TopList 02

TopList 02 ''The Success Which You Search For Whole Life Call You'' ''''' Five Time A Day''''

The Success Which You Search For Whole Life Call You'' ''''' Five Time A Day''''

03/30/2022

Tesla

06/25/2019

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ھیں کہ جب یہ حکم آیا کہ "اللہ تعالیٰ کے اولیا پہ کوئی غم و حزن نہیں" تو کریم آقا ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی گئی کہ ((قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ ؟)) کہ اولیا اللہ کون ھیں؟ تو میرے آقا کریم ﷺ نے فرمایا:
((قَالَ : " أولياء الله تعالى ، الذين إذا رؤوا ذكر الله تعالى ))
کہ اولیا اللہ وہ ھیں جب تم ان کے چہروں کو دیکھو گے تو تمھیں اللہ تعالیٰ یاد آجائے گا ۔
ایک بات بزرگوں سے سُنی ھے کہ "بیٹا، ھمیشہ مرشد اور محبوب خوبصورت چننا"۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا کرم فرمایا کہ ھم نے کسی کو کیا چننا تھا نورانی چہرے والے حسین روئے زیبا والے نور کی چمکیں مارتی پیشانی والے لجپال مرشد نے ھمیں چن لیا ۔ ھم وہ خوش نصیب ھیں جن کا مرشد ان کا محبوب ھے ۔
ایسا مرشد جس کا راستہ بالتحقیق عین بعین قرآن و سنت کا راستہ ھے جس کی ذاتِ گرامی سنتِ نبوی ﷺ کا اعلیٰ ترین نمونہ ھے جس کی دعوت اللہ کی طرف، جس کا درس قرآن پاک، جس کا راستہ شریعتِ مطھرہ، جس کی نگاہ صفائے دل پہ، جس کی تلقین دلنوازی پہ ھے اور جو ھمیں اس اخلاق کی تلقین کرتا ھے جو اللہ کے حبیب ﷺ نے اپنانے کا حکم کیا ۔
اے اختیار اور جلال والے میرے کریم اللہ ۔ ھماری زندگیاں بھی اس ھستی کامل کو لگا دے جو دنیا کے کونے کونے میں تیرے دین کی سربلندی کی جد و جھد فرما رھے ھیں ۔ اے میرے خالق و مالک، ھمیں توفیق عطا فرما کہ تیرے اس محبوب بندے کی جد جھد میں اور مشن میں اس کے معاون بن سکیں کہ تیرا ارشاد ھے "کونوا انصار اللہ" کہ اللہ کے مدد گار بن جاؤ، تو بے نیاز ھے ھم عاجز ناکارے اور تیری مدد؟ یہ بھلا کیسے ممکن ھے؟
اس کا راستہ بھی تونے بتا دیا کہ تیرے ولیوں کے نقشِ قدم پہ چل پڑیں اور تیری راہ کی طرف تیری مخلوق کو بلائیں اسی پہ تو راضی ھوتا ھے۔
الحمد للہ ۔ کہ ایسی ھستی کا دامن نصیب ھوا جس کا چہرہ انور اللہ تعالیٰ کی رحمت و انوار کی واضح دلیل ھے۔
((إذا رؤوا ذكر الله)) جب اسے دیکھو گے تو تمھیں اللہ یاد آ جائے گا۔
جن کی ھر ھر ادا، سنتِ مصطفےٰ
ایسے پیرِ طریقت پہ لاکھوں سلام
(حدیث پاک بحوالہ نوادر الاصول فی احادیث الرسول للترمذی، تفسیر ابن کثیر/طبری/در منثور)

مُرشدِ ما و قائدِ ما سرپرست اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین حضور حضرت سُلطان سخی محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس

www.SultanBahoo.net

www.alfaqr.net

www.alfaqr.tv
www.mirrat.com

05/01/2019

عشق مجازی اور اسکی تباہی

گیس کے غبارے کو صرف دھاگے سے باندھ کر بچے بھاگ بھاگ اُڑاتےہیں۔ ہاتھ سے چھوٹنے کی غلطی اسے آسمانوں کی طرف اُڑانیں بھرنےمیں آزادی کے سفر پر گامزن کر دیتی ہے۔ کھونے کا درد اور تکلیف چہرے کے فق رنگ کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار چیخنے تک لے جاتی ہے۔بڑے بچوں کو غباروں کی آزادی پر پہرے بٹھانے کے لئے تراکیب سمجھاتے ۔ کھڑکی ،کلائی سے باندھ رکھو۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو کھلے میدان میں پڑے کسی چھوٹے پتھر سے باندھ لو ہوا کے جھولے میں جھولتا رہے گا۔جوں جوں گیس بھرے غبارے سائز میں بڑے اور تعداد میں بڑھتے جائیں۔ایسے پتھر کا استعمال شروع ہو جاتا ہے جو زمین سے اُٹھنے کی بجائے اپنی طرف کھینچنے کی طاقت زیادہ رکھتا ہے۔ دھاگہ بھی ایسا استعمال میں لایا جاتا ہے جو انہیں ایک دوسرے سے اس کھینچا تانی میں الگ ہونے سے بچاتا رہے۔
زندگی بھی اسی اصول پر سدا کاربند رہتی ہے۔خیر اور شر کی قوتیں اسی فارمولہ پر کھینچا تانی میں مصروف عمل رہتی ہیں۔جسم ایک دھاگہ کی مانند ان کے درمیان رسہ کشی میں الگ ہونے سے بچانے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ روح جب آزادی کی طلب میں آسمانوں کی طرف پرواز کا قصد کرتی ہےتو دنیاوی خواہشات ،محرومیوں،مجبوریوں اور ضرورتوں کے پتھروں سے جسم کو مضبوطی سے جکڑ لیتی ہیں۔ روح آزادی کی تڑپ میں بے بسی کی رسی سے لٹکی جھولتی رہتی ہے۔تاوقتکہ کوئی ان پتھروں سے انہیں آزادی نہ دلا دے ۔
پتھروں کی پہچان کے لئے سنگتراش ہونا ضروری نہیں۔ سائز دیکھ کر ہی وزن اور طاقت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ خواہشات اور ضرورتیں جتنی زیادہ ہوں گی زمین کی گرفت بھی اتنی زیادہ ہو گی۔ روح بیچاری اپنے زور پر آسمانوں کی طرف محو پرواز ہوتی ہے۔جس کی قوت بندشوں سے زیادہ آزادی کی تڑپ ہوتی ہے۔جس کے لئے شدت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو اسے دنیاوی خواہشات کی فنا سے حاصل ہوتی ہے۔اگر اس فنا کو زندگی کا حاصل سمجھ لیا جائےتو روح کی بقا کے سفر کو روکا نہیں جا سکتا۔
جسم بھوک اور ہوس کے دائرے میں رقصاں رہتا ہے۔یہ مکڑی کی طرح ایسا جال بنتا ہے کہ اس کی خوبصورتی کے فریب میں زندگی کا مقصد فنا ہو جاتا ہے۔ روح کے لمس کے سفر پر فاصلوں کا اندازہ وقت اور رفتار سے جانچ کر رکھنا ضروری ہے۔جنہیں علم کی تشنگی ہے وہ عالم سے رجوع کریں۔ بھوک رکھنے والے آگ سے ،ہوس و حرص کے پجاری حسن و جمال سے۔
مگر جنہیں درِ کائنات تک پہنچنا ہوتا ہے وہ دستک سے آنے کی اطلاع دیتے ہیں۔وہاں تک پہنچنے میں خیر و شر کی عظیم کشمکش سے گزرنا پڑتا ہے۔جسم حیلے بہانےسے ضرورتوں مجبوریوں ان کہی کہانیوںمحرومیوں نا انصافیوں کےرونے دھونے سے لمس خیال کو عشق حقیقی میں پرونے سے روکتا ہے۔جن کی آنکھیں کھلی ہیں ان کا صرف یہ جہاں کھلا ہے۔ جن کی بند آنکھ کھلی ہے ان کے لئے ایک الگ جہاں بھی کھلا ہے۔جن کا لفظ احاطہ نہیں کر سکتے۔
جنہیں اس سفر پر چلنا ہوتا ہے وہ لفظ کی حرمت کو لمس سے محسوس کرتے ہیں۔جو آنکھوں سے آنسو بہا دے۔جسم چیخنے اور چنگھاڑنے کی تسکین طلب رکھتا ہو۔تو سمجھ لو کہ وقت کا پہیہ رک نہیں سکتا۔جسم خواہشات کے وزن سے زمین سے چپک جائے مگر روح کو آزادی کے لمس سے زیادہ دیر تک دور نہیں رکھا جا سکتا۔ تقریریں اور تحریریں کتابوں کا لمس رکھتی ہیں۔جن سےسوالات کا دھواں اُٹھتا ہے۔جوابات کا پانی کہیں اور سے بادل بن اُڑتا ہے۔ خشک دھرتی کی بے چینی کو بس بادل سمجھتا ہے۔
درِ دنیا کے سوالی تو بہت مگر درِ کائنات کےنہیں جو درِ اثر سے گزریں۔ جس کے نشے کی لت کا شکار جو ایک بار ہو گیا تو احساسِ لمس کی پریاں بادِ صبا کے جھونکوں کی طرح سحر میں مبتلا کر دیں گی۔ مگریہاں تک کا سفر اتنا آسان نہیں۔کیونکہ یہ داستانِ عشق ہے۔اور یہ عشق ہر ایک کسی کے نصیب کا مقدر نہیں۔
پروانہ شمع سے جلے الزام تمازتِ آفتاب پہ ہو
عشقِ وفا کہاں جوچاہتِ محبوب وصلِ بیتاب پہ ہو
زندگی کو تماشا نہ بناؤ تماشا خود زندگی ہو جائے
درد کا چیخِ مسکن خوشیِ القاب پہ ہو
تختِ عرش کو دوام رہتا جو ہوا میں ہے
فرشِ محل نہیں پائیدار قائم جو بنیادِ آب پہ ہو
گل گلزار سے تو مہک بہار سے ہے وابستہ
اُگتا ہے صرف خار ہی بستا جو سراب پہ ہو
شاہِ زماں سے دل گرفتہ رہتے جو معظمِ ہمراز
دلگیرئ فقیر میں سدا رنگ تابانئ مہتاب پہ ہو

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2277671655832725&id=1501748056758426

04/30/2019

آجکے انسان نے درخت سے پکے ہوئے سیب کو گِرتے دیکھا تو اس گِرنے نے اُس انسان کی فکری پرواز کو شہہ دیتے ہوئے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر سپیس میں کسی آسرے پر اٹکی ہوئی شئے سے اُسکا آسرا چھین لیا جائے تو وہ نیچے کیوں گِرتی ہے ، غور و فکر کی زمین پر ایک ننھا سا پودا ایک اصول کی شکل میں نمودار ہوا کہ یہ کششِ ثقل ہے ، اور اس اصول کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ زمین اپنے اندر یہ Gravity رکھتی ہے
اور یہ بھی ایک الگ مگر دلچسپ بحث ہے کہ پھل جب تک پک نہیں گیا نیچے نہیں گِرا کچا ہوتا تب گِرتا تو حیوانات اور حشرات الارض کی خوراک بنتا ، پک کر گِرنے کا مقصد اشرف المخلوقات کے کام آنا ہے اس میں بھی انسان کے لئے ایک سبق ہے ،
اِسی کششِ ثقل کو اگر آپ عِلمِ روحانیت کی روشنی میں دیکھیں تو
چودہ سو سال پہلے حضور آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا تھا کہ

