Voice Of Karachi

Voice Of Karachi The Voice of Karachi is a non-political awareness campaign to raise the social and civic issues of Karachi and urban Sindh

04/25/2026

ایم کیو ایم، عوام کا رومانس تھی۔
موجودہ لیڈر شپ سے ہٹ کر دیکھیں تو ایم کیو ایم آج بھی پاکستان کی سب سے بہترین جماعت ہے۔
ہم ایک کاز کے لیے کھڑے ہوئے تھے، اقتدار کے لیے نہیں۔
ہم اس نظام کو بدلنے آئے تھے جہاں لوگ نسل در نسل اقتدار میں رہتے ہیں لیکن ہم نظام کو بدلنے کے بجائے اسکا حصہ بن گئے۔
ڈاکٹر فاروق ستار 1987 میں میئر بنے، اور آج 2026 میں بھی وہ ایم این اے ہیں۔
ایم کیو ایم کے آئین میں چیئرمین کے عہدہ کا تزکرہ تک نہیں ہے۔
خالد مقبول کہتے ہیں کہ کسی نے ان سے کہا کہ “آپ چیئرمین بن جائیں تو میں بن گیا۔”
اگر کوئی مجھے سپر مین کہہ دے تو کیا میں خود کو سپر مین کہلانے لگوں؟
حقائق کی روشنی میں پارٹی کو درست طریقے سے چلانا قیادت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
پارٹی کی رابطہ کمیٹی کو بھی غیرآئینی طور پر برطرف کیا گیا۔ تیس تیس اور چالیس چالیس سال سے قربانیاں دینے والوں کو غیرآئینی طور پر گھر بھیج دیا گیا۔
میں نے نئے آئین کا مسودہ لکھا تو اس میں پارٹی سربراہ کی مدت صرف دو ٹرم تک محدود کردی۔
مجوزہ آئین میں پارٹی قیادت سے ٹکٹ دینے کا اختیار لیکر کارکنوں کے ہاتھ میں دے دیا ۔
بانوے کے آپریشن میں بانی تحریک کے ساتھ لندن میں کڑے حالات کا سامنا کیا۔
بانی تحریک کی ریٹائرمنٹ کے بعد مالی مشکلات کے سبب لندن میں ایک ساتھی کے ساتھ بیلٹ بنانے والی فیکٹری میں ملازمت بھی کی۔
90 کی دہائی صرف ایک دور نہیں، ایک احساس ہے۔ وہ وقت جب نظریہ، محنت اور قربانی ایک ساتھ کھڑے تھے۔
کارکنان کی جدوجہد نے تحریک کو زندہ رکھا۔
شہری سندھ کا اصل مسئلہ اسکے انتظامی بے اختیاری ہے۔
بھٹو نے مردم شماری میں دھاندلی کرکے شہری سندھ کی آبادی آدھی اور دیہی سندھ کی ڈبل کردی۔
جعلی مردم شماری کی وجہ سے سندھ کا وزیراعلی ہمیشہ دیہی سندھ سے آتا ہے۔
اگر منصفانہ مردم شماری ہوتو سندھ کا وزیراعلی ہمیشہ کراچی سے آئے۔
شہری سندھ کے علاقوں پر مشتمل الگ انتظامی یونٹ کا قیام ناگزیر ہے۔
ایم کیو ایم کا ماضی اور حال—ایک سنجیدہ تجزیہ۔
نصرت سحر شو میں ڈاکٹر ندیم نصرت کی بے لاگ گفتگو۔۔۔یہ تاریخ صرف سننے نہیں، سمجھنے کی ہے۔

