09/07/2026
موجودہ لسانی صوبوں کے خاتمہ اور خود مختار انتظامی یونٹوں کی تشکیل کے بغیر پاکستان آگے نہیں چل سکتا: ترجمان وائس آف کراچی
وائس آف کراچی نے نو برس قبل گریٹر کراچی اور ملک بھر میں انتظامی یونٹوں کے قیام کا فارمولا اور روڈ میپ پیش کیا تھا: ترجمان
سندھ کے وڈیروں نے اپنی حکومت کو لوٹ مار کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ شہری سندھ کی نمائندگی کے دعویدار انتظامی یونٹس جیسے اہم موضوع پر کوئی منطقی، مدلل اور متفقہ موقف دینے میں ناکام رہے ہیں۔سندھ اسمبلی میں بیشتر نمائندوں کی تقاریر مخالفین اورصحافتی حلقوں میں مضحکہ کا باعث بنی ہیں: ترجمان
سندھ اسمبلی کے فلور پر نئی اکائیوں کی تشکیل کی حمایت اورمخالفت میں کی جانے والی تقاریر کا نہ توحقیقی تاریخ سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی زمینی حقائق سے کوئی نسبت۔ سندھ حکومت اور حزب اختلاف اس اہم ترین عوامی مطالبہ پرپوائنٹ اسکورنگ میں مصروف رہیں: ترجمان
وائس آف کراچی کے گریٹر کراچی اور ملک بھر میں انتظامی اکائیوں کی تشکیل کا منصوبہ واضح اور دو ٹوک ہے جس میں صرف پاکستانیت کے فروغ، لسانی صوبوں کاخاتمہ،ضرورت و آبادی کی بنیاد پر ملک بھر میں انتظامی اکائیوں کی تشکیل، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اس پر کلی مقامی اختیار شامل ہے: ترجمان
ہر انتظامی یونٹ کو اپنے وسائل، پالیسیوں اور داخلی امور کے تمام شعبوں بشمول ان شعبوں پر جو خصوصی طور پر وفاق کے انتظام میں درج نہیں ہیں کامل اختیار حاصل ہوگا۔ وائس آف کراچی ملک بھر میں انتظامی اکائیوں کے انتظام اور مجوزہ دستور کے اہم نکات کو آٹھ برس پیشتر جاری کرچکی ہے: ترجمان