• کُلُّ شَئِِ یَرجِعُ اِلٰی اَصلِہِ •

ہر شے اپنے اصل کی طرف لوٹ جانے والی ہے ، اپنے مرکز سے مل جانے والی ہے ، ہر جُز اپنے کُلّ سے مُتصلّ ہو جانے کے لئے ہے ،
یہ حدیثِ نبوی علیہ الصلوۃ والسلام جہاں دنیا کی بے ثباتی ، اِسکی ناپائیداری کی خبر دے رہی ہے ، وہیں دینِ حنیف کے آفاقی سلوگن کی گونج بھی سنا رہی ہے کہ ۔۔۔

فَفِرُّو اِلَی اللّٰہ •

فرار ہو جاؤ اللّٰہ کی طرف

انسان جبتک حیات ہے اپنے روحانی اور جسمانی دونوں اجسام کے ساتھ زمین کے اوپر ہے
حیات کا دورانیہ مکمل ہو جانے کے بعد روحانی اور جسمانی اعتبار سے اپنے مکان بدل لیتا ہے کہ بعد از وفات جسم جو کہ اپنی جُزوی حیثیت میں خاک تھا سپردِ خاک ہو کر اپنی کُلی حیثیت پا گیا ، اور روح اپنی تعلیم و تعمیل کے ثواب کے طور پر کسی اور جہان میں منتقل ہو جاتی ہے،
یوں ہر شے اپنے اصل سے مل جاتی ہے ۔۔
لیکن مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کے لئے
یعنی مُوتُو قَبلَ اَن تَمُوتُو
مرنے سے پہلے مر جانے کے لئے اِس قسم کے اخبار و آثار کا واضح کیا جانا جیتے جی روح کو اُسکے اصل کی انرجی سے آگاہ کرنا ہے
اور روحانی لحاظ سے اِسی گریویٹی کو عشق کہا گیا ہے یہی تو ہے جس جذبے کو روحِ مُحمدی علیہ الصلوۃ والسلام کی موجودگی کی دلیل کے طور پر لیا گیا ہے ،
کہ ہر اصول اپنی کسی نہ کسی اصل کا استعارہ ہوتا ہے ۔۔

https://www.facebook.com/1501748056758426/posts/2277031115896779/

04/28/2019

ایک مداری گلا پھاڑ پھاڑ کر گھنٹوں تک کسی غیر مرئی شے کو فروخت کرنے کیلئے زمین آسمان کے قلابے ملانے کا فن رکھتا ھے
اُسی شے کی اس قدر شان بیان کرتا ھے کہ پاس سے گزرنے والا راہی ایک جملہ سنتے ہی اپنی مصروفیت تمام کام کاج چھوڑ کر اس شے کو دیکھنے یا جو سُنا ھے اُسے ویسا ہی دیکھنے کے انتظار میں مداری کی ہر اچھی بری ہضم کرتا ھے ۔۔
مبینہ اہمیت کی حامل شے چاہے کچھ بھی نکلے لیکن مداری ایک دفعہ اپنی مرضی کا ماحول پیدا کرنے اور عوام کو اپنی جانب مائل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ھے ،
اب مائل کرنے کیبعد اگلا مرحلہ ہوتا ھے تماشائیوں کی جیب میں موجود پیسے اپنی جیب میں کیسے منتقل کرنے ہیں ؟
اسکے لئے مداری دیکھنے اور سننے والوں کو مائل کرنے کیبعد خریدنے پر قائل کرتا ھے ،
مداری کا مقصد تماشائیوں کو سائل بنانا ہوتا ھے ، ساتھ ہی ساتھ وہ خود اپنی روزی روٹی کیلئے سائلین کی جیبوں میں موجود رقم کا اندر ہی اندر پہلے خود سائل بنتا ھے ، وہ جبتک خود سائل نہ بنے اُسے اتنے پاپڑ بیلنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟

اُسکی باتوں میں مہارت کا یہی عروج ہوتا ھے کہ وہ جو شے بیچنا چاہتا ھے اُسے دکھائے بغیر ، منظرِ عام پر لائے بغیر تماشائیوں کے دل و دماغ میں اس شے کی طلب کوٹ کوٹ کر بھر دے ،
اور انسانی فطرت ہے کہ انسان کو کسی بھی شے کو دکھائے بغیر اُسکی اہمیت بتاتے جائیں سننے والا ان دیکھی چیز کا دیکھی ہوئی چیز سے زیادہ قدر دان ہوتا ھے ۔۔
یہی مداری کے روزگار کی خوبی ھے ۔۔۔

اب یہ تو ایک مداری تھا جو فقط پیٹ کا دوزخ بجھانے کیلئے الفاظ پر مبنی کتنا خوبصورت جنّت کا محل کھڑا کر دیتا ھے ، اور تماشائیوں کو اُسی محل میں قید بھی کر دیتا ھے ۔۔

اب زرا اُس شخص کو دیکھئے !

کہ جو لوگوں کو اللّٰہ پاک کا طالب بنانے کیلئے پہلی ہی فرصت میں یعنی بغیر شوق پیدا کئے بغیر طلب پیدا کئے اسمِ ذات کھول کر دکھا دیتا ھے اور یوں اپنے ہاتھوں نوزائیدہ جزبے کا گلا گھونٹ دیتا ھے ۔۔

بھئی مان لیا کہ اسمِ اعظم کا ذکر عام کر دیا گیا ہے مادیت کی بڑھتی ہوئی آنکھوں کو خیرہ کرتی چکا چوند کے مقابل روحانیت کو بھی عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانے کے ذرائع تیزی کیساتھ مامور کر دئیے گئے ہیں اِسکی تقسیم اِسکی اجازت اور اسکا حصول پہلے زمانوں کی نسبت بہت آسان کر دیا گیا ہے ۔۔