01/29/2026

پاکستان کے موجودہ مسائل کا مستقل حل انتظامی یونٹس کا قیام ہی ہے۔ ڈاکٹر ندیم نصرت
کراچی کی حیثیت اس وقت اس مریض جیسی ہے جسے فوری آپریشن کی ضرورت ہو۔
کراچی کو عارضی طور پر وفاق کے حوالے کرنے سے اس شہر کو موجودہ کرپٹ نظام سے نجات مل سکتی ہے ۔ اگر وفاق، کراچی کا کنڑول سنبھال لیتا ہے تو شہری عوام اسکا خیرمقدم کریں گے۔
پاکستان میں نئے صوبوں/انتظامی یونٹس کی بحث بہت زیادہ بڑھ چکی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔
وائس آف کراچی برسوں سے نشاندہی کررہی ہے کہ قیام پاکستان کے وقت ہمیں لسانی بنیادوں پر قائم صوبائی نظام ورثہ میں ملا جسے ہم نے تبدیل نہیں کیا۔
لسانی بنیادوں پر قائم صوبوں کو تبدیل نہ کرنے سے پاکستان میں لسانی سیاست پروان چڑھتی رہی جس کا نقصان 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام کی صورت بھگتنا پڑا۔
اب لسانی طاقتیں مزید طاقتور ہوچکی ہیں ۔لسانی صوبوں کے قیام سے چند خاندان اقتدار کے مالک بن چکے ہیں۔
یہ سندھی مہاجر کا مسئلہ نہیں بلکہ مراعات یافتہ و محکوم طبقہ کا ہے۔
سندھ کے حکمرانوں نے غریب سندھی کو بھی کچھ نہیں دیا۔ اندرون سندھ نہ اچھے تعلیم ادارے ہیں، نہ صنعتیں و روزگار، نہ انفراسٹرکچر۔
لسانی سیاست سے نجات اور اقتدار کو چند خاندانوں کے قبضہ سے نکال کر عوام کو منتقل کرنے کے لئے پاکستان میں چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے۔

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کےبطور پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) تقرری پر دلی مبارکباد پیش...
12/05/2025

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کےبطور پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) تقرری پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں- وائس آف کراچی
تقرری کے بعد ملک میں کرپشن اور بیڈ گورننس کے خلاف حتمی پیش قدمی کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ پاکستان دشمن عناصر کی جانب سے پھلائے جانے والی افواہوں اور غیر یقینی کیفیت کا خآتمہ ہوگیا ہے۔ڈاکٹر ندیم نصرت
پاکستان کو درپیش چیلنجر میں کرپشن، بدانتظامی، بیروزگاری، دہرا نظام تعلیم، وڈیرہ شاہی کی من مانی، لسانی عصبیت، میرٹ کا قتل عام اور امن و امان کی خرابی سرفہرست ہیں۔ ڈاکٹر ندیم نصرت و اراکین مرکزی کمیٹی
انگریز سرکار کی وراثت میں ملنے والی لسانی صوبائی تقسیم نے پاکستان کو ایک قوم نہیں بننے دیا۔ یہی لسانی تقسیم اور عدم مساوات سقوط ڈھاکہ کی بنیاد بنی۔ ڈاکٹر ندیم نصرت و اراکین مرکزی کمیٹی
پوری قوم بالخصوص شہری سندھ کی عوام چیف آف ڈیفنس فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔ مطالبہ کرتے ہیں کہ جس طرح بیرونی دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیا گیا ہے ایسے ہی اندرونی دشمنوں، کرپشن اور بد انتظامی کے ذمہ داروں کے خلاف بھی بے رحمانہ کاروائی شروع کی جائے۔ اراکین مرکزی کمیٹی
موجودہ ناقص و فرسودہ نظام کی بدولت چند خاندانوں نے کھربوں روپے کی کرپشن سے اپنی ذاتی سلطنتیں قائم کی ہوئی ہیں۔ پاکستان کو ایک ترقی یافتہ، مضبوط اور خوشحال وطن بنانےکیلئے ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے ایجنڈے پر فوری پیش قدمی کی جائے۔ آراکین مرکزی کمیٹی

وائس آف کراچی کے چیئرمین اور ایم کیو ایم کے سابق کنوینر ڈاکٹر ندیم نصرت کا ARY News کے بیورو چیف اور امریکی محکمہ خارجہ ...
09/01/2025

