کرے گا؟ اور اگر کوئی اکیلا موٹر سائیکل لیکر جا رہا ہے تو راستے میں کسی دوست کو اپنی موٹر سائیکل کے پیچھے بٹھانا چاہتا ہے تو اس دوسرے دوست کیلئے وہ دوسرا ہیلمٹ کہاں سے لائے گا؟ اور ہیلمٹ کو ہینڈل کے پاس لٹکانے سے کئی حادثات ہوئے ہیں، جب ہیلمٹ ہینڈل میں آ کر اڑ گیا اور حادثہ کا سبب بنا ہے۔۔۔

خلاصہ تحریر اور تجویز۔۔۔۔۔ اس آرٹیکل کا ہرگز کہ مقصد یہ نہیں کہ ہیلمٹ نہ پہنا جائے۔ بلکہ اس مقالے کا مقصد یہ ہے کہ صرف ہیلمٹ پہننے سے حادثات کو کم نہیں کیا جاسکتا، یا ٹریفک کے مسائل حل نہ ہوسکتے۔۔۔۔ بلکہ حکومت کو چاہئے کہ کسی ایکسپرٹ روڈ سیفٹی پرسن سے فزیبلیٹی بنائیں، اور شہر کے اندر جہاں عمومأ سپیڈ 30 سے 40 کے دوران ہوتی ہے، وہاں اگر کوئی ہیلمٹ نہ پہنے تو اس پر چلان نہ کیا جائے، یعنی اندرون شہر چھوٹی سڑکوں پر ہیلمٹ نہ پہنے پر چلان نہ کیا جائے ۔۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔ مین شاہراہوں، نیشنل ہائی ویز، جی ٹی روڈ اور دیگر ہائی سپیڈ موٹر ویز پر موٹر سائیکل چلانے کی صورت میں مناسب ڈیزائن کردہ ہیلمٹ پہننے کی ترغیب دی جائے، عوام کو رہنمائی مہیا کی جائے، ہیلمٹ کے فائدے اور نقصانات کے بارے آگاہ کیا جائے اور ہیلمٹ کہاں پہننا ہے، کس طرح پہننا ہے، اور کیوں پہننا ہے، اس کے بارے عوام میں شعور اُجاگر کیا جائے۔۔۔۔، مگر چلان ہرگز نہ کیا جائے۔۔۔۔۔ کیونکہ زبردستی ہیلمٹ پہنانے سے حادثات میں 30 سے 40 فیصد اضافہ اور بیماریوں میں اضافہ کا احتمال ہے۔۔۔۔ ہیلمٹ پر چلان بند ہونے چاہیں۔ صرف رہنمائی مہیا کریں۔۔۔۔ سکول کالجز اور یونیورسٹیز میں روڈ سیفٹی ورکشاپ کا اہتمام کریں۔ اس کے لئے ہماری خدمات مفت حاضر ہیں۔

zulfiqar khan wafa

17/12/2025

کیا آپ نیویارک میں سستی جگہ تلاش کررہے ہیں؟ NYC ہاؤسنگ کنیکٹ کی جانب سے ایک نئی سستی رہائشی لاٹری کا آغاز

zulfiqar khan wafa

17/12/2025

Wow..smart doctor... #

‏عورت کے مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات: نصیحت کے لیے غسل کے دوران مدینہ کی ایک عورت نے مردہ عورت کی ران پر ہاتھ رکھتے ہوئے ی...
17/12/2025

