Office space available for rent on Range Road. Contact 0331-5803625
30/05/2025
پاگل خانے سے فرار: ایک مزاحیہ داستان!
سن 1960 کی بات ہے، ترکی کے ایک شہر میں واقع پاگل خانے میں قیامت صغریٰ برپا ہو گئی۔ چوکیدار حضرات اپنی ڈیوٹی پر ایسے غافل تھے جیسے کسی گہری نیند کی وادی میں کھوئے ہوں، اور نتیجہ یہ نکلا کہ پاگل خانے کا مرکزی دروازہ کھلا رہ گیا۔ پھر کیا تھا؟ موقع غنیمت جانتے ہوئے، 423 پاگلوں کا ایک لشکرِ بے ترتیب، "آزادی مبارک!" کے نعرے لگاتا ہوا، سڑکوں پر نکل بھاگا۔
شہر کی سڑکوں پر تو جیسے بھونچال آ گیا۔ کوئی پاگل ٹریفک پولیس والے کی ٹوپی چھین کر سر پر رکھ ناچ رہا تھا، کوئی سبزی والے کی ٹوکری الٹ کر خود کو "سبزیوں کا بادشاہ" قرار دے رہا تھا، اور کوئی بیچ سڑک پر کھڑے ہو کر ایسے تقریریں جھاڑ رہا تھا جیسے کسی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کر رہا ہو۔ ہر طرف اودھم، بد نظمی اور ہڑبونگ کا ایک عجیب و غریب میلہ لگ گیا تھا۔
ہسپتال انتظامیہ کے ہوش اُڑ گئے! فوراً شہر کی انتظامیہ کو اطلاع دی گئی، اور ماہرینِ کرام سر جوڑ کر ایسے بیٹھ گئے جیسے کسی پیچیدہ ریاضی کے مسئلے کو حل کر رہے ہوں۔ فوری طور پر ایک بڑے ماہر نفسیات، ڈاکٹر صاحب، کو بلوا لیا گیا، جن کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ پاگلوں کی نفسیات کو اپنی ہتھیلی کی لکیروں کی طرح جانتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے، جو کہ اب "پاگلوں کی بغاوت" کا منظر پیش کر رہے تھے، فوراً ایک چمکتی ہوئی سیٹی منگوائی۔ پھر کیا تھا؟ انہوں نے ہسپتال کے کچھ عملے اور انتظامیہ کے چند شریف لوگوں کو، جو پہلے ہی خوف سے نیم پاگل ہو چکے تھے، ایک "چھکڑا" بنا کر اپنے پیچھے لگایا۔ خود سیٹی بجاتے اور "چھک چھک" کرتے ہوئے، وہ سڑک پر نکل آئے۔ منظر ایسا تھا جیسے کوئی بچہ ریل گاڑی کا کھیل کھیل رہا ہو، مگر یہ کھیل بڑا سنجیدہ تھا۔
ڈاکٹر صاحب کا تجربہ کامیاب رہا، اور وہ بھی کمال کا! سڑک پر چلتے پھرتے مفرور پاگل، جو ابھی تک اپنی آزادی کا جشن منا رہے تھے، ڈاکٹر صاحب کی "چھک چھک" اور سیٹی کی آواز سن کر ایک ایک کر کے گاڑی کا حصہ بنتے گئے۔ کوئی اپنی مرضی سے چھکڑے کے پیچھے لگ جاتا، کوئی یہ سوچ کر کہ شاید یہ کوئی نئی تفریح ہے، اور کوئی یہ سمجھ کر کہ ڈاکٹر صاحب کوئی نئی قسم کی آئس کریم بیچ رہے ہیں۔ شام تک، ڈاکٹر صاحب نے کمال مہارت سے، سارے پاگلوں کی ایک لمبی قطار بنا کر انہیں ہسپتال واپس لے آئے۔ انتظامیہ نے سکھ کا سانس لیا، پاگلوں کو واپس ان کے وارڈز میں بند کیا، اور ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان پر پھولوں کی بارش کر دی۔
لیکن! اصل مسئلہ تو شام کو اُس وقت کھڑا ہوا جب پاگلوں کی گنتی کی گئی۔ ہسپتال کے عملے نے جب گنتی شروع کی تو ان کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں! صبح کے وقت تو صرف 423 پاگل فرار ہوئے تھے، مگر اب گنتی میں 612 پاگل شمار ہوئے! اب انتظامیہ کا سر چکرانے لگا۔ "یہ 189 اضافی پاگل کہاں سے آئے؟" کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ہوا ہے۔ شاید ڈاکٹر صاحب کی "پاگلوں والی گاڑی" اتنی پرکشش تھی کہ شہر کے کچھ عام لوگ بھی، جو روزمرہ کی زندگی کی پریشانیوں سے تنگ تھے، اسے دیکھ کر خود کو پاگل سمجھ بیٹھے اور ڈاکٹر صاحب کے پیچھے لگ گئے! یا پھر کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ہمیشہ سے پاگل خانے میں داخلے کے خواہشمند تھے اور انہیں یہ بہترین موقع لگا! اس دن کے بعد سے، ہسپتال انتظامیہ نے دروازوں کی حفاظت کے لیے ایک پوری فوج تعینات کر دی، اور ڈاکٹر صاحب کو "پاگلوں کے میگنیٹ" کا خطاب دے دیا گیا۔
17/05/2024
With Domel Digital – I just got recognized as one of their rising fans! 🎉
Be the first to know and let us send you an email when CIVIC IX posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.