Net Speed Meter

Net Speed Meter To expose the chor company / hidden devils inside us. To bring a positive changes.

21/02/2023

سابق صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا عمران خان کے بارے میں استفسار۔۔۔۔۔۔
یہ ہے اصل حقیقت رجیم چینج کی

29/01/2023
28/01/2023
گمنامی میں وڑ جاؤں گا بھی اس کا جھوٹ نکلا...‏دبئی سے آنے والی فلائٹ میں محسن نقوی سے محو گفتگو ہے... وہ ہی محسن نقوی  جو...
22/01/2023

گمنامی میں وڑ جاؤں گا بھی اس کا جھوٹ نکلا...
‏دبئی سے آنے والی فلائٹ میں محسن نقوی سے محو گفتگو ہے... وہ ہی محسن نقوی جو کہ انتہا درجے کا کرپٹ اور مخالف ہے عمران خان کا اور اسکا نام کمپنی اور ان کا مشرکہ نگران وزیراعلی ..

28/11/2022
جنرل ایوب: قائد اعظم کا پہلا باغی جنرلاس کے بعد جنرلوں کو پاکستان پرقبضہ کرنے کی چاٹ لگ گئی:پاکستان کی بربادی اور تباہی ...
28/11/2022

جنرل ایوب: قائد اعظم کا پہلا باغی جنرل
اس کے بعد جنرلوں کو پاکستان پرقبضہ کرنے کی چاٹ لگ گئی:

پاکستان کی بربادی اور تباہی کی پاکستان کی تاریخ کے وہ اوراق جو ہمیں کتابوں میں نہیں پڑھاۓ جاتے۔

قیامِ پاکستان کے کچھ عرصے بعد سردار عبدالرب نشتر نے ایوب خان کے بارے میں ایک فائل قائد اعظم کو بھجوائی تو ساتھ نوٹ میں لکھا کہ ایوب خان مہاجرین کی بحالی اور ریلیف کے بجائے سیاست میں دلچسپی لیتا ہے

اس پر قائد اعظم نے فائل پر یہ آرڈر لکھا:
’’ میں اس آرمی افسر (ایوب خان) کو جانتاہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے ۔ اس کو مشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا۔ ‘‘

بحوالہ:
کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل
مصنف: قیوم نظامی

قائد اعظم کا ایوب خان کے بارے میں غصہ بعد میں بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور جب وہ ڈھاکہ گئے اور انھیں فوجی سلامی دی گئی تو انھوں نے ایوب خان کو اپنے ساتھ کھڑے ہونے سے روک دیا۔

بحوالہ:
کتاب: گوہر گزشت
مصنف: الطاف گوہر

دراصل تقسیم کے زمانے میں امرتسر میں ہندومسلم فسادات پر قابو پانے کے لیے ایوب خان کو ذمہ داری سونپی گئی تھی مگر وہ وہاں جا کر مہاراجہ پٹیالہ کی محبوبہ پر عاشق ہو گئے اور اپنا بیشتر وقت اسکے ساتھ گزارنے لگے اور فسادات پہ کوئی توجہ نہیں دی۔ جس پر قائد آعظم نے سزا کے طور پر انکو ڈھاکہ بھیجا تھا۔

بحوالہ:
کتاب: گوہر گزشت
مصنف: الطاف گوہر

اپنی اس تنزلی پر ایوب خان بہت رنجیدہ ہوئے اور انہوں نے قائد آعظم کے احکامات کے برخلاف اسوقت کے فوجی سربراہ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس حوالے سے انہوں نے اپنے دوست بریگیڈیئر شیر علی خان پٹودی سے مدد مانگی۔ شیر علی خان پٹودی پہلی فرصت میں کراچی سے راولپنڈی گئے اور کمانڈر انچیف سر فرینک میسروی سے اپنے دوست کی سفارش کی لیکن بات بنی نہیں۔

