03/12/2019
وَاعتَصِمُو بِحَبلِ اللّٰہِ
اَللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو
وَ نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِن حَبلِ الوَرِید
اور ہم تو تمہاری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ھیں.
دونوں آیات میں ایک ھی لفظ
" حَبل " موجود ھے
اَللّٰہ کی رسی کیا ھے؟ اگر اس سوال کے جواب میں مختلف تفسیر و تشریح سامنے آئے تو
دوسری آیت مبارکہ میں موجود اسی " حَبل " کو دیکھ لیجئے
مختصر یہ کہ یہی سانس ھے جسے اولیاء کرام نے مختلف استعاروں میں واضح کیا ھے کہ انسان کسی بھی سانس کو ذاتِ حق کی یاد سے غافل نہ جانے دے
کہیں پہ اسے چرخہ کہا گیا ھے
کہیں کہیں اسے " پُریم " کہا گیا ھے
مقصودِ کلام سانس ھی ھے
جیسے قرآن مجید میں ارشاد ہوا !
پس جب تم نماز ادا کر چکو تو کھڑے بیٹھے حتیٰ کہ کروٹ کے بل لیٹے ہوئے بھی اس ذات کو یاد کرو یاد رکھو
دن رات کے چوبیس گھنٹوں کے دوران انسان کی یہی تین حالتیں ھوتی ھیں
یا تو وہ کھڑا ھے یا پھر بیٹھا ھوا ھے اور پھر یا کہیں لیٹا ھوا ھے مگر ان تینوں حالتوں میں اسکی زبان کہیں نہ کہیں مصروف رہ سکتی ھے مگر سانس بھی تو چلتی رھتی ھے
ہاں البتہ سوتے ھوئے زبان کجا اسکا پورا سالم وجود بے حس بے حرکت لیٹا ھوا رھتا ھے مگر رب العزت نے بعد از نماز اس لیٹنے کی حالت میں بھی چلتی ھوئی سانس کو اپنی یاد میں جاری رکھنے کا حکم دیا ھے
جو دَم غافل سو دَم کافر
سانوں مُرشد (حضور علیہ السلام) ایہہ فرمایا ھُو
سُنیا سُخن گئیاں کھل اکھیں
اساں چِت ( دل ) مولا وَل لایا ھُو.
کیونکہ چلتی ھوئی اس سانس یعنی اَللّٰہ کی رسی کا ایک سرا انسان کی شہہ رگ میں ھے جبکہ دوسرا سرا اسی انسان کے سینے میں روح کے لطیف اور پاکیزہ پردوں میں پوشیدہ ھے
جبھی تو فرمایا !
وَفِی اَنفُسِکُم اَفَلَا تُبصِرُون
اور میں تو تمہارے اَنفَس تمہاری سانسوں میں ھوں
کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟
سینے وچ مقام ھے کس دا
مُرشد ایہہ گل سمجھائی ھُو
ایہو ساہ جو آوے جاوے
ھور نہیں شے کائی ھُو
اس نوں اسم الاعظم آکھن
ایہو سِرِّ الٰہی ھُو
ایہو موت حیاتی حضرت باھو
ایہو بھید الٰہی ھُو.
وَاذۡکُر رَبَّکَ فِی نَفسِکَ تَضَرُّعًاوَّ خِیفَۃً وَدُونَ الجَہرِ مِنَ الۡقَولِ بِالۡغُدُوِّ وَالۡآصَال، وَلَا تَکُن مِّنَ الغَافِلِین.
( اور اپنے رب کو یاد کرو سانسوں میں عاجزی کیساتھ خفیہ طریقے سے بغیر آواز نکالے، اور غافلین میں سے مت بنو)
اپنی سانسوں کو یادِ حق سے خالی گذار دینے کو ھی غفلت سے تعبیر کیا گیا ھے.