وائس آف کراچی کے چیئرمین اور ایم کیو ایم کے سابق کنوینر ڈاکٹر ندیم نصرت کا ARY News کے بیورو چیف اور امریکی محکمہ خارجہ کی بریفنگز کو کور کرنے والے معروف پاکستانی صحافی جہانزیب علی کو ملک میں نئے " انتظامی یونٹس" کے قیام کے حوالے سے اہم انٹرویو:
جو ریاستی قوتیں ملک میں آئین اور نظام کو تبدیل کرانا کی طاقت رکھتی ہیں وہ ملک میں انتظامی یونٹس کے قیام کیلئے بھی آئینی راستہ تلاش کریں۔
حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کو بتا دیا جائے کہ اگر وہ اس آئین اور نظام کو رکھنا چاہتی ہیں تو نئے انتظامی یونٹس میں رکاوٹ نہ بنیں ورنہ یہ نظام اور آئین دونوں لپیٹ دیئے جائیں گے : ڈاکٹر ندیم نصرت
سندھ حکومت کی کرپشن کے چرچے امریکی کانگریس تک پہنچ چکے ہیں۔
امریکی کانگریس مین اسکاٹ پیری نے حال ہی میں سندھ حکومت کی بدعنوانی کے حوالے سے یہ انکشاف کیا تھا کہ USAID کی دو سو ملین ڈالر کی امداد کا جب آڈٹ کرایا گیا تو سندھ حکومت کی طرف سے اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے کیلئے یہ کہہ دیا گیا کہ اس امداد سے بننے والے 20 ہزار اسکول سیلاب میں بہہ گئے ہیں: ڈاکٹر ندیم نصرت
پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت شہری سندھ کے ساتھ وہی سلوک کر رہی ہے کہ جو اسرائیل فلسطینیوں اور مقبوضہ عرب آبادیوں کے ساتھ کرتا ہے : چیئرمین وائس آف کراچی
کراچی اور سندھ میں کرپشن کا سمندر بہہ رہا ہے لیکن میڈیا مکمل طور پر خاموش ہے۔ آخر ایسی کیا مجبوریاں ہیں کہ جو ایکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر سندھ حکومت کی بدترین گورننس اور لوٹ مار کو بے نقاب نہیں کیا جا رہا : ڈاکٹر ندیم نصرت
بدقستمی سے ایم کیو ایم ( پاکستان ) کا شہری سندھ کے بگڑتے حالات اور بحرانی صورتحال میں وہ کردار نظر نہیں آرہا کہ جو ماضی میں ہوتا تھا۔
انتظامی یونٹس کے مطالبے پر حالیہ دنوں میں چند رہنماوں کے اکا دکا بیانات ضرور آئے ہیں لیکن بحیثیت تنظیم اور سیاسی جماعت وہاں خاموشی ہے: چیئرمین وائس آف کراچی
پاکستان کے عوام اس بدبودار نظام سے اسقدر متنفر ہو چکے ہیں کہ اب وہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی نظام آ جائے، بس ہمیں ہمارے مسائل کا حل چاہئے : ڈاکٹر ندیم نصرت
بلوچستان میں شورش ہے، خیبر پختونخواہ میں طالبان مسلسل دہشت گرد حملے کر رہے ہیں، کراچی کو جرائم کا گڑھ بنا دیا گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں ریاست کو بچانے کیلئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ کرنا عین حب الوطنی ہے: چیئرمین وائس آف کراچی
نئے انتظامی یونٹس/صوبے بنانے میں قباحت کیا ہے؟ کوئی بھی فرسودہ نظام جو لوگوں کے حقوق غصب کر رہا ہو، جہاں چند لوگ beneficiary ہوں اور اکثریت سسٹم سے باہر ہو تو جب آپ اس نظام کو تبدیل کرنے کی بات کرتے ہیں تو مزاحمت آتی ہے: ڈاکٹر ندیم نصرت

Nadeem NusratNadeem Nusrat is a Pakistani-American politician who had been former convener and leader of Muttahida Qaumi Movement London.He later launched hi...

08/31/2025

نئے صوبوں پر سیاسی جماعتوں کو وارننگ ورنہ نظام لپیٹ دیں۔
* گریٹر کراچی صوبہ ہے کیا؟
* امریکی کانگریس میں سندھ حکومت کی کرپشن کے چرچے
* کراچی کے ساتھ غزہ والا ظلم
* سندھ اسمبلی نہ مانے تو کیا ہو گا؟
وائس آف کراچی کے چیئرمین اور ایم کیو ایم کے سابق کنوینر ندیم نصرت کا اہم انٹرویو
youtu.be/hdPlL45iWzY?si‎…
‎ ‎ ‎ ‎



08/23/2025

وائس آف کراچی ملک میں " انتظامی یونٹس" کی حمایت میں کل بتاریخ 24 اگست بروز اتوار دوپہر 2 بجے سوشل میڈیا پر ایک بھرپور مہم کا آغاز کر رہی ہے.
ملک بھر کے سوشل میڈیا ایکٹویسٹس سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس مہم کی کامیابی میں اپنا حصہ ڈالیں: ثاقب محی الدین، سینئر وائس چیئرمین