بحوالہ:
کتاب: گوہر گزشت
مصنف: الطاف گوہر

لیکن بد نصیبی یہ ہے کہ جس ایوب خان سے قائداعظم اسقدر نالاں تھے اسی ایوب خان کو لیاقت علی خان نے اسوقت کے سینئرترین جنرل، جنرل افتخار پر فوقیت دے کر فوج کا سربراہ بنا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس حوالے سے بھی انکے دوست بریگیڈیئر شیر علی خان پٹودی اور دیگر رفقاء نے اہم کردار ادا کیا۔

اور بد نصیبی دیکھئے، وہی ایوب خان پاکستان کا پہلا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا اور پاکستان پر گیارہ سال گک حکومت کرتا رہا۔

بحوالہ:
کتاب: The Crossed Sword
مصنف: شجاع نواز

قائد آعظم خاص جمہوری انداز میں مملکت چلانا چاہتے تھے۔ اور اسی حوالے سے کسی کی مداخلت پسند نہیں کرتے تھے۔ اس حوالے سے قائد اعظم نے ایک اور فوجی افسر اکبر خان کے مشوروں سے زچ ہو کر اس سے کہا تھا کہ آپ کا کام پالیسی بنانا نہیں، حکومت کے احکامات کی تعمیل کرنا ہے۔

اور بعد زاں وہی جنرل اکبر لیاقت علی خان کے خلاف بغاوت کے جرم میں گرفتار ہوا اور تقریباََ پانچ سال جیل میں رہا

اور بد نصیبی دیکھئیے، عدالت سے غداری کی سزا کاٹنے والے، اسی جنرل اکبر کو 1973 میں بھٹو صاحب، قومی سلامتی کونسل کا رکن نامزد کر دیتے ہیں

بحوالہ:
کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل
مصنف: قیوم نظامی

بانی پاکستان جون 1948 میں سٹاف کالج کوئٹہ گئے تو وہاں گفتگو کے دوران انکو اندازہ ہوا کہ اعلیٰ فوجی افسران اپنے حلف کے حقیقی معنوں سے واقف نہیں ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے اپنی لکھی ہوئی تقریر ایک طرف رکھ کے فوجی افسران کو یاددہانی کے طور پر ان کا حلف پڑھ کر سنایا، اور انہیں احساس دلایا کہ انکا کام حکم دینا نہیں صرف حکم ماننا ہے۔

بحوالہ:
کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل
مصنف: قیوم نظامی

بعد کے ادوار میں فوجی جرنیلوں نے اس حلف کی اتنی خلاف ورزی کی کہ ائیر مارشل اصغر خان کو لکھنا پڑا کہمیری تجویز ہے کہ اگر ہم پر جرنیلوں ہی نے حکمرانی کرنی ہے تو یہ الفاظ حلف سے حذف کردیے جائیں: ’’ْمیں کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں، خواہ ان کی نوعیت کچھ بھی ہو، حصہ نہیں لوں گا۔‘‘

بحوالہ:
کتاب: جنرل اور سیاست
مصنف: اصغر خان
جنرل گریسی جب اپنے پیشہ ورانہ دورے پر لاہور گئے تو کرنل ایوب کو دیکھا اور بلا کو پوچھا کہ "آپ کو تو ڈھاکہ میں رپورٹ کرنی تھی تو آپ یہاں کیا کر رہے ہیں"جس پر ایوب خان نے کہا کہ وہ کراچی لیاقت علی خان سے ملنے جا رہے ہیں۔۔اس پر جنرل گریسی نے ایوب کے کورٹ مارشل کے آرڈر کیئے اور انہیں اپنے ساتھ کراچی لے آئے۔
بحوالہ میموریز آف اے سولجر ۔۔جنرل وجاہت حسین"سیکریٹری جنرل گریسی"

برطانوی فوج کی نوکری کے دوران ایوب خان کا کیا کردار رہا آئیے اس پر بھی روشنی ڈالتے ہیں:

تاجِ برطانیہ نے تقسیم ہند کے وقت فسادات کی روک تھام کے لیئے پنجاب باؤنڈری فورس تشکیل دی جس کا ہیڈ آفس لاہور میں تھا ۔پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان کرنل کو بھی اس باؤنڈری فورس میں اہم عہدہ دیا گیا ۔ایک روز خبر ملی کہ بھارت سے پاکستان کی طرف آنے والے مہاجرین کی ٹرین کو مشرقی پنجاب میں روک کر تمام مسافروں کو قتل کر دیا گیا ہے اور اس ٹرین کی حفاظت پر مامور پاکستانی کرنل خاموش تماشائی بنے رہے۔یہ خبر سنتے ہی لوگ مشتعل ہوگئے ،اس بات کا امکان پیدا ہوگیا کہ غصے میں بپھرے ہوئے لوگ راولپنڈی میں اس کرنل کے گھر کو نذرآتش نہ کردیں ،حالات اس قدر سنگین ہوئے کہ ممکنہ خدشات کے پیش نظر گھر میں موجود اس کرنل کی اہلیہ اور بچوں کو ایک اور فوجی افسر کی رہائشگاہ پر منتقل کرنا پڑا۔اس کرنل کا نام ایوب خان تھا۔

کلاسیفائیڈ دستاویزات کے مطابق عسکری حکمت عملی کے اعتبار سے کرنل ایوب خان اوسط درجے کا افسر تھا ۔دوسری جنگ عظیم کے دوران برما میں تعینات آسام رجمنٹ کے کمانڈنٹ کرنل ڈبلیو ایف براؤن کی ہلاکت کے بعد رجمنٹ کی کمان کرنل ایوب خان کو سونپی گئی مگر جنگی حکمت عملی میں بزدلانہ ناکامی کے بعد کمان واپس لیکر نہ صرف بھارت بھیج دیا گیا بلکہ ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔

اور پھر ایک ایسا فوجی افسرجسے نااہلی کے باعث فوج سے نکالنے کا فیصلہ ہو چکا تھا ،قیام پاکستان کے بعد اس کی صلاحیتیں ایسی نکھر کر سامنے آئیں کہ اس نے 4 سال کے مختصر عرصہ میں نہ صرف کرنل سے جنرل تک ترقی کا سفر باآسانی طے کرلیا بلکہ سنیئر فوجی افسروں کو مات دیکر سپہ سالار بننے میں کامیاب ہوگیا۔

یہ کیسے ممکن ہوا؟

جنرل گریسی کی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے ہی ان کے جانشین کے طور پر میجر جنرل افتخار خان کا انتخاب ہو چکا تھا ،کمانڈر انچیف نامزد ہونے پر جنرل افتخار کو امپیریل ڈیفنس کورس کے لیئے برطانیہ بھیجا گیا ،بریگیڈیئر شیر خان جو ڈی ڈی ایم او تھے اور اب انہیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی جانا تھی ،وہ بھی کورس کے لیئے برطانیہ جا رہے تھے ۔13دسمبر 1949ء کو جنرل افتخار اوریئنٹ ایئرویز کی لاہور سے کراچی جانے والی فلائٹ پر سوار ہوئے تو ان کے اہلخانہ کے علاوہ بریگیڈئر شیر خان بھی اسی جہاز میں سوا رتھے ،یہ جہاز اپنی منزل کے قریب پہنچ کر کراچی کے نواحی علاقے جنگ شاہی میں گر کر تباہ ہوگیا اور تمام مسافر لقمہ اجل بن گئے۔
پاکستان کی عسکری وسیاسی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ یہ حادثہ پیش نہ آتا اور جنرل افتخار کمانڈر انچیف بننے سے پہلے شہید نہ ہوتے تو آج پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی کیونکہ ایوب خان کے برعکس جنرل افتخار اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والے غیر سیاسی جرنیل تھے۔