لیکن ایک بات یاد رکھئے ! انتہائی نادر و نایاب دھات سونا اس لئے نادر و نایاب ہے کہ اِسکی پیداوار کی قلّت ہی اِسکے مہنگا ترین ہونے کا سبب ہے ،
عام آدمی کی پہنچ میں جس قدر آسان ہوتا جائیگا اُسی قدر سستا ہوتا جائیگا ،
آپ صُبح سے لیکر رات تک جو کچھ کھاتے ہیں ان تمام چیزوں میں نمک سب سے سستا ترین اس لئے ہے کہ اُسکی پیداوار دیگر تمام چیزوں سے آسان اور مقدار میں زیادہ ہے ۔۔

بِن مانگے ملے ہِیرا
مانگے ملے نہ بھیک

• وَمَاقَدَرُاللّٰہَ حَقَّ قَدرِہِ •

اللّٰہ کی قدر کرو جیسا کہ اُسکی قدر کرنیکا حق ہے ۔۔

القران ۔۔۔۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2275814176018473&id=1501748056758426

04/18/2019

مَسجد تو بنا دی شب بھر میں اِیماں کی حرارت والوں نے
مَن اپنا پُرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا
علامہ محمد اقبال

(بانگِ درا)

04/18/2019

حقیقت کیا ہے؟
ابھی میڈیکل کالج کے دوسرے سال کا شروع ہی تھا طبیعت میں عجیب قسم کی ہلچل اور بوجھل محسوس ہوتی تھی ۔ تھوڑا سا چلتا تو تھک جاتا اور سانس پھول جاتی ۔۔پڑھتے پڑھتے سر پھٹنے لگتا ۔۔۔ ابو اس بار چھٹی آئے تو آپی انایا نے ابو کو میری ساری صورتِ حال بتائی۔۔ ابو چیک اپ کیلئے لے گئے ۔۔
پتہ چلا کہ کینسر ھے اور وہ بھی آخری سٹیج پہ ۔۔میری ذات تو حیران تھی ۔۔ابو شاید فوجی تھے اس لئے برداشت کر گئے ہوں گے ۔۔
انایا وہی بزدل عورت ٹھہری ۔۔چپ سادھ لی اس نے۔۔کوئی بلاتا تو بولتی تک نہ تھی ۔۔ ہر وقت عجیب حال میں رہنے لگی ۔۔ آج ایک دم ابو سے لڑ پڑی تھی ۔۔
" بابا آپ خود تو ساری زندگی ہم سے دور رہے۔۔ آپ کیلئے وطن اہم تھا ،، ہماری عیدیں ۔۔ہماری خوشیاں ۔۔سب آپ کے بنا ہی گزرا ھے ۔۔۔ لیکن ہمارے پاس ایک رونق تھی ۔۔عبداللہ ۔۔۔ اسے بھی چھین رہے ہم سے ۔۔ بابا پلیز کہیں کہ یہ سب جھوٹ ھے ۔۔عبداللہ کو کچھ نہیں ھے ۔۔ بابا پلیز کہہ دیں نا !!!
آج پہلی دفعہ میں نے ابو کو بے بس روتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔
امی سارا سارا دن میرے سراہنے بیٹھی رہتیں ۔۔ نہ کچھ بولتی ۔۔ بس خاموشی سے میرے چہرے کو تکتی رہتیں ۔۔ اور عجیب طریقے سے چھت کو گھورتے رہتیں ۔۔۔
آج چوتھا دن تھا میں کالج نہیں گیا تھا ۔۔
امر نے کال کی تھی ۔ کیونکہ اس کے مسیج کے رپلائی نہیں کر پا رہا تھا ۔۔
عبداللہ آپ کالج کیوں نہیں آرہے ؟؟؟
بس امر طبیعت ٹھیک نہیں ۔۔۔
کیا ہوا طبیعت کو ؟؟؟
بس!!!!!
عبداللہ آپ بول کیوں نہیں رہے ؟؟؟ اور یہ رو کیوں رہے ہیں ؟؟
کیا ہوا ہے مجھے بتائیں ؟؟؟
امر !!! اب میں کالج کبھی نہیں آپاؤں گا ۔۔۔
کیا مطلب عبداللہ ؟؟؟
سن کے بولا ۔۔ میں ابھی آپ کے پاس آتا ہوں ۔۔ ڈاکڑز کو غلطی فہمی ہوئی ھے ۔۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا ۔۔ اور عصر کے وقت وہ آئے تھے ۔۔۔ اس کے آنے سے وہی ہوسٹل والا ماحول بن گیا تھا ۔۔ وہ میرے پاس ہی سو گیا ۔۔ شام کو جانے لگا تو آپی نے اسے روکنا چاہا لیکن کل فزیو کا ٹسٹ تھا نا۔۔۔ اس لئے وہ چلے گئے تھے ۔۔۔
شام کو امر نے کلاس گروپ میں میرا بتا دیا۔۔
تبھی تو عیشا کی اتنی کالز آرہی تھیں ۔۔ مجھ میں ہمت نہ تھی کیونکہ اس نے لڑ پڑنا ھے ۔۔ اس کے میسج کے رپلائی کیوں نہیں کئے ۔۔
عبداللہ یہ کیا ھے ؟؟ وہ آج لڑ نہیں رہی تھی ۔۔ وہ تو کبھی بھی مجھ سے نہ لڑی تھی ۔۔ لیکن آج ڈر تھا۔۔ وہ آج رو رہی تھی ۔۔ ایسے مذاق نہ کیا کریں ۔۔۔ میری جان نکل جاتی ھے ۔۔
عبداللہ مجھے سچ سچ بتائیں ہوا کیا ھے ؟؟
عیشا ۔۔ پتہ نہیں یہ کیا ہو گیا ؟؟ مجھے رونا آگیا ۔۔
عبداللہ آپ کو کچھ ہو ہی نہیں سکتا ۔۔ میں نے ہر لمحمہ آپ کی سلامتی کی دعائیں مانگی ہیں ۔۔ جب بھی میرے ہاتھ اٹھے اس میں آپ کی خیروعافیت لازمی مانگی ۔۔
عبداللہ مجھے آپ کے پاس آنا ھے ۔۔ میرا دل بیٹھ رہا ھے۔۔