08/22/2025

**اہم سرکلر برائے سوشل میڈیا مہم*

**موضوع: "بااختیار انتظامی یونٹس" پاکستان کی بقاء اور ترقی کیلئے لازم ہیں۔
تاریخ: 24 اگست 2025 بروز اتوار وقت: پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق : دوپہر 2 بجے**

پاکستان کے طول و عرض سے آج یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ ملک کا موجودہ نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور اسکے ساتھ ہی 78 سالوں سے ملک کو 4 لسانی صوبوں کے ذریعہ چلائے جانے کا تجربہ بھی اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ چند علاقوں کے علاوہ ملک بھر کے تمام ہی چھوٹے اور بڑے شہر بشمول ملک کا تجارتی و معاشی مرکز کراچی و دیگر علاقے شدید بدانتظامی، محرومی، بد حالی، بدترین حکمرانی، نااہلی اور تباہی کا شکار ہیں کیونکہ آزادی کے 78 برس بعد بھی مملکت پاکستان کا نظام 21 ویں صدی کے جدید تقاضوں کے بجائے فرسودہ لسانی، جاگیردارنہ، وڈیرانہ اور سردارانہ طرز پر چلایا جارہا ہےجس نے ایک طرف ملک میں تعصب، لسانی عصبیت، نفرت اور تقسیم کو فروغ دیکر ایک مضبوط پاکستانی قومیت کے تصور کو پنپنے نہیں دیا جبکہ دوسری جانب ملکی اقتدار و وسائل پر کرپٹ اشرافیہ کے چند خاندانوں کے تسلط کو برقرار رکھا جسکے خوفناک نتائج آج چاروں صوبوں میں سب کے سامنے ہیں۔ برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی بے پناہ قربانیوں سے وجود میں آنے والے اس وطن کو مفاد پرست بدعنوان ٹولے اور خاندانوں نے اپنے گھناؤنے مقاصد کیلئے تختہ مشق بنایا ہوا ہے اور موجودہ فرسودہ نظام ان ملک دشمن عناصر کا سب سے بڑا محافظ ہے کہ جو جعلی جمہوریت کے نام پر اسمبلیوں میں بیٹھ کر 98 فیصد پاکستانیوں کا استحصال کر رہے ہیں۔
کراچی اور شہری سندھ اس وقت شدیدبدانتظامی اور بد ترین حکمرانی کی سب سے بڑی مثال ہے کہ جہاں شہری علاقوں کو بھی سندھودیش میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جہاں امن و امان کے ساتھ ساتھ نظام کو ہموار انداز میں چلانے کے لئے درکار بنیادی شہری ڈھانچہ (انفرا اسٹرکچر) اورتعلیمی نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں، روزگار کے مواقع ختم کر دیئے گئے جبکہ بدعنوان بیوروکریٹس، منشیات فروش اور مسلح ڈاکو آزادی کے ساتھ ہر جگہ غیرقانونی کارروائیاں کرتے پھررہے ہیں، بڑھتی لاقانونیت اور سرمایہ کاری کیلئے درکار ماحول نہ ہونے کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاری آنا تو ایک طرف، کراچی میں کئی عشروں سے کاروبار کرنے والے مقامی تاجر و صنعتکار اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کررہے ہیں جسکی وجہ سے پاکستان کی معیشت کی یہ شہ رگ شدید خطرہ میں ہے۔
وائس آف کراچی نے اپنے قیام کی ابتدا سے ہی اس کرپٹ اور عوام دشمن نظام کے نقائص کی نشاندہی کرتے ہوئے ملک میں لسانی بنیادوں پر قائم صوبوں کی جگہ انتظامی طور پر "بااختیار انتظامی یونٹس" کے قیام کی نہ صرف تجویز پیش کی بلکہ اس نظام کے بنیادی خدوخال بھی عوام کے سامنے رکھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج پاکستان کے مقتدر ادارے، معروف تھنک ٹینکس، زیرک سیاستدان، محب وطن دنشواران، تاجر برادری، صحافی اور ہر طبقہ زندگی کی قد آور شخصیات اس نظریہ کی کھل کر تائید و حمایت کررہے ہیں۔ اب یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم تمام تر سیاسی، مذہبی و علاقائی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ملک بھر میں "انتظامی یونٹس" کے قیام کے وژن کی حمایت کریں اور اسے ایک ملک گیر عوامی مطالبہ بنا کر ملک پر قابض متعصب و بدعنوان خاندانوں سے نجات دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ اس حوالے سے وائس آف کراچی اپنی گزشتہ سالوں کی کامیاب ترین سوشل میڈیا مہم کے تسلسل کے طور پر ایک اور اہم مہم کا آغاز کر رہی ہے۔
نوٹ: وائس آف کراچی، سوشل میڈیا ایکٹویسٹس سمیت عوام کی رہنمائی اور آسانی کیلئے مہم سے کچھ دیر قبل مہم کا ہیش ٹیگ اور ٹوئٹس شیٹ بھی شیئر کرے گی۔ اسکے علاوہ پاکستان کے مختلف صوبوں بالخصوص سندھ کے دیرینہ مسائل سے متعلق تصاویر، ویڈیوز اور پوسٹرز بھی میسر ہونگے جنہیں آگاہی کیلئے ٹوئٹس کے ساتھ استعمال کیا جا سکے گا۔
*جاری کردہ : شعبہ نشرواشاعت، وائس آف کراچی اینڈ اربن سندھ*