‏عورت کے مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات: نصیحت کے لیے
غسل کے دوران مدینہ کی ایک عورت نے مردہ عورت کی ران پر ہاتھ رکھتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے.
بس یہ بات کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے اپنی ڈھیل دی ہوئی رسی کھینچ دی.
اس عورت کا انتقال مدینہ کی ایک بستی میں ہوا تھا اور غسل کے دوران جوں ہی غسل دینے والی عورت نے‏ مندرجہ بالا الفاظ کہے تو اس کا ہاتھ میت کی ران کے ساتھ چپک گیا۔ چپکنے کی قوت اس قدر تھی کہ وہ عورت اپنا ہاتھ کھینچتی تو میت گھسیٹتی تھی مگر ہاتھ نہ چھوٹتا تھا۔
جنازے کا وقت قریب آ رہا تھا اس کا ہاتھ میت کے ساتھ چپک چکا تھا اور بے حد کوشش کے باوجود جدا نہیں ہو رہا تھا، تمام عورتوں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر کھینچا، مروڑا، غرض جو ممکن تھا کیا مگر سب بے سود رہا!‏
دن گزرا ، رات ہوئی، دوسرا دن گزرا، پھر رات ہوئی سب ویسا ہی تھا، میت سے بدبو آنے لگی اور اس کے پاس ٹھہرنا ،بیٹھنا مشکل ہو گیا!
مولوی صاحبان، قاری صاحبان اور تمام اسلامی طبقے سے مشاورت کے بعد طے ہوا کہ غسال عورت کا ہاتھ کاٹ کر جدا کیا جائے‏اور میت کو اس کے ہاتھ سمیت دفنا دیا جائے۔ مگر اس فیصلے کو غسال عورت اور اس کے خاندان نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ہم اپنے خاندان کی عورت کو معذور نہیں کر سکتے لہذا ہمیں یہ فیصلہ قبول نہیں!
دوسری صورت یہ بتائی گئی کہ میت کے جسم کا وہ حصہ کاٹ دیا جائے اور ہاتھ کو آزاد کر کے میت‏ دفنا دی جائے، مگر بے سود. اس بار میت کے خاندان نے اعتراض اٹھایا کہ ہم اپنی میت کی یہ توہین کرنے سے بہر حال قاصر ہیں.
اس دور میں امام مالک قاضی تھے. بات امام مالک تک پہنچائی گئی کہ اس کیس کا فیصلہ کیا جائے! امام مالک اس گھر پہنچے اور صورت حال بھانپ کر غسال عورت سے سوال کیا‏ "اے عورت! کیا تم نے غسل کے دوران اس میت کے بارے میں کوئی بات کہی؟"
غسال عورت نے سارا قصہ امام مالک کو سنایا اور بتایا کہ اس نے غسل کے دوران باقی عورتوں کو کہا کہ اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے.
امام مالک نے سوال کیا "کیا تمھارے پاس اس الزام کو ثابت کرنے کے‏لیے گواہ موجود ہیں" عورت نے جواب دیا کہ اس کے پاس گواہ موجود نہیں. امام مالک نے پھر پوچھا "کیا اس عورت نے اپنی زندگی میں تم سے اس بات کا تذکرہ کیا؟" جواب آیا "نہیں"
امام مالک نے فوری حکم صادر کیا کہ اس غسال عورت نے چونکہ میت پر تہمت لگائی ہے لہذا ‏اس کو حد مقررہ کے مطابق 80 کوڑے لگائے جائیں!
حکم کی تعمیل کی گئی اور 70 بھی نہیں 75 بھی نہیں 79 بھی نہیں پورے 80 کوڑے مارنے کے بعد اس عورت کا ہاتھ میت سے الگ ہوا.
آج ہم تہمت لگاتے وقت ذرا بھی نہیں سوچتے. استغفراللہ
مہربانی کرکے شئر کریں ۔۔۔۔۔۔ 👌👍🤔🤔🤔🤔
اللہ پاک سب مسلم پر اپنی رحمت فرمائے آمین

خدا کی قسم اگر میرے 1 کروڑ فیسبک اکاؤنٹ ہوتے تو میں ہر اکاؤنٹ سے 20 گروپوں میں شئیر کرتی۔۔۔اگر اس post کو بھی 20 گروپوں میں شئیر نہیں کر سکتے تو فیس بک استعمال کرنا چھوڑ دیں۔۔۔📱
zulfiqar khan wafa

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when zulfiqar khan wafa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Advertising & Marketing Company?

Share