آپ ذرا ایک بھی پریشان نہ ہوں۔۔
اور دوسرےدن وہ آئی تھیں ۔۔
ناک سرخ ۔۔ آنکھیں سوجھی ہوئی ۔۔ اور میری پسند کی ساری چیزیں لائی تھیں ۔۔
عبداللہ یہ کیا حال بنا لیا ھے ؟؟ شاباش اٹھیں آپ ۔۔
مجھے سہارا دے کے بٹھایا تھا ۔۔
پھر وہی جگتیں ، ساری باتیں ۔۔ جوک ۔۔ وہی جن پہ ذبردستی ہنسنا پڑتا تھا۔۔ بیماری بھول گئی تھی ایک دفعہ ۔۔لیکن وہ چلی گئیں ۔۔ہوسٹل وارڈن کی کال آگئی تھی ۔۔
وہ کہہ کے گئی تھیں کہ وہ پھر آئیں گے ۔۔
اب لوگوں کے بھی مسیج آ رہے تھے ان لوگوں کے بھی جو مجھے بلانا تک گوارا نہ کرتے تھے
کوئی معافی مانگ رہا تھا تو کوئی نیک دعائیں ۔۔ وہی فارمل سی باتیں ۔۔
سب ایسے دعائیں دے رہے جیسے ایک مسافر لمبے سفر پہ نکل رہا ہو
سب لوگوںکا رویہ میرے سسے مہمان جیسا ہو گیا تھا اور میں واقعی خود کو سفر میں محسوس کرنے لگا جو ایک انجان منزل کی طرف گامزن تھا۔۔
سوچ رہا تھا کہ یہ بیماری بھی ایک نعت ہی ھے ۔۔ ساری دینا کو میرے لئے اچھا کر دیا ۔۔ میں خوشامدیں کر کر کے ، اپنی وفائیں لٹا لٹا کے ، عزتیں کر کر کے تھک گیا تھا ۔۔ لیکن لوگوں کی انائیں تھیں کہ ختم ہی نہ ہوتی تھیں ۔۔
شاید ان اناؤں کے ختم کرنے کیلئے میرا بیمار ہونا ضروری تھا ۔۔
سب کو یقین ہو گیا تھا ۔۔کہ اب بس !!! جانے والا ھے ۔۔ اس کو مقام دے ہی دو، اس نے جب رہنا ہی نہیں ھے ۔۔ لہذا اس کے ساتھ مقابلے چھوڑو ۔۔ دو پل اچھے سے گزار دو ۔۔ اینڈ اچھی کردو ۔۔ دئیے پچھلے سارے درد بھول جائے گا ۔۔
ہاں وہ عیشا جب میں کوئی اس کا کام کرتا تھا تو پیار نچھاور کرتی تھی ، لیکن اب تو لمحمہ لمحمہ میرے لئے میسر تھی ۔۔۔
سوچ رہا تھا کاش تمُ لوگ تندرستوں کے ساتھ اتنے پیار سے پیش آتے ۔۔نفرتوں کو ختم کرکے ، اناؤں کو مٹا کے رہتے تو شاید کوئی بیماریوں میں مبتلا ہوتا ہی نہ ۔۔
اسی سوچ میں آج آنکھ لگ گئی آدھی رات کو کھلی ، سسکیوں کی آوازوں کو سنا ۔۔ انایا میرے بیڈ کے قریب مصلہ بچھائے رو کے دعاؤں میں مصروف تھی۔۔ وہ سمجھ رہی تھی شاید میں سویا ہوں ۔۔
کہہ رہی تھی
یااللہ جی اس کے بنا نہیں جی سکتے ہم
یااللہ اپنی رحمت فرما ئیں ۔۔ یا اللہ ان کے سارے درد مجھے دے دیں ۔۔ ان کی بیماری مجھے دے دیجیے ۔۔ وہ اتنے درر نہیں برداشت کر سکتا ۔۔ میری جاں کا صدقہ ھے ان کو ٹھیک کردیں ۔۔
دل پھٹ رہا تھا ۔۔ وہ رشتہ جسے میں نے کبھی اہمیت ہی نہ دی ۔۔ ہاں یہ سچ ھے جس اہمیت اور عزت کی وہ حق دار تھی۔۔وہ کبھی نہ دی ۔۔ میں نے تو کبھی صحیح منہ سے بلایا بھی کبھی نہ تھا۔۔
سوچ رہا تھا کچھ لوگ جان دینے کے دعوے کرتے ہیں اور اب سکون سے سو رہے ہوں گے ۔ اور کچھ لوگ پوری زندگی یوں خاموشی سے بنا کسی صلے کے محبت کرتے ہیں اور آج جان تک پیش کر رہے ہیں ۔۔
شام کو اچانک میری بے چینی بڑھ گئی ۔۔پورا جسم پسینے سے شرابور تھا ۔۔جیسے سفر کا اختتام ہونے والا ہو ۔۔ اماں بے چینی سے بھاگ رہی تھیں ۔۔پھر ایک دم سے خود کو اپنے وجود سے نکلتا ہوا محسوس کیا ، جیسے ہوا میں اڑ رہا ہوں ۔۔
میری روح میرے وجود سے آزاد ہوگی تھی۔۔ اور فضا میں معلق تھی۔۔اور اپنے بے حس وحرکت وجود کو دیکھ سکتی تھی۔۔
میرے وجود سے لپٹی انایا ۔۔ گم سم حیرت میں ڈوبی اماں ۔۔پتہ نہین رو کیوں نہیں رہی تھیں ۔۔ ابو تو سب کے سامنے رو رہے تھے۔۔
سب رشتے دار اکٹھے ۔۔میری روح حیراں تھی کہ وہ لوگ بھی آئےہیں جن کو کبھی اپنے در پہ نہ دیکھا تھا۔۔ روٹھے رشتے بھی ۔۔ مصروف سے مصروف تر لوگ بھی ۔۔جن کے پاس ایک منٹ نہ تھا کیسے آج میرے جنازے کے انتظار میں بیٹھے تھے ۔
آج میری روح فضاؤں میں معلق تھی ۔۔ آج تو اسے لوگوں کی سوچوں تک رسائی دے دی گئی تھی ۔۔
امر کو جب میری موت کی خبر ملی وہ کرکٹ کھیل رہا تھا ۔۔ اس کی آنکھیں نم ہوگئ تھیں ۔ سوچ میں پڑ گیا تھا کہ جاؤں یا نہ جاؤں ؟؟ عبداللہ تو اب رہا نہیں