08/21/2025

اہم اعلان برائے سوشل میڈیا مہم :
موضوع : "خود مختار انتظامی یونٹس" پاکستان کی بقاء اور ترقی کیلئے لازم ہیں
وائس آف کراچی نے اپنے قیام کی ابتدا سے ہی لسانی بنیادوں پر قائم صوبوں کی جگہ "بااختیار انتظامی یونٹس" کے قیام کی نہ صرف تجویز پیش کی بلکہ اس نظام کے بنیادی خدوخال بھی عوام کے سامنے رکھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج پاکستان کے مقتدر ادارے، معروف تھنک ٹینکس، زیرک سیاستدان، محب وطن دنشواران، تاجر برادری، صحافی اور ہر طبقہ زندگی کی قد آور شخصیات اس نظریہ کی کھل کر تائید و حمایت کررہے ہیں۔
اس حوالے سے وائس آف کراچی اپنی گزشتہ سالوں کی کامیاب ترین سوشل میڈیا مہم کے تسلسل کے طور پر ایک اور اہم مہم کا عنقریب آغاز کر رہی ہے۔
اس مہم کی تفصیلات، دن اور تاریخ سے بہت جلد ذمہ داران، کارکنان ، سوشل میڈیا ایکٹویسٹس اور عوام کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

08/20/2025
08/20/2025

وائس آف کراچی کے چیئرمین اور ایم کیو ایم کے سابق کنوینر ڈاکٹر ندیم نصرت کا معروف صحافی مزمل سہروردی کو اہم انٹرویو:
**ملک میں " انتظامی یونٹس" کا منصوبہ سب سے پہلے وائس آف کراچی نے پیش کیا۔
** انتظامی یونٹس کے قیام کیلئے اگر آئین کو پیچھے کرنا پڑے تو کر دیا جائے، پاکستان کو آگے رکھنا ہے۔
** پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور موجودہ اسمبلیاں پاکستان سے مخلص ہیں تو انتظامی یونٹس کے قیام میں رکاوٹ نہ بنیں اور ریاست کے اداروں کو کسی غیر آئینی اقدام پر مجبور نہ کریں۔
** دیہی سندھ کے حکمرانوں کی کرپشن اور نااہلی کی سزا شہری سندھ کو کیوں ملے۔۔۔ شہری سندھ کو "علیحدہ انتظامی یونٹ" بنانا ہو گا۔
** کراچی میں ایک دن کی بارش سے شہر تباہ ہو جاتا ہے۔ ملک کے تجارتی اور معاشی حب کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
** شہری سندھ کے عوام کی وفاداریاں آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں اور ہر مشکل وقت میں انہوں نے صرف پاکستان کا انتخاب کیا جبکہ دوسری طرف دیہی سندھ میں 14 اگست کو سندھودیش کی ریلیاں نکلتی ہیں اور پاکستان مخالف تقاریر ہوتی ہیں۔
** وائس آف کراچی ملک بھر میں انتظامی یونٹس کے قیام کیلئے ہر اقدام کی مکمل حمایت کر یگی۔

Address

1750 Tysons Boulevard #1500
McLean, VA
22102

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice Of Karachi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share