حاصلِ کلام:
جس دن ہم نے اپنی نئ نسل کو پاکستان کی اصل تاریخ پڑھانا شروع کردی اسی دن سے پاکستان ترقی کرنا شروع کر دے گا۔
Courtesy:- Mr.Shafqat Jilani

معرکہِ گلگت-بلستتان 2023 (؟)( ستونت کور )میرے زرائع کے مطابق ، اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ بھا__ رت آئیندہ چند ماہ تک گ...
04/11/2022

معرکہِ گلگت-بلستتان 2023 (؟)
( ستونت کور )

میرے زرائع کے مطابق ، اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ بھا__ رت آئیندہ چند ماہ تک گلگت-بلستتان اور آزاد ک_ شمیر کو حاصل کرنے کے لیے حملہ کر دے گا ۔۔۔ اس حملے کے کچھ شواہد بھی مسلسل 6 ماہ سے مل رہے ہیں :
✓ ان 6 ماہ میں بھ_ ارتی افواج کی جنگی تیاریاں ، مشقیں بالخصوص پیراٹروپنگ کی درجنوں مشقیں ، مذکورہ علاقوں تک نئی سڑکوں کی تعمیر، نئی سپلائی روٹس کی تشکیل ، بھاری ہتھیاروں اور یونٹس کی ڈیپلائےمنٹ یہاں تک کہ چند نئی ائیر فیلڈز کی تعمیر بھی تکمیل کے نزدیک ہے۔
✓ اور گزشتہ 6 ماہ میں بھ_ ارتی حکومت و مسلح افواج نے بیسیوں بلکہ سینکڑوں موقع پر برملا آزاد ک_ شمیر کو گلگت-بلستتان پر حملے کا اشارہ دیا ہے۔۔۔ ان بیانات کو اگنور کرنا بہت بھیانک سٹرٹیجک غلطی ثابت ہو سکتی ہے !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ حملہ کب تک متوقع ہے ؟
حملے کو ٹھیک سے پریڈکٹ کر پانا بہت مشکل ہے تاہم میرا نہیں خیال کہ موسمِ سرما میں بھ_ ارت ایسا کوئی ایڈونچر کرنے کی جسارت کرے گا ۔
✓ اگر واقعتاً بھ_ ارت کوئی ایسے عزائم رکھتا ہے تو یہ حملہ اپریل یا اپریل کے بعد ہی متوقع ہے ۔۔۔ جب برف پگھلنے لگے اور راستے کھل جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواز :
اس حملے سے قبل بھ_ ارت مقبوضہ ک_ شمیر میں اوڑی طرز کا کوئی فالز فلیگ آپریشن کر سکتا ہے کہ جس سے اسے جواز مل سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن ابھی ہی کیوں ؟
جب سے م_ ودی کی حکومت بنی ہے بھ_ ارت مسلسل پاکستان کو اسی طرز کی دھمکیاں دیتا آیا ہے ۔۔۔ تو پھر اب ہی کیوں ؟ یہ حملہ اس سے پہلے کیوں نہ کیا گیا ؟ یا پھر چند سال بعد کیوں نہیں ؟
✓ بات کچھ یوں ہے کہ آجکل پاکستان ایک بھیانک سیاسی بحران سے گزر رہا ہے ۔۔۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ عوام کی ایک بھاری تعداد مسلح افواج سے بددل ہوچکی ہے اور پاکستان میں اینٹی-آ رمی سوچ بہت تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے بھلے ہی اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں ۔۔۔ بھلے ہی ہم انہیں قصوروار مانیں یا نہ مانیں لیکن "ایسا ہورہا ہے " اور بھ_ ارت بھی اس نئے رحجان کو خوب اچھی طرح سے دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔ دوسری طرف پاکستان میں چل رہا سیاسی بحران اتنی خطرناک حدوں پر ہے کہ کوئی بھی غیر معمولی واقعہ مثلاً کسی اہم سیاسی شخصیات کا م_ رڈر پل بھر میں ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل سکتا ہے اور ان حالات میں بھ_ ارت یہ کارڈ بھی استعمال کر سکتا ہے ۔۔۔ مزید یہ کہ کئی سال کے امن کے بعد سوات ، وزیرستان میں انسرجنسی اور بدامنی میں پھر سے اضافہ ہورہا ہے اور بلوچستان کے حالات بھی تسلی بخش نہیں ۔۔۔۔ بھ_ ارت اس سارے سنیریو کو اپنے لیے ایک سنہرا موقعہ سمجھ رہا ہے جسے وہ ضائع نہیں کرنا چاہتے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذیلی محاذ :
اصل محاذ یعنی ک_ شمیر-گلگت محاذ پر پریشر کم کرنے کے لیے دونوں ممالک ورکنگ باؤنڈری پر ایک دوسرا محاذ بھی کھول سکتے ہیں جیسا 65 اور 71 میں ہوا ۔۔۔ لیکن بھ__ارت بحرہند میں ایک تیسرا محاذ بھی کھول سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیرونی مداخلت :
بھ_ ارت کا قریب ترین اتحادی ر_ وس اس پر اپنی جنگ میں مصروف ہے اس لیے اس جنگ میں شاید اس کی مداخلت محدود رہے ۔
اسی طرح امر_ یکہ بھی یوکر--ین جنگ اور یورپ کے بحران کی طرف زیادہ متوجہ ہے لہذا امر_ یکی مداخلت کے امکانات بھی عام دنوں کی نسبت محدود ہیں ۔
چین البتہ اس جنگ میں ایک نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے ۔۔۔۔ اگر بھ_ ارتی حملے کے بعد چین بھی لداخ ، اروناچل پردیش اور دوکلام میں محتاط پیش قدمی کا آغاز کردے تو بھ_ ارت کے لیے ان دو محاذوں پہ لڑ پانا بہت دشوار ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ بشرطیکہ۔۔۔۔ چین واقعی ایسا کرنا چاہے کیونکہ 71 میں ر_ وس کی طرف سے دھمکائے جانے کے بعد چین نے پاکستان کی مدد سے فی الفور ہاتھ کھینچ لیا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایٹمی خطرہ :
اس جنگ کے ایٹمی جنگ میں ڈھل جانے کے امکانات بھلے ہی صفر تو نہیں مگر محدود ہیں کیونکہ ک_ ارگل جنگ کے وقت بھی دونوں ممالک ایٹمی طاقت بن چکے تھے لیکن اس جنگ میں ایسا کچھ نہ ہوا اور اب بھی اس کے امکانات اتنے قوی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرفِ آخر :
یہ جنگ دونوں ممالک کی حکومتوں اور مسلح افواج کے لیے ایک حتمی "ٹیسٹ کیس" ثابت ہوسکتی ہے ۔

Copied

سب حیران ہیں کہ مریم صفدر اتنی عجلت میں لندن کیوں گئی.   اب اصل خبر سامنے آئی ھے کہ نوازشریف لندن میں ایون فیلڈ اپارٹمنس...
20/10/2022

سب حیران ہیں کہ مریم صفدر اتنی عجلت میں لندن کیوں گئی. اب اصل خبر سامنے آئی ھے کہ نوازشریف لندن میں ایون فیلڈ اپارٹمنس بیچنا چاہتے ہیں انہوں نے لندن کے ایک دوسرے علاقے میں پراپرٹی خرید لی ھے جس میں ایک بڑا اور پرتعیش فارم ہاوس بھی شامل ھے. چونکہ ایون فیلڈ فلیٹس میں اوورسیز پاکستانیوں نے شریف خاندان کا جینا محال کر دیا ھے اس لئے وہ وہاں سے بھاگنا چاہتے ہیں. اب شریف خاندان کا مسئلہ یہ تھا کہ مریم صفدر کے بنا وہ ایون فیلڈ فلیٹس فروخت نہیں کر سکتے کیونکہ ان فلیٹس کی بنیفیشری مریم صفدر ھے یعنی یہ ان کے نام پر ھے
یاد رہے کہ ابھی کچھ ہی دن پہلے پاکستانی عدالتوں نے مریم کو ان فلیٹس کے کیس میں "باعزت " بری کر دیا ھے۔۔۔
یہ ھے مریم صفدر کے جانے کی اصل حقیقت۔

پاکستانیو یاد ہے نا، میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہی.

اسٹیبلشمنٹ کی بوکھلاہٹ دیکھنے لائق ہے۔ کہیں سعد رضوی کی لانچنگ ہو رہی ہے تو کہیں شہیر سیالوی بھارت کو للکارتا نظر آتا ہے...
19/10/2022

اسٹیبلشمنٹ کی بوکھلاہٹ دیکھنے لائق ہے۔ کہیں سعد رضوی کی لانچنگ ہو رہی ہے تو کہیں شہیر سیالوی بھارت کو للکارتا نظر آتا ہے ۔ کہیں جنرل فیض کی خوش باش ویڈیوز گھوم رہی ہیں تو کہیں پی ڈی ایم راہنماؤں کو اپنے خلاف بیان بازی کا ٹاسک تھمایا ہوا ہے۔ تاریخ میں پہلی دفعہ یہ غیر متعلقہ ہو چکے ہیں۔ اور ایسے میں یہ وہ تمام حربے استعمال کر رہے ہیں جو انھیں دوبارہ وہی فیصلہ سازی کا مقام دے سکیں ۔ عوام میں پھر سے "بادشاہ گر" کا تأثر بنا سکیں۔ خود کو واحد فیصلہ ساز منوا سکیں لیکن اس دفعہ یہ نہ صرف ملکی سیاست ، نظام حکومت بلکہ عوام کے دلوں میں بھی جگہ بنانے میں ناکام نظر آ رہے ہیں چہ جائیکہ عالمی سطح پہ ان کو فیصلہ ساز مان کر طاقتور ممالک پھر سے ان کے ساتھ ڈیلنگ کی کوشش کریں ۔ اب یہ مکمل طور پہ غیر متعلقہ فریق بن چکا ہے جو اپنا اثر و رسوخ کھو چکا ہے۔ پی ڈی ایم کے ساتھ ساتھ یہ بھی اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ اس کیلئے جہاں ایک طرف نئے گروپس لانچ کئے جا رہے ہیں ، وہیں پرانے خیر خواہوں سے اپنے خلاف بیان دلوا کر قوم کے قریب ہونے کی کوششوں میں بھی لگے ہوئے ہیں۔ رہا عالمی منظر نامہ تو اس میں اپنی وقعت ثابت کرنے کےلیے ہی انھوں نے مخصوص آٹھ حلقوں میں ضمنی الیکشن کا کھیل کھیلا تھا تاکہ عمران خان کی مقبولیت کے تأثر کو زائل کر کے اپنا کھویا ہوا مقام بحال کر سکیں. لیکن وہ اکیلا سات حلقوں میں جا کھڑا ہوا اور بدترین دھاندلی کے باجود ملک کے ہر کونے سے مخالفین کو بچھاڑ کر ان کا یہ داؤ بھی انھی پہ پلٹ گیا۔ ایک حلقے میں بیلٹ پیپر ہی غائب ہو گئے تھے لہٰذا وہاں نئے الیکشن کا مطالبہ دہرا کر کپتان نے ایک اور چیلنج دے دیا ہے لیکن یہ اب میدان میں لڑنے سے ڈر رہے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ تب تک کنگ میکر تھی جب تک وہ مختلف چوروں کے گروہوں کے درمیان کھیلتی تھی اور سب کی کمزوریوں کو اپنے ہاتھ میں رکھ کر اقتدار کی بندر بانٹ کیا کرتی تھی ۔ عمران خان کی تحریک نے اس روایتی سیاست میں بھونچال پیدا کر کے چالیس سال سے جمود کی شکار سیاست میں ایک ایسا دھماکہ کیا جس سے ان کے کانوں کے پردے پھٹ گئے۔ چالیس سال سے نظام سے چمٹی ، خون چوستی جوؤں کو عمران خان نے اکھاڑ پھینکا تو اسٹیبلشمنٹ کو پہلی دفعہ حقیقی خطرہ محسوس ہوا۔ آر ٹی ایس سسٹم بند کر کے اس کی تیس کے قریب سیٹیں چھین کر اسے بھی اپنی مٹھی میں رکھنے کی کوشش کی اور روایتی اتحادیوں کو اس کے ساتھ جوڑ دیا لیکن عمران خان تو کوئی روایتی سیاستدان تھوڑی تھا۔ وہ بائیس سال تک ملک کی گلی گلی کی سیاست سمجھ کر اور گراؤنڈ ورک کرنے کے بعد ، بار بار شکست کھانے کے بعد ، نوجوان نسل کو اس روایتی گند کے سامنے ایک جدید شفاف و عدل پسند ریاست کے خواب دکھا کر اور اس مافیا سے لڑ کر یہاں تک پہنچا تھا ۔ اس نے بچے بچے کو کرپشن کے معانی و مفہوم سمجھا کر فتح حاصل کی تھی ۔ اس کی جڑیں عوام کے اندر اس قدر گہری تھیں کہ سو شکؤوں کے باوجود جب اس کی حکومت کو خطرہ محسوس ہوا تو قوم میں ایک ہلچل مچ گئی۔ اسٹیبلشمنٹ نے اس شخص سے پنگا لیا اور پھر ان تمام چوروں لٹیروں اور غداروں کو اکٹھا کر کے اقتدار تھما دیا۔ اب تو اندھوں کو بھی نظر آنے لگا تھا کہ کیا چل رہا ہے ۔ اوپر سے امریکہ بہادر کی جانب سے دھمکی کا ڈاکومنٹڈ ثبوت ہاتھ لگا تو قوم کا لیڈر اس کاغذ کے ٹکڑے کو لیکر عوام میں پہنچ گیا اور ایسا کھیلا کہ یہ کاغذ کا ٹکڑا طاقت کے مضبوط ایوانوں کو ہلا گیا۔ اب اسٹیبلشمنٹ اپنی بقاء کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ اب وہ غیر متعلقہ فریق ہیں جن کی طاقت کے یہ آخری دن ہیں۔ اب نہ تو وہ کبھی عوام میں مقبولیت حاصل کر پائیں گے اور نہ ہی عالمی منظر نامے پہ براہِ راست ملکی فیصلے کر پائیں گے کیونکہ اب طاقت ان کے ہاتھوں سے پھسل کر عوام کی جھولی میں آن گری ہے۔ اب قوم کا بچّہ بچّہ چلا رہا ہے کہ یہ میرا ملک ہے اور اس کا فیصلہ میرا اور بائیس کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ کرے گا. نہ کہ کسی فون کال یا دھمکی آمیز خط پہ قوم و ملک کا سوداگر ، دو کوڑی کا کوئی سرکاری ملازم ۔۔۔۔۔

75سالوں کا بھرم پچھلے چھ ماہ میں اس طرح ٹوٹا ہے کہ اب ٹکڑے چننے میں ہی اگلی کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔ دیکھنے والے مستقبل کے منظر نامے میں اب اسٹیبلشمنٹ کو کسی فیصلہ ساز قوت کے طور پہ نہیں دیکھ پا رہے ۔ فیصلہ سازی کا اختیار جمہور کے پاس آ رہا ہے ۔

منقول

Address

Cabritaberg
Cabritaberg
10010

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Net Speed Meter posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share