نہیں امر !! میں ہوں نہ ہوں ۔۔ میرا وجود تو پڑھا ھے نا ۔۔ آپ کو جانا ہوگا ۔۔ مجھے آخری بار دیکھنے نہیں جاؤ گے ۔۔؟؟
امر آپ کا اور میرا تعلق تو دوسروں سے ہٹ کے تھا نا ۔۔
امر اٹھیں ۔۔میری روح اسے جھنجھوڑرہی تھی ۔۔میرے تین سال کے تعلق کا اتنا تو حق ھے کہ امر آپ جاؤ ۔۔ میرے جنازے میں ۔۔آپ ایسے کیسےکر سکتے ہیں آپ بھول نہیں سکتے وہ ہمارا شام کو کالج کی سڑکوں پہ پھرنا ۔۔وہ ہوسٹل کی شوخیاں ۔۔ لیکن امر نہ گیا ۔۔ہاں ایک بات اس نے میرے لئے میچ چھوڑدیا تھا۔۔
لیکن خیر ھے ۔۔ امر نہیں تو ۔۔ ایک اور ھے ۔۔ جس کیلئے میں لمحمہ لمحمہ میسر رہا تھا ۔۔ وہ عیشا تو ضرور آئے گئ ۔۔ میری روح جب بھٹکتی ہوئی اس کے پاس پہنچی ۔۔شاید عیشا کو میری موت کی خبر مل چکی تھی ۔۔ تبھی تو آنکھیں سوجھی تھیں ۔۔ ناک سرخ ۔۔ ہوسٹل کی چھت پہ آکے تنھا بیٹھی تھی ۔۔ آسمان کو گھورتے ہوئے روتے ہوئے کہہ رہی تھی " عبداللہ آپ نے اچھا ذرا بھی نہیں کیا ۔۔ آپ کو پتہ تھا کہ میرا اور کوئی نہ تھا ۔۔ پورے کالج میں آپ میرے اکلوتے تھے ۔۔
اب میرے پہ نماز کیلئے سختی کون کرے گا ؟؟
کون مجھے ڈانٹے گا جب ابایا کے بنا کالج آوں گی ؟؟
عبداللہ بتائیں مجھے ؟؟ میرے پریشان ہونے پہ مجھے جوک کون سناۓ گا ۔۔۔ کس کے سہارے مجھے چھوڑ کے چلے گئے ہیں ؟؟
رو رو کے جب تھک گئ عیشا تو روم جانے لگی۔۔
نہیں عیشا !! آپ تو جائیں گے ۔۔ میرا وجود اکیلاھے ۔۔ امی کو حوصلہ دینے تو چلی جائیں ۔ انایا کو تھامنے چلی جائیں ۔۔ وہ بچاری تو رونا بھول بیٹھی ھے
عیشا کیا ہمارا تعلق صرف سانسوں سے جڑا تھا ۔۔ آپ کا اور میراتعلق تو روح کی گہرائیوں تک موجود تھا ۔۔آخری بار میری سلامتی کی دعا کرنے آپ کو تو جانا ہو گا ۔۔لیکن عیشا بھی جاکےسو گئی۔۔بڑے بڑے دعوے دار آج آزمائے جا رہے تھے ۔۔
آج پانچواں دن تھا میری روح کو یوں بھٹکتے ۔۔ان پانج ہی دنوں میں مجھ پہ یہ حقیقت واضح ہو گئی تھی ۔۔ دنیا کے وہ کام جن کو اپنے وجود کے بنا ناممکن سمجھتا ،سب ویسے کے ویسے ہو رہے تھے ۔۔
کچھ دن تو لوگ مجھے یاد کرتے رہے ۔۔امر تو دو دن کالج بھی نہ آیا تھا ۔۔ کافی پریشان رہا ۔ اس کی دعاؤں میں بھی اکثر میرا ذکر ہوتا تھا ۔۔لیکن اب تو وہ گھل مل رہا تھا سب لوگوں میں۔۔ پھر وہ وقت آیا وہ بھی مجھے کبھی کبھی یاد کرنے لگا ۔۔ خاص موقعوں پہ ۔۔ اس نے روم بھی تبدیل کر لیا تھا ۔۔ میری پینٹنگز بھی اتار کے اپنے نئے روم میں نہ لے کے گیا ۔۔وہ تو کہتا تھا آپ نہ ہوتے تو میرا کالج میں دل ہی نہیں لگنا تھا اب کیسے دل لگا لیا تھا اس نے ؟؟
اور وہ عیشا کچھ دن تو اداس رہی تھی ۔۔ تنھائی میں مجھے یاد کرکے روتی بھی تھی ۔۔ کچھ دن تو میری روح کی سلامتی کی بہت دعائیں مانگی انھوں نے ۔۔
لیکن آہستہ آہستہ میرا ذکر اس کی دعاؤں سے جا رہا تھا ۔۔
اور کچھ دنوں میں تو میری روح یہ محسوس کر رہی تھی ، کہ جیسے کوئی کمی بھی نہیں ہوئی ان کی دنیا میں میرے چلے جانے سے ۔۔۔
شروع شروع میں تو باقی کلاس فیلو میرا ذکر کرتے تھے ۔۔ ایک دن تو سب نے مل کے میرے روح کے آرام کیلئے سورۃ فاتحہ بھی پڑھی ۔۔۔لیکن پتہ نہیں اتنا جلدی پھر میں کیسے ماضی کا قصہ بن گیا
پھر کبھی کبھی مجھے یاد کیا جانے لگا ۔۔ ہاں کبھی کرکٹ میچ کے دوراں یاد کر لیتے تھے ۔۔ والی بال کھیلتے تو اکثر میرا ذکر ملتا تھا ۔۔ آج جب شہزاد تین میچ ہار گیا تو ثناءالرحمٰن سے کہہ رہا تھا " عبداللہ ہوتا تو کبھی نہ ہارتا ، اصل میں میرا کھلاڑی بے وفا نکلا ۔۔ چھوڑ کے چلا گیا ۔۔ اس کی آواز بھی بھرا گئی تھی ۔۔ میری روح کو سکوں ملا کہ چلو کسی کو تو یاد ہوں ۔۔ وقت گزرتا تھا ۔۔ محفلوں میں میرا ذکر نہ ہونے کے برابر رہ گیا ۔۔ وہ ساری محفلیں اب بھی ویسی ہی سجتی تھیں ۔۔ جن کا کبھی میں روحِ رواں ہوتا تھا ۔۔۔
ہاں کبھی کبھی مجھے یاد اب بھی کرتے تھے ۔۔ اس وقت جب پھر وہی کام پڑتا ان کو ، جو کبھی میں نے ان کا کیا تھا ۔۔ اب میرا وجود تو تھا نہیں ۔۔ ان کے مفادات اب اوروں سے پورے ہونے لگے تھے ۔۔ اب میں ان کو کیسے یاد آسکتا تھا ۔۔ یہاں رشتے مفادات سے جڑے ملیں گے آپ کو ۔۔ روح کے ساتھ تعلق بنانے کا رواج نہیں ھے یہاں۔۔
عیشا تو بالکل بھول گئ تھی جیسے ۔۔ وہ ہنسی جو مجھے لگتا تھا میرے دم سے ھے ان کے چہرے پہ ۔۔ اب بھی تھی ۔۔ کافی ماڈرن ہوگئ تھی ۔۔ فائینل ائر میں ابایا کے بنا کالج آنے لگی تھیں ۔۔ میرے سے کئے سارے وعدے بھلادئے تھے ۔۔ ۔آج تو میری روح تڑپ اٹھی ۔۔ جب عیشا کی رومیٹ نے کہا کہ عبداللہ ہوتا تو آپ کو یہ پروبلم کبھی پیش نہ آتا ۔۔
کونسا عبداللہ ؟؟
اچھا اچھا وہ عبداللہ ۔۔ بچارہ ۔۔
اور امر کو بھی کچھ یاد نہ رہا تھا ۔۔ نہ ہمارا مل کے وہ افطاری کرنا ۔۔اور نہ وہ منتیں جو سحری ٹائم ان کی کر کے اٹھاتا تھا ۔۔
پہلی بات تو مجھے پتہ تھا کہ جن محبتوں کا میں شیدائی ہوا پھرتا ہوں یہ سب وقتی ہیں ۔۔ اور مفادات سے جڑی ہیں ۔۔ اور تم لوگوں نے میرے وجود سے ہی تھک جانا تھا ۔۔
لیکن دیکھو ، میرے وجود کے فنا نے تمھاری یہ لاج رکھ لی ۔۔ لیکن میری روح کے ساتھ بھی تو تم رشتہ نہ نبھا سکے ۔۔ میرے وجود نے تمھاری لاج رکھی تھی ۔۔ کاش میری روح کی لاج تم سب رکھ لیتے ۔۔
ہاں اگر اس عرصے میں کسی کو فرق پڑا تھا تو وہ اماں تھیں ۔۔ جس نے چپ ہی سادھ لی تھی ۔۔ دنیا کی کسے چیز میں دلچسپی ہی نہ رہی ۔۔ جیسے ان کی دنیا ہی میں تھا ۔۔۔
ہاں فرق پڑا تھا تو وہ انایا تھی ۔۔ جو آج بھی اسی شدت سے میری منتظر تھی ۔۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ میری جدائی کا زخم گہرا ہو رہا تھا جیسے ۔۔۔ مجھے نہیں لگتا تھا وہ مجھے کبھی بھول پائے گی ۔۔۔ اور ابا ۔۔ چھوٹے بچوں کی طرح انایا کے گلے لگ کے رو پڑتے تھے ۔۔۔ وقت سے پہلے بوڑھے ہوگئے تھے
ان لوگوں نے تو کبھی دعوے نہیں کئے تھے ۔۔ پھر ان کی دنیا میرے بنا کیوں اجڑ گئی تھی ۔۔ لیکن میری ذات تو دعوؤں کی شوقین تھی نا ۔۔ جو انایا کے کے خاموش پیار کو نہ سمجھ سکی ۔۔ اماں کی دعاؤں کے اثر کو نہ سمجھ سکی ۔۔ بابا کی سختی میں چھپا پیار نہ تلاش کر سکی ۔۔ کاش میری روح میرے وجود میں لوٹ سکتی ۔۔ تو سارے کے سارے حق ادا کرتا ۔۔
آج ابو میرے کمرے میں گئے تو میری تصویر کو دیکھ کے کہہ رہے تھے ۔۔ عبداللہ آپ نے اچھا نہیں کیا ۔۔ پیچھے کچھ بھی نہیں چھوڑ گئے میرے لئے ۔۔
اب بس ہوگئی تھی ۔۔ میری روح سے یہ برداشت نہیں ہوتا تھا ان کا یہ ہر وقت میرے لئے تڑپنا ۔۔ اور دوسری طرف ان لوگوں کی بے حسی جن کیلئے ہر لمحمہ میسر کیا خود کو ۔۔ ان کی یہ بے حسی میری روح کو گھائل کر رہی تھی ۔۔
اور اُن کا میرے لئے تڑپنا ، جن کیلئے میرے پاس وقت بھی نہ تھا ، ہر وقت میری روح کو پشیمانی کی موت مار رہا تھا ۔
بیماریاں وجود کو ختم کرتی ہیں ۔۔لیکن لوگوں کی بے حسی روح کو مار دیتی ھے ۔۔ میری روح گُھٹ گُھٹ کے مر رہی تھی ۔۔ اسے بھی اب لوٹنا تھا اپنے اصلی مقام کی طرف ۔۔ لوٹتے وقت بہت سے پچھتاوے تھے ، شرمندگیاں تھیں ۔۔ کہ کاش جس ذات نے سانسیں دی تھیں ، جس نے بن مانگے اتنا نوازا تھا ، کاش کچھ محبت اس سے بھی کی ہوتی۔۔ اس ذات کے بھی حق ادا کئے ہوتے ، اس کی رضا کیلئے زندگی گزاری ہوتی ، تو وہ ذات آج میری روح کو بھی پکارتی ،
"يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ
(اے اطمینان پانے والی روح!)
ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً
(اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی)
فَادْخُلِي فِي عِبَادِي
(تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہو جا)
وَادْخُلِي جَنَّتِي
(اور میری بہشت میں داخل ہو جا)
"اور میری روح اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرتی اور سکون پا جاتی ، اطمینان پا جاتی"

https://www.facebook.com/1501748056758426/posts/2268963036703587/

03/12/2019

وَاعتَصِمُو بِحَبلِ اللّٰہِ
اَللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو

وَ نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِن حَبلِ الوَرِید
اور ہم تو تمہاری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ھیں.

دونوں آیات میں ایک ھی لفظ
" حَبل " موجود ھے

اَللّٰہ کی رسی کیا ھے؟ اگر اس سوال کے جواب میں مختلف تفسیر و تشریح سامنے آئے تو
دوسری آیت مبارکہ میں موجود اسی " حَبل " کو دیکھ لیجئے

مختصر یہ کہ یہی سانس ھے جسے اولیاء کرام نے مختلف استعاروں میں واضح کیا ھے کہ انسان کسی بھی سانس کو ذاتِ حق کی یاد سے غافل نہ جانے دے
کہیں پہ اسے چرخہ کہا گیا ھے
کہیں کہیں اسے " پُریم " کہا گیا ھے
مقصودِ کلام سانس ھی ھے
جیسے قرآن مجید میں ارشاد ہوا !
پس جب تم نماز ادا کر چکو تو کھڑے بیٹھے حتیٰ کہ کروٹ کے بل لیٹے ہوئے بھی اس ذات کو یاد کرو یاد رکھو
دن رات کے چوبیس گھنٹوں کے دوران انسان کی یہی تین حالتیں ھوتی ھیں
یا تو وہ کھڑا ھے یا پھر بیٹھا ھوا ھے اور پھر یا کہیں لیٹا ھوا ھے مگر ان تینوں حالتوں میں اسکی زبان کہیں نہ کہیں مصروف رہ سکتی ھے مگر سانس بھی تو چلتی رھتی ھے
ہاں البتہ سوتے ھوئے زبان کجا اسکا پورا سالم وجود بے حس بے حرکت لیٹا ھوا رھتا ھے مگر رب العزت نے بعد از نماز اس لیٹنے کی حالت میں بھی چلتی ھوئی سانس کو اپنی یاد میں جاری رکھنے کا حکم دیا ھے

جو دَم غافل سو دَم کافر
سانوں مُرشد (حضور علیہ السلام) ایہہ فرمایا ھُو
سُنیا سُخن گئیاں کھل اکھیں
اساں چِت ( دل ) مولا وَل لایا ھُو.

کیونکہ چلتی ھوئی اس سانس یعنی اَللّٰہ کی رسی کا ایک سرا انسان کی شہہ رگ میں ھے جبکہ دوسرا سرا اسی انسان کے سینے میں روح کے لطیف اور پاکیزہ پردوں میں پوشیدہ ھے
جبھی تو فرمایا !
وَفِی اَنفُسِکُم اَفَلَا تُبصِرُون
اور میں تو تمہارے اَنفَس تمہاری سانسوں میں ھوں
کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟

سینے وچ مقام ھے کس دا
مُرشد ایہہ گل سمجھائی ھُو

ایہو ساہ جو آوے جاوے
ھور نہیں شے کائی ھُو

اس نوں اسم الاعظم آکھن
ایہو سِرِّ الٰہی ھُو

ایہو موت حیاتی حضرت باھو
ایہو بھید الٰہی ھُو.

وَاذۡکُر رَبَّکَ فِی نَفسِکَ تَضَرُّعًاوَّ خِیفَۃً وَدُونَ الجَہرِ مِنَ الۡقَولِ بِالۡغُدُوِّ وَالۡآصَال، وَلَا تَکُن مِّنَ الغَافِلِین.
( اور اپنے رب کو یاد کرو سانسوں میں عاجزی کیساتھ خفیہ طریقے سے بغیر آواز نکالے، اور غافلین میں سے مت بنو)
اپنی سانسوں کو یادِ حق سے خالی گذار دینے کو ھی غفلت سے تعبیر کیا گیا ھے.

Address

UNITED STATE OF AMERICA
New York, NY
00001

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when TopList